جمعرات، 8 اکتوبر، 2026

قواعد اردو-42: علم بیان

0 comments

علم ِ بیان

اردو قواعد کا وہ علم جس کے ذریعے خیالات کے اظہار کے لیے ایک (لفظ)معنی کو مختلف طریقوں سے ادا کیا جاتا ہے تاکہ کلام میں زور، حُسن اور تاثیر پیدا ہو جائے، علم بیان کہلاتا ہے۔ علم بیان کا موضوع لفظ ہے جو دو طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ حقیقی معنوں میں اور مجازی معنوں میں۔ جیسے؛  کسی واقعتاً  بہادر شخص کو بہادر کہنا۔ اور کسی شخص کو بہادری کی وجہ سے شیر کہنا ۔ یہاں شیر کا استعمال مجازی معنوں میں ہوا ہے۔

 علم بیان کی عمارت کی بنیاد دلالت پر کھڑی ہے۔

دلالت کی تعریف    

دلالت:  لسانیات اور علمِ منطق میں ”دلالت“ کے لغوی معنی ”رہنمائی کرنے“کے ہیں۔ اصطلاح میں دلالت کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک چیز (لفظ، آواز یا علامت) کا ادراک ہونے سے ذہن فوراً کسی دوسری چیز (معنی) کی طرف منتقل ہو جائے۔ اصطلاح میں لفظ کے معنی کو ”دلالت“ کہتے ہیں۔  آسان لفظوں میں لفظ سن کر اس کا معنی ذہن میں آ جانا دلالت کہلاتا ہے۔  جیسے؛ لفظ ”شیر“ سن کر ذہن میں فوراً ایک طاقتور اور دھاڑنے والے جنگلی جانور کا خاکہ ابھر آنا۔

دال:  دلیل کے لغوی معنی ”رہنما یا راستہ دکھانے والے“کے ہیں۔ علمِ دلالت میں وہ چیز، لفظ، علامت یا اشارہ جس کے ادراک سے ذہن کسی معنی یا مفہوم کی طرف منتقل ہو، اسے دال کہتے ہیں۔۔جیسے؛  جب آپ لفظ ”شیر“ سنتے ہیں  تو یہ لفظ بذاتِ خود ایک دال ہے۔

 مدلول :   مدلول کے معنی "جس کی طرف رہنمائی کی جائے" کے ہیں۔ وہ معنی یا مفہوم جو دلیل (لفظ) کو سن کر ذہن میں پیدا ہوتا ہے، اسے مدلول کہتے ہیں۔جیسے؛  لفظ "شیر" سن کر ذہن میں جو ایک طاقتور اور دھاڑنے والے جانور کا خاکہ ابھرتا ہے، وہ خاکہ اور معنی مدلول ہے۔

دلالت کی اقسام

لفظ کی( اپنے معنی پر) دلالت کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں (حقیقی، تضمنی، التزامی)۔ جن کی تفصیل اور وضاحت کچھ یوں ہے؛

1۔  دلالتِ حقیقی: (جسے منطق میں دلالتِ مطابقی بھی کہتے ہیں) جب  لفظ اپنے مکمل اور اصلی (لغوی) معنی  ظاہر کرتا ہو، (جس معنی کے لیے وہ لفظ وضع کیا گیا /بنایا گیا ہو)، تو اسے دلالتِ حقیقی کہتے ہیں۔
مثال: اگر آپ لفظ ”گھر“ بولیں اور اس سے مراد وہی دیواروں اور چھت والی عمارت ہو، تو یہ دلالتِ حقیقی ہے۔ اسی طرح ”شیر“ بول کر جنگل کا درندہ مراد لینا دلالتِ حقیقی ہے۔
2۔
دلالتِ التزامی: جب کوئی لفظ بول کر اس کے حقیقی یا لغوی معنی مراد نہ لیے جائیں، بلکہ کوئی ایسا معنی مراد لیا جائے جو حقیقی معنی سے باہر تو ہو، لیکن ذہن اور عقل میں اس حقیقی معنی کے ساتھ لازم و ملزوم (جڑا ہوا) ہو، تو اسے دلالتِ التزامی کہتے ہیں۔ مثال: لفظ ”سورج“ بولا جائے۔ سورج کا اصل معنی روشنی نہیں بلکہ آسمان کا ایک ستارہ ہے۔ لیکن سورج بولنے سے ذہن فوراً ”دھوپ“ یا  ”روشنی“ کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ روشنی سورج کے ساتھ لازم ہے۔
3۔  دلالتِ (ضمنی)تضمنی  : ”تضمن“ کا مطلب ہے کسی چیز کو اپنے اندر سمو لینا یا اس کا حصہ ہونا۔ جب کوئی لفظ اپنے پورے معنی کے بجائے اپنے اصل معنی کے محض کسی ایک حصے (جزو) پر دلالت کرے، تو اسے دلالتِ تضمنی کہتے ہیں۔
مثال: اگر کوئی طالب علم کہے کہ ”میں نے کتاب پڑھ لی ہے“، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس نے کتاب کا ایک ایک لفظ یا پوری کتاب ایک ہی نشست میں پڑھ لی ہے، بلکہ عموماً اس سے مراد کتاب کا کچھ حصہ یا ایک سبق پڑھنا ہوتا ہے۔ یہاں پوری ”کتاب“ کا نام لے کر محض اس کا ایک حصہ مراد لیا گیا ہے، لہٰذا یہ دلالتِ تضمنی ہے۔
مثال2: اگر کوئی کہے کہ”گاڑی خراب ہو گئی ہے“ ، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گاڑی کا ایک ایک پرزہ (ٹائر، سیٹیں، شیشے وغیرہ سب) خراب ہو گیا ہے، بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ انجن یا کوئی ایک خاص حصہ خراب ہوا ہے۔ یہاں پوری ”گاڑی“ (کل) کا لفظ بول کر محض اس کا خراب حصہ (جزو) مراد لیا گیا ہے۔یہ بھی دلالتِ تضمنی  ہے۔

علم بیان کے اجزا(ارکان) اگلی پوسٹ قواعد اردو-43 میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔

 

قواعد اردو-41 : علمِ معانی

0 comments

علمِ معانی

علمِ معانی، علمِ بلاغت کی وہ پہلی اور بنیادی شاخ ہے جس میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ کلام کو ”مقتضائے حال“  (یعنی موقع، وقت اور مخاطب کی ذہنی حالت) کے مطابق کس طرح ترتیب دیا جائے۔

سادہ الفاظ میں، علمِ معانی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کوئی بات کس وقت، کس انداز سے اور کن الفاظ میں کہنی چاہیے تاکہ وہ سننے والے پر پورا اثر کرے۔ اس علم میں جملوں کی ساخت، الفاظ کو آگے پیچھے کرنے (تقدیم و تاخیر)، بات کو مختصر یا طویل کرنے اور جملے کے لہجے (مثلاً سوالیہ، حکمیہ، یا بیانیہ) پر بحث کی جاتی ہے۔

علمِ معانی کی مثالیں اور ان کی وضاحت

علمِ معانی میں ایک ہی بات کو موقع کی مناسبت سے مختلف انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس کی چند واضح مثالیں درج ذیل ہیں:

1۔جملے کے مقصد میں تبدیلی (سوال کا جواب نہ مانگنا بلکہ جذبے کا اظہار کرنا)

علمِ معانی ہمیں بتاتا ہے کہ بسا اوقات بظاہر سوالیہ جملہ پوچھا جاتا ہے لیکن مقصد جواب حاصل کرنا نہیں، بلکہ حیرت، غصہ یا افسوس کا اظہار ہوتا ہے۔
مثال: مرزا غالؔب کا شعر ہے:

        ؎

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟

 

آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟

 وضاحت: یہاں غالب اپنے دل سے سوال کر رہے ہیں۔ علمِ معانی کی رو سے یہ محض ایک سوال (استفہام) نہیں جس کا وہ جواب چاہتے ہوں، بلکہ یہ ”تحیر اور بے بسی“ کے موقع (حال) کے مطابق ادا کیا گیا کلام ہے۔

2۔الفاظ کی ترتیب بدل کر زور پیدا کرنا (تقدیم و تاخیر)

عام گرامر میں جملے کی ایک مخصوص ترتیب ہوتی ہے (فاعل، مفعول، فعل)۔ لیکن علمِ معانی میں بات پر زور ڈالنے یا کسی چیز کو خاص کرنے کے لیے الفاظ کی ترتیب بدل دی جاتی ہے۔

  • عام جملہ: ”ہم  تیری عبادت کرتے ہیں۔“
  • علمِ معانی کے اصول (حصر/قصر) کے تحت: ”تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں۔“ (ایاک نعبد)

وضاحت: مفعول (تیری) کو شروع میں لانے سے کلام میں زور اور تخصیص پیدا ہو گئی کہ عبادت صرف اور صرف تیرے لیے ہے۔ یہ علمِ معانی کا کمال ہے۔

3۔مخاطب کے لحاظ سے کلام کی طوالت یا اختصار (ایجاز اور اطناب)

علمِ معانی کا اہم اصول یہ ہے کہ مخاطب کی سمجھ بوجھ کے مطابق بات کی جائے۔
مثال:
اگر کسی کمرے میں آگ لگ جائے اور وہاں موجود لوگ اس سے بے خبر ہوں، تو آپ وہاں کھڑے ہو کر آگ لگنے کی وجوہات یا لمبی تقریر نہیں کریں گے، بلکہ صرف اتنا چلائیں گے: ”بھاگو!  ۔۔۔آگ-آگ!“
وضاحت: موقع کی نزاکت اور وقت کی کمی کا تقاضا ہے کہ بات انتہائی مختصر (ایجاز) ہو۔ اگر یہاں لمبے اور فصیح جملے بولے جائیں تو وہ گرامر کے لحاظ سے درست تو ہوں گے لیکن علمِ معانی کی رو سے بالکل غلط اور غیر بلیغ ہوں گے۔

4. بات کو تاکید کے ساتھ کہنا

جب آپ کو معلوم ہو کہ سننے والا آپ کی بات پر شک کر سکتا ہے، تو علمِ معانی کے تحت کلام میں تاکید پیدا کی جاتی ہے۔
مثال 1 (عام شخص کے لیے):”زید کامیاب ہو گیا۔“ (جب سننے والا عام حالت میں ہو)
مثال 2 (شک کرنے والے کے لیے):”یقیناً زید کامیاب ہو گیا ہے۔“ (جب سننے والے کو شک ہو)
مثال 3 (انکار کرنے والے کے لیے): ”خدا کی قسم! زید ضرور کامیاب ہوا ہے۔“ (جب سننے والا بات ماننے سے انکاری ہو)

وضاحت: ایک ہی خبر کو مخاطب کے ذہن کے مطابق سادہ، ایک تاکید یا دو تاکیدوں کے ساتھ بیان کرنا علمِ معانی ہے۔

خلاصہ: علمِ معانی دراصل کلام کی ”نفسیات“ کا علم ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ کس سے، کب اور کتنا بولنا ہے۔ الفاظ کا انتخاب اور جملے کی ساخت جذبات اور حالات کے تابع ہونی چاہیے۔

 


قواعد اردو-40: علمِ بلاغت

0 comments

علمِ بلاغت

علمِ بلاغت سے مراد وہ علم ہے جس کے ذریعے کلام کو مقتضائے حال (یعنی موقع، محل، وقت اور مخاطب کی ذہنی حالت) کے بالکل مطابق، مؤثر اور دلکش انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ (کلام کو سجانے، سنوارنے اور بر موقع برتنے کا علم بلاغت کہلاتا ہے)

بلیغ : بلیغ وہ کلام ہے جو فصیح ہونے کے ساتھ ساتھ” مقتضائے حال“ (یعنی موقع ،محل، وقت، حالات اور مخاطب کی ذہنی و جذباتی کیفیت) کے عین مطابق ہو۔ اگر کلام کتنا ہی میٹھا اور درست (فصیح) کیوں نہ ہو، لیکن اگر وہ موقع کی مناسبت سے نہیں بولا گیا، تو وہ بلیغ نہیں کہلائے گا۔
علمِ بلاغت کا مشہور اصول ہے”ہر بلیغ کلام لازماً فصیح ہوتا ہے، لیکن ہر فصیح کلام کا بلیغ ہونا لازم نہیں۔“

اس علم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بات کو صرف قواعد کی رو سے درست بیان نہ کیا جائے، بلکہ اسے ایسے خوبصورت اور پرتاثیر پیرائے میں ادا کیا جائے کہ سننے یا پڑھنے والے کے دل پر اس کا گہرا اثر ہو۔ بلاغت کے لیے کلام کا فصیح (آسان اور عام فہم) ہونا لازمی شرط ہے۔

علمِ بلاغت کی مثالیں
                   ؎        
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید               جو نہیں جانتے وفا کیا ہے                  (مرزا غالؔب)

وضاحت :علمِ بلاغت کا بنیادی اصول کلام کا ”مقتضائے حال“ (یعنی موقع اور نفسیاتی کیفیت) کے عین مطابق ہونا ہے۔ اس شعر میں عاشق کی بے بسی، سادگی اور محبوب کی روایتی بے رخی کے جذبات کو انتہائی سہل الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی مشکل یا ثقیل لفظ نہیں (یہ کلام مکمل فصیح ہے)، لیکن اپنے موقع محل اور انسانی نفسیات کی عکاسی کے لحاظ سے یہ کمال درجے کا بلیغ ہے۔

؎

پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

 

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

میرؔ

وضاحت: عاشق کی بے بسی اور محبوب کی بے اعتنائی کو بیان کرنے کے لیے یہ کلام اپنے مقتضائے حال کے عین مطابق ہے۔ یہاں سیدھے الفاظ میں یہ کہنے کے بجائے کہ ”میری حالت سب جانتے ہیں سوائے تمہارے“، میرؔ نے باغ، گل اور پتوں کی مناسبت سے جو منظر کشی کی ہے، وہ اس کلام کو کمال درجے کا بلیغ بناتی ہے۔

فصاحت

 فصاحت کے لغوی معنی ”خوش کلامی  اور خوش بیانی( صاف اور واضح ہونے)“کے ہیں۔  اصطلاح میں فصاحت سے مراد ایسا کلام ہے جس میں استعمال ہونے والے الفاظ کانوں کو بھلے لگیں، تلفظ میں روانی ہو اور ادا کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ ایسا لفظ فصیح ہے جو بغیر سمجھائے ذہن میں آ جائے۔ ایک فصیح کلام  تین خامیوں سے پاک ہوتا ہے؛
1۔ تنافرِ حروف:الفاظ کا ایسا ملاپ جو بولنے میں زبان پر بھاری ہو۔ مثال کے طور پر”شورش و شغب“کی جگہ”شور و غل“ ادا کرنے میں زیادہ آسان اور فصیح ہے۔
2۔ غرابت:  ایسے متروک یا اجنبی الفاظ کا استعمال جو بول چال میں عام نہ ہوں۔ مثال کے طور پر شیر کے لیے ”اسد“یا ”غضنفر“ جیسے نامانوس الفاظ کے بجائے ”شیر“ کہنا زیادہ فصیح ہے۔
3۔ ضعفِ تالیف:  جملے کا قواعد (صرف و نحو) کی غلطی سے پاک ہونا۔

نوٹ۔1: ۔یاد رہے کہ ہر بلیغ کلام کا فصیح ہونا شرط ہے، لیکن ہر فصیح کلام کا بلیغ ہونا ضروری نہیں۔
نوٹ۔2: ۔ علامہ شبلی نعمانی
”موازنہ انیسؔ و دبیرؔ  “ میں فصاحت پر لکھتے ہیں؛

  فصاحت کے معنی ” خوش گوئی، تیز زبانی اور کشادہ سخنی “کے ہیں۔ الفاظ میں جو حروف آئیں  اُن میں تنافر نہ ہو، الفاظ نامانوس نہ ہوں ، قواعد صرفی کے خلاف نہ ہوں۔ اصطلاح علمِ معانی میں فصاحت”ثقیل، مشکل اور غیر مانوس الفاظ“سے خالی ہونے کو کہتے ہیں۔ فصاحت کی تعریف چند بندھے ٹکوں لفظوں میں کرنا مشکل ہے۔ کوئی لفظ خود اپنی جگہ نہ فصیح ہے نہ غیر فصیح بلکہ محلِ استعمال(موقع) اسے فصیح اور غیر فصیح بنا دیتا ہے۔شبلی لکھتے ہیں کہ لفظ چونکہ ایک  آواز ہے اور بعض آوازیں شیریں، دل آویز اور لطیف ہوتی ہیں ، مثلاً طوطی اور بلبل کی آواز۔ اور بعض مکروہ اور ناگوار ، مثلاً کوّے اور گدھے کی آواز۔ اسی بنا پر الفاظ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ 1۔ شستہ، سبک اور شیریں الفاظ فصیح کہلاتے ہیں۔ جبکہ 2۔ ثقیل، بھدے اور ناگوار الفاظ غیر فصیح کہلاتے ہیں۔  شبلی کے مطابق جو الفاظ کانوں کو ناگوار معلوم ہوتے ہیں ، بلاغت کی اصطلاح میں انہیں ”غریب “  کہتے ہیں۔  شبلی نے  فصاحت کے کئی درجے  بیان کیے ہیں۔

شبلی نے “فصیح“اور ”غیر فصیح“ کی وضاحت میر انیس کے ان 3 مصرعوں سے کی ہے؛
1۔       ؏         کھا کھا کے اُوس اور بھی سبزہ ہَرا ہوا
2۔         ؏        
شبنم نے بھر دئیے تھے کٹورے گلاب کے
3۔         ؏        
جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں
شروع کے دو مصرعوں میں ”اوس“ اور ”شبنم“  کے الفاظ  ہم معنی ہیں مگر اوس کی جگہ شبنم  اور شبنم کی جگہ اوس لکھ دیا جائے تو فصاحت خاک میں مل جائے گی۔ اسی طرح تیسرے مصرعہ میں”جنگل“ کی جگہ”صحرا“   کا لفظ استعمال ہوتا تو یقیناً  ”غیر فصیح “ ہو جاتا۔  شبلیؔ کے مطابق کلام کی فصاحت میں صرف لفظ کا فصیح ہونا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ وہ ترکیب میں آئے ان کی ساخت، ہیئت، نشست، سبکی اور گرانی کے ساتھ ساتھ ان کا خاص تناسب اور توازن بھی ہو ورنہ فصاحت باقی نہ رہے گی۔
مثال:
اگر کسی کے گھر تعزیت کے لیے جائیں اور وہاں نہایت فصیح و بلیغ الفاظ میں مسکراتے ہوئے کہیں، ”یہ محفل کس  قدر پُرنور اور مُسرت بخش ہے۔“   تو یہ جملہ بذاتِ خود فصیح تو ہے، لیکن ہرگز بلیغ نہیں کیونکہ یہ موقع کی مناسبت  (مقتضائے حال) کے بالکل الٹ ہے۔ غمی کے موقع پر افسوس اور ہمدردی کے سادہ الفاظ ہی بلاغت کہلائیں گے۔
 اسی طرح بچوں سے بات کرتے ہوئے مشکل فلسفیانہ الفاظ استعمال کرنا بلاغت کے خلاف ہے۔

بلاغت و فصاحت کا فرق
            فصاحت کا تعلق ”لفظ کی خوبصورتی اور ظاہری روانی“ سے ہے۔  جبکہ بلاغت کا تعلق ”پوری بات کے موقع، محل اور اس کی اثر آفرینی“ سے ہے۔
ان دونوں کے درمیان بنیادی فرق کو مندرجہ ذیل نکات اور مثال سے باآسانی سمجھا جا سکتا ہے:
1۔ دائرہ کار اور توجہ (الفاظ بمقابلہ معنی):
فصاحت کا سارا زور الفاظ پر ہوتا ہے۔ یہ دیکھتی ہے کہ لفظ کانوں کو بھلا لگے، بولنے میں زبان نہ لڑکھڑائے اور گرامر کی کوئی غلطی نہ ہو۔ فصاحت کلام کا ”جسم“ ہے۔
بلاغت کا سارا زور پورے جملے، اس کے معنی اور صورتحال پر ہوتا ہے۔ یہ دیکھتی ہے کہ بات کس سے، کس وقت اور کس لہجے میں کی جا رہی ہے۔ بلاغت کلام کی ”روح“ ہے۔
2۔ لازم و ملزوم کی شرط:
ہر بلیغ کلام فصیح ہوتا ہے: بلاغت کے درجے تک پہنچنے کے لیے کلام کا فصیح (آسان، واضح اور درست) ہونا لازمی شرط ہے۔
ہر فصیح کلام بلیغ نہیں ہوتا:
یہ ممکن ہے کہ ایک جملہ گرامر اور تلفظ کے لحاظ سے بالکل درست (فصیح) ہو، لیکن موقع کی مناسبت سے بالکل غلط (غیر بلیغ) ہو۔
3۔ قواعد بمقابلہ نفسیات:
فصاحت کا تعلق زبان کی لغت، گرامر اور صوتیات (آوازوں) سے ہے۔
بلاغت کا تعلق انسانی نفسیات، سماجی شعور اور "مقتضائے حال" (صورتحال کے تقاضے) کو سمجھنے سے ہے۔

مثال سے فرق کی وضاحت:
فرض کریں آپ ایک پانچ سال کے بچے سے بات کر رہے ہیں اور اسے سمجھانا چاہتے ہیں کہ رات ہو گئی ہے، اب سو جانا چاہیے۔
اگر آپ کہیں:
”برخوردار! کیا آپ کو اس امر کا ادراک نہیں کہ شبِ تاریک اپنے سائے دراز کر چکی ہے، لہٰذا اب خواب گاہ کا رخ کرنا مناسب ہے۔“
نتیجہ: یہ جملہ لغت، گرامر اور الفاظ کی خوبصورتی کے لحاظ سے بالکل درست اور بے عیب ہے۔ اس لیے یہ ”فصیح“ ہے۔ لیکن ایک پانچ سال کے بچے کی ذہنی سطح کے لحاظ سے یہ جملہ بالکل نامناسب ہے، اس لیے یہ ہرگز ”بلیغ“ نہیں ہے۔
اگر آپ کہیں:
”بیٹا! رات ہو گئی ہے، اب آپ سو جائیں۔“
نتیجہ: یہ جملہ تلفظ اور گرامر میں بھی درست ہے (فصیح ہے) اور بچے کی عمر اور موقع کے بالکل مطابق بھی ہے، اس لیے یہ کلام بیک وقت ”فصیح و بلیغ“ہے۔

مختصر یہ کہ الفاظ کو موتیوں کی طرح دھاگے میں پرونا فصاحت ہے اور اس موتیوں کے ہار کو صحیح وقت اور صحیح شخص کے گلے میں پہنانا بلاغت ہے۔

علمِ بلاغت کی اقسام

کلام میں بلاغت پیدا کرنے کے لیے اس علم کو تین اہم شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے؛
1۔  علمِ معانی:
وہ علم جس کے ذریعے کلام کو موقع اور محل کی مناسبت سے ترتیب دیا جائے تاکہ بات مخاطب کے ذہن، مرتبے اور صورتحال کے بالکل مطابق ہو۔
2۔ علمِ بیان:
وہ علم جس میں ایک ہی معنی یا خیال کو مختلف طریقوں (تشبیہ،مجاز،  استعارہ، مجازِ مرسل اور کنایہ) سے ادا کرنا سکھایا جائے، تاکہ بات کی وضاحت اور خوبصورتی میں اضافہ ہو۔
3۔ علمِ بدیع:
وہ علم جس میں کلام کو لفظی اور معنوی خوبیوں (صنائع و بدائع جیسے تجنیس، تضاد، مبالغہ وغیرہ) سے آراستہ کیا جائے۔

  bõa

بدھ، 23 ستمبر، 2026

قواعد اردو-39: متروک الفاظ

0 comments

متروک الفاظ
 اردو ایک ترقی پذیر زبان ہے، اس میں وقت کے ساتھ نئے الفاظ شامل ہوتے رہتے ہیں، اسی طرح کچھ الفاظ رفتہ رفتہ  استعمال سے رہتےجاتے ہیں، ایسے الفاظ متروک الفاظ کہلاتے ہیں ۔ ان الفاظ کا واضح مطلب موجود ہوتا ہے مگر یہ مزید استعمال نہیں کیے جاتے۔  
مثلاً                           ٹک۔ سوں۔ تلک۔کسو۔  وغیرہ

متروک لفظ

جدید رائج لفظ

متروک لفظ

جدید رائج لفظ

ٹک

ذرا – تھوڑا

کبھو

کبھی

نت

ہمیشہ

ان نے

انہوں نے

لوہو

لہو

کسو

کسی کو

کنے

پاس

سیتی

سے

سوں

سے

اودھر

ادھر

ایدھر

ادھر

کوں

کو

مجکوں

مجھ کو

جب لگ

جب تک

انکھیاں

آنکھیں

تلک

تک

یہ حتمی فہرست نہیں ۔ 


 

بلاگ

موضوعات

اردو (42) urdu (37) قواعد (34) urdu grammar (31) صرف و نحو (19) صرف (18) grammar (16) گرامر (14) نحو (10) اصطلاحاتِ زبان (9) ترکیب نحوی (9) اسم (8) زبان (7) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) فعل (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) الفاظ (3) علم بیان (3) فصاحت (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) بدیع (2) بلاغت (2) بلاغت و فصاحت (2) بلیغ (2) بیان (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) روزمرہ (2) سابقہ (2) سابقے (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم (2) علم بدیع (2) علم معانی (2) علمِ بلاغت (2) غیر معین (2) فصیح (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) مرجع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) u (1) ، صرف (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بلیغ و فصیح (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جدید (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) دال (1) دال اور مدلول (1) درجات صفت (1) دلالت (1) دلالت التزامی (1) دلالت تضمنی (1) دلالت حقیقی (1) دلالت ضمنی (1) ذومعنی (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علم بلاغت کی شاخیں (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) مبتدا (1) متحرک (1) متروک (1) متروک الفاظ (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) مثبت (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مدلول (1) مذکر سالم (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مطابقت (1) مطلق (1) معانی (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *