‏مبتدا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏مبتدا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 9 ستمبر، 2026

قواعد اردو-32: جملوں میں مطابقت

2 comments

جملوں میں مطابقت:
اردو گرامر (قواعد) میں مطابقت جملے کی درستگی کا ایک انتہائی اہم جزو ہے۔
مطابقت کی تعریف

لغوی اعتبار سے مطابقت کے معنی "موافق ہونا"، "ایک جیسا ہونا" یا "ہم آہنگ ہونا" کے ہیں۔ گرامر کی اصطلاح میں، جملے کے مختلف اجزاء کا جنس (مذکر و مونث) اور تعداد (واحد و جمع) کے لحاظ سے ایک دوسرے کے اصولوں کے مطابق استعمال ہونا مطابقت کہلاتا ہے۔ اگر جملے میں الفاظ کی یہ ہم آہنگی نہ ہو تو جملہ غلط تصور کیا جاتا ہے۔  جیسے۔ لڑکی اسکول جاتا ہے،لکھنا  درست نہیں۔ لڑکی اسکول جاتی ہے۔ درست جملہ ہے۔
مطابقت ان اصولوں کے تحت کی جاتی ہے۔

جملے میں فعل کی مطابقت

1۔ فاعل یا مبتدا کے ساتھ مطابقت
1۔  جب فاعل کی عزت و تکریم ملحوظ ہو تو فعل جمع آتا ہے۔ جیسے؛ استاد صاحب تشریف لائے۔ میرے والد صاحب حج کے سفر پرگئے۔
2۔ اگر فاعل حرفِ عطف (و/اور)کے ذریعے ملے ہوں اور دونوں انسان ہوں توفعل ہمیشہ جمع آتا ہے۔
 اگر تمام انسان مذکر ہوں۔
فعل جمع مذکر آئے گا۔ جیسے؛  علی اور اسلم اسکول جاتے ہیں۔
 اگر تمام انسان مؤنث ہوں۔
فعل جمع مؤنث آئے گا۔جیسے؛  سلمیٰ اور افشاں بازار گئیں۔
اگر فاعل مذکر اور مؤنث دونوں ہوں۔
فعل ہمیشہ جمع مذکر ہی آئے گا۔جیسے ؛   اسلم اور افشاں بازار گئے۔

3۔ اگر فاعل دو یا دو سے زیادہ  ملی جلی ضمیروں پر مشتمل ہوں (کوئی غائب، کوئی حاضر، کوئی متکلم)  تو ایسی صورت میں فعل جمع آتا ہے۔ جیسے؛ ہم اور آپ وہاں جائیں گے۔ آپ او ر وہ کہاں گئے تھے؟
4۔ اگر جملے میں ایک سے زیادہ فاعل ہوں اور سب کی جنس ایک ہی ہو (سب مذکر یا سب مؤنث) تو فعل ہمیشہ جمع آئے گا اور اسی جنس کا ہوگا۔ جیسے؛  علی، احمد اور حسن آئے ہیں۔  سارہ اور فاطمہ گئی ہیں۔

5۔اگر جملے میں مذکر اور مؤنث دونوں طرح کے جاندار فاعل موجود ہوں، تو فعل عموماً جمع مذکر آئے گا۔جیسے؛  لڑکے اور لڑکیاں پڑھ رہے ہیں۔  راجہ اور رانی بیٹھے ہیں۔

6۔ اگر جملے میں بے جان اشیاء فاعل ہوں اور ان کی جنس مختلف ہو، تو فعل ہمیشہ آخری فاعل (جو فعل کے سب سے قریب ہو) کی جنس اور تعداد کے مطابق آئے گا۔ جیسے؛  میز اور کرسیاں بک گئیں۔ (کرسیاں مؤنث جمع)            کرسیاں اور میز بک گیا۔ (میز مذکر واحد)
7۔ اگر بہت سے اسم ایک جگہ آئیں اور فعل ایک ہو اور آخر میں " سب کچھ" بڑھا دیا جائے تو فعل واحد مذکر آئے گا۔ جیسے سامان، مکانات، دکانیں سب کچھ جل گیا۔
8۔ اگر جملے میں فاعل ضمیر جمع متکلم "ہم" ہو تو مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے ایک فعل جمع آئے گا۔ جیسے مردوں نے کہا ہم آتے ہیں۔ لڑکیوں نے کہا ہم آتے ہیں۔ ( لڑکیوں نے کہا ،ہم آتی ہیں غلط ہو گا کیونکہ جمع متکلم کے لیے جمع کا فعل استعمال ہو گا)

2۔ مفعول یا خبر کےساتھ مطابقت

  1۔ اگر جملے میں ایک سے زیادہ بے جان مفعول ہوں جن کی جنس مختلف ہو (کوئی مذکر، کوئی مونث)، تو فعل ہمیشہ آخری مفعول (فعل کے سب سے قریب والے مفعول) کی جنس اور تعدادکے مطابق آئے گا۔جیسے؛

میں نے بازار سے ایک قلم اور دو کاپیاں خریدیں۔ (آخری مفعول "کاپیاں" مؤنث جمع ہے)

میں نے بازار سے دو کاپیاں اور ایک قلم خریدا۔ (آخری مفعول"قلم"مذکر واحد ہے)
2۔ فعل متعدی کی صورت میں جب  فاعل کے ساتھ "نے" اور مفعول کے ساتھ "کو" آ جائے، تو فعل مفعول کے مطابق نہیں بدلتا بلکہ ہمیشہ واحد مذکر حالت میں رہتا ہے (چاہے مفعول کی جنس یا تعداد کچھ بھی ہو)۔جیسے؛
لڑکے نے بلی کو مارا۔ (بلی مؤنث ہے لیکن فعل واحد مذکر ''مارا"آیا)

استاد نے لڑکوں کو بلایا۔ (لڑکے جمع ہیں لیکن فعل واحد مذکر "بلایا"آیا)

3۔ اگر فاعل کے ساتھ "نے" موجود ہو لیکن مفعول کے ساتھ کوئی علامت (جیسے "کو") نہ ہو، تو فعل ہمیشہ مفعول کی جنس اور تعداد کے مطابق آئے گا۔جیسے؛
عثمان نے کتاب پڑھی۔ (کتاب مونث واحد ہے، اس لیے فعل"پڑھی" آیا)

عثمان نے خط لکھا۔ (خط مذکر واحد ہے، اس لیے فعل "لکھا" آیا)

عثمان نے خطوط لکھے۔ (خطوط مذکر جمع ہیں، اس لیے فعل "لکھے" آیا)

4۔ بعض تراکیب (فعل متعدی کی صورت) میں مصدر "نا" کے ساتھ فعلِ ناقص آئے تو مذکر مصدر کے استعمال کی گنجائش بھی ہوتی ہے، تاہم مؤنث فاعل کے لحاظ سے مؤنث صورت زیادہ  بہتر ہوتی ہے۔ جیسے؛   ہم پر یہ قیامت بھی آنا تھی یا ہم پر یہ قیامت بھی آنی تھی۔

5۔ غیر متغیر خبر: اردو میں کچھ الفاظ بطور خبر ایسے ہوتے ہیں جو مذکر اور مونث دونوں کے لیے یکساں رہتے ہیں، ایسی صورت میں صرف فعل بدلتا ہے۔ جیسے؛ علی اداس تھا۔ فاطمہ اداس تھی۔ (یہاں خبر "اداس" نہیں بدلی، لیکن فعل 'تھا/تھی' مبتدا کے مطابق بدل گیا)

6۔ پورا جملہ بطور مفعول: اگر کسی جملے میں ایک پورا ذیلی جملہ مفعول کے طور پر آئے، تو فعل ہمیشہ واحد مذکر ہی استعمال ہوگا۔ جیسے؛
علی نے پوچھا کہ تم کب آؤ گے؟ (یہاں "تم کب آؤ گے" پورا جملہ مفعول ہے، اس لیے فعل "پوچھا" واحد مذکر ہے)۔

نوٹ: جملہ اسمیہ (جس میں کام نہ ہو بلکہ کسی کی حالت بتائی جائے) میں فعلِ ناقص (ہے، ہیں، تھا، تھے) کی مطابقت مبتدا  اور خبرکے ساتھ ہوتی ہے۔ اس کے اصول درج ذیل ہیں:

7۔ اسم اشارہ (یہ، وہ) کے ساتھ خبر کی مطابقت: اگر جملے کا آغاز اسم اشارہ (یہ / وہ) سے ہو، تو آخر میں آنے والا فعل ہمیشہ "خبر" کی تعداد اور جنس کے مطابق آتا ہے (کیونکہ 'یہ' اور 'وہ' واحد اور جمع دونوں کے لیے یکساں استعمال ہوتے ہیں)۔جیسے؛

یہ میری کتاب ہے۔ (خبر "کتاب" واحد ہے" اس لیے"ہے" آیا)     یہ میری کتابیں ہیں۔ (خبر "کتابیں"جمع ہیں، اس لیے"ہیں" آیا)

وہ میرا دوست تھا۔ / وہ میرے دوست تھے۔

8۔  خبر اور مبتدا کی جنس میں مطابقت: عام طور پر خبر اپنے مبتدا کی جنس کے مطابق آتی ہے۔ اگر مبتدا مذکر ہے تو خبر بھی مذکر ہوگی اور فعل بھی اسی کے مطابق آئے گا۔جیسے؛ لڑکا بہت ذہین ہے۔ لڑکیاں بہت ذہین ہیں۔احمد جھوٹا تھا۔  سارہ جھوٹی تھی۔
9۔ جب  صفت ، خبر کے طور پر آئے اور علامت مفعول مذکور  ہو تو فعل واحد آتا ہے ۔جیسے؛  میں نے ان لوگوں کو قابل سمجھا۔
 اسم صفت اور اسم موصوف میں مطابقت

1۔ صفت اور موصوف کے مذکر اور مؤنث ہونے میں مطابقت ہونی چاہیے ۔ جیسے؛  اچھا لڑکا۔  اچھی لڑکی۔  برے لوگ
2۔  جو صفت واحد مؤنث کے لیے آتی ہے وہی صفت جمع مؤنث کے لئے استعمال کر تے ہیں۔  جیسے؛  نیک لڑکی۔ نیک لڑکیاں
3۔  بعض عربی الاصل صفات اردو میں مذکر، مؤنث، واحد اور جمع کے لیے ایک ہی صورت میں استعمال ہوتی ہیں۔ جیسے؛  شریف آدمی ۔ شریف عورتیں۔
4۔ صفتِ عددی ترتیب  میں مذکّر و مؤنث کے لحاظ سے موصوف اور اسم صفت میں مطابقت ہو گی۔ جیسے  پانچواں لڑکا۔               پانچویں لڑکی
( صفتِ عددی ترتیبی موصوف کی جنس کے مطابق بدلتی ہے، لیکن عددی صفت خود جمع نہیں ہوتی)
 اسم ضمیر اور مرجع کی مطابقت
ضمیر وہ اسم ہے جو کسی دوسرے  اسم کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ضمیر جس اسم کی جگہ لیتا ہے اُسے " مرجع" کہتے ہیں۔  ضمیر اور مرجع  کی مطابقت ان اصولوں پر کی جاتی ہے۔

1۔ ضمیر کو اپنے مرجع  کے مطابق آنا چاہیے۔  جیسے ؛              اسلم آیا اور وہ مجھے مل کر  چلا گیا۔           افشاں نے  کتاب پڑھی اور وہ سو گئی۔
2۔ ضمیر کی فاعلی، مفعولی اور اضافی حالت  میں ضمیر اپنے مرجع کے مطابق آنی چاہئیے۔ جیسے؛
 علی ایک محنتی لڑکا ہے، وہ روزانہ اسکول جاتا ہے۔ فاعلی حالت
احمد بیمار تھا، ڈاکٹر نے اسے (اس کو) دوا دی۔ مفعولی حالت
والد صاحب گھر پر ہیں، ان کی گاڑی باہر کھڑی ہے۔ اضافی حالت

3۔بعض ضمیروں میں مذکر و مؤنث کی الگ صورتیں نہیں ہوتیں؛ ایسے میں مرجع کی جنس کا اظہار عموماً فعل یا دوسرے متعلقہ الفاظ سے ہوتا ہے۔ ضمیر کی تعداد اور شخص کی مطابقت مرجع کے ساتھ ہونی چاہیے۔
4۔ ضمیر "وہ" واحد غائب اور جمع غائب دونوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جمع کی صورت میں ضرورت کے مطابق "وہ دونوں، وہ سب" یا "انہوں نے، انہیں، ان کا" وغیرہ استعمال ہوتے ہیں۔ فعل اور سیاق سے تعداد اور جنس واضح ہو جاتی ہے۔
حامد اور سعید آئے اور
وہ دونوں چلے گئے۔
اسلم اور علی دونوں اپنی جگہ بیٹھے'
انہوں نے اپنی باتیں کیں او رکھانا کھانےلگے۔
وضاحت:  پہلے جملے میں 
"وہ" ضمیر جمع کے لیے استعمال ہوئی۔ اور دوسرے جملے میں جمع کے لیے ضمیر "انہوں" استعمال ہوئی۔
5۔ یہی حال واحد حاضر اور جمع حاضر کی ضمیروں کا ہے۔   جیسے؛               واحد حاضر:تو کہاں جاتا ہے؟ تم کہاں جاتے ہو؟
جمع حاضر
: تم کہاں جاتے ہو؟

 


بلاگ

موضوعات

اردو (51) urdu (39) قواعد (38) urdu grammar (33) صرف و نحو (19) صرف (18) گرامر (18) grammar (16) نحو (10) اصطلاحاتِ زبان (9) ترکیب نحوی (9) اسم (8) زبان (7) علم بیان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) شاعری (4) علمِ بلاغت (4) فعل (4) نظم (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) الفاظ (3) بلاغت و فصاحت (3) بلیغ (3) تخلص (3) علم (3) علم بدیع (3) علم عروض (3) علم معانی (3) فصاحت (3) فصیح (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) انشائیہ (2) بحر (2) بحر مزاحف (2) بدیع (2) بلاغت (2) بلیغ و فصیح (2) بیان (2) تانیث (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حذف (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) ردیف (2) روزمرہ (2) زحاف (2) سابقہ (2) سابقے (2) ساکن (2) شعر (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم قافیہ (2) علم قوافی (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) قافیہ (2) قبض (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) متحرک (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) محذوف (2) مذکر (2) مرجع (2) مصرع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نثر (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) u (1) ، صرف (1) آراء (1) آزاد نظم، نثری نظم (1) آشوب شہر (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آپ بیتی (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استعارہ (1) استعارہ بالتصریح (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحات (1) اصطلاحی (1) اصناف (1) اصناف نظم (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) افسانوی نثر (1) افسانہ (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انکاری (1) ایجاب (1) ایہام (1) بالکنایہ (1) بحر سالم (1) بحر ہزج (1) بدائع (1) بدایع (1) بند (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تبصرہ (1) تثنیہ (1) تحقیق (1) تخصیص (1) تذکرہ (1) ترائیلے (1) ترتیبی (1) ترجیع بند (1) ترک (1) ترکیب بند (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشبیہ،کنایہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تقطیع (1) تلمیح (1) تمنائی (1) تنسیق (1) تنقید (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) ثلاثی (1) جار (1) جدید (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حرف تاسیس (1) حرف دخیل (1) حرف ردف (1) حرف روی (1) حرف قید (1) حرف مزید (1) حرف نائرہ (1) حرف وصل، حرف خروج (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حسن تعلیل (1) حسن مطلع (1) حصر (1) حمد (1) خاکہ (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) خفیف (1) داستان (1) دال (1) دال اور مدلول (1) درجات صفت (1) دلالت (1) دلالت التزامی (1) دلالت تضمنی (1) دلالت حقیقی (1) دلالت ضمنی (1) دوہا (1) ذومعنی (1) رائے (1) رباعی (1) ربط (1) رجز (1) رمل (1) رموز اوقاف (1) رنگین نثر (1) روزنامچہ (1) رپورتاژ (1) ریختی (1) زبر (1) زمین (1) زیر (1) سالم (1) سانیٹ (1) سبب (1) سخن (1) سریع (1) سفر نامہ (1) سلام (1) سوانح عمری (1) سکتہ (1) سکون (1) شاعری، بیت، شعر (1) شاہ بیت (1) شخصی (1) شرط (1) شعری (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صنائع (1) صنائع لفظی (1) صنائع معنوی (1) صنعت (1) صنعت تضاد (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) طنز (1) طنزومزاح (1) ظرافت (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عروض (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علم بلاغت کی شاخیں (1) عَلم (1) غزل (1) غیر افسانوی نثر (1) فاصلہ (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) فکاہت (1) فکاہیہ (1) فکاہیہ ادب (1) قدح (1) قسم (1) قصر (1) قصہ (1) قصیدہ (1) قطعہ (1) قمری (1) قو (1) لغوی (1) لف و نشر (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) ماہیا (1) مبالغہ (1) مبتدا (1) متدارک (1) متروک (1) متروک الفاظ (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) متقارب (1) مثبت (1) مثمن (1) مثنوی (1) مجاز (1) مجاز مرسل (1) مجازی (1) مجتث (1) مجروری (1) محاورہ (1) مخمس (1) مد (1) مدلول (1) مذکر سالم (1) مراعاۃ النظیر (1) مرثیہ (1) مرصع (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مزاح (1) مزاحف (1) مستزاد، ہائیکو (1) مستقبل (1) مسجع (1) مسدس (1) مسمط (1) مشار (1) مصدر (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مضمون (1) مطابقت (1) مطلع (1) مطلق (1) معانی (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقبوض (1) مقداری (1) مقصور (1) مقصورہ (1) مقطع (1) ممدوہ (1) مناجات (1) منفی (1) منقبت (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکتوب نگاری (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ناول (1) ناولٹ (1) نثر عاری (1) نثر مرجز (1) نثر مرسل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نظم جدید، پابند نظم (1) نظم معرا (1) نعت (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) واسوخت (1) وتد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) ڈراما (1) کافی (1) کالم (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) گیت (1) ہجا (1) ہجو (1) ہزل (1) یادداشت (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *