جملہ اسمیہ
اور جملہ فعلیہ کی پہچان :
درج ذیل
چند اُصول ان دونوں جملوں کی پہچان کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں؛
1۔ جملہ اسمیہ
کی پہچان:
1۔
اگر فعل ناقص ہے تو جملہ اسمیہ ہو گا۔ اگر فعل تام ہے تو جملہ فعلیہ ہو گا۔
2۔ جملہ اسمیہ کے دو بنیادی اجزا ہوتے ہیں: مبتدا اور خبر۔
مبتدا وہ اسم ہے جس کے
بارے میں کچھ بیان کیا جائے، اور خبر وہ لفظ یا الفاظ
ہیں جو مبتدا کے بارے میں کوئی بات بتائیں۔ مبتدا اور خبر معرفہ یا نکرہ دونوں ہو سکتے ہیں۔
3۔ اگر ایک اسم ذات اور ایک اسم صفت ہو تو اسم ذات کو مبتدااور اسم صفت کو خبر کہتے ہیں۔
4۔ اگر دونوں اسم معرفہ ہوں تو پہلے کومبتدااور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔
5۔ اگر دونوں اسم نکرہ ہوں تو جو زیادہ خاص ہو اُسے مبتدا اور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔
6۔ مبتدا عموماً پہلے آتا
ہے اور خبر بعد میں۔
7۔بعض اوقات مبتدا یا خبر یا فعل ناقص حذف کر دیا جاتا ہے۔
8۔ خبر کبھی مفرد ہوتی ہے
اور کبھی مرکب۔
9۔ بعض اوقات مبتدا کی کئی خبریں ہوتی ہیں۔
10۔ بعض اوقات مبتدا مفرد اور کبھی
مرکب ہوتا ہے۔
11۔ بعض اوقات مبتدا اور خبر دونوں محذوف ہوتے
ہیں۔
جملہ فعلیہ کی
پہچان:
1۔ کسی فعل کا کرنا ،ہونا یا سہنا ضرور موجود ہو
گا۔
2۔ اگر
فعل تام ہے تو جملہ فعلیہ ہو گا۔(مفعول کا ہونا لازم نہیں)
3۔ فعل متعدی ہو تو مفعول لازمی آئے گا۔
4۔ بعض متعدی افعال کے دو مفعول ہوتے ہیں، پہلے
کو مفعول بہ اور دوسرے کو مفعول ثانی کہا جاتا ہے۔
5۔ بعض اوقات فاعل یا فاعل اور مفعول دونوں کو
حذف کر دیا جاتا ہے۔
6۔ بعض جملوں میں مفعول جملے کے شروع میں لایا
جا سکتا ہے۔
7۔ فعل مجہول میں فاعل نہیں آتا، ہمیشہ مفعول
آتا ہے۔
8۔ ترکیب نَحوی کرتے وقت جملہ فعلیہ میں سب سے پہلے فعل پھر
فاعل اور آخر میں متعلقات فعل لکھے جاتے ہیں۔












0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔