فعل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فعل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 1 دسمبر، 2021

قواعد اردو-28۔ نحو

0 comments

تیسرا حصہ

  نحو

قواعد کا وہ علم جس  میں کلام، جملوں اور عبارتوں سے بحث کی جاتی ہے۔
نحو جملے میں الفاظ کی درست ترتیب اور اُنکے ربط باہمی کا علم ہے۔   
نحو میں اجزائے کلام کو ترکیب دینے اور انہیں  الگ الگ کرنے کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔
نحو میں  اجزائے کلام کی کیفیت، جنس اور تعداد  و زمانہ میں جو تغیرات وقوع ہوتے ہیں ، ان پر بحث کی جاتی ہے۔
نحو قواعد کا وہ علم ہے جس کے ذریعے اسم ،فعل اور حرف میں تبدیلی واقع ہونے یانہ ہو نے اور اس میں تبدیلی کی نوعیت کا علم حاصل ہو،نیز کلمات کو آپس میں ملانے کا طریقہ بھی معلوم ہو۔
نحو  کا موضوع کلام ہے، نحو کے علم سے ہم زبان کو درست  بولنے اور لکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
نحو کی 2 قسمیں ہیں: 1 ۔ نحو تفصیلی                    2۔ نحو ترکیبی
نحو تفصیلی:
بابائے اردو مولوی عبدالحق صاحب کے مطابق معنی و مفہوم کے لحاظ سے اجزائے کلام میں مختلف تغیرات اور کیفیات(بلحاظ جنس، تعداد، زمانہ اور حالت الگ الگ کرنے )کا  علم نحو تفصیلی کہلاتا ہے۔ تفصیل کا مطلب الگ الگ کرنا ہے۔
نحو ترکیبی: جملوں کی ترکیب یا ساخت کا علم نحو ترکیبی کہلاتا ہے۔ ترکیب کے معنی  دو یا دو سے زائد چیزوں کو آپس میں ملانا ہے۔

کلام/ مرکب:
دو یا دو سے زیادہ  با معنی الفاظ کا مجموعہ  کلام/مرکب کہلاتا ہے۔  مثلاً  پاکستان اسلامی ملک ہے۔ علی میرا بھائی ہے۔ہم لاہور میں رہتے ہیں۔ جانور چارہ کھاتے ہیں۔  میری گڑیا۔ تیز گھوڑا۔نیک آدمی۔ خوبصورت مکان۔
 
کلام کی اقسام

کلام  کی درج ذیل 2 اقسام ہیں؛
1۔ کلام تام:  الفاظ کا ایسا مجموعہ ہے جسے پڑھ /سن کر پورا مطلب سمجھ آ جائے۔  اسے جملہ  یا مرکب تام بھی کہتے ہیں۔ جیسے وہ سبق یاد کرتا ہے۔ ہم روز کھانا کھاتے ہیں۔
2۔ کلام ناقص:  وہ مجموعہ الفاظ ہے جسے پڑھ/سن کر پورا مطلب سمجھ نہ آئے۔  اسے مرکب بھی کہتے ہیں۔جیسے  دس لڑکے۔ بیمار آدمی۔  آخری چٹان۔خوبصورت تصویر۔


ترکیب یا صورت کے لحاظ سے جملے   کی اقسام:
ترکیب کے لحاظ سے جملے کی دو اقسام ہیں؛
           1۔ مفرد جملے                    2۔ مرکب جملے
مفرَد جملہ: ایسا جملہ جس میں صرف ایک فعل پایا جائے۔  ایسے جملے میں صرف ایک مُسند اور ایک مُسند الیہ ہوتا ہے۔جیسے  :اسلم نے پانی پیا۔ سلمہ اسکول جاتی ہے۔ تم کب آئے؟
مرکب جملہ:  جب دو یا دو سے زائد جملے مل کر ایک (مفردجملےکا)مفہوم ادا کرتے ہیں، تو اسے مرکب جملہ کہتے ہیں، اس میں ایک سے زیادہ فعل پائے جا سکتے ہیں۔ جیسے :  مجھے اطلاع ملتی تو میں ضرور آتا۔ تم محنت کرو گے تو کامیاب ہو گے۔ 

مرکب جملے کی اقسام
مرکب جملے کی 2 اقسام درج ذیل ہیں۔
1۔ مرکب مطلق: ایسا مرکب جملہ جس میں ہر مفرد جملہ  جدا گانہ برابر  کی حیثیت رکھتا ہے اور دوسرے جملے کا محتاج نہیں ہوتا۔ جیسے؛  علی آیا اور اسد چلا گیا۔
2۔ مرکب مُلتف: ایسے جملے جس میں  ایک جملہ مرکزی/اصلی ہوتا ہے باقی جملے  اس کےتابع ہوتے ہیں۔ جملے کا پورا مطلب کسی ایک جملے سے پورا سمجھ نہیں آتا ہے۔ جیسے؛  جو قلم گم ہو گیا تھا ، وہ مل گیا ہے۔  اس جملے میں" قلم مل گیا ہے " اصل جملہ ہے اور " جو گم ہو گیا تھا" اس کا تابع جملہ۔


کلام تام/مرکب تام:

الفاظ کا ایسا مجموعہ ہے جسے پڑھ /سن کر پورا مطلب سمجھ آ جائے۔  اسے جملہ  یا مرکب تام بھی کہتے ہیں۔ جیسے وہ سبق یاد کرتا ہے۔ ہم روز کھانا کھاتے ہیں۔ پرندے چہچہاتے ہیں۔ سپاہی پہرہ دیتا ہے۔
کوئی بھی جملہ (مرکب تام)  دو اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے ان اجزاء کے تعلق کو ”اسناد“ کہتے ہیں۔ جملے کے  دو اجزاء یہ ہیں؛
1۔مُسند: جملے میں جس شخص یا اسم کی بابت جو کچھ کہا جائے  اسے "مسند“ کہتے ہیں۔ جیسے اسلم پڑھتا ہے۔ علی بیمار ہے۔ ان جملوں میں ”پڑھتا ہے“ اور ”بیمار ہے“ مسند ہیں۔
2۔مُسند الیہ:جملے میں جس شخص یا اسم کی بابت کچھ کہنا  ”مُسند الیہ “ کہلاتا ہے۔  جیسے اسلم پڑھتا ہے۔ علی بیمار ہے۔ ان جملوں میں”اسلم“اور”علی“ مسند الیہ ہیں۔  

جملے کی اقسام

جملے کی اقسام درج ذیل ہیں؛

1۔ جملہ انشائیہ      2۔ جملہ خبریہ       3۔ جملہ اسمیہ       4۔ جملہ   فعلیہ
1۔ جملہ انشائیہ:جس جملے میں کوئی امر، نہی ، ندا، استفہام، شرط، تعجب، انبساط ، افسوس یا مخالفت پائی جائے ۔ جیسے کتاب نکالو!   علی کہاں ہے؟ کاش و ہ جیت جاتا! خبردار ۔ ایسے مت کرو!
2۔ جملہ خبریہ: جس جملے  میں کسی بات کی خبر دی جائے اور بولنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں۔ جیسے ؛اس نے سبق پڑھا۔ سلمیٰ اسکول جاتی ہے۔

3۔جملہ اسمیّہ: جس جملے میں مسند اور مسند الیہ دونوں اسم ہوں اور فعل ناقص  موجود ہو ، اسے جملہ اسمیّہ کہتے ہیں۔ جیسے علی بیمار ہے۔ وہ ایک وکیل ہے۔ جملہ اسمیہ کے مسند الیہ کو ”مبتداء“ اور مُسند کو ”خبر“ کہتے ہیں۔ جملہ اسمیہ کا مسند الیہ ہمیشہ اسم ہوتا ہے۔
جملہ اسمیہ کے اجزاء: جملہ اسمیہ کے 5 بنیادی اجزاء ہیں؛
 1۔ مبتداء:            جملہ اسمیہ کا مسند الیہ(اسم)  مبتداء کہلاتا ہے۔
2۔ متعلق مبتداء:    اسم سے متعلق جو الفاظ استعمال ہوں وہ متعلق مبتداء کہلاتے ہیں۔
3۔ خبر:               جملہ اسمیہ کے مُسند کو خبر کہتے ہیں۔
4۔ فعل ناقص:       وہ الفاظ فعل جو جملے کو مکمل کرتے ہیں ۔
جیسے؛ اسلم  کئی دن سےبیمار ہے۔ اس جملے میں اسلم مبتداء،         بیمارخبر ،  ہے فعل ناقص  اور "کئی دن سے" متعلق خبرہے۔
متعلقِ خبر:      اگر جملے میں جار اور مجرور آئے تو وہ مل کر ”متعلقِ خبر“ کہلاتا ہے۔

4۔ جملہ فعلیہ:جس  جملے میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا پایا جائے ۔ اس جملے میں مُسند الیہ تو اسم ہو مگر مُسند فعل ہو، وہ جملہ فعلیہ کہلاتا ہے۔ اس جملے میں فاعل، مفعول اور فعل لازم یا متعدی م موجود ہوتے ہیں۔ جیسے اسلم پڑھتا ہے۔ وہ کھانا کھاتا ہے۔ ان جملوں کے مسند الیہ کو ”فاعل“  اور مسند  کو ”فعل“ کہا جاتا ہے۔ باقی اجزا متعلق (فعل ، فاعل اور مفعول )کہلاتے ہیں۔

جملہ فعلیہ کے اجزاء:        
جملہ فعلیہ کے 6 اجزاء  درج ذیل  ہیں؛
 1۔ فاعل                  2۔  متعلق فاعل                                 3۔ مفعول          4۔ متعلق مفعول               5۔ فعل                6۔ متعلق فعل
اگر جملہ فعلیہ میں جار و مجرور آئے تو یہ مل کر "متعلقِ فعل “ کہلاتا ہے۔  اس جملے میں فعل عموماً فعل تام ہوتا ہے،۔ جیسے ؛ علی نے قلم سے خط لکھا۔  اگر فعل لازم ہو تو مفعول کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے؛ وہ مسکرایا۔ وہ دوڑتا ہے۔  

بدھ، 15 جولائی، 2020

قواعد اردو-25 علامت فاعل "نے"

5 comments

حرف "نے "   علامت فاعل
نے   علامت فاعل ہے ۔  یہ ہمیشہ متعدی افعال میں فاعل کے ساتھ  استعمال کی جاتی ہے جیسے ؛۔ اسلم نے سبق پڑھا۔ علی نے کھانا کھایا۔
"نے" کا استعمال  کرتے ہوئے ان باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔
1۔ "نے" ہمیشہ صرف متعدی افعال کے ساتھ استعمال ہو گی۔ افعال لازم میں فاعل کے ساتھ "نے" کا استعمال غلط ہے۔  جیسے ؛۔ وہ فرش پر بیٹھ گئے۔ ہم گھر واپس آ گئے۔  لازم افعال کے ساتھ نے لگانا بالکل غلط ہوتا ہے۔
2۔متعدی افعال کی صورت میں "نے" صرف فعل ماضی مطلق، ماضی قریب، ماضی بعید اور ماضی شکیہ کے جملوں میں آتا ہے۔ کسی اور زمانے(فعل) کے ساتھ "نے " نہیں آتا۔ جیسے؛۔ احمد نے کہا۔ احمد نے کہا ہو گا۔ احمد نے کہا تھا۔  جبکہ ایسے لکھنا غلط ہو گا  ۔جیسے ؛۔ احمد نے کہتا ہے۔ احمد نے کہے گا۔ احمد نے کہتا تھا۔  ان جملوں کی درست صورت یہ ہو گی۔ احمد کہتا ہے۔ احمد کہے گا۔ احمد کہتا تھا۔

 بعض متعدی افعال ایسے ہیں جن کے ساتھ "نے " استعمال نہیں ہو سکتا۔ جیسے  شرمانا، بھولنا، لانا،۔ جیسے؛۔ احمد شرمایا، شکیل سبق نہیں بھولا۔ اسلم سیب لایا۔ 
بولنا ایسا فعل متعدی ہے جس کے ساتھ "نے استعمال نہیں کیا جاتا جیسے؛۔ علی بولا۔ لیکن جب بولنے کے ساتھ کوئی مفعول موجود ہو تو        "نے " لگایا جاتا ہے۔ جیسے؛۔ سارہ نے سچ بولا۔ سرمد نے جھوٹ بولا۔
"چاہنا" کے ساتھ " نے " استعمال ہو گا ۔ جیسے؛۔ اللہ نے چاہا۔ اس نے چاہا۔  لیکن اگر چاہا کے ساتھ "دل" اور "جی" کے الفاظ آئیں تو پھر "نے" استعمال نہیں ہو گا۔ جیسے؛۔ جب دل چاہا۔ میرا جی چاہا۔
بدلنا، ہارنا، جیتنا، کھیلنا، سمجھنا، پکارنا ایسے مصدر ہیں  جو لازم اور متعدی دونوں صورت میں استعمال ہوتے ہیں۔  ان کے فعل متعدی کی صورت میں استعمال ہونے پر "نے" ان کے ساتھ لگایا جاتا ہے ۔ جیسے؛۔ ہم نے میچ جیتا۔ میں نے اسے پکارا۔ علی نے لباس بدلا۔ اسلم نے میچ کھیلا۔ جبکہ فعل لازم کی حالت میں "نے" کا استعمال نہیں ہو گا۔  جیسے؛۔ ہم جیتے۔ وہ پکارا۔ علی نہیں بدلا۔ اسلم آج کھیلا۔
7۔ جب مصدر کے ساتھ "ہے" یا  "تھا" استعمال ہوتا ہے تو فاعل مفعول کی صورت میں آتا ہے اور اس صورت میں " نے" نہیں لگایا جاتا۔ جیسے؛۔ مجھےکراچی جانا ہے۔ آپ  کوکیا لینا تھا۔ ان جملوں کی یہ صورت غلط ہو گی۔ میں نے کراچی جانا ہے۔ آپ نے کیا لینا تھا۔
مجھ اور تجھ ضمیر کی مفعولی حالتیں ہیں  اور ان کے ساتھ "نے"نہیں لگایا جاتا۔ لیکن جب ان کے ساتھ کوئی صفت لائی جائے تو پھر "نے" جملے میں لگایا جاتا ہے۔ مثلاً۔  مجھ ناچیز نے بھی ان کی زیارت کی۔ تجھ نالائق نے یہ بات کیسے کہی؟


پیر، 30 نومبر، 2015

قواعد اردو-15

7 comments
فعل کی اقسام(بلحاظ معنی)
معنی کے لحاظ سے فعل کی  قسمیں درج ذیل ہیں؛
1۔ فعل لازم:وہ فعل جس کا اثر فقط فاعل تک محدود ہو یا جو صرف فاعل سے پورا مطلب واضح کر دے۔ مثلاً علی آیا۔ میں گیا۔ سلمٰی مسکراتی ہے۔ وغیرہ۔
2۔فعل متعدی: وہ فعل جو فاعل کے ساتھ مفعول کا بھی محتاج ہو۔ بنا مفعول مطلب پورا سمجھ نہ آتا ہو۔ مثلاً علی انار کھاتا ہے۔ اس نے چائے پی۔ وہ اخبار پڑھیں گے۔ ہم میچ دیکھنے گئے۔ 
3۔فعل ناقص:وہ فعل جس میں کسی فعل کا صرف ”ہونا“ پایا جاتا ہے۔  یہ فعل فاعل کےبجائے مبتدا اور خبر پر مشتمل ہوتا ہے۔ مثلاً خالد چور ہے۔ میں بیمار ہوں۔ وہ خوبصورت تھی۔
4۔فعل معروف: جس فعل کا فاعل (کام کرنے والا) معلوم ہو اسے فعل معروف کہتے ہیں۔ مثلاً میں آیا۔ سلمٰی روئی۔ وہ میچ کھیلیں گے۔ وغیرہ
5۔ فعل مجہول: جس فعل کا فاعل(کام کرنے والا)  معلوم(مذکور)  نہ ہو اگرچہ مطلب سمجھ آ جائے۔ مثلاً آٹا پس گیا ہے۔ بارش ہوئی۔ کھڑکی کھولی گئی۔ وغیرہ
فعل کی اقسام(بلحاظ  زمانہ)
زمانے کے لحاظ سے اسم فعل کی 3 اقسام ہیں؛
1۔ فعل ماضی:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  گزرے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً     عمار نے چائے پی۔ کل بارش ہوئی تھی وغیرہ
2۔ فعل حال:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا موجودہ زمانے میں پایا جائے۔مثلاً  وہ اسکول جاتا ہے۔ ہم میچ کھیل رہے ہیں۔ وغیرہ
3۔ فعل مستقبل:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا سہنا آنے والے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً میں لاہور جاؤں گا۔ وہ بازار جائیں گے۔ وغیرہ
4۔ فعل مضارع: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  حال اور مستقبل دونوں میں پایا جائے۔ مثلاً      عمار چائے پیے۔ وہ ہنسے۔ وہ لائے.
فعل ماضی کی اقسام
فعل ماضی کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں؛
1۔ ماضی مطلق: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  مطلق گزرے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً     عمار نے چائے پی۔ وہ رویا۔ وہ ہنسے۔
2۔ماضی قریب: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  قریب کے گزرے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً  اُس نے چائے پی ہے۔ وہ ہنسا ہے۔
3۔ماضی بعید: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا   دور کے گزرے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً     عمار نے چائے پی تھی۔ وہ ہنسا تھا۔
4۔ ماضی استمراری: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  گزرے زمانے میں جاری حالت میں (بار بار ہونا)  پایا جائے۔ مثلاً      عمار  چائے پیتا تھا۔ وہ ہنستا تھا۔ بارش ہو رہی تھی۔
5۔ ماضی شکیّہ:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  گزرے زمانے میں شک میں پایا جائے۔ مثلاً     عمار نے چائے پی ہو گی۔ وہ ہنسا ہو گا۔
6۔ماضی تمنّائی: وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے ، ہونے یا سہنے کی تمنا  گزرے زمانے میں پائی جائے۔ مثلاً     عمار چائے پیتا۔وہ ہنستا۔
فعل کی حالتیں
فعل کی درج ذیل حالتیں ہیں؛
1۔فعل مثبت:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا ثابت ہو۔ مثلاً  لایا ہے۔ سوئے گا۔ جاتا ہے۔
2۔ فعل منفی: وہ فعل جس میں کسی کام کا نہ کرنا،نہ  ہونا یا نہ سہنا ثابت ہو۔ مثلاً نہیں لایا ہے۔ نہیں سوئے گا۔  نہیں جاتا  ہے۔
3۔ فعل امر:وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے یا ہونے کا حکم پایا جائے۔ مثلاً  سبق پڑھ۔ کتاب کھول۔ اُٹھ جا۔ پانی پی۔
4۔ فعل نہی:وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے یا ہونے سے روکا جائے۔ مثلاً  سبق مت پڑھ۔ کتاب نہ کھول۔ مت اٹھ۔ پانی نہ پی۔
فعل منفی اور فعل نہی میں فرق
فعل منفی سے کسی کام کا نہ کرنا یا نہ ہونا ظاہر ہوتا ہے جبکہ فعل نہی میں کام کرنے یا ہونے سے منع کیا جاتا ہے۔

پیر، 23 نومبر، 2015

قواعد اردو-5

0 comments
دوسرا حصہ
صَرف
صَرف:قواعد کا ایسا علم جس میں الفاظ کے تغیر اور تبدّل  اور ان سے مختلف کلمات بنانے پر بحث  کی جاتی ہے۔  دوسرے لفظوں میں صَرف کلموں اور لفظوں کی پہچان کا علم ہے۔ اس علم کا موضوع ”لفظ“ ہے۔
لفظ:  مختلف حروف مل کر لفظ بناتے ہیں۔   جیسے آم۔ کبوتر۔ سال۔ اختیار وغیرہ
جملہ:دو یا دو سے زیادہ  الفاظ کا ایسا مجموعہ جس کا مطلب سمجھ آ جائے، جملہ کہلاتا ہے۔  مثلاً  پاکستان اسلامی ملک ہے۔ علی میرا بھائی ہے۔ہم لاہور میں رہتے ہیں۔ جانور چارہ کھاتے ہیں۔(جملے کی ترکیب و بحث کا علم نَحو کہلاتا ہے جو حصہ سوئم میں زیرِ بحث لایا جائے گا)
لفظ کی اقسام
لفظ کی دو قسمیں ہیں؛
1۔ مہمل: وہ لفظ جس کے کوئی معنی نہ ہوں، جیسے روٹی شوٹی۔  سچ مچ۔گپ شپ۔ ان میں شوٹی،مچ اور شپ  مہمل ہیں۔
2۔ کلمہ: با معنی لفظ کلمہ کہلاتا ہے۔ جیسے روٹی۔کتاب۔علی۔ اکیلا لفظ کلمہ کہلاتا ہے ۔
 
کلام یا مرکب:دو یا دو سے زیادہ با معنی الفاظ کا مجموعہ کلام یا مرکب کہلاتا ہے، جیسے بڑا گھر۔  چھوٹا برتن۔اجلا کپڑا ۔
 کلمے کی اقسام
کلمے کی 3 اقسام ہیں؛
1۔ اسم: کسی چیز، جگہ یا شخص کے نام کو اسم کہتے ہیں۔مثلاً     کتاب۔ باغ۔ علی۔ مسجد۔ دریا۔ عالیہ وغیرہ۔
2۔ فعل
: وہ کلمہ جس سے کسی کام کا ہونا، کرنا یا سہنا ظاہر ہو فعل کہلاتا ہے۔ مثلاً کھاتا ہے۔ چلے گا۔ دوڑا تھا۔ 
3۔حرف:  
وہ کلمہ جو نہ فعل ہو نہ اسم بلکہ دو لفظوں کو آپس میں ملاتا ہو گویا الفاظ میں ربط اور تعلق پیدا کرتا ہو۔ جس سے مطلب  سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ جیسے کا۔ کی۔ کو۔ سے ۔ میں۔نے۔ پر .وغیرہ۔

بلاگ

موضوعات

اردو (39) urdu (34) قواعد (31) urdu grammar (30) صرف (18) صرف و نحو (18) grammar (15) گرامر (12) نحو (9) اسم (8) اصطلاحاتِ زبان (8) ترکیب نحوی (8) زبان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) فعل (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) الفاظ (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) روزمرہ (2) سابقہ (2) سابقے (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم (2) غیر معین (2) فصاحت (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) مرجع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بیان (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) درجات صفت (1) ذومعنی (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) مبتدا (1) متحرک (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) مثبت (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مذکر سالم (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مطابقت (1) مطلق (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *