متعدی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
متعدی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 15 جولائی، 2020

قواعد اردو-25 علامت فاعل "نے"

5 comments

حرف "نے "   علامت فاعل
نے   علامت فاعل ہے ۔  یہ ہمیشہ متعدی افعال میں فاعل کے ساتھ  استعمال کی جاتی ہے جیسے ؛۔ اسلم نے سبق پڑھا۔ علی نے کھانا کھایا۔
"نے" کا استعمال  کرتے ہوئے ان باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔
1۔ "نے" ہمیشہ صرف متعدی افعال کے ساتھ استعمال ہو گی۔ افعال لازم میں فاعل کے ساتھ "نے" کا استعمال غلط ہے۔  جیسے ؛۔ وہ فرش پر بیٹھ گئے۔ ہم گھر واپس آ گئے۔  لازم افعال کے ساتھ نے لگانا بالکل غلط ہوتا ہے۔
2۔متعدی افعال کی صورت میں "نے" صرف فعل ماضی مطلق، ماضی قریب، ماضی بعید اور ماضی شکیہ کے جملوں میں آتا ہے۔ کسی اور زمانے(فعل) کے ساتھ "نے " نہیں آتا۔ جیسے؛۔ احمد نے کہا۔ احمد نے کہا ہو گا۔ احمد نے کہا تھا۔  جبکہ ایسے لکھنا غلط ہو گا  ۔جیسے ؛۔ احمد نے کہتا ہے۔ احمد نے کہے گا۔ احمد نے کہتا تھا۔  ان جملوں کی درست صورت یہ ہو گی۔ احمد کہتا ہے۔ احمد کہے گا۔ احمد کہتا تھا۔

 بعض متعدی افعال ایسے ہیں جن کے ساتھ "نے " استعمال نہیں ہو سکتا۔ جیسے  شرمانا، بھولنا، لانا،۔ جیسے؛۔ احمد شرمایا، شکیل سبق نہیں بھولا۔ اسلم سیب لایا۔ 
بولنا ایسا فعل متعدی ہے جس کے ساتھ "نے استعمال نہیں کیا جاتا جیسے؛۔ علی بولا۔ لیکن جب بولنے کے ساتھ کوئی مفعول موجود ہو تو        "نے " لگایا جاتا ہے۔ جیسے؛۔ سارہ نے سچ بولا۔ سرمد نے جھوٹ بولا۔
"چاہنا" کے ساتھ " نے " استعمال ہو گا ۔ جیسے؛۔ اللہ نے چاہا۔ اس نے چاہا۔  لیکن اگر چاہا کے ساتھ "دل" اور "جی" کے الفاظ آئیں تو پھر "نے" استعمال نہیں ہو گا۔ جیسے؛۔ جب دل چاہا۔ میرا جی چاہا۔
بدلنا، ہارنا، جیتنا، کھیلنا، سمجھنا، پکارنا ایسے مصدر ہیں  جو لازم اور متعدی دونوں صورت میں استعمال ہوتے ہیں۔  ان کے فعل متعدی کی صورت میں استعمال ہونے پر "نے" ان کے ساتھ لگایا جاتا ہے ۔ جیسے؛۔ ہم نے میچ جیتا۔ میں نے اسے پکارا۔ علی نے لباس بدلا۔ اسلم نے میچ کھیلا۔ جبکہ فعل لازم کی حالت میں "نے" کا استعمال نہیں ہو گا۔  جیسے؛۔ ہم جیتے۔ وہ پکارا۔ علی نہیں بدلا۔ اسلم آج کھیلا۔
7۔ جب مصدر کے ساتھ "ہے" یا  "تھا" استعمال ہوتا ہے تو فاعل مفعول کی صورت میں آتا ہے اور اس صورت میں " نے" نہیں لگایا جاتا۔ جیسے؛۔ مجھےکراچی جانا ہے۔ آپ  کوکیا لینا تھا۔ ان جملوں کی یہ صورت غلط ہو گی۔ میں نے کراچی جانا ہے۔ آپ نے کیا لینا تھا۔
مجھ اور تجھ ضمیر کی مفعولی حالتیں ہیں  اور ان کے ساتھ "نے"نہیں لگایا جاتا۔ لیکن جب ان کے ساتھ کوئی صفت لائی جائے تو پھر "نے" جملے میں لگایا جاتا ہے۔ مثلاً۔  مجھ ناچیز نے بھی ان کی زیارت کی۔ تجھ نالائق نے یہ بات کیسے کہی؟


پیر، 23 نومبر، 2015

قواعد اردو-6

0 comments
اسم کی اقسام (بلحاظ بناوٹ)
بناوٹ کے لحاظ سے اسم کی 3 اقسام ہیں۔
1۔ اسم جامد: ایسا اسم جو نہ خود کسی کلمہ سے بنا ہو اور نہ اس سے کوئی دوسر ا کلمہ بن سکے جیسے کرسی۔ میز۔ لکڑی۔ پانی۔ آگ۔  وغیرہ
2۔ اسم مصدر: ایسا  اسم جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا ظاہر ہو، مصدر سے اور کلمے بنائے جا سکتے ہیں۔ مثلاً کھانا۔ پینا۔ سونا۔ جاگنا۔ رونا۔ دھونا۔ آنا ۔ جانا  وغیرہ۔ "نا" مصدر کی علامت ہے۔
3۔اسم مشتق: ایسا اسم جو مصدر سے بنا ہو جیسے لکھنا سے لکھائی۔ پڑھنا سے پڑھائی ۔ پڑھنے والا۔ پڑھا ہوا  ۔وغیرہ

اسم مصدر کی اقسام (بلحاظ معنی)
اسم مصدر کی معنی کے لحاظ سے 4 اقسام ہیں؛
1۔ مصدر مفرد(اصلی مصدر): وہ اسم جو شروع سے ہی مصدر کے معنی دیتا ہو۔ مثلاً آنا۔ جانا۔ جاگنا۔ سونا۔ کھانا۔ پینا وغیرہ
2۔ مصدر مرکب(جعلی مصدر): وہ اسم ہے جو کسی لفظ کو مصدر کے شروع میں لگا کر مصدر بنا لیا جائے۔ مثلاً بہک جانا۔ سچ بولنا۔ کلمہ پڑھنا۔  قے آنا وغیرہ
3۔ مصدر لازم: وہ مصدر جس سے بنا یا گیا فعل صرف فاعل کو چاہے اور جملہ فعل اور فاعل سے مکمل ہو جائے۔ جیسے  بچہ گیا۔  میں سو  گیا۔  زید تیز دوڑا  ۔ وغیرہ
4۔ مصدر متعدی: وہ مصدر جس سے بنایا گیا فعل فاعل اور مفعول دونوں  کو  چاہے۔ مثلاً عورت نے آم کھایا۔ میں نے کتاب پڑھی۔ اس نے خط لکھا ۔ وغیرہ

مصدر متعدی کی اقسام(بلحاظ مفعول)
مفعول کے لحاظ سے متعدی مصادر کی درج ذیل اقسام ہیں؛
1۔متعدی بہ یک  مفعول:ایسا مصدر متعدی جو صرف ایک مفعول کو چاہے۔ مثلاً  اکبر نے چائے پی۔ اس نے سیب کاٹا۔
2۔متعدی بہ دو مفعول: ایسا مصدر متعدی جو جملے کی تکمیل کے لیے دو مفعول چاہے۔ مثلاً زید نے سجاد کو پھول دیا۔ اس نے علی کے لیے سیب کاٹا۔  یہاں دو مفعول ”سجاد ۔پھو ل“ اور ”علی۔سیب“ ہیں۔
3۔متعدی بہ سہ مفعول:ایسا مصدر جو فعل کی تکمیل کے لیے تین مفعول چاہے۔ مثلاًاکبر نے علی کو سلیم سے دوات لے کر دی۔ یہاں تین مفعول ”علی“،”سلیم“اور”دوات“ ہیں۔

مصدر متعدی کی اقسام(بلحاظ بناوٹ)
بناوٹ کے لحاظ سے متعدی مصادر کی 3 اقسام یہ ہیں؛
1۔ متعدّی الاصل:ایسے مصادر جو اصل میں متعدّی ہی وضع کیے گئے ہوں۔ مثلاً لکھنا۔ پڑھنا۔ کھانا۔ پینا۔  وغیرہ (انہیں متعدّی بنفسہٖ بھی کیا جاتا ہے)
2۔ مصدر متعدی بالواسطہ(مصدر لازم سے مصدر متعدی ):مصدر لازم سےبنائے گئے  مصدر متعدی کو  مصدر  متعدی بالواسطہ کہتے ہیں۔ مثلاً سننا سے سنانا۔ ڈرنا سے ڈرانا۔ رکنا سے روکنا۔ جاگنا سے جگانا۔ رونا سے رلانا۔ جلنا سے جلانا۔ وغیرہ
3۔متعدّی المتعدّی: جو مصدر متعدی  سے متعدی بنائے جائیں، انہیں مصدر متعدی المتعدی کیا جاتا ہے۔ جیسے۔ لکھنا سے لکھانا۔ پڑھنا سے پڑھانا ۔ دیکھنا سے دکھانا وغیرہ

بلاگ

موضوعات

اردو (39) urdu (34) قواعد (31) urdu grammar (30) صرف (18) صرف و نحو (18) grammar (15) گرامر (12) نحو (9) اسم (8) اصطلاحاتِ زبان (8) ترکیب نحوی (8) زبان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) فعل (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) الفاظ (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) روزمرہ (2) سابقہ (2) سابقے (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم (2) غیر معین (2) فصاحت (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) مرجع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بیان (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) درجات صفت (1) ذومعنی (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) مبتدا (1) متحرک (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) مثبت (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مذکر سالم (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مطابقت (1) مطلق (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *