فعلیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فعلیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 7 ستمبر، 2026

قواعد اردو-29 جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ کی پہچان

0 comments

 

جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ کی پہچان :
درج ذیل چند اُصول ان دونوں جملوں کی پہچان کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں؛

1۔ جملہ اسمیہ کی پہچان:
1۔ اگر فعل ناقص ہے تو جملہ اسمیہ ہو گا۔ اگر فعل تام ہے تو جملہ فعلیہ ہو گا۔
2۔ جملہ اسمیہ کے دو بنیادی اجزا ہوتے ہیں: مبتدا اور خبر۔
 
مبتدا وہ اسم ہے جس کے بارے میں کچھ بیان کیا جائے، اور خبر وہ لفظ یا الفاظ ہیں جو مبتدا کے بارے میں کوئی بات بتائیں۔ مبتدا اور خبر معرفہ یا نکرہ دونوں ہو سکتے ہیں۔
3۔ اگر ایک اسم ذات اور ایک اسم صفت ہو تو اسم ذات کو مبتدااور اسم صفت کو خبر کہتے ہیں۔
4۔ اگر دونوں اسم معرفہ ہوں تو پہلے کومبتدااور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔
5۔ اگر دونوں اسم نکرہ ہوں تو جو زیادہ خاص ہو اُسے مبتدا  اور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔
6۔ مبتدا عموماً پہلے آتا ہے اور خبر بعد میں۔
7۔بعض اوقات مبتدا یا خبر یا فعل ناقص حذف کر دیا جاتا ہے۔
8۔ خبر کبھی مفرد ہوتی ہے اور کبھی مرکب۔
بعض اوقات مبتدا کی کئی خبریں ہوتی ہیں۔
10۔ بعض اوقات مبتدا مفرد اور کبھی مرکب ہوتا ہے۔
11۔ بعض اوقات مبتدا  اور خبر دونوں محذوف ہوتے ہیں۔

جملہ فعلیہ کی پہچان:
1۔ کسی فعل کا کرنا ،ہونا یا سہنا ضرور موجود ہو گا۔
2۔  اگر فعل تام ہے تو جملہ فعلیہ ہو گا۔(مفعول کا ہونا لازم نہیں)
3۔ فعل متعدی ہو تو مفعول لازمی آئے گا۔
4۔ بعض متعدی افعال کے دو مفعول ہوتے ہیں، پہلے کو مفعول بہ اور دوسرے کو مفعول ثانی کہا جاتا ہے۔
5۔ بعض اوقات فاعل یا فاعل اور مفعول دونوں کو حذف کر دیا جاتا ہے۔
6۔ بعض جملوں میں مفعول جملے کے شروع میں لایا جا سکتا ہے۔
7۔ فعل مجہول میں فاعل نہیں آتا، ہمیشہ مفعول آتا ہے۔

ترکیب نَحوی کرتے وقت جملہ فعلیہ میں سب سے پہلے فعل پھر فاعل اور آخر میں متعلقات فعل لکھے جاتے ہیں۔

بدھ، 1 دسمبر، 2021

قواعد اردو-28۔ نحو

0 comments

تیسرا حصہ

  نحو

قواعد کا وہ علم جس  میں کلام، جملوں اور عبارتوں سے بحث کی جاتی ہے۔
نحو جملے میں الفاظ کی درست ترتیب اور اُنکے ربط باہمی کا علم ہے۔   
نحو میں اجزائے کلام کو ترکیب دینے اور انہیں  الگ الگ کرنے کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔
نحو میں  اجزائے کلام کی کیفیت، جنس اور تعداد  و زمانہ میں جو تغیرات وقوع ہوتے ہیں ، ان پر بحث کی جاتی ہے۔
نحو قواعد کا وہ علم ہے جس کے ذریعے اسم ،فعل اور حرف میں تبدیلی واقع ہونے یانہ ہو نے اور اس میں تبدیلی کی نوعیت کا علم حاصل ہو،نیز کلمات کو آپس میں ملانے کا طریقہ بھی معلوم ہو۔
نحو  کا موضوع کلام ہے، نحو کے علم سے ہم زبان کو درست  بولنے اور لکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
نحو کی 2 قسمیں ہیں: 1 ۔ نحو تفصیلی                    2۔ نحو ترکیبی
نحو تفصیلی:
بابائے اردو مولوی عبدالحق صاحب کے مطابق معنی و مفہوم کے لحاظ سے اجزائے کلام میں مختلف تغیرات اور کیفیات(بلحاظ جنس، تعداد، زمانہ اور حالت الگ الگ کرنے )کا  علم نحو تفصیلی کہلاتا ہے۔ تفصیل کا مطلب الگ الگ کرنا ہے۔
نحو ترکیبی: جملوں کی ترکیب یا ساخت کا علم نحو ترکیبی کہلاتا ہے۔ ترکیب کے معنی  دو یا دو سے زائد چیزوں کو آپس میں ملانا ہے۔

کلام/ مرکب:
دو یا دو سے زیادہ  با معنی الفاظ کا مجموعہ  کلام/مرکب کہلاتا ہے۔  مثلاً  پاکستان اسلامی ملک ہے۔ علی میرا بھائی ہے۔ہم لاہور میں رہتے ہیں۔ جانور چارہ کھاتے ہیں۔  میری گڑیا۔ تیز گھوڑا۔نیک آدمی۔ خوبصورت مکان۔
 
کلام کی اقسام

کلام  کی درج ذیل 2 اقسام ہیں؛
1۔ کلام تام:  الفاظ کا ایسا مجموعہ ہے جسے پڑھ /سن کر پورا مطلب سمجھ آ جائے۔  اسے جملہ  یا مرکب تام بھی کہتے ہیں۔ جیسے وہ سبق یاد کرتا ہے۔ ہم روز کھانا کھاتے ہیں۔
2۔ کلام ناقص:  وہ مجموعہ الفاظ ہے جسے پڑھ/سن کر پورا مطلب سمجھ نہ آئے۔  اسے مرکب بھی کہتے ہیں۔جیسے  دس لڑکے۔ بیمار آدمی۔  آخری چٹان۔خوبصورت تصویر۔


ترکیب یا صورت کے لحاظ سے جملے   کی اقسام:
ترکیب کے لحاظ سے جملے کی دو اقسام ہیں؛
           1۔ مفرد جملے                    2۔ مرکب جملے
مفرَد جملہ: ایسا جملہ جس میں صرف ایک فعل پایا جائے۔  ایسے جملے میں صرف ایک مُسند اور ایک مُسند الیہ ہوتا ہے۔جیسے  :اسلم نے پانی پیا۔ سلمہ اسکول جاتی ہے۔ تم کب آئے؟
مرکب جملہ:  جب دو یا دو سے زائد جملے مل کر ایک (مفردجملےکا)مفہوم ادا کرتے ہیں، تو اسے مرکب جملہ کہتے ہیں، اس میں ایک سے زیادہ فعل پائے جا سکتے ہیں۔ جیسے :  مجھے اطلاع ملتی تو میں ضرور آتا۔ تم محنت کرو گے تو کامیاب ہو گے۔ 

مرکب جملے کی اقسام
مرکب جملے کی 2 اقسام درج ذیل ہیں۔
1۔ مرکب مطلق: ایسا مرکب جملہ جس میں ہر مفرد جملہ  جدا گانہ برابر  کی حیثیت رکھتا ہے اور دوسرے جملے کا محتاج نہیں ہوتا۔ جیسے؛  علی آیا اور اسد چلا گیا۔
2۔ مرکب مُلتف: ایسے جملے جس میں  ایک جملہ مرکزی/اصلی ہوتا ہے باقی جملے  اس کےتابع ہوتے ہیں۔ جملے کا پورا مطلب کسی ایک جملے سے پورا سمجھ نہیں آتا ہے۔ جیسے؛  جو قلم گم ہو گیا تھا ، وہ مل گیا ہے۔  اس جملے میں" قلم مل گیا ہے " اصل جملہ ہے اور " جو گم ہو گیا تھا" اس کا تابع جملہ۔


کلام تام/مرکب تام:

الفاظ کا ایسا مجموعہ ہے جسے پڑھ /سن کر پورا مطلب سمجھ آ جائے۔  اسے جملہ  یا مرکب تام بھی کہتے ہیں۔ جیسے وہ سبق یاد کرتا ہے۔ ہم روز کھانا کھاتے ہیں۔ پرندے چہچہاتے ہیں۔ سپاہی پہرہ دیتا ہے۔
کوئی بھی جملہ (مرکب تام)  دو اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے ان اجزاء کے تعلق کو ”اسناد“ کہتے ہیں۔ جملے کے  دو اجزاء یہ ہیں؛
1۔مُسند: جملے میں جس شخص یا اسم کی بابت جو کچھ کہا جائے  اسے "مسند“ کہتے ہیں۔ جیسے اسلم پڑھتا ہے۔ علی بیمار ہے۔ ان جملوں میں ”پڑھتا ہے“ اور ”بیمار ہے“ مسند ہیں۔
2۔مُسند الیہ:جملے میں جس شخص یا اسم کی بابت کچھ کہنا  ”مُسند الیہ “ کہلاتا ہے۔  جیسے اسلم پڑھتا ہے۔ علی بیمار ہے۔ ان جملوں میں”اسلم“اور”علی“ مسند الیہ ہیں۔  

جملے کی اقسام

جملے کی اقسام درج ذیل ہیں؛

1۔ جملہ انشائیہ      2۔ جملہ خبریہ       3۔ جملہ اسمیہ       4۔ جملہ   فعلیہ
1۔ جملہ انشائیہ:جس جملے میں کوئی امر، نہی ، ندا، استفہام، شرط، تعجب، انبساط ، افسوس یا مخالفت پائی جائے ۔ جیسے کتاب نکالو!   علی کہاں ہے؟ کاش و ہ جیت جاتا! خبردار ۔ ایسے مت کرو!
2۔ جملہ خبریہ: جس جملے  میں کسی بات کی خبر دی جائے اور بولنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں۔ جیسے ؛اس نے سبق پڑھا۔ سلمیٰ اسکول جاتی ہے۔

3۔جملہ اسمیّہ: جس جملے میں مسند اور مسند الیہ دونوں اسم ہوں اور فعل ناقص  موجود ہو ، اسے جملہ اسمیّہ کہتے ہیں۔ جیسے علی بیمار ہے۔ وہ ایک وکیل ہے۔ جملہ اسمیہ کے مسند الیہ کو ”مبتداء“ اور مُسند کو ”خبر“ کہتے ہیں۔ جملہ اسمیہ کا مسند الیہ ہمیشہ اسم ہوتا ہے۔
جملہ اسمیہ کے اجزاء: جملہ اسمیہ کے 5 بنیادی اجزاء ہیں؛
 1۔ مبتداء:            جملہ اسمیہ کا مسند الیہ(اسم)  مبتداء کہلاتا ہے۔
2۔ متعلق مبتداء:    اسم سے متعلق جو الفاظ استعمال ہوں وہ متعلق مبتداء کہلاتے ہیں۔
3۔ خبر:               جملہ اسمیہ کے مُسند کو خبر کہتے ہیں۔
4۔ فعل ناقص:       وہ الفاظ فعل جو جملے کو مکمل کرتے ہیں ۔
جیسے؛ اسلم  کئی دن سےبیمار ہے۔ اس جملے میں اسلم مبتداء،         بیمارخبر ،  ہے فعل ناقص  اور "کئی دن سے" متعلق خبرہے۔
متعلقِ خبر:      اگر جملے میں جار اور مجرور آئے تو وہ مل کر ”متعلقِ خبر“ کہلاتا ہے۔

4۔ جملہ فعلیہ:جس  جملے میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا پایا جائے ۔ اس جملے میں مُسند الیہ تو اسم ہو مگر مُسند فعل ہو، وہ جملہ فعلیہ کہلاتا ہے۔ اس جملے میں فاعل، مفعول اور فعل لازم یا متعدی م موجود ہوتے ہیں۔ جیسے اسلم پڑھتا ہے۔ وہ کھانا کھاتا ہے۔ ان جملوں کے مسند الیہ کو ”فاعل“  اور مسند  کو ”فعل“ کہا جاتا ہے۔ باقی اجزا متعلق (فعل ، فاعل اور مفعول )کہلاتے ہیں۔

جملہ فعلیہ کے اجزاء:        
جملہ فعلیہ کے 6 اجزاء  درج ذیل  ہیں؛
 1۔ فاعل                  2۔  متعلق فاعل                                 3۔ مفعول          4۔ متعلق مفعول               5۔ فعل                6۔ متعلق فعل
اگر جملہ فعلیہ میں جار و مجرور آئے تو یہ مل کر "متعلقِ فعل “ کہلاتا ہے۔  اس جملے میں فعل عموماً فعل تام ہوتا ہے،۔ جیسے ؛ علی نے قلم سے خط لکھا۔  اگر فعل لازم ہو تو مفعول کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے؛ وہ مسکرایا۔ وہ دوڑتا ہے۔  

بلاگ

موضوعات

اردو (39) urdu (34) قواعد (31) urdu grammar (30) صرف (18) صرف و نحو (18) grammar (15) گرامر (12) نحو (9) اسم (8) اصطلاحاتِ زبان (8) ترکیب نحوی (8) زبان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) فعل (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) الفاظ (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) روزمرہ (2) سابقہ (2) سابقے (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم (2) غیر معین (2) فصاحت (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) مرجع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بیان (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) درجات صفت (1) ذومعنی (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) مبتدا (1) متحرک (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) مثبت (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مذکر سالم (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مطابقت (1) مطلق (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *