پیر، 23 نومبر، 2015

قواعد اردو-6

0 comments
اسم کی اقسام (بلحاظ بناوٹ)
بناوٹ کے لحاظ سے اسم کی 3 اقسام ہیں۔
1۔ اسم جامد: ایسا اسم جو نہ خود کسی کلمہ سے بنا ہو اور نہ اس سے کوئی دوسر ا کلمہ بن سکے جیسے کرسی۔ میز۔ لکڑی۔ پانی۔ آگ۔  وغیرہ
2۔ اسم مصدر: ایسا  اسم جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا ظاہر ہو، مصدر سے اور کلمے بنائے جا سکتے ہیں۔ مثلاً کھانا۔ پینا۔ سونا۔ جاگنا۔ رونا۔ دھونا۔ آنا ۔ جانا  وغیرہ۔ "نا" مصدر کی علامت ہے۔
3۔اسم مشتق: ایسا اسم جو مصدر سے بنا ہو جیسے لکھنا سے لکھائی۔ پڑھنا سے پڑھائی ۔ پڑھنے والا۔ پڑھا ہوا  ۔وغیرہ

اسم مصدر کی اقسام (بلحاظ معنی)
اسم مصدر کی معنی کے لحاظ سے 4 اقسام ہیں؛
1۔ مصدر مفرد(اصلی مصدر): وہ اسم جو شروع سے ہی مصدر کے معنی دیتا ہو۔ مثلاً آنا۔ جانا۔ جاگنا۔ سونا۔ کھانا۔ پینا وغیرہ
2۔ مصدر مرکب(جعلی مصدر): وہ اسم ہے جو کسی لفظ کو مصدر کے شروع میں لگا کر مصدر بنا لیا جائے۔ مثلاً بہک جانا۔ سچ بولنا۔ کلمہ پڑھنا۔  قے آنا وغیرہ
3۔ مصدر لازم: وہ مصدر جس سے بنا یا گیا فعل صرف فاعل کو چاہے اور جملہ فعل اور فاعل سے مکمل ہو جائے۔ جیسے  بچہ گیا۔  میں سو  گیا۔  زید تیز دوڑا  ۔ وغیرہ
4۔ مصدر متعدی: وہ مصدر جس سے بنایا گیا فعل فاعل اور مفعول دونوں  کو  چاہے۔ مثلاً عورت نے آم کھایا۔ میں نے کتاب پڑھی۔ اس نے خط لکھا ۔ وغیرہ

مصدر متعدی کی اقسام(بلحاظ مفعول)
مفعول کے لحاظ سے متعدی مصادر کی درج ذیل اقسام ہیں؛
1۔متعدی بہ یک  مفعول:ایسا مصدر متعدی جو صرف ایک مفعول کو چاہے۔ مثلاً  اکبر نے چائے پی۔ اس نے سیب کاٹا۔
2۔متعدی بہ دو مفعول: ایسا مصدر متعدی جو جملے کی تکمیل کے لیے دو مفعول چاہے۔ مثلاً زید نے سجاد کو پھول دیا۔ اس نے علی کے لیے سیب کاٹا۔  یہاں دو مفعول ”سجاد ۔پھو ل“ اور ”علی۔سیب“ ہیں۔
3۔متعدی بہ سہ مفعول:ایسا مصدر جو فعل کی تکمیل کے لیے تین مفعول چاہے۔ مثلاًاکبر نے علی کو سلیم سے دوات لے کر دی۔ یہاں تین مفعول ”علی“،”سلیم“اور”دوات“ ہیں۔

مصدر متعدی کی اقسام(بلحاظ بناوٹ)
بناوٹ کے لحاظ سے متعدی مصادر کی 3 اقسام یہ ہیں؛
1۔ متعدّی الاصل:ایسے مصادر جو اصل میں متعدّی ہی وضع کیے گئے ہوں۔ مثلاً لکھنا۔ پڑھنا۔ کھانا۔ پینا۔  وغیرہ (انہیں متعدّی بنفسہٖ بھی کیا جاتا ہے)
2۔ مصدر متعدی بالواسطہ(مصدر لازم سے مصدر متعدی ):مصدر لازم سےبنائے گئے  مصدر متعدی کو  مصدر  متعدی بالواسطہ کہتے ہیں۔ مثلاً سننا سے سنانا۔ ڈرنا سے ڈرانا۔ رکنا سے روکنا۔ جاگنا سے جگانا۔ رونا سے رلانا۔ جلنا سے جلانا۔ وغیرہ
3۔متعدّی المتعدّی: جو مصدر متعدی  سے متعدی بنائے جائیں، انہیں مصدر متعدی المتعدی کیا جاتا ہے۔ جیسے۔ لکھنا سے لکھانا۔ پڑھنا سے پڑھانا ۔ دیکھنا سے دکھانا وغیرہ

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

بلاگ

موضوعات

اردو (51) urdu (40) قواعد (38) urdu grammar (34) صرف و نحو (19) صرف (18) گرامر (18) grammar (16) نحو (10) اصطلاحاتِ زبان (9) ترکیب نحوی (9) اسم (8) زبان (7) علم بیان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) شاعری (4) علمِ بلاغت (4) فعل (4) نظم (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) الفاظ (3) بلاغت و فصاحت (3) بلیغ (3) تخلص (3) علم (3) علم بدیع (3) علم عروض (3) علم معانی (3) فصاحت (3) فصیح (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) انشائیہ (2) بحر (2) بحر مزاحف (2) بدیع (2) بلاغت (2) بلیغ و فصیح (2) بیان (2) تانیث (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حذف (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) ردیف (2) روزمرہ (2) زحاف (2) سابقہ (2) سابقے (2) ساکن (2) شعر (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم قافیہ (2) علم قوافی (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) قافیہ (2) قبض (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) متحرک (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) محذوف (2) مذکر (2) مرجع (2) مصرع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نثر (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) u (1) ، صرف (1) آراء (1) آزاد نظم، نثری نظم (1) آشوب شہر (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آپ بیتی (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استعارہ (1) استعارہ بالتصریح (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحات (1) اصطلاحی (1) اصناف (1) اصناف نظم (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) افسانوی نثر (1) افسانہ (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انکاری (1) ایجاب (1) ایہام (1) بالکنایہ (1) بحر سالم (1) بحر ہزج (1) بدائع (1) بدایع (1) بند (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تبصرہ (1) تثنیہ (1) تحقیق (1) تخصیص (1) تذکرہ (1) ترائیلے (1) ترتیبی (1) ترجیع بند (1) ترک (1) ترکیب بند (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشبیہ،کنایہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تقطیع (1) تلمیح (1) تمنائی (1) تنسیق (1) تنقید (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) ثلاثی (1) جار (1) جدید (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حرف تاسیس (1) حرف دخیل (1) حرف ردف (1) حرف روی (1) حرف قید (1) حرف مزید (1) حرف نائرہ (1) حرف وصل، حرف خروج (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حسن تعلیل (1) حسن مطلع (1) حصر (1) حمد (1) خاکہ (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) خفیف (1) داستان (1) دال (1) دال اور مدلول (1) درجات صفت (1) دلالت (1) دلالت التزامی (1) دلالت تضمنی (1) دلالت حقیقی (1) دلالت ضمنی (1) دوہا (1) ذومعنی (1) رائے (1) رباعی (1) ربط (1) رجز (1) رمل (1) رموز اوقاف (1) رنگین نثر (1) روزنامچہ (1) رپورتاژ (1) ریختی (1) زبر (1) زمین (1) زیر (1) سالم (1) سانیٹ (1) سبب (1) سخن (1) سریع (1) سفر نامہ (1) سلام (1) سوانح عمری (1) سکتہ (1) سکون (1) شاعری، بیت، شعر (1) شاہ بیت (1) شخصی (1) شرط (1) شعری (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صنائع (1) صنائع لفظی (1) صنائع معنوی (1) صنعت (1) صنعت تضاد (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) طنز (1) طنزومزاح (1) ظرافت (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عروض (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علم بلاغت کی شاخیں (1) عَلم (1) غزل (1) غیر افسانوی نثر (1) فاصلہ (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) فکاہت (1) فکاہیہ (1) فکاہیہ ادب (1) قدح (1) قسم (1) قصر (1) قصہ (1) قصیدہ (1) قطعہ (1) قمری (1) قو (1) لغوی (1) لف و نشر (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) ماہیا (1) مبالغہ (1) مبتدا (1) متدارک (1) متروک (1) متروک الفاظ (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) متقارب (1) مثبت (1) مثمن (1) مثنوی (1) مجاز (1) مجاز مرسل (1) مجازی (1) مجتث (1) مجروری (1) محاورہ (1) مخمس (1) مد (1) مدلول (1) مذکر سالم (1) مراعاۃ النظیر (1) مرثیہ (1) مرصع (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مزاح (1) مزاحف (1) مستزاد، ہائیکو (1) مستقبل (1) مسجع (1) مسدس (1) مسمط (1) مشار (1) مصدر (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مضمون (1) مطابقت (1) مطلع (1) مطلق (1) معانی (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقبوض (1) مقداری (1) مقصور (1) مقصورہ (1) مقطع (1) ممدوہ (1) مناجات (1) منفی (1) منقبت (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکتوب نگاری (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ناول (1) ناولٹ (1) نثر عاری (1) نثر مرجز (1) نثر مرسل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نظم جدید (1) نظم معرا (1) نعت (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) واسوخت (1) وتد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پابند نظم (1) پسند (1) پیش (1) ڈراما (1) کافی (1) کالم (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) گیت (1) ہجا (1) ہجو (1) ہزل (1) یادداشت (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *