کلام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کلام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 1 دسمبر، 2021

قواعد اردو-28۔ نحو

0 comments

تیسرا حصہ

  نحو

قواعد کا وہ علم جس  میں کلام، جملوں اور عبارتوں سے بحث کی جاتی ہے۔
نحو جملے میں الفاظ کی درست ترتیب اور اُنکے ربط باہمی کا علم ہے۔   
نحو میں اجزائے کلام کو ترکیب دینے اور انہیں  الگ الگ کرنے کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔
نحو میں  اجزائے کلام کی کیفیت، جنس اور تعداد  و زمانہ میں جو تغیرات وقوع ہوتے ہیں ، ان پر بحث کی جاتی ہے۔
نحو قواعد کا وہ علم ہے جس کے ذریعے اسم ،فعل اور حرف میں تبدیلی واقع ہونے یانہ ہو نے اور اس میں تبدیلی کی نوعیت کا علم حاصل ہو،نیز کلمات کو آپس میں ملانے کا طریقہ بھی معلوم ہو۔
نحو  کا موضوع کلام ہے، نحو کے علم سے ہم زبان کو درست  بولنے اور لکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
نحو کی 2 قسمیں ہیں: 1 ۔ نحو تفصیلی                    2۔ نحو ترکیبی
نحو تفصیلی:
بابائے اردو مولوی عبدالحق صاحب کے مطابق معنی و مفہوم کے لحاظ سے اجزائے کلام میں مختلف تغیرات اور کیفیات(بلحاظ جنس، تعداد، زمانہ اور حالت الگ الگ کرنے )کا  علم نحو تفصیلی کہلاتا ہے۔ تفصیل کا مطلب الگ الگ کرنا ہے۔
نحو ترکیبی: جملوں کی ترکیب یا ساخت کا علم نحو ترکیبی کہلاتا ہے۔ ترکیب کے معنی  دو یا دو سے زائد چیزوں کو آپس میں ملانا ہے۔

کلام/ مرکب:
دو یا دو سے زیادہ  با معنی الفاظ کا مجموعہ  کلام/مرکب کہلاتا ہے۔  مثلاً  پاکستان اسلامی ملک ہے۔ علی میرا بھائی ہے۔ہم لاہور میں رہتے ہیں۔ جانور چارہ کھاتے ہیں۔  میری گڑیا۔ تیز گھوڑا۔نیک آدمی۔ خوبصورت مکان۔
 
کلام کی اقسام

کلام  کی درج ذیل 2 اقسام ہیں؛
1۔ کلام تام:  الفاظ کا ایسا مجموعہ ہے جسے پڑھ /سن کر پورا مطلب سمجھ آ جائے۔  اسے جملہ  یا مرکب تام بھی کہتے ہیں۔ جیسے وہ سبق یاد کرتا ہے۔ ہم روز کھانا کھاتے ہیں۔
2۔ کلام ناقص:  وہ مجموعہ الفاظ ہے جسے پڑھ/سن کر پورا مطلب سمجھ نہ آئے۔  اسے مرکب بھی کہتے ہیں۔جیسے  دس لڑکے۔ بیمار آدمی۔  آخری چٹان۔خوبصورت تصویر۔


ترکیب یا صورت کے لحاظ سے جملے   کی اقسام:
ترکیب کے لحاظ سے جملے کی دو اقسام ہیں؛
           1۔ مفرد جملے                    2۔ مرکب جملے
مفرَد جملہ: ایسا جملہ جس میں صرف ایک فعل پایا جائے۔  ایسے جملے میں صرف ایک مُسند اور ایک مُسند الیہ ہوتا ہے۔جیسے  :اسلم نے پانی پیا۔ سلمہ اسکول جاتی ہے۔ تم کب آئے؟
مرکب جملہ:  جب دو یا دو سے زائد جملے مل کر ایک (مفردجملےکا)مفہوم ادا کرتے ہیں، تو اسے مرکب جملہ کہتے ہیں، اس میں ایک سے زیادہ فعل پائے جا سکتے ہیں۔ جیسے :  مجھے اطلاع ملتی تو میں ضرور آتا۔ تم محنت کرو گے تو کامیاب ہو گے۔ 

مرکب جملے کی اقسام
مرکب جملے کی 2 اقسام درج ذیل ہیں۔
1۔ مرکب مطلق: ایسا مرکب جملہ جس میں ہر مفرد جملہ  جدا گانہ برابر  کی حیثیت رکھتا ہے اور دوسرے جملے کا محتاج نہیں ہوتا۔ جیسے؛  علی آیا اور اسد چلا گیا۔
2۔ مرکب مُلتف: ایسے جملے جس میں  ایک جملہ مرکزی/اصلی ہوتا ہے باقی جملے  اس کےتابع ہوتے ہیں۔ جملے کا پورا مطلب کسی ایک جملے سے پورا سمجھ نہیں آتا ہے۔ جیسے؛  جو قلم گم ہو گیا تھا ، وہ مل گیا ہے۔  اس جملے میں" قلم مل گیا ہے " اصل جملہ ہے اور " جو گم ہو گیا تھا" اس کا تابع جملہ۔


کلام تام/مرکب تام:

الفاظ کا ایسا مجموعہ ہے جسے پڑھ /سن کر پورا مطلب سمجھ آ جائے۔  اسے جملہ  یا مرکب تام بھی کہتے ہیں۔ جیسے وہ سبق یاد کرتا ہے۔ ہم روز کھانا کھاتے ہیں۔ پرندے چہچہاتے ہیں۔ سپاہی پہرہ دیتا ہے۔
کوئی بھی جملہ (مرکب تام)  دو اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے ان اجزاء کے تعلق کو ”اسناد“ کہتے ہیں۔ جملے کے  دو اجزاء یہ ہیں؛
1۔مُسند: جملے میں جس شخص یا اسم کی بابت جو کچھ کہا جائے  اسے "مسند“ کہتے ہیں۔ جیسے اسلم پڑھتا ہے۔ علی بیمار ہے۔ ان جملوں میں ”پڑھتا ہے“ اور ”بیمار ہے“ مسند ہیں۔
2۔مُسند الیہ:جملے میں جس شخص یا اسم کی بابت کچھ کہنا  ”مُسند الیہ “ کہلاتا ہے۔  جیسے اسلم پڑھتا ہے۔ علی بیمار ہے۔ ان جملوں میں”اسلم“اور”علی“ مسند الیہ ہیں۔  

جملے کی اقسام

جملے کی اقسام درج ذیل ہیں؛

1۔ جملہ انشائیہ      2۔ جملہ خبریہ       3۔ جملہ اسمیہ       4۔ جملہ   فعلیہ
1۔ جملہ انشائیہ:جس جملے میں کوئی امر، نہی ، ندا، استفہام، شرط، تعجب، انبساط ، افسوس یا مخالفت پائی جائے ۔ جیسے کتاب نکالو!   علی کہاں ہے؟ کاش و ہ جیت جاتا! خبردار ۔ ایسے مت کرو!
2۔ جملہ خبریہ: جس جملے  میں کسی بات کی خبر دی جائے اور بولنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں۔ جیسے ؛اس نے سبق پڑھا۔ سلمیٰ اسکول جاتی ہے۔

3۔جملہ اسمیّہ: جس جملے میں مسند اور مسند الیہ دونوں اسم ہوں اور فعل ناقص  موجود ہو ، اسے جملہ اسمیّہ کہتے ہیں۔ جیسے علی بیمار ہے۔ وہ ایک وکیل ہے۔ جملہ اسمیہ کے مسند الیہ کو ”مبتداء“ اور مُسند کو ”خبر“ کہتے ہیں۔ جملہ اسمیہ کا مسند الیہ ہمیشہ اسم ہوتا ہے۔
جملہ اسمیہ کے اجزاء: جملہ اسمیہ کے 5 بنیادی اجزاء ہیں؛
 1۔ مبتداء:            جملہ اسمیہ کا مسند الیہ(اسم)  مبتداء کہلاتا ہے۔
2۔ متعلق مبتداء:    اسم سے متعلق جو الفاظ استعمال ہوں وہ متعلق مبتداء کہلاتے ہیں۔
3۔ خبر:               جملہ اسمیہ کے مُسند کو خبر کہتے ہیں۔
4۔ فعل ناقص:       وہ الفاظ فعل جو جملے کو مکمل کرتے ہیں ۔
جیسے؛ اسلم  کئی دن سےبیمار ہے۔ اس جملے میں اسلم مبتداء،         بیمارخبر ،  ہے فعل ناقص  اور "کئی دن سے" متعلق خبرہے۔
متعلقِ خبر:      اگر جملے میں جار اور مجرور آئے تو وہ مل کر ”متعلقِ خبر“ کہلاتا ہے۔

4۔ جملہ فعلیہ:جس  جملے میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا پایا جائے ۔ اس جملے میں مُسند الیہ تو اسم ہو مگر مُسند فعل ہو، وہ جملہ فعلیہ کہلاتا ہے۔ اس جملے میں فاعل، مفعول اور فعل لازم یا متعدی م موجود ہوتے ہیں۔ جیسے اسلم پڑھتا ہے۔ وہ کھانا کھاتا ہے۔ ان جملوں کے مسند الیہ کو ”فاعل“  اور مسند  کو ”فعل“ کہا جاتا ہے۔ باقی اجزا متعلق (فعل ، فاعل اور مفعول )کہلاتے ہیں۔

جملہ فعلیہ کے اجزاء:        
جملہ فعلیہ کے 6 اجزاء  درج ذیل  ہیں؛
 1۔ فاعل                  2۔  متعلق فاعل                                 3۔ مفعول          4۔ متعلق مفعول               5۔ فعل                6۔ متعلق فعل
اگر جملہ فعلیہ میں جار و مجرور آئے تو یہ مل کر "متعلقِ فعل “ کہلاتا ہے۔  اس جملے میں فعل عموماً فعل تام ہوتا ہے،۔ جیسے ؛ علی نے قلم سے خط لکھا۔  اگر فعل لازم ہو تو مفعول کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے؛ وہ مسکرایا۔ وہ دوڑتا ہے۔  

جمعہ، 27 نومبر، 2015

قواعد اردو-13

3 comments
تعداد کے لحاظ سے اسم کی اقسام
اسم عدد: وہ اسم جس سے کسی ذات یا چیز کی تعداد ظاہر ہوتی ہو۔  جیسے وہ 2 قلم ہیں۔ تسبیح میں 100 دانے ہیں۔ ہماری جماعت میں 22 طلباء ہیں۔
اسم عدد کی اقسام
            اسم عدد کی دو اقسام ہیں؛
1۔ عدد  معین: جس اسم عدد سے اشیاء کی تعداد کا صحیح تعین ہو سکے۔ مثلاً  چار۔ تین۔ پچاس۔ سو۔ ہزار۔ سوا۔ آدھا۔ پونا لاکھ  وغیرہ
2۔ عدد غیر معین: جس اسم عدد سے اشیاء کی تعداد کا درست تعین نہ ہو سکے۔ جیسے کئی۔ چند۔ بہت۔ تھوڑا۔ متعدد۔ وغیرہ
تعداد یا گنتی کے لحاظ سے اسم عدد کی حالتیں
تعداد یا گنتی کے لحاظ سے اسم کی دو حالتیں ہیں۔
1۔  واحد: وہ  لفظ جو صرف ایک شخص ۔ جگہ یا چیز کے لیے استعمال ہو  ۔مثلاً لڑکا۔ تحفہ۔ آنکھ۔ دیوار۔ مسجد۔ وغیرہ
2۔جمع: وہ لفظ جو ایک سے زیادہ چیزوں،جگہوں یا اشخاص کے لیے بولا جائے۔ مثلاً بچے۔ تحفے۔ آنکھیں۔ دیواریں۔ مساجد وغیرہ
جمع کی صورتیں
جمع کی درج ذیل صورتیں ہیں؛
جمع سالم: واحد سے جمع بناتے وقت اگر واحد کے حروف میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہو تو اسے جمع سالم کہتے ہیں۔ مثلاً حاضر سے حاضرین۔ احسان سے احسانات۔ انعام سے انعامات وغیرہ
جمع مکسر:
اگر واحد سے جمع بناتے وقت واحد کی صورت بدل جائے تو اسے جمع مکسر کہتے ہیں۔ جیسے شعر سے اشعار۔ امام سے ائمہ۔ اُم سے اُمّہات۔ وعدہ سے وعود وغیرہ
تثنیہ:
عربی الفاظ میں  دو چیزوں کے لیے جمع کی ایک الگ صورت استعمال کی جاتی ہے اسے تثنیہ کہتے ہیں۔تثنیہ کا مطلب 2 ہے۔ جیسے سید سے سیدین۔  دار سے دارین۔ عید سے عیدین۔ والد سے والدین ۔قطب سے قطبین۔
جمع الجمع:
کسی واحد سے جمع کی جمع کو جمع الجمع کہتے ہیں۔ جیسے اکبر سے اکابر اور اکابر سے اکابرین۔ دوا سے ادویہ اور ادویہ سے ادویات۔ لقب سے القاب اور پھر القاب سے القابات وغیرہ
اسم جمع اور جمع میں فرق
اسم جمع میں لفظ تو واحد ہوتا ہے مگر معنی مجموعے یا جمع کےدیتا ہے۔  جیسے فوج۔ لشکر۔ جماعت وغیرہ   جبکہ
جمع(عدد)  میں لفظ اور معنی دونوں جمع کا مفہوم دیتے ہیں۔ جیسے کتاب سے کتابیں۔ کرسی سے کرسیاں وغیرہ

پیر، 23 نومبر، 2015

قواعد اردو-6

0 comments
اسم کی اقسام (بلحاظ بناوٹ)
بناوٹ کے لحاظ سے اسم کی 3 اقسام ہیں۔
1۔ اسم جامد: ایسا اسم جو نہ خود کسی کلمہ سے بنا ہو اور نہ اس سے کوئی دوسر ا کلمہ بن سکے جیسے کرسی۔ میز۔ لکڑی۔ پانی۔ آگ۔  وغیرہ
2۔ اسم مصدر: ایسا  اسم جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا ظاہر ہو، مصدر سے اور کلمے بنائے جا سکتے ہیں۔ مثلاً کھانا۔ پینا۔ سونا۔ جاگنا۔ رونا۔ دھونا۔ آنا ۔ جانا  وغیرہ۔ "نا" مصدر کی علامت ہے۔
3۔اسم مشتق: ایسا اسم جو مصدر سے بنا ہو جیسے لکھنا سے لکھائی۔ پڑھنا سے پڑھائی ۔ پڑھنے والا۔ پڑھا ہوا  ۔وغیرہ

اسم مصدر کی اقسام (بلحاظ معنی)
اسم مصدر کی معنی کے لحاظ سے 4 اقسام ہیں؛
1۔ مصدر مفرد(اصلی مصدر): وہ اسم جو شروع سے ہی مصدر کے معنی دیتا ہو۔ مثلاً آنا۔ جانا۔ جاگنا۔ سونا۔ کھانا۔ پینا وغیرہ
2۔ مصدر مرکب(جعلی مصدر): وہ اسم ہے جو کسی لفظ کو مصدر کے شروع میں لگا کر مصدر بنا لیا جائے۔ مثلاً بہک جانا۔ سچ بولنا۔ کلمہ پڑھنا۔  قے آنا وغیرہ
3۔ مصدر لازم: وہ مصدر جس سے بنا یا گیا فعل صرف فاعل کو چاہے اور جملہ فعل اور فاعل سے مکمل ہو جائے۔ جیسے  بچہ گیا۔  میں سو  گیا۔  زید تیز دوڑا  ۔ وغیرہ
4۔ مصدر متعدی: وہ مصدر جس سے بنایا گیا فعل فاعل اور مفعول دونوں  کو  چاہے۔ مثلاً عورت نے آم کھایا۔ میں نے کتاب پڑھی۔ اس نے خط لکھا ۔ وغیرہ

مصدر متعدی کی اقسام(بلحاظ مفعول)
مفعول کے لحاظ سے متعدی مصادر کی درج ذیل اقسام ہیں؛
1۔متعدی بہ یک  مفعول:ایسا مصدر متعدی جو صرف ایک مفعول کو چاہے۔ مثلاً  اکبر نے چائے پی۔ اس نے سیب کاٹا۔
2۔متعدی بہ دو مفعول: ایسا مصدر متعدی جو جملے کی تکمیل کے لیے دو مفعول چاہے۔ مثلاً زید نے سجاد کو پھول دیا۔ اس نے علی کے لیے سیب کاٹا۔  یہاں دو مفعول ”سجاد ۔پھو ل“ اور ”علی۔سیب“ ہیں۔
3۔متعدی بہ سہ مفعول:ایسا مصدر جو فعل کی تکمیل کے لیے تین مفعول چاہے۔ مثلاًاکبر نے علی کو سلیم سے دوات لے کر دی۔ یہاں تین مفعول ”علی“،”سلیم“اور”دوات“ ہیں۔

مصدر متعدی کی اقسام(بلحاظ بناوٹ)
بناوٹ کے لحاظ سے متعدی مصادر کی 3 اقسام یہ ہیں؛
1۔ متعدّی الاصل:ایسے مصادر جو اصل میں متعدّی ہی وضع کیے گئے ہوں۔ مثلاً لکھنا۔ پڑھنا۔ کھانا۔ پینا۔  وغیرہ (انہیں متعدّی بنفسہٖ بھی کیا جاتا ہے)
2۔ مصدر متعدی بالواسطہ(مصدر لازم سے مصدر متعدی ):مصدر لازم سےبنائے گئے  مصدر متعدی کو  مصدر  متعدی بالواسطہ کہتے ہیں۔ مثلاً سننا سے سنانا۔ ڈرنا سے ڈرانا۔ رکنا سے روکنا۔ جاگنا سے جگانا۔ رونا سے رلانا۔ جلنا سے جلانا۔ وغیرہ
3۔متعدّی المتعدّی: جو مصدر متعدی  سے متعدی بنائے جائیں، انہیں مصدر متعدی المتعدی کیا جاتا ہے۔ جیسے۔ لکھنا سے لکھانا۔ پڑھنا سے پڑھانا ۔ دیکھنا سے دکھانا وغیرہ

قواعد اردو-5

0 comments
دوسرا حصہ
صَرف
صَرف:قواعد کا ایسا علم جس میں الفاظ کے تغیر اور تبدّل  اور ان سے مختلف کلمات بنانے پر بحث  کی جاتی ہے۔  دوسرے لفظوں میں صَرف کلموں اور لفظوں کی پہچان کا علم ہے۔ اس علم کا موضوع ”لفظ“ ہے۔
لفظ:  مختلف حروف مل کر لفظ بناتے ہیں۔   جیسے آم۔ کبوتر۔ سال۔ اختیار وغیرہ
جملہ:دو یا دو سے زیادہ  الفاظ کا ایسا مجموعہ جس کا مطلب سمجھ آ جائے، جملہ کہلاتا ہے۔  مثلاً  پاکستان اسلامی ملک ہے۔ علی میرا بھائی ہے۔ہم لاہور میں رہتے ہیں۔ جانور چارہ کھاتے ہیں۔(جملے کی ترکیب و بحث کا علم نَحو کہلاتا ہے جو حصہ سوئم میں زیرِ بحث لایا جائے گا)
لفظ کی اقسام
لفظ کی دو قسمیں ہیں؛
1۔ مہمل: وہ لفظ جس کے کوئی معنی نہ ہوں، جیسے روٹی شوٹی۔  سچ مچ۔گپ شپ۔ ان میں شوٹی،مچ اور شپ  مہمل ہیں۔
2۔ کلمہ: با معنی لفظ کلمہ کہلاتا ہے۔ جیسے روٹی۔کتاب۔علی۔ اکیلا لفظ کلمہ کہلاتا ہے ۔
 
کلام یا مرکب:دو یا دو سے زیادہ با معنی الفاظ کا مجموعہ کلام یا مرکب کہلاتا ہے، جیسے بڑا گھر۔  چھوٹا برتن۔اجلا کپڑا ۔
 کلمے کی اقسام
کلمے کی 3 اقسام ہیں؛
1۔ اسم: کسی چیز، جگہ یا شخص کے نام کو اسم کہتے ہیں۔مثلاً     کتاب۔ باغ۔ علی۔ مسجد۔ دریا۔ عالیہ وغیرہ۔
2۔ فعل
: وہ کلمہ جس سے کسی کام کا ہونا، کرنا یا سہنا ظاہر ہو فعل کہلاتا ہے۔ مثلاً کھاتا ہے۔ چلے گا۔ دوڑا تھا۔ 
3۔حرف:  
وہ کلمہ جو نہ فعل ہو نہ اسم بلکہ دو لفظوں کو آپس میں ملاتا ہو گویا الفاظ میں ربط اور تعلق پیدا کرتا ہو۔ جس سے مطلب  سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ جیسے کا۔ کی۔ کو۔ سے ۔ میں۔نے۔ پر .وغیرہ۔

بلاگ

موضوعات

اردو (39) urdu (34) قواعد (31) urdu grammar (30) صرف (18) صرف و نحو (18) grammar (15) گرامر (12) نحو (9) اسم (8) اصطلاحاتِ زبان (8) ترکیب نحوی (8) زبان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) فعل (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) الفاظ (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) روزمرہ (2) سابقہ (2) سابقے (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم (2) غیر معین (2) فصاحت (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) مرجع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بیان (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) درجات صفت (1) ذومعنی (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) مبتدا (1) متحرک (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) مثبت (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مذکر سالم (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مطابقت (1) مطلق (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *