ترکیب تفصیلی یا نحو تفصیلی
بابائے اردو مولوی عبدالحق صاحب کے مطابق
معنی و مفہوم کے لحاظ سے اجزائے کلام میں مختلف تغیرات اور کیفیات(بلحاظ جنس، تعداد، زمانہ اور حالت الگ الگ کرنے )کا علم نحو تفصیلی کہلاتا ہے۔ تفصیل کا مطلب الگ
الگ کرنا ہے۔
مثال: علی نے کتاب پڑھی۔ اس جملے فعلیہ کی
نَحو تفصیلی اس طرح کی جائے گی؛
|
لفظ |
قسم کلمہ |
نَحوی حیثیّت |
|
علی |
اسم
معرفہ |
مذکر۔واحد۔
فاعل |
|
نے |
علامت
ِ فاعل |
فاعل
کے ساتھ صیغہ ماضی میں لگنے والا حرف |
|
کتاب |
اسم
نکرہ |
مؤنث۔
واحد۔ مفعول |
|
پڑھی |
فعل
ماضی |
متعدی،
مؤنث، واحد (مفعول "کتاب" کے مطابق) |
اور اس جملے کی نَحوی ترکیب یہ
ہو گی؛
پڑھی <<< فعل علی نے <<< فاعل کتاب <<< مفعول
یوں یہ جملہ فعلیہ ہے۔
ترکیب نحوی یا نحوترکیبی
کسی جملے کی پہچان ، اس کے
اجزاء کو الگ الگ کرنا اور ان اجزاء کے
باہمی تعلق کوظاہر کرنا ترکیب نَحوی (نحو
ترکیبی) کہلاتا ہے۔ ترکیب نحوی درج ذیل
اصولوں کے تحت کرنی چاہیئے؛
1۔ کسی
جملے کی پہچان کہ یہ جملہ اسمیہ ہے یا جملہ
فعلیہ۔
2۔ مبتدا اور خبر کا تعین۔
3۔ فعل ناقص کا تعین۔
4۔ فاعل اور مفعول کی پہچان۔
5۔ متعلقِ مبتدا، متعلقِ خبر کی نشان دہی۔
6۔ متعلقِ فاعل، متعلقِ مفعول اور متعلقِ فعل کی نشان دہی۔
7۔اگر شعر یا مصرع ہو تو پہلے اس کی نثر بنانا اورضرورتِ شعری کے تحت چھوڑے
گئے الفاظ و حروف پورے کرنا۔
مثالیں
اسلم کئی دن سے
بیمار ہے۔
]ہے۔ فعل ناقص+اسلم۔ مبتداء+بیمار۔ خبر+ کئی دن سے۔متعلق خبر[ جملہ اسمیہ ہوا۔
زید کا بڑا بھائی ڈاکٹر ہے۔
]ہے۔ فعلِ ناقص+ }زید۔ مضاف الیہ +کا۔ حرفِ اضافت )+بڑا۔ صفت+ بھائی۔ موصوف +(ڈاکٹر۔ خبر{مبتدا[ ملہ اسمیہ ہے۔
سلیم نے دکان سے ایک پتنگ خریدی۔
]خریدی- فعل تام+سلیم-فاعل+نے-علامت فاعل+ایک-عدد+پتنگ- معدود+سے-حرف جار+دکان-مجرور[ یہ جملہ فعلیہ ہے۔
زید نے علی کوگھڑی کا تحفہ
دیا۔
]دیا-فعل تام+ زید-فاعل+ نے-علامت فاعل+ علی-مفعول+ کو-علامت مفعول+ گھڑی-مضاف الیہ + کا-حرف اضافت+ تحفہ-مضاف [ یہ
جملہ فعلیہ ہے۔

