اسم ذات، اجزائے کلام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اسم ذات، اجزائے کلام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 20 نومبر، 2015

قواعد اردو-2

1 comments
شمسی اور قمری حروف
 عربی قاعدے پر عربی  حروف کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اول شمسی حروف ، دوئم حروف قمری؛
1۔ حروف شمسی: عربی  کےوہ حروف جن سے شروع ہونے  والے الفاظ کے شروع میں "ال" لگایا جائے تو "ل" کی آواز نہیں نکالی جاتی۔ جیسے” ال +شمس“ کو "اش شمس " پڑھا جائے گا، حروف شمسی یہ ہیں؛ ت، ث، د، ذ، ر، ز، س، ش، ص، ض، ط ،ظ، ل، اور ن۔
2
۔ حروف قمری: عربی  کےوہ حروف جن سے شروع ہونے  والے الفاظ کے شروع میں "ال" لگایا جائے تو "ل" کی آواز بولی جاتی ہے۔جیسے ”ال+ قمر “کو القمر پڑھا جائے گا، حروف قمری یہ ہیں؛ ب، ج، ح، خ، ع، غ، ف، ق، ک، م، و ، ہ اور ی۔
نقاط:  کچھ حروف پر ایک بندی لگائی جاتی ہے، اسے نقطہ بولتے ہیں۔مثلاً ب، ت، ج، چ، ظ ، ش، ن وغیرہ
حروف منقوط: وہ حروف جن پر نقطہ ہو ، حروف منقوط کہلاتے ہیں۔ ب، ت، پ ،ث،  ج ، چ، خ، ذ، ز،ژ،  ش ض، ظ ، غ ، ف ، ق، ن۔

حروف غیر منقوط: وہ حروف جن پر نقطہ نہ  ہو ، حروف غیر منقوط کہلاتے ہیں۔ ا،ح، د ، ر ، س، ص، ط، ع، ک، گ، ل، م، و،ہ، ی۔(ی پہلی اور درمیانی صورت میں منقوط ہو جاتی ہے)
مدۤ: یہ علامت  جس حرف(الف) پر آتی ہےاسے لمبا کر کے پڑھا جاتا ہے۔ آم، آب، آج۔ وغیرہ
الف ممدوہ: جس  الف کو کھینچ کر پڑھا جائے اور اس پر علامت مد"ۤ" موجود ہو۔ آج، آرام، آب، آپ، آہستہ۔ وغیرہ
الف مقصورہ: وہ الف جو کھینچ کر نہ پڑھی جائے۔ اب، ادب، اردو،  انسان۔ وغیرہ
            
واؤ معروف: وہ ”و“ جسے خوب کھل کر پڑھا جائے۔  جیسے دُور، حضور، نور، قصور۔ وغیرہ
واؤ مجہول:
وہ ”و“  جسے خوب کھل کر نہ پڑھا جائے۔ زور، چور، مور، شور ۔وغیرہ
واؤ معدولہ: وہ ”و“جو لکھی جائے پر پڑھنے میں نہ آئے۔ خوش، خود، خواہش، خواب۔ وغیرہ
ہائے مختفی: وہ "ہ" جو کھل کر نہ پڑھی جائے۔ جیسے  رستہ، مستانہ، پیالہ، خستہ، فرشتہ۔ وغیرہ
ہائے ملفوظی: وہ "ہ" جو کھل کر پڑھی جائے۔ جیسے گواہ، راہ، بیاہ، گناہ۔ وغیرہ
یائے معروف: وہ "ی" جو کھل کر پڑھی جائے۔ جیسے عزیز، شریف، مریض، امیر، شریک۔ وغیرہ
یائے مجہول: وہ "ی" جو کھل کر نہ پڑھی جائے۔ جیسے فریب، سیب، دیر، بھید، نیک۔ وغیرہ

قواعد اردو-1

17 comments
علم القواعد(قواعد زبان ِ اردو)
ہر زبان کو درست طریقے سے سیکھنے،بولنے،  لکھنے اور پڑھنے  کےکچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں ،ان قوانین کو قواعد کہا جاتا ہے۔ ان قوانین کو علم القواعدیا قواعدِ زبان بھی کہا جاتا ہے۔ اردو زبان  کے قواعد درج ذیل ہیں؛
پہلا حصہ: علم ہجّا
علم ہجّا
علم ہجا کسی زبان کے حروفِ تہجی  کو الگ الگ  کرنے ،املا اور ہجوں کی ساخت کا علم ہے۔ 
حروف(ابجد)
ہر زبان کچھ تحریری علامات اور نشانات پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ علامات اور نشانات حرف کہلاتی ہیں۔  جیسےا ۔ ب۔  پ۔ ت۔ ج۔ د۔ ڑ۔ژ۔  س۔ط۔ ل۔  م۔ ن ۔و۔ی ۔  وغیرہ ۔ حروف کے مجموعے کو "ابجد" کہتے ہیں۔
حرف(حروف تہجی)
اردو میں حروف کی دو قسمیں ہیں؛
1۔ مفرد حروف: یہ حروف صرف ایک حرف پر مشتمل ہوتے ہیں؛؛  ا ،  ب ، پ، ت، ٹ، ث، ج، چ، ح، خ، د،  ڈ، ذ،ر ،ڑ،  ز، ژ، س، ش، ص ، ض، ط، ظ، ع ، غ، ف، ق، ک،گ، ل، م، ن، و،  ہ ، ء، ی ، ے۔
2۔مرکب حروف: 2 حروف ملکر 1 حرف بناتے ہیں؛ آ، بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، ڑھ، کھ، گھ، لھ، مھ، نھ۔

حروف بلحاظ حرکات

        تلفظ یا صوتی لحاظ سے اردو میں حروف کی 2 اقسام ہیں؛
1۔ حرف علّت:الف، واؤ اور ی وہ حرف ہیں جن کے ملانے سے الفاظ میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ جیسے ب+ا=با، ب+و=بُو اور س+ی=سی وغیرہ
نوٹ: حرف علت انگریزی میں Vowelsکہلاتےہیں۔

2۔حرف صحیح:وہ حرف جو کسی حرف علّتیا علامت حرکت(زبر، زیر، پیش)کے بغیر آپس میں ملکر کوئی آواز پیدا نہیں کر سکتے۔ جیسے ب، پ ت، ج س، د، م، ن وغیرہ

نوٹ: حرف صحیح انگریزی میں Consonantsکہلاتے ہیں۔

بلاگ

موضوعات

اردو (39) urdu (34) قواعد (31) urdu grammar (30) صرف (18) صرف و نحو (18) grammar (15) گرامر (12) نحو (9) اسم (8) اصطلاحاتِ زبان (8) ترکیب نحوی (8) زبان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) فعل (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) الفاظ (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) روزمرہ (2) سابقہ (2) سابقے (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم (2) غیر معین (2) فصاحت (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) مرجع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بیان (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) درجات صفت (1) ذومعنی (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) مبتدا (1) متحرک (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) مثبت (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مذکر سالم (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مطابقت (1) مطلق (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *