پیر، 7 ستمبر، 2026

قواعد اردو-30 ترکیب (نحو) تفصیلی اور ترکیب نحوی

0 comments

ترکیب تفصیلی یا نحو تفصیلی

بابائے اردو مولوی عبدالحق صاحب کے مطابق معنی و مفہوم کے لحاظ سے اجزائے کلام میں مختلف تغیرات اور کیفیات(بلحاظ جنس، تعداد، زمانہ اور حالت الگ الگ کرنے )کا  علم نحو تفصیلی کہلاتا ہے۔ تفصیل کا مطلب الگ الگ کرنا ہے۔
مثال: علی نے کتاب پڑھی۔ اس جملے  فعلیہ کی نَحو تفصیلی اس طرح کی جائے گی؛

لفظ

قسم کلمہ

نَحوی حیثیّت

علی

اسم معرفہ

مذکر۔واحد۔ فاعل

نے

علامت ِ فاعل

فاعل کے ساتھ صیغہ ماضی میں لگنے والا حرف

کتاب

اسم نکرہ

مؤنث۔ واحد۔ مفعول

پڑھی

فعل ماضی

متعدی، مؤنث، واحد (مفعول "کتاب" کے مطابق)


اور  اس جملے کی نَحوی ترکیب یہ ہو گی؛

پڑھی     <<<    فعل                  علی نے      <<<    فاعل                 کتاب     <<<            مفعول
یوں یہ جملہ فعلیہ  ہے۔

ترکیب نحوی یا نحوترکیبی

            کسی جملے کی پہچان ، اس کے اجزاء کو الگ الگ  کرنا اور ان اجزاء کے باہمی تعلق کوظاہر کرنا  ترکیب نَحوی (نحو ترکیبی) کہلاتا ہے۔  ترکیب نحوی درج ذیل اصولوں کے تحت کرنی چاہیئے؛
1۔ کسی جملے کی پہچان کہ یہ جملہ اسمیہ ہے یا جملہ فعلیہ۔        
2۔ مبتدا  اور خبر کا تعین۔
3۔ فعل ناقص کا تعین۔
4۔ فاعل اور مفعول کی پہچان۔
5۔ متعلقِ مبتدا، متعلقِ خبر کی نشان دہی۔
6۔ متعلقِ فاعل، متعلقِ مفعول اور متعلقِ فعل کی نشان دہی۔

7۔اگر شعر یا مصرع ہو تو پہلے اس کی نثر بنانا اورضرورتِ شعری کے تحت چھوڑے گئے الفاظ و حروف پورے کرنا۔
مثالیں
اسلم  کئی دن سے بیمار ہے۔
 
]ہے۔ فعل ناقص+اسلم۔ مبتداء+بیمار۔ خبر+ کئی دن سے۔متعلق خبر[         جملہ اسمیہ ہوا۔
زید کا بڑا بھائی ڈاکٹر ہے۔
 
]ہے۔ فعلِ ناقص+ }زید۔ مضاف الیہ +کا۔ حرفِ اضافت )+بڑا۔ صفت+ بھائی۔ موصوف +(ڈاکٹر۔ خبر{مبتدا[   ملہ اسمیہ ہے۔
سلیم نے دکان سے ایک پتنگ خریدی۔

]خریدی- فعل تام+سلیم-فاعل+نے-علامت فاعل+ایک-عدد+پتنگ- معدود+سے-حرف جار+دکان-مجرور[ یہ جملہ فعلیہ ہے۔

زید نے علی کوگھڑی کا تحفہ دیا۔
]دیا-فعل تام+  زید-فاعل+  نے-علامت فاعل+  علی-مفعول+ کو-علامت مفعول+  گھڑی-مضاف الیہ +  کا-حرف اضافت+ تحفہ-مضاف [ یہ جملہ فعلیہ ہے۔


قواعد اردو-29 جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ کی پہچان

0 comments

 

جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ کی پہچان :
درج ذیل چند اُصول ان دونوں جملوں کی پہچان کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں؛

1۔ جملہ اسمیہ کی پہچان:
1۔ اگر فعل ناقص ہے تو جملہ اسمیہ ہو گا۔ اگر فعل تام ہے تو جملہ فعلیہ ہو گا۔
2۔ جملہ اسمیہ کے دو بنیادی اجزا ہوتے ہیں: مبتدا اور خبر۔
 
مبتدا وہ اسم ہے جس کے بارے میں کچھ بیان کیا جائے، اور خبر وہ لفظ یا الفاظ ہیں جو مبتدا کے بارے میں کوئی بات بتائیں۔ مبتدا اور خبر معرفہ یا نکرہ دونوں ہو سکتے ہیں۔
3۔ اگر ایک اسم ذات اور ایک اسم صفت ہو تو اسم ذات کو مبتدااور اسم صفت کو خبر کہتے ہیں۔
4۔ اگر دونوں اسم معرفہ ہوں تو پہلے کومبتدااور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔
5۔ اگر دونوں اسم نکرہ ہوں تو جو زیادہ خاص ہو اُسے مبتدا  اور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔
6۔ مبتدا عموماً پہلے آتا ہے اور خبر بعد میں۔
7۔بعض اوقات مبتدا یا خبر یا فعل ناقص حذف کر دیا جاتا ہے۔
8۔ خبر کبھی مفرد ہوتی ہے اور کبھی مرکب۔
بعض اوقات مبتدا کی کئی خبریں ہوتی ہیں۔
10۔ بعض اوقات مبتدا مفرد اور کبھی مرکب ہوتا ہے۔
11۔ بعض اوقات مبتدا  اور خبر دونوں محذوف ہوتے ہیں۔

جملہ فعلیہ کی پہچان:
1۔ کسی فعل کا کرنا ،ہونا یا سہنا ضرور موجود ہو گا۔
2۔  اگر فعل تام ہے تو جملہ فعلیہ ہو گا۔(مفعول کا ہونا لازم نہیں)
3۔ فعل متعدی ہو تو مفعول لازمی آئے گا۔
4۔ بعض متعدی افعال کے دو مفعول ہوتے ہیں، پہلے کو مفعول بہ اور دوسرے کو مفعول ثانی کہا جاتا ہے۔
5۔ بعض اوقات فاعل یا فاعل اور مفعول دونوں کو حذف کر دیا جاتا ہے۔
6۔ بعض جملوں میں مفعول جملے کے شروع میں لایا جا سکتا ہے۔
7۔ فعل مجہول میں فاعل نہیں آتا، ہمیشہ مفعول آتا ہے۔

ترکیب نَحوی کرتے وقت جملہ فعلیہ میں سب سے پہلے فعل پھر فاعل اور آخر میں متعلقات فعل لکھے جاتے ہیں۔

بلاگ

موضوعات

اردو (31) urdu (27) قواعد (25) urdu grammar (23) grammar (14) صرف (14) صرف و نحو (10) اسم (8) فاعل (5) مفعول (5) گرامر (5) اصطلاحاتِ زبان (4) جملہ (4) حرف (4) فعل (4) کلام (4) استفہام (3) لازم (3) مرکب (3) نحو (3) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسم ضمیر (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) ترکیب نحوی (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علم (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) مؤنث (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) معروف (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) Consonant (1) Vowel (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آواز (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) الفاظ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بیان (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) درجات صفت (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) روزمرہ (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علامت مفعول (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) متحرک (1) مترادف (1) مثبت (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مذکر سالم (1) مرجع (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مطلق (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) معنی (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *