علم
بدیع، علمِ بلاغت کی تیسری بنیادی شاخ ہے۔
لغوی اعتبار سے "بدیع“ کے معنی ”نیا، انوکھا“ اور” عجیب“ کے ہیں۔
اصطلاح میں، علمِ
بدیع وہ علم ہے جس کے ذریعے کلام میں ایسے لفظی اور معنوی محاسن (خوبیاں)
پیدا کیے جاتے ہیں جو قاری یا سامع کو حیرت اور لطف میں مبتلا کر دیں۔
علمِ بیان اور علمِ
معانی کلام میں فصاحت اور مقتضائے حال کی بنیاد رکھتے ہیں، جبکہ علمِ بدیع اس
تیار شدہ کلام کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے”زیور“(سجاوٹ) کا کام کرتا ہے۔
صنائع اور بدائع
صنائع (صنعت کی جمع): کلام کو سجانے کے لیے شاعر جو ہنر، اصول یا تکنیک (جیسے تضاد، تجنیس، لف و نشر وغیرہ) استعمال کرتا ہے، اسے صنعت یا صنائع کہتے ہیں۔
بدائع
(بدیع کی جمع): شاعر کی اس تکنیک یا ہنر کے نتیجے میں شعر کے اندر جو نیاپن، انوکھا حسن، اور پڑھنے والے کے لیے حیرت پیدا ہوتی ہے، اسے بدیع
یا بدائع کہتے ہیں۔
وضاحت:
؎ | ایک سب آگ ایک سب پانی | دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں | میر تقی میرؔ |
اس شعر میں میر تقی میؔر نے آگ اور پانی جیسے متضاد الفاظ اکٹھے باندھے اور
دل و آنکھ کی ترتیب کو الٹ کر پیش کیا۔ شاعر کا شعوری طور پر یہ تکنیک استعمال
کرنا اس کی ”صنعت“(صنعتِ تضاد اور لف و نشر معکوس) ہے۔ جب آپ اس شعر کو
پڑھتے ہیں اور آگ اور پانی کا تقابل دیکھ کر آپ کے ذہن میں ایک دم حیرت اور لطف کا
جو احساس پیدا ہوتا ہے کہ کیا کمال منظر کشی کی گئی ہے، تو کلام کا یہ انوکھا حسن
اور آپ کی یہ حیرت ” بدائع“کہلاتی ہے۔
اس
علم(بدیع) کی پوری عمارت ”صنعتوں“پر کھڑی ہے۔ ان صنعتوں کی
جمع کو ”صنائع“ کہا جاتا ہے۔
صنعتوں یا صنائع کی اقسام
علمِ بدیع کو صنائع کی بنیاد پر دو بڑے حصوں (اجزا) میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
1۔ صنائع معنوی: کلام
میں حسن، خوب صورتی اور تاثیر الفاظ کے معنی، خیال اور مفہوم کے ذریعے پیدا کی
جائے تو اسے صنعتِ معنوی یا صنائعِ معنوی کہتے
ہیں۔ اگر
آپ لفظ بدل کر اس کا کوئی ہم معنی لفظ رکھ دیں، تو بھی کلام کی خوبصورتی اور صنعت
برقرار رہتی ہے۔ اردو شاعری اور نثر میں استعمال ہونے والی زیادہ تر مشہور صنعتیں
اسی زمرے میں آتی ہیں۔
2۔ صنائع لفظی: کلام
میں الفاظ کی خاص ترتیب، صوتی ہم آہنگی، تکرار یا لفظی مناسبت کے ذریعے حسن پیدا
کرنا صنائعِ لفظی کہلاتا ہے۔ اگر کلام میں موجود
کسی لفظ کو ہٹا کر اس کا ہم معنی رکھ
دیا جائے، تو وہ خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے۔
1۔ صنائع معنوی
صنائع معنوی کی سب سے مشہور اور کلیدی اقسام درج ذیل ہیں؛
1۔ صنعتِ تضاد (طباق): کلام میں دو یا دو
سے زیادہ ایسے الفاظ لانا جو آپس میں متضاد ہوں اِسے صنعت تضاد کہتے ہیں۔ جیسے ؛
؎ | طولِ غمِ حیات سے گھبرا نہ اے جگر | ایسی بھی کوئی شام ہے جس کی سحر نہ ہو | جگر ؔ |
2۔ صنعتِ ایہام (توریہ): "ایہام" شک یا وسوسہ کو کہتے ہیں۔ ایسا ذومعنی لفظ لانا جس کے قریبی معنی ذہن میں جلدی آئیں مگر شاعر کی مراد دور کے معنی سے ہو۔اگرچہ دونوں مطلب نکالے جا سکتے ہوں۔
؎ | اس کے رخسار دیکھ جیتا ہوں | عارضی میری زندگانی ہے | (ولیؔ) |
وضاحت: اس شعر میں لفظ "عارضی“ میں
صنعتِ ایہام استعمال کی گئی ہے۔ اس لفظ کے دو
مختلف معنی بنتے ہیں:
قریبی معنی :
فانی، وقتی یا چند روزہ۔ عام قاری جب دوسرا مصرع پڑھتا
ہے تو فوراً یہی معنی ذہن میں آتا ہے کہ ”میری زندگی فانی ہے"۔
دور کے معنی: عربی اور اردو میں لفظ
"عارض" کا مطلب ”رخسار“ یا ” گال“ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ”عارضی“
کا مطلب ہوا ”عارض (رخسار) سے منسوب“یا ”رخسار کے سہارے چلنے والی“۔
چونکہ پہلے مصرعے میں محبوب کے ”رخسار“دیکھنے کا ذکر ہے، اس لیے شاعر کی اصل مراد
دوسرے (دور کے) معنی سے ہے۔ وہ دراصل یہ کہہ رہا ہے کہ ”چونکہ میں تمہارے رخسار
دیکھ کر ہی زندہ رہتا ہوں، اس لیے میری یہ زندگی تمہارے رخساروں (عارض) کی محتاج
اور انہی سے منسوب ہے۔“
شاعر کا قاری کو قریبی معنی کے وسوسے میں الجھا کر، چھپے ہوئے دور کے معنی مراد
لینا ہی صنعتِ ایہام کا اصل کمال ہے۔
3۔صنعتِ مراعاۃ النظیر (تناسب): کلام میں ایسے الفاظ لانا جن کا آپس
میں گہرا منطقی تعلق ہو مگر وہ متضاد نہ ہوں۔
؎ | دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے | گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے | (پنڈت مہتاب رائے تاباؔں) |
اس شعر میں الفاظ ”جل، داغ، آگ “اور” چراغ“استعمال ہوئے ہیں۔ ان تمام الفاظ کا آپس میں گرمی، تپش اور جلنے کا ایک گہرا منطقی تعلق ہے، اس لیے یہ صنعتِ مراعاۃ النظیر کی بہترین مثال ہے۔
4۔ صنعتِ حُسنِ تعلیل: تعلیل کے لغوی معنی ہیں”دلیل دینا، وجہ بیان کرنا“۔ کسی واقعے کی اصل وجہ کو چھوڑ کر کوئی انوکھی، خوبصورت اور شاعرانہ وجہ گھڑنا حسن تعلیل کہلاتا ہے۔
؎ | پیاسی جو تھی سِپاہِ خدا تین رات کی | ساحل سے سَر پٹکتی تھیں موجیں فرات کی | (انیسؔ) |
5۔صنعتِ تلمیح: کسی
تاریخی واقعے، آیت یا ضرب المثل کی طرف بلیغ اشارہ کرنا تلمیح
کہلاتا ہے۔
؎ | نارِ نمرود کو کیا گلزار | دوست کو یوں بچا دیا تو نے | (داغؔ) |
6۔صنعتِ مبالغہ: کلام
میں زور پیدا کرنے کے لیے بات کو حقیقت سے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرنا صنعتِ مبالغہ
کہلاتا ہے۔ مبالغہ مذکورہ کی تین قسمیں ہیں؛
(1)۔ تبلیغ: وہ مبالغہ جو عقل اور عادت دونوں کے
قریب ہو۔ جیسے؛
؎ | ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق | وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے | (غالبؔ) |
(2)۔اغراق: وہ
مبالغہ جس میں بیان کی گئی بات عقلاً تو ممکن ہو، لیکن عادتاً ناممکن ہو۔ یعنی عقل
اس بات کے وجود کو ممکن مانتی ہو، لیکن دنیا کے روزمرہ معمولات میں ایسا ہونا
ممکن نہ ہو۔
؎ | تیز ایسا ہے کہ دوڑے جو کبھی سائے کے ساتھ | تو کبھی سایہ نہ پہنچے اس کے قدموں کے نشان تک | (مرزا محمد رفیع سوؔدا) |
(3)۔غُلو: یہ مبالغے کی انتہائی اور سب سے شدید قسم
ہے۔ اس میں بیان کی گئی بات عقلاً اور عادتاً دونوں طرح قطعی ناممکن اور محال ہوتی
ہے۔ یعنی نہ تو عقل اسے تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی حقیقت میں اس کا کوئی وجود ہو
سکتا ہے۔
؎ | پانی تھا آگ، گرمیِ روزِ حساب تھی | ماہی جو سیخِ موج پہ آئی کباب تھی | (انیسؔ) |
7۔ صنعتِ لَف
و نَشر: لف
کا معنی "لپیٹنا" ہے۔ نشر کے
معنی "بکھرا
ہوا" ہیں۔ دونوں کے معنی ہوئے، "بکھرے
ہوئے کو لپیٹنا"۔ علمِ بدیع
کی اصطلاح میں صنعتِ لف و نشر سے مراد کلام میں
پہلے چند اشیاء یا باتوں کا ایک ساتھ ذکر کرنا (لف)
اور پھر ان کے بعد ان کی مناسبتیں، خوبیاں یا متعلقہ چیزیں بیان کرنا (نشر) ہے۔ یا
کلام میں پہلے چند چیزوں کا لانا (لف) اور پھر ان کی مناسبت بیان کرنا
(نشر) ، صنعت
لف و نشر کہلاتا ہے۔
اس کی تین صورتیں درج ذیل ہیں؛
(الف)لف و نشر مرتب: اگر اشیاء کی ترتیب کے مطابق لف و نشر کیا جائے تو اسے لف و نشر مرتب کہتے ہیں؛
؎ | شرکتِ شیخ و برہمن سے میرؔ | کعبہ و دیر سے بھی جائے گا | (میرؔ) |
(ب)لف و نشر غیر مرتب:اگر
اشیا ء کی ترتیب کو آگے پیچھے کر دیا جائے
تو پھر اسے لف و نشر غیر مرتب کہتے ہیں؛
|
؎ |
تیرے عارض و گیسو و قد کے ہیں یہ جلوے |
کہ حیران ہیں سرو، چاند اور راتوں کی سیاہی |
|
(ج) صنعتِ لف و نشر معکوس: یہ و ہ صورت ہے جس میں 'نشر' (بعد میں آنے والی مناسبتوں) کی ترتیب، 'لف' (پہلے ذکر کی گئی اشیاء) کی ترتیب کے بالکل الٹ ہو۔ یعنی جو چیز پہلے آئی ہے اس کی
مناسبت سب سے آخر میں، اور جو چیز آخر میں آئی ہے اس کی مناسبت سب سے پہلے بیان کی
جائے۔
|
؎ |
تیرے قد و رخ کا ہے یہ سحر و کمال |
کہ شرمندہ ہیں ماہِ تمام اور سروِ خراماں |
|
8۔ صنعتِ تجاہلِ عارفانہ: سب کچھ جانتے
بوجھتے ہوئے بھی کلام میں شدتِ جذبات کی وجہ سے انجان بن جانا صنعت ِ تجاہل
عارفانہ کہلاتا ہے۔
؎ | موت کا ایک دن معیّن ہے | نیند کیوں رات بھر نہیں آتی | (غالؔب) |
9۔صنعتِ رجوع: کلام میں اپنی ہی کہی ہوئی کسی بات سے پلٹ جانا یا اسے رد کر کے اس سے بہتر بات کہنا صنعت رجوع کہلاتا ہے۔
؎ | تلوار کیا تھی، برقِ غضب تھی شرر فشاں | بلکہ اجل تھی، قہرِ خدا تھی بلائے جاں | (انیؔس) |
10۔ صنعتِ مدح شبہ بذم: بظاہر
انداز برائی (ہجو) کا ہو، مگر اس میں چھپی ہوئی زبردست تعریف ہو۔
؎ | نہیں ہے تیری ذات میں اس کے سوا کوئی عیب | کہ تو ہر ایک پہ کرتا ہے کرم بے حساب |
11۔ صنعتِ ذم شبہ بمدح: بظاہر الفاظ تعریف
کے معلوم ہوں، مگر مقصود گہرا طنز یا برائی ہو۔
؎ | سب خوبیاں ہیں اس میں مگر ایک عیب ہے | کہتا ہے جھوٹ اور وہ بہت بے حیا بھی ہے |
12۔ صنعتِ سوال و جواب
(مراجعت):شعر کو اس طرح باندھنا کہ اس میں متکلم اور
مخاطب کے درمیان سوال اور جواب کا سلسلہ ہو۔
؎ | میں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی | سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں | ( غالؔب( |
13۔صنعتِ جمع: بہت سی مختلف چیزوں پر ایک ہی حکم لگا دینا یا انہیں ایک صفت میں اکٹھا کر دینا۔
؎ | ایک سب آگ ایک سب پانی | دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں | ( میؔر) |
14۔صنعتِ تفریق: دو بظاہر ہم شکل
یا یکساں چیزوں کے درمیان کوئی باریک فرق بیان کرنا۔
؎ | پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں | کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور | (اقبالؔ) |
15۔صنعتِ تقسیم: کلام
میں چند اشیاء کا ذکر کرنے کے بعد ان کے حصے، اوصاف یا احکامات کو الگ الگ بانٹنا۔
؎ | خدا کی دین ہے، اس نے جسے دیا جو کچھ | کسی کو درد دیا اور کسی کو درماں | ( امیر مینائؔی) |
16۔صنعتِ تنسیق الصفات:
عربی زبان میں ”تنسیق“کے معنی ”ترتیب دینا“
یا ”موتیوں کو لڑی میں پرونا“ کے ہیں، اور ”صفات“ (صفت
کی جمع) سے مراد خوبیاں یا حالتیں ہیں۔
علمِ بدیع کی اصطلاح میں، کلام (شعر یا نثر) میں کسی ایک ہی شخص یا چیز
(موصوف) کے لیے مسلسل کئی صفات کو ایک ترتیب کے
ساتھ لانے کو صنعتِ تنسیق الصفات کہتے ہیں۔ اس
صنعت کے استعمال سے کلام میں زبردست روانی، زور اور موسیقیت پیدا ہوتی ہے، اور
موصوف کی شخصیت، خوبی یا کیفیت کا ایک مکمل اور جامع خاکہ قاری کے ذہن میں ابھر
آتا ہے۔
استعمال کے دو بنیادی طریقے:
1۔مع العطف (حرفِ عطف کے ساتھ): جب مختلف صفات کو ”اور“،
”و“ یا ”نیز“ جیسے حروف کے ذریعے جوڑا جائے۔
2۔ بغیر العطف (حرفِ عطف کے بغیر): جب صفات کو بغیر
کسی حرفِ عطف کے، محض روانی سے ایک کے بعد ایک تسلسل کے ساتھ بیان کر دیا جائے۔
مثال1(حرفِ عطف کے ساتھ):
|
؎ |
وہ علیم و
خبیر و دانا ہے |
وہ حکیم و
بصیر و بینا ہے |
|
|
؎ |
نبیوں میں رحمت
لقب پانے والا |
مرادیں غریبوں
کی بر لانے والا |
|
|
|
مصیبت
میں غیروں کے کام آنے والا |
وہ
اپنے پرائے کا غم کھانے والا |
(الطاف حسین حاؔلی) |
وضاحت: اس بند میں ذاتِ رسالت مآب ﷺ (موصوف)
کے لیے مسلسل کئی صفات (رحمت لقب پانے والا، مرادیں بر لانے والا، غیروں کے کام
آنے والا، غم کھانے والا) کو ایک شاندار اور واضح ترتیب میں پرویا گیا ہے۔
17۔صنعت توجیہہ: جب کلام میں مدح و ذمّ
دونوں ہوں یا کسی بات کے سلسلے میں دو مختلف معنی دیتے ہوں اور مطلب کے اعتبار سے
یہ دونوں مختلف معنی ہم پلّہ ہوں(ایک مطلب کو دوسرے پر ترجیح نہ دی جا سکے)۔
؎ | کوئی ویرانی سی ویرانی ہے | دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا | (غالبؔ) |
18۔صنعتِ تضمین:تضمین کے لغوی معنی ”ملا لینا“، ”شامل کرنا“ یا ”پیوند لگانا“ کے
ہیں۔ شعری اصطلاح میں، کسی دوسرے مشہور شاعر کے مصرعے یا مکمل شعر کو اپنے کلام
میں اس طرح شامل کرنا کہ وہ آپ کے کلام کے وزن، بحر اور مفہوم کے ساتھ بالکل ہم
آہنگ ہو جائے، تضمین کہلاتا ہے۔ علمِ بلاغت میں اسے ”صنعتِ تضمین“ کہا جاتا ہے۔ اس میں شاعر اپنی فنی مہارت سے کسی دوسرے استاد شاعر
کے کلام کا ٹکڑا اپنے شعر میں یوں جڑتا ہے کہ وہ ایک ہی لڑی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
قاری جب اچانک کسی مشہور مصرعے کو ایک نئے تناظر میں پڑھتا ہے تو کلام میں حیرت
اور لطف پیدا ہوتا ہے (جو کہ علم بدیع کا بنیادی مقصد ہے)۔
چونکہ شاعر کا تخیل لامحدود ہے، اس لیے معنی سے پیدا ہونے والی ان
خوبصورتیوں کی نت نئی راہیں نکلتی رہتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ علمِ بدیع کے ماہرین
انہیں کسی ایک حتمی گنتی میں قید نہیں کرتے۔ البتہ اردو شاعری کا سارا معنوی حسن
بالا اقسام ہی پر استوار ہے۔
2۔ صنائع لفظی
اردو قواعد میں
بکثرت استعمال ہونے والی صنائعِ لفظی کی اہم
اقسام اور ان کی امثال درج ذیل ہیں:
1۔ صنعتِ تجنیس:
تجنیس کے لغوی معنی ہیں”ایک
جیسا“یا” یکساں “۔ کلام میں ایسے دو یا دو سے زیادہ
الفاظ لانا جو پڑھنے، بولنے یا املا میں ایک جیسے ہوں مگر ان کے معنی بالکل مختلف
ہوں، صنعتِ تجنیس کہلاتا ہے۔
؎ | جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی | حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا | (غالبؔ) |
وضاحت: دوسرے مصرعے میں لفظ ”حق“دو بار آیا ہے۔ پہلا”حق“سچائی کے معنی
میں اور دوسرا”حق“ فرض کے معنی میں ہے،
لیکن دونوں کی لفظی ساخت بالکل ایک ہے۔
(ا) تجنیس تام: شعر میں ایسے دو الفاظ کا لانا جو
تعداد، ترکیب، حرکت اور سکون میں یکساں ہوں۔
اس شعر میں لفظ ”مانگ“ اسکی مثال ہے۔
؎ | کہا دل نے میرے دیکھی جو وہ مانگ | کہ ہے یہ رات آدھی کچھ دعا مانگ | |
تجنیس تام کی دو اقسام ہیں؛
(1) تجنیس تام مماثل: قواعد کے اعتبار سے دونوں
الفاظ یکساں یعنی اسم، فعل یا حرف ہوں۔
نیچے دیے گئے شعر کے دوسرے مصرعے میں لفظ حق
|
؎ |
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی |
حق
تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا |
(غالؔب) |
(2) تجنیس تام مستوفی: دونوں
الفاظ میں یکسانیت نہ ہو یعنی ایک اسم ہو تو دوسرا فعل جیسے ؛
؎ | اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھا اور مانگ | کہ اس نے ستاروں سے بھر دی ہے تیری مانگ |
وضاحت: پہلے مصرعے میں لفظ”مانگ“ طلب کرنے یا دعا کرنے کے معنی میں آیا ہے جو کہ قواعد کی رو سے فعل ہے۔ جبکہ دوسرے مصرعے میں لفظ ”مانگ“ سر کے بالوں کی درمیانی لکیر کے معنی میں ہے جو کہ قواعد کی رو سے اسم ہے۔ چونکہ الفاظ ہم شکل ہیں مگر ایک اسم اور دوسرا فعل ہے، اس لیے یہ تجنیسِ تام مستوفی ہے۔
2۔ صنعتِ ترصیع : شعر
کے دونوں مصرعوں کو اس طرح متوازی ترتیب دینا کہ پہلے مصرعے کا ہر لفظ دوسرے مصرعے
کے مدمقابل لفظ کے بالکل ہم وزن اور ہم قافیہ ہو۔ اس سے کلام میں زبردست موسیقیت
پیدا ہوتی ہے۔
؎ | وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا | مرادیں غریبوں کی بر لانے والا | (مولانا الطاف حسین حالؔی) |
وضاحت: یہاں ”نبیوں“ کے مقابل ”غریبوں“،”پانے“کے مقابل ”لانے“ اور ”والا“ کے مقابل ”والا“ وزن اور قافیے کے اعتبار سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔
3۔ صنعتِ اشتقاق : کلام
میں ایسے دو یا دو سے زیادہ الفاظ لانا جو گرامر کی رو سے ایک ہی مصدر سےمشتق کیے گئے ہوں۔
؎ | سب طالبِ دیدار ہیں، وہ کس کا ہے مطلوب | کیا جانیے کس پر وہ ستمگر ہے فدا آج | |
وضاحت:
اس شعر میں
الفاظ ”طالب“ اور ”مطلوب“دونوں کا مادہ ایک ہی ہے یعنی ”طلب“۔ ایک ہی خاندان کے
الفاظ لانے سے کلام میں صوتی ربط پیدا ہوتا ہے۔
4۔صنعتِ تکرار (مکرر): کلام میں خوبصورتی، تاکید، تسلسل یا صوتی آہنگ کی شدت پیدا
کرنے کے لیے کسی ایک لفظ یا مرکب کو مسلسل بار بار لانا۔
؎ | پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے | جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے | (میرتقی میؔر) |
وضاحت:”پتا پتا“اور”بوٹا بوٹا“کی تکرار محض
لفظی بھرتی نہیں ہے، بلکہ یہ عاشق کی حالت پر کائنات کے ذرے ذرے کی گواہی کو صوتی
شدت دے رہی ہے۔
5۔ صنعتِ سیاق الاعداد: کلام میں اعداد (گِنتی) کا اس طرح
استعمال کرنا کہ ان سے کوئی خاص لفظی حسن، ربط یا ترتیب پیدا ہو۔
؎ | ایک سب آگ ایک سب پانی | دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں | (میرتقی میؔر) |
وضاحت: اس شعر میں ”ایک“ کی تکرار اور پھر”دونوں“ کا عدد استعمال کر کے آنکھ اور دل کی کیفیت کو
لفظی طور پر ایک لڑی میں پرویا گیا ہے۔
6۔ صنعتِ
غیر منقوط (عاطلہ/مہملہ): کلام (مصرع، شعر یا پوری غزل) میں شعوری طور پر صرف ایسے
الفاظ لانا جن کے حروف پر کوئی نقطہ نہ آتا ہو۔
؎ | اور کسی کا آسرا ہو سرگروہ اس راہ کا | آسرا اللہ اور آلِ رسول کا | انشاء اللہ خان انشاءؔ |
انشاء کا
ایک پورا دیوان، ایک مثنوی اور ایک قصیدہ
(طورالکلام) اسی صنعت میں ہے۔
7۔ صنعتِ قلب: کلام میں الفاظ کے
حروف کو الٹ کر لفظی بازی گری کا مظاہرہ کرنا۔
قلب کے لغوی معنی ”پلٹنے،
الٹنے“یا ”اوندھا کرنے “کے ہیں۔ اصطلاح میں، کلام کے اندر ایسے الفاظ لانا جن کے
حروف کی ترتیب کو الٹ دینے (یعنی دائیں سے بائیں کے بجائے بائیں سے دائیں پڑھنے)
سے یا تو کوئی نیا بامعنی لفظ بن جائے، یا بعینہٖ وہی لفظ دوبارہ بن جائے، صنعتِ قلب کہلاتا
ہے۔ اس کا سارا کمال حروف کی ترتیب پر مبنی ہے۔
تبدیلی کے لحاظ سے اس کی چار اہم اقسام
درج ذیل ہیں:
(1)۔قلبِ
کُل (مکمل قلب): اس قسم میں کسی لفظ کے تمام حروف
کو بالکل الٹ کر پڑھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک بالکل نیا اور بامعنی لفظ وجود
میں آ جاتا ہے۔
مثال (الفاظ): گنج کو الٹا پڑھیں تو”جنگ“ بنتا ہے۔ مار کو الٹا پڑھیں تو ”رام“بنتا ہے۔ باغ کو الٹا پڑھیں تو” غاب “بنتا ہے۔
|
؎ |
کیوں نہ ہو عیش
کہ ہے باعثِ آرام یہ باغ |
ہم نے دیکھے ہیں
بہت اور پر ہے غاب یہ کیا |
|
وضاحت: پہلے مصرعے کے لفظ ”باغ“(ب، ا، غ) کو
الٹ کر دوسرے مصرعے میں ”غاب“ (غ، ا، ب) باندھا گیا ہے، غاب کا مطلب جنگل ہے۔
(2)۔قلبِ
بعض (جزوی قلب): اس قسم میں لفظ کے تمام حروف کو مکمل
الٹنے کے بجائے، صرف چند حروف کی ترتیب کو آگے پیچھے کیا جاتا ہے۔ (یہ انگریزی کی Anagram تکنیک کے مشابہ ہے۔ جس سے ایک نیا لفظ بن
جاتا ہے۔)
مثال:قبر کے حروف کو آگے پیچھے کرنے سے ”برق“بنتا
ہے۔ ”شکر“کے حروف کو
بدلنے سے”رشک“ بنتا ہے۔
(3)۔قلبِ
مستوی :یہ صنعتِ قلب کی سب سے مشہور، مشکل
اور دلچسپ قسم ہے۔ کلاسیکی بلاغت میں اسے ”ما لا یستحیل بالانعکاس “
(وہ جو الٹنے سے تبدیل
نہ ہو) بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں کسی لفظ، فقرے،
مصرعے یا پورے شعر کو چاہے سیدھا پڑھیں (دائیں سے بائیں) یا الٹا پڑھیں (بائیں سے
دائیں)، حروف کی ترتیب اور الفاظ بالکل وہی رہتے ہیں، ان میں ذرہ برابر فرق نہیں
آتا۔
مثال (مفرد الفاظ): درد۔ نادان۔ داماد۔
ساس۔ لال۔ انا۔
موم۔ کوک۔دید۔ نان ۔ وغیرہ
مثال (مرکب / فقرہ): ”اس نادان
سا“ اس
جملے کو بالکل آخر یعنی ”الف“سے پڑھنا شروع
کریں، تو واپس یہی جملہ بنے گا)۔
عربی کی مشہور قرآنی مثال:كُلٌّ فِي فَلَكٍ (اسے دائیں سے بائیں یا بائیں سے
دائیں پڑھیں، حروف وہی رہتے ہیں)۔
(4)۔قلبِ
مجنح (پروں والا قلب): مجنح کا لغوی مطلب ”پروں والا“ ہے۔ اس صنعت میں شعر یا مصرعے کے بالکل
شروع (یعنی دائیں کنارے) پر جو لفظ لایا جاتا ہے، مصرعے کے بالکل آخر (بائیں
کنارے) پر اسی لفظ کو الٹ کر لایا جاتا ہے۔ گویا مصرعے کے دونوں کناروں پر الٹ
الفاظ پروں کی
|
؎ |
گنج ملا
ہے مجھے کیا خوب تر |
دیکھ رہا ہوں
میں تو اب جنگ کو |
|
وضاحت:
مصرعے کا آغاز ”گنج“ سے ہوا، اور اختتام
اسی کے الٹ ”جنگ“پر کیا گیا۔
8۔ صنعتِ
رد العجز علی الصدر:
شعر یا مصرعے کے بالکل آخر (عجز) میں آنے والے لفظ کو اگلے مصرعے یا شعر کے بالکل
شروع (صدر) میں لے آنا، یا شروع کے لفظ کو پلٹا کر آخر میں لے آنا۔
؎ | دوا سے فائدہ ہوتا ہے درد کو شب و روز | جو دردِ عشق ہو اس کی نہیں ہے کوئی دوا |
|
وضاحت: پہلے مصرعے کی شروعات ”دوا“ سے کی گئی ہے اور اسی لفظ کو پلٹا
کر دوسرے مصرعے کے بالکل آخر میں لا کر کلام کا دائرہ مکمل کیا گیا ہے۔
9۔ صنعتِ معمّا: کلام میں ایسا لفظی اشارہ یا عبارت لانا جو
حیرت میں ڈالنے والا ہوتا ہے۔
؎ | ہے کیوں کر کہ ہے سب کا ر اُلٹا | ”ہم اُلٹے، بات اُلٹی، یار اُلٹا“ | (مومنؔ) |
وضاحت: ہم کا
الٹا مہ- بات کا الٹا تاب -یار کا الٹا رائے۔ ان تینوں الفاظ کو اُلٹنے سے نام مہتاب رائے بن
گیا۔
10۔ صنعتِ سجع: جب
کلام میں پہلے فقرے اور دوسرے فقرے کا آخری حرف یکساں ہو تو اسے صنعتِ سجع کہتے
ہیں۔ اس کی 3 قسمیں درج ذیل ہیں؛
(1) صنعتِ سجع
مطرف : دو فقروں/مصرعوں کے آخری
لفظ ہم وزن نہ ہوں مگر آخری حرف یکساں ہوں۔ جیسے ؛
؎ | طاق سے تو اتار لے شیشہ | طاق پر دھر کتابِ اندیشہ |
|
(2)
صنعتِ سجع متوازن : دو فقروں یا مصرعوں میں وزن تو ہو مگر آخری حرف یکساں نہ
ہوں۔ جیسے؛
؎ | بخت نا ساز نے چاہا کہ نہ دے مجھ کو امان | چرخ کج باز نے سوچا کہ کرے مجھ کو ذلیل |
|
(3)
صنعتِ سجع متوازی : جس میں دونوں
فقروں یا مصرعوں میں وزن بھی ہو اور آخری حرف یکساں بھی ہو۔ جیسے؛
؎ | حُسنِ مہ گرچہ بہنگام کمال اچھا ہے | اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچھا ہے |
|
| |||
|
|
|
11۔ صنعتِ توشیح: توشیح کے لغوی معنی ”آراستہ
کرنا“ یا ” پہنانا“ کے ہیں۔اس صنعت میں
اشعار اس طرح لکھتے ہیں کہ ہر شعر یا مصرعے
کے پہلے(آخری) حرف کو شعر کی ترتیب کے لحاظ سے ایک ساتھ ملا کر
لکھا جائے تو ان سے کوئی نام، لفظ یا
عبارت بن جائے ۔
صنعتِ توشیح کی 3 اقسام معروف ہیں؛
(1) توشیحِ حروفِ اولیٰ (ابتدائی حروف): اس میں ہر مصرعے کا
پہلا حرف ملا کر مطلوبہ نام یا لفظ بنایا جاتا ہے۔ جیسے؛
؎ | نا ظمِ مملکت جاہ جلال | وارثِ تاج و سریر اقبال |
|
| آفتاب فلک جاہ و حشم | بدر تابندہٴ الطاف و کرم |
|
(یہاں ن+ و+
ا+ ب=
نواب ایک نام بن جاتا ہے)
(2)
توشیحِ حرفِ آخری:اس میں ہر مصرعے یا شعر کے آخری حرف
کو ملا کر لفظ تشکیل دیا جاتا ہے۔
؎ | کیا کہوں کیسی ہے اس شخص کی طبعِ رفیع |
|
|
| اس کے اخلاق و مروت کی مثال ہے محال |
|
|
| اس کی ہر بات میں پنہاں ہے بڑی دانائی |
وضاحت:اس مثال کے تینوں مصرعوں کے بالکل آخری حروف (ع، ل، ی)
کو ملانے سے اسمِ گرامی "علی" تشکیل پاتا ہے۔
(3)توشیحِ
دو گانہ / مرکب: اس
میں ابتدائی اور آخری دونوں حروف سے الگ الگ یا ایک ہی نام بنتا ہے۔
؎ | شرارِ غم سے مرے دل پہ چھا گیا ہے سوگ | بہت اداس ہے محفل، بڑھا ہے میرا غم |
|
ابتدائی حروف: پہلے اور دوسرے مصرعے کا پہلا پہلا حرف ملائیں (ش + ب) تو لفظ "شب" (رات) بنتا ہے۔
آخری حروف: دونوں
مصرعوں کے بالکل آخری حروف ملائیں (گ + م) تو لفظ "گم" بنتا
ہے۔
دونوں الفاظ (شب اور گم) شعر کے مفہوم (اندھیرا، اداسی اور کھو جانا) سے گہری
مناسبت بھی رکھتے ہیں۔
صنعتِ توشیح کی ادبی اہمیت اور مقاصد
نام کا اخفاء یا تجلیل: شعراء
اپنے ممدوح (جس کی مدح کی جائے)، محبوب یا کسی بزرگ کا نام نظم کے اندر خوبصورتی
سے بننے کے لیے یہ صنعت استعمال کرتے ہیں۔
مادۂ تاریخ: بعض اوقات ابجد کے اعداد کے حساب سے
سنِ پیدائش یا سنِ وفات نکالنے کے لیے بھی توشیح کا سہارا لیا جاتا ہے۔
فنی مہارت: یہ صنعت شاعر کی لفظی اور ساخت سازی
پر دسترس کو ظاہر کرتی ہے، کیونکہ طے شدہ حروف سے با معنی اور با وزن شعر کہنا
نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔
bõa

