بدھ، 15 جولائی، 2020

قواعد اردو-25 علامت فاعل "نے"

4 comments

حرف "نے "   علامت فاعل
نے   علامت فاعل ہے ۔  یہ ہمیشہ متعدی افعال میں فاعل کے ساتھ  استعمال کی جاتی ہے جیسے ؛۔ اسلم نے سبق پڑھا۔ علی نے کھانا کھایا۔
"نے" کا استعمال  کرتے ہوئے ان باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔
1۔ "نے" ہمیشہ صرف متعدی افعال کے ساتھ استعمال ہو گی۔ افعال لازم میں فاعل کے ساتھ "نے" کا استعمال غلط ہے۔  جیسے ؛۔ وہ فرش پر بیٹھ گئے۔ ہم گھر واپس آ گئے۔  لازم افعال کے ساتھ نے لگانا بالکل غلط ہوتا ہے۔
2۔متعدی افعال کی صورت میں "نے" صرف فعل ماضی مطلق، ماضی قریب، ماضی بعید اور ماضی شکیہ کے جملوں میں آتا ہے۔ کسی اور زمانے(فعل) کے ساتھ "نے " نہیں آتا۔ جیسے؛۔ احمد نے کہا۔ احمد نے کہا ہو گا۔ احمد نے کہا تھا۔  جبکہ ایسے لکھنا غلط ہو گا  ۔جیسے ؛۔ احمد نے کہتا ہے۔ احمد نے کہے گا۔ احمد نے کہتا تھا۔  ان جملوں کی درست صورت یہ ہو گی۔ احمد کہتا ہے۔ احمد کہے گا۔ احمد کہتا تھا۔

 بعض متعدی افعال ایسے ہیں جن کے ساتھ "نے " استعمال نہیں ہو سکتا۔ جیسے  شرمانا، بھولنا، لانا،۔ جیسے؛۔ احمد شرمایا، شکیل سبق نہیں بھولا۔ اسلم سیب لایا۔ 
بولنا ایسا فعل متعدی ہے جس کے ساتھ "نے استعمال نہیں کیا جاتا جیسے؛۔ علی بولا۔ لیکن جب بولنے کے ساتھ کوئی مفعول موجود ہو تو        "نے " لگایا جاتا ہے۔ جیسے؛۔ سارہ نے سچ بولا۔ سرمد نے جھوٹ بولا۔
"چاہنا" کے ساتھ " نے " استعمال ہو گا ۔ جیسے؛۔ اللہ نے چاہا۔ اس نے چاہا۔  لیکن اگر چاہا کے ساتھ "دل" اور "جی" کے الفاظ آئیں تو پھر "نے" استعمال نہیں ہو گا۔ جیسے؛۔ جب دل چاہا۔ میرا جی چاہا۔
بدلنا، ہارنا، جیتنا، کھیلنا، سمجھنا، پکارنا ایسے مصدر ہیں  جو لازم اور متعدی دونوں صورت میں استعمال ہوتے ہیں۔  ان کے فعل متعدی کی صورت میں استعمال ہونے پر "نے" ان کے ساتھ لگایا جاتا ہے ۔ جیسے؛۔ ہم نے میچ جیتا۔ میں نے اسے پکارا۔ علی نے لباس بدلا۔ اسلم نے میچ کھیلا۔ جبکہ فعل لازم کی حالت میں "نے" کا استعمال نہیں ہو گا۔  جیسے؛۔ ہم جیتے۔ وہ پکارا۔ علی نہیں بدلا۔ اسلم آج کھیلا۔
7۔ جب مصدر کے ساتھ "ہے" یا  "تھا" استعمال ہوتا ہے تو فاعل مفعول کی صورت میں آتا ہے اور اس صورت میں " نے" نہیں لگایا جاتا۔ جیسے؛۔ مجھےکراچی جانا ہے۔ آپ  کوکیا لینا تھا۔ ان جملوں کی یہ صورت غلط ہو گی۔ میں نے کراچی جانا ہے۔ آپ نے کیا لینا تھا۔
مجھ اور تجھ ضمیر کی مفعولی حالتیں ہیں  اور ان کے ساتھ "نے"نہیں لگایا جاتا۔ لیکن جب ان کے ساتھ کوئی صفت لائی جائے تو پھر "نے" جملے میں لگایا جاتا ہے۔ مثلاً۔  مجھ ناچیز نے بھی ان کی زیارت کی۔ تجھ نالائق نے یہ بات کیسے کہی؟


منگل، 14 جولائی، 2020

قواعد اردو-24 امدادی/معاون افعال

3 comments

امدادی افعال/معاون افعال

  جیسا کہ  ہم پڑھ چکے ہیں کہ وہ فعل جو دوسرے فعل کے ساتھ آ کر اس کے  معنی میں تبدیلی لاتا ہو، امدادی /معاون فعل کہلاتا ہے۔ جیسے؛ ۔ علی رات کو دیر تک پڑھتا رہتا ہے۔ اس جملے میں 2 فعل پڑھنا اور رہنا آئے ہیں۔ رہنا فعل پڑھنا کا امدادی فعل ہے جو جملے میں زور پیدا کر رہا ہے۔ ایک اور مثال دیکھیں، اسلم مجھ سے نا حق لڑ پڑا۔ اس جملے میں پڑنا فعل لڑنے کا معاون فعل ہے جو جملے میں مزید فصاحت پیدا کر رہا ہے۔ امدادی افعال میں کچھ افعال ہمیشہ دوسرے افعال کے ساتھ ہی استعمال ہوتے ہیں اکیلے استعمال  نہیں ہوتے، جیسے؛ ۔  چُکنا، سکنا، لگنا وغیرہ جبکہ بعض اکیلے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں  پر اس صورت ان کے معنی مختلف ہو جاتے ہیں۔  امدادی افعال سادہ فعل کو مرکب فعل بنا دیتے ہیں۔ عموماً  ہم درج ذیل امدادی افعال استعمال کرتے ہیں؛

چُکنا:  کسی کام کے مکمل ہونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے ؛ ۔ پڑھ چکا، جا بھی چکا۔ وہ کھانا کھا چکا۔ بارش ہو چکی۔
ہونا:  یہ فعل بہت کثرت سے بہت متفرق معنوںمیں مستعمل ہے ، اسماء  و صفات کو فعلی معنی دیتا ہے جیسے؛۔  پشیمان ہونا،۔ آباد ہونا۔ تولد ہونا۔

پڑنا: کسی فعل کے یکا یک/اچانک ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ یا کسی مجبوری کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے بادل برس پڑے۔ وہ رو پڑا۔ وہ کیچڑ میں گر پڑے۔ مجبوری کی حالت میں  جیسے؛ ۔   اسے ماننا پڑا۔ ہمیں جانا پڑا۔
نکلنا: حالت سکون سے اچانک حرکت یا ہل چل کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے؛ ۔   پُھوٹ نکلا۔ چل نکلا۔
سَکنا: کسی کام کی قابلیت ہونے یا اجازت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے؛ ۔   وہ انگریزی بول سکتا ہے۔ تم جا سکتے ہو۔  وہ امتحان دے سکتے ہیں۔
جانا: کسی فعل کی تکمیل یا تاکید کے لیے  مستعمل ہے۔ جیسے ؛ ۔  کھانا کھا جاتا ہے۔ سو جاتا ہے۔ سبق یاد کر کے سو جاؤ۔
لینا: فعل کے مکمل ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے؛ ۔ کھا لیا۔ پڑھ لیا۔ سن لیا۔
ڈالنا: کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے مستعمل ہے۔ جیسے؛ ۔   کاٹ ڈالا۔ مارڈالا۔

آنا: یہ بھی فعل کی تکمیل یا تاکید  کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے؛ ۔  چاند ابھر آیا۔ وہ سندیسہ دے آیا۔
لگنا: کسی فعل کے شروع ہونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے؛ ۔  دوڑنے لگا۔ کھیلنے لگا۔
اُٹھنا: کسی فعل کی بے اختیاری اور تیزی کے اظہار کے لیے مستعمل ہے۔ جیسے؛ ۔   چلّا اٹھا۔ پھڑک اٹھا۔
چاہنا:  کسی ارادے یا خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے  ؛ ۔  وہ پڑھنا چاہتا ہے۔  وہ امریکہ منتقل ہونا چاہتا ہے۔

پیر، 13 جولائی، 2020

قواعد اردو -23 امدادی افعال اور متعلق فعل

34 comments


امدادی افعال/معاون افعال

وہ فعل جو دوسرے فعل کے ساتھ آ کر اس کے  معنی میں تبدیلی لاتا ہو، امدادی /معاون فعل کہلاتا ہے۔ جیسےعلی رات کو دیر تک پڑھتا رہتا ہے۔ اس جملے میں 2 فعل پڑھنا اور رہنا آئے ہیں۔ رہنا فعل پڑھنا کا امدادی فعل ہے جو جملے میں زور پیدا کر رہا ہے۔ ایک اور مثال دیکھیں، اسلم مجھ سے نا حق لڑ پڑا۔ اس جملے میں پڑنا فعل لڑنے کا معاون فعل ہے جو جملے میں مزید فصاحت پیدا کر رہا ہے۔

متعلق فعل/صلئہ فعل(تمیز)

وہ الفاظ جو فعل کی مختلف کیفیت یا حالت بیان کرنے کیلیے استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے علی اچانک کراچی چلا گیا۔ وہ خوب پڑھتا ہے۔ان جملوں میں اچانک اور خوب فعل  کی وضاحت کر رہے ہیں۔اچانک اور خوب متعلق فعل کہلاتے ہیں۔ متعلق فعل کو تمیز بھی کہا جاتا ہے ۔ پوسٹ " قواعد اردو-16" میں ہم اس کی اقسام تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔

 

 


منگل، 24 دسمبر، 2019

قواعد اردو-22

0 comments
قارئین کرام آداب! آج ہم  حروف عطف کے بارے میں مزید کچھ معلومات پڑھیں گے۔ حروف عطف کی تعریف ہم اردو قواعد-17 میں پڑھ چکے ہیں۔ 

عطف کا لفظی معنی ہے؛ پھیرنا، موڑنا، گھمانا۔

"عطف " کیا ہے؟
اردو قواعد "عطف" کے مخصوص اصطلاحی معنی ہیں جس کے مطابق  "و"    اور  "اور“ وغیرہ کے ذریعے ایک کلمے یا جملے کو دوسرے کے ساتھ ملانا یا ایک حکم میں شامل کرنا عطف کہلاتا ہے۔ جیسے  مجھے کاغذ اور قلم لا دو۔ اس نے  اپنے روز و شب کی روداد بیان کی۔ مرد و زن سب قانون کی نظر میں برابر ہیں۔

جس پر عطف کیا جاتا ہے اس معطوف علیہ کہتے ہیں، جس کا عطف کرتے ہیں وہ معطوف کہلاتا ہے، معطوف حرف عطف کے بعد آتا ہے اور معطوف علیہ پہلے۔"

حروف ِعطف
یہ حروف دو اسموں یا جملوں کو ملانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً کھانا کھا کر مجھے خط سنا دو۔ کتاب اور اخبار لے آؤ۔  ان جملوں میں"کر" اور "اور" حروف عطف ہیں۔ اور۔ و۔ نیز۔ بھی۔ کر۔ پھر حروف عطف ہیں.
عطفیہ
دو کلموں یا جملوں کو ملانے والا حرف عطفیہ/حرف عطف کہلاتا ہے۔ جیسے  مجھے کاغذ اور قلم لا دو۔  اس جملے میں "اور"  عطفیہ/حرف عطف ہے۔
معطوف
وہ کلمہ جو حرف عطف کے بعد واقع ہو۔ جیسے  مجھے کاغذ اور قلم لا دو۔   اس جملے میں "قلم" معطوف ہے۔
معطوف الیہ/علیہ
وہ کلمہ یا کلام جو حرف عطف سے پہلے واقع ہو اور جس پر عطف کیا جائے۔  جیسے  مجھے کاغذ اور قلم لا دو۔   اس جملے میں "کاغذ" معطوف الیہ/علیہ ہے۔
معطوفہ
 وہ جملہ جس میں حرف عطف پایا جائے۔ جیسے  مجھے کاغذ اور قلم لا دو۔ 
ماضی معطوفہ
وہ ماضی جس میں ایک فعل کے بعد دوسرے فعل کا ہونا ظاہر ہو، جیسے  وہ کتاب پڑھ کر سو رہا۔  علی دکان بند کر کے گھر چلا گیا۔
حالیہ معطوفہ

فعل کی وہ صورت جو اپنے وقوع کے بعد دوسرے فعل کے وقوع پر دلالت کرے اردو میں فعل اول کے بعد علامت "کر" یا" کے" لگا کر دوسرے فعل سے سلسلہ قائم کر دیتے ہیں پہلا معطوف علیہ کہلاتا ہے دوسرا معطوف اور "کر" یا "کے" حرف عطف۔ جیسے  اسے ساری کہانی سنا کر وہ رو دیے۔

مرکب عطفی

وہ مرکب کلام جو معطوف اور معطوف الیہ سے مل کر بنے۔

مرکب عطف بیان/ عطف بیان

جب دو اسم کلام میں اس طرح بولے جائیں کہ دوسرا اسم پہلے کی مزید وضاحت/توضیح کرتا ہو تو اسے عطف بیان کہتے ہیں۔

یا

 وہ مرکب ترکیب جو بیان اور مبین سے مل کر بنے۔  اس میں ایک اسم دوسرے خاص اسم کی وضاحت کرتاہے اور یہ دوسرا اسم پہلےکی نسبت زیادہ مشہور ہوتا ہے۔ پہلے اسم کو مبین اور دوسرے کو بیان کہتے ہیں۔ دوسرا اسم عام طور پر عُرف، لقب یا تخلص ہوتا ہے جیسے مرزا اسداللہ خان غالؔب۔ الطاف حسین حاؔلی۔   






قواعد اردو-21

3 comments

لفظ کے معنی
اردو زبان میں  ہر با معنی لفظ کلمہ کہلاتا ہے۔ ہرکلمےکاایک مخصوص مطلب ہوتا ہے۔ اردو زبان میں جملے کے اندر کسی  کلمے کے مختلف معنی/مطلب ہو سکتے ہیں ۔  تحریر کے سیاق و سباق کے مطابق کوئی لفظ اپنی اصل سے مختلف معنی دیتا ہے ، یہ معنی عموماً 3 طرح کے ہوتے ہیں؛
 1۔لغوی معنی        2۔ اصطلاحی معنی                 مجازی معنی
1۔ لغوی معنی: یہ کسی لفظ کا حقیقی یا اصلی مطلب ہوتا ہے ۔   جیسے  گلاب بمعنی ایک پھول،  گھوڑا  بمعنی ایک جانور، قلم بمعنی لکھنے کا آلہ۔

2۔ اصطلاحی معنی: کسی لفظ کا ایسا استعمال جس میں اس کے اصل/لغوی معنی کی جگہ کوئی اور مخصوص  معنی عام ہو جائیں۔ جیسے "غزل" کا لفظی مطلب عورت سے بات ہے مگر عام مفہوم میں شاعری کی ایک صنف لی  جاتی ہے۔ اسی طرح  دست و گریباں کے لفظی معنی کی  جگہ  اصطلاحی معنی  جھگڑا / دشمنی مشہور و معروف ہیں۔

3۔ مجازی معنی:
کسی لفظ کے ایسے معنی جن کا اصل/حقیقی مطلب سے بہت دور کا تعلق ہو۔ جیسے   ماں بچے سے کہتی ہے تم میرے چاند ہو۔ اس جملے میں "چاند" کا  لفظ اپنے لغوی یا حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنوں میں "پیارا/محبوب/بیٹا"    استعمال ہوا ہے۔  اسی  طرح  لفظ "نرگس" ایک پھول کو کہتے ہیں لیکن مجازاً اس سے آنکھ مراد ہوتی ہے۔

بلاگ

موضوعات

اردو (29) urdu (25) قواعد (23) urdu grammar (21) grammar (13) صرف (13) صرف و نحو (9) اسم (8) فاعل (5) مفعول (5) حرف (4) فعل (4) کلام (4) گرامر (4) استفہام (3) اصطلاحاتِ زبان (3) لازم (3) مرکب (3) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسم ضمیر (2) اشارہ (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) جملہ (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علم (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) مؤنث (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) معروف (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نحو (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) Consonant (1) Vowel (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آواز (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اسمیہ (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) الفاظ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بیان (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) تشبیہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) درجات صفت (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) روزمرہ (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علامت مفعول (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) فعلیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) متحرک (1) مترادف (1) مثبت (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مذکر سالم (1) مرجع (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مطلق (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) معنی (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *