بدھ، 9 ستمبر، 2026

قواعد اردو-31: کلام/مرکب ناقص

0 comments

 

نوٹ:( ہم پہلے پڑھ چکے ہیں    کہ دو یا دو سے زیادہ  با معنی الفاظ کا مجموعہ  کلام/مرکب تام کہلاتا ہے۔  مثلاً  پاکستان اسلامی ملک ہے۔ )


مرکب ناقص کی اقسام


 
مرکب ناقص/کلام ناقص:  وہ مجموعہ الفاظ جسے پڑھ/سن کر پورا مطلب سمجھ نہ آئے، اسے مرکب/کلام ناقص کہتے ہیں۔جیسے  دس لڑکے۔ بیمار آدمی۔  آخری چٹان۔خوبصورت تصویر۔ (مرکب ناقص  کو سمجھنے کے لیےمزید وضاحت درکار ہوتی ہے۔)   
مرکب ناقص کی اقسام درج ذیل ہیں؛
1۔ مرکب اضافی:
یہ مرکب دو اسموں کے تعلق  کو ظاہر کرتا ہے۔  یہ مرکب مضاف، مضاف الیہ اور حرفِ اضافت سے مل کر بنتا ہے۔  مضاف: جس اسم کا تعلق ظاہر کیا جائے اسے مضاف کہتے ہیں۔  جیسے اسلم کی کتاب۔ جامِ جم۔(کتاب اور جام مضاف ہیں)
مضاف الیہ: مضاف کا تعلق جس اسم کے ساتھ ظاہر کیا جائے اسے مضاف الیہ کہتے ہیں۔ جیسے اسلم کی کتاب۔ جامِ جم۔(اسلم مضاف اور جم مضاف الیہ ہیں)
حرفِ اِضافت: مضاف اور مضاف الیہ  کو جس علامت سے ملاتے ہیں ، وہ حرفِ اِضافت کہلاتی ہے۔ جیسے اسلم کی کتاب۔ جامِ جم۔
(”کی“ اور
ِحرفِ اضافت ہیں)
کچھ اور مثالیں:
(حرف اضافت کا ،   کی، کے استعمال کرتے ہوئے) اسلم کی کتاب۔ باغ کا پھول۔لاہور کے کھانے۔
(ضمیر اضافی (فاعلی) استعمال کرتے ہوئے)  میرا قلم۔ ہمارا ملک۔ اُن کا باغ ۔
(فارسی اور عربی ترکیب میں مضاف پہلے اور مضاف الیہ بعد میں آتا ہے) روزِ روشن۔جانِ جہاں۔ ناقۃ اللہ ۔
اضافت  کی اقسام
1۔ اضافت تملیکی: اس اضافت میں مضاف اور مضاف الیہ کا تعلق مالک اور مملوک کا ہو تا ہے۔ جیسے اسلم کی کتاب۔ جامِ جم۔
2۔اضافتِ ظرفی:اسم ظرف اور مظروف کی اضافت کو اضافتِ ظرفی کہتے ہیں۔  جیسے ہوائے چمن۔ باغ کا پھول۔ دوپہر کی دھوپ۔ نورِصبح
3۔اضافتِ تخصیصی: جب مضاف اپنے مضاف الیہ کے سبب خصوصیت حاصل کرے تو اس تعلق کو اضافتِ تخصیصی کہتے ہیں۔(لیکن تملیکی یا ظرفی نہ ہو) جیسے اسلم کا پوتا۔ میرا ہم جماعت۔
4۔اضافتِ توضیحی: اس تعلق میں عام مضاف  خاص مضاف اِلیہ کی وضاحت کرتا ہے۔ جیسے جمعے کا دن۔ کراچی کا شہر۔ ماہِ صفر۔
5۔اضافتِ بیانی:اس اضافت میں مضاف اسی چیز کا بنا ہوتا ہے جو مضاف الیہ ہو۔ جیسےچاندی کی انگوٹھی۔ پلاسٹک کا لوٹا۔
6۔اضافتِ تشبیہی:اس اضافت میں مضاف  ، مضاف الیہ کی مانند ہوتا ہے۔  جیسے نگاہ کا تیر۔ زلف کی زنجیر۔
7:اضافتِ استعارہ:اس تعلق میں کسی لفظ کے مفہوم کو کسی نسبت کی بناء پر کچھ اور فرض کیا جاتا ہے۔ جیسے خیال کے پاؤں۔ عقل کے ناخن۔
8:اضافت بہ ادنیٰ تعلق یا ملابست: جب اضافت بہت تھوڑے یا معمولی تعلق کی بناء پر ہو۔ جیسے ہمارا محلہ۔ ان کی فوج۔
9۔اضافتِ توصیفی:جب مضاف اسم موصوف اور مضاف الیہ صفت ہو۔ جیسےکڑاکے کی دھوپ۔ دل کا تنگ۔ بغیر شکر کی چائے۔
10۔اِضافتِ اِبنی:جب مضاف  اور مضاف الیہ میں بیٹے اور باپ کا تعلق ہو۔جیسے پسرِآدم۔  محمودِ سبکتگین۔ابو بکر۔ ابنِ علی۔ ابو تراب
2: مرکب توصیفی: یہ مرکب اسم صفت اور موصوف کوملانے سے متعلقہ اسم کی صفت ظاہر کرتا ہے۔ مثلاً بڑا پھل۔ زرد پھول ۔  کمزور لڑکا۔
3۔ مرکب عطفی: یہ مرکب  حرف عطف کے استعمال سے بنتا ہے، اس مرکب میں پہلے لفظ کو معطوف  الیہ اور دوسرے کو معطوف کہتے ہیں۔ جیسے چاند اور سورج۔ نیک و بد۔ رات اور دن وغیرہ
4۔ مرکب جاری: وہ مرکب جو حروف جار کے استعمال سے بنے مرکب جاری کہلاتا ہے۔  حروف جار کے ساتھ جو لفظ آئے اسے "مجرور " کہتے ہیں۔  واہگہ تک۔ کراچی سے۔ مسجد میں۔ ہوائی اڈے پر۔ (اس مرکب میں مجرور پہلے اور حرف جار آخر میں آتا ہے)
5۔مرکب اشاری: یہ مرکب اسم اشارہ اور مشار الیہ کے ملانے سے بنایا جاتا ہےاور اسم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مثلاً وہ کتاب۔ یہ قلم وغیرہ ۔ یہاں "وہ" اور "یہ" اسم اشارہ اور "کتاب" اور "قلم" مشار الیہ ہیں۔
6۔مرکب امتزاجی: دو یا زیادہ الفاظ سے بنائے گئے ایک اسم کو مرکب امتزاجی کہتے ہیں۔ جیسے جامپور۔ اسلام آباد۔ مرزا رفیع سوداؔ۔
7۔مرکب موضوعی: بات میں زور پیدا کرنے کے لیے ایک لفظ کے ساتھ دوسرا با معنی لفظ ملا کر جو مرکب لفظ بنایا جائے اسے مرکب موضوعی کہتے ہیں۔  جیسے روکھی سوکھی۔ دیکھا  بھالا۔ لوٹ مار۔
8۔ مرکب تابعی(تابع مہمل): ایسا مرکب جو ایک بامعنی اور ایک بے معنی (مہمل) لفظ کے ملاپ سے بنایا جائے، مرکب تابعی کہلاتا ہے۔ با معنی لفظ "متبوع" اور بے معنی لفظ "تابع مہمَل" کہلاتا ہے۔ جیسے روٹی ووٹی۔ جھوٹ موٹ۔ گپ شپ۔ غلط سلط   ۔ سچ مُچ۔ وغیرہ

9۔مرکب ظرفی:ظرف اور مظروف سے مل کر بنتا ہے۔ جیسے دریا کا پانی۔ شام کا وقت۔

10۔مرکب عددی: عدد اور معدود سے بننے والا مرکب ،مرکب عددی کہلاتا ہے۔ جیسے چار لڑکے۔ سات آم۔

11۔مرکب بدلی:جب مرکب میں دو لفظ آگے پیچھے اس طرح آئیں کہ دونوں سے ایک ہی مراد ہو ، اور ایک مقصود ہو دوسرا بالکل فالتو تو اسے مرکب بدلی کہتے ہیں۔ جو مقصود ہے اسے بدل اور دوسرے کو مبدل منہ کہتے ہیں۔ جیسے اسلم تمھارا بھائی۔ اسلم کا بھائی زید۔
12۔مرکب تمیزی:وہ مرکب جو تمیز اور ممیّز سے مل کر بنے۔ جس اسم سے شک دور کیا جائے وہ ممیّز اور جس لفظ سے شک /ابہام دور کیا جائے وہ تمیز کہلاتا ہے۔  جیسے دس سیر آٹا۔ پانچ درجن انڈے۔
13۔مرکب تاکیدی:
یہ مرکب تاکید اور مؤکد سے بنتا ہے۔ ایسا لفظ جو بات میں زور/تاکید پیدا کرے ، تاکید کہلاتا ہے اور جس کی تاکید کرے اسے مؤکد کہتے ہیں۔  جیسے تمام افراد۔ سب لڑکیاں۔ سبھی مرد۔

14:مرکب استثنائی: یہ مرکب مستثنیٰ، حرفِ استثنیٰ اور مستثنیٰ منہ سے مل کر بنتا ہے۔ جس اسم کو الگ کیا جائے اسے مستثنیٰ اور جس اسم سے الگ کیا جائے اسے مستثنیٰ منہ کہا جاتا ہے۔ جیسے سلمیٰ کے سوا تمام عورتیں۔ زید کے سوا سارے بچے۔
15۔عطفِ بیان و مبیّن: بعض اوقات کسی مرکب میں ایک اسم دوسرے خاص اسم کی وضاحت کرتاہے اور یہ دوسرا اسم پہلے نسبت زیادہ مشہور ہوتا ہے۔ پہلے اسم کو مبیّن اور دوسرے کو عطفِ بیان کہتے ہیں۔ دوسرا اسم عام طور پر عُرف، لقب یا تخلص ہوتا ہے۔ جیسے مرزا اسداللہ خان غالؔب۔ الطاف حسین حاؔلی۔    شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال۔

16۔تابع موضوع: بعض اوقات با معنی  الفاظ کے ساتھ محاورے  کے مطابق با معنی الفاظ زائد لگائے جاتے ہیں اگرچہ یہ اپنے کوئی معنی نہیں دیتے۔ ایسے الفاظ کو تابع موضوع کہتے ہیں۔ جیسے رونا دھونا۔ چال ڈھال۔ گذر بسر۔
17۔حال-ذوالحال: جو لفظ فاعل یا مفعول کی حالت یا کیفیت کو ظاہر کرے اسے حال اور جس اسم کی حالت  یا کیفیت ظاہر کرے  اسے ذوالحال کہتے ہیں۔ جیسے  ہنستا ہوا چہرہ۔ اس جملے میں ہنستا ہوا  حال  اور چہرہ ذوالحال ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

بلاگ

موضوعات

اردو (33) urdu (28) قواعد (26) urdu grammar (24) صرف (15) grammar (14) صرف و نحو (12) اسم (8) گرامر (7) فاعل (6) مفعول (6) اصطلاحاتِ زبان (4) جملہ (4) حرف (4) فعل (4) مرکب (4) نحو (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) ترکیب نحوی (3) لازم (3) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) مؤنث (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) مرجع (2) معروف (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) Consonant (1) Vowel (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آواز (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) الفاظ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بیان (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) درجات صفت (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) روزمرہ (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) مبتدا (1) متحرک (1) مترادف (1) مثبت (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مذکر سالم (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مطابقت (1) مطلق (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) معنی (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *