‏تشبیہ،کنایہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏تشبیہ،کنایہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 9 اکتوبر، 2026

قواعد اردو-43 : علم بیان کے ارکان(اجزا) مجاز۔ تشبیہ ۔ کنایہ

0 comments

علم بیان کے اجزا(ارکان)

علم بیان کے3  ارکان ہیں؛
                    1۔ مجاز           2۔ تشبیہ                   3۔ کنایہ
نوٹ:  عموماً  استعارہ ، مجاز مرسل اور رمز کو بھی انہی ارکان کے ساتھ مذکور کیا جاتا ہے۔ مگر منطقی طور پر یہ 3 بنیادی ارکان ہیں جو مزید شاخوں/قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ان سب کی تفصیل آگے دی گئی ہے۔
1۔مجاز
(Trope / Figurative Speech)

لغوی اعتبار سے ”مجاز“ کے معنی" تجاوز کرنے "یا "گزرنے کی جگہ "کے ہیں۔ علمِ بیان کی اصطلاح میں جب کوئی لفظ اپنے حقیقی (لغوی) معنوں کے بجائے غیر حقیقی یا مجازی معنوں میں اس طرح استعمال کیا جائے کہ اس کے حقیقی اور مجازی معنوں میں کوئی نہ کوئی تعلق (علاقہ) موجود ہو، تو اسے ”مجاز“کہتے ہیں۔جیسے؛  آج پورا پاکستان خوش ہے۔یہاں پاکستان سے مراد پاکستان کے لوگ ہیں۔ پاکستان اور اس کے لوگوں میں تعلق کی وجہ سے یہ مجاز ہے۔

مجاز کے لازمی عناصر

کسی بھی لفظ کو مجاز کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تین شرائط کا ہونا ضروری ہے:

مجازی معنی: لفظ کا وہ مفہوم جو لغت کے بجائے سیاق و سباق کے تحت مراد لیا گیا ہو۔

علاقہ (تعلق): حقیقی اور مجازی معنی کے درمیان منطقی رشتہ (چاہے وہ تشبیہ کا ہو یا تشبیہ کے علاوہ)۔

قرینہ (اشارہ): جملے میں موجود کوئی ایسا پہلو یا اشارہ جو یہ واضح کرے کہ یہاں لفظ کے حقیقی معنی مراد لینا ممکن نہیں۔
مثال:       ”پنجاب جاگ اٹھا“ اس جملے میں لفظ ”پنجاب “   مجاز ہے۔ اس کا حقیقی معنی زمین کا ایک ٹکڑا یا صوبہ ہے جو بذاتِ خود جاگ نہیں سکتا۔ یہاں اس کا مجازی معنی پنجاب کے”لوگ“  ہیں۔ حقیقی اور مجازی معنی میں جگہ اور وہاں رہنے والوں کا تعلق ہے۔

تعلق (علاقہ)  کی بنیاد پر مجاز کی شاخیں یا قسمیں
تعلق کی بنیاد پر مجاز کی 2 قسمیں درج ذیل ہیں؛

1۔ استعارہ (مجاز بالاستعارہ): اگر لفظ کے حقیقی اور مجازی معنوں میں ”تشبیہ“ کا تعلق ہو (یعنی ایک چیز کو دوسری جیسا فرض کر لیا گیا ہو)، تو اس مجاز کو استعارہ کہتے ہیں۔جیسے؛  بہادر انسان کو شیر کہنا۔

2۔ مجازِ مرسل: اگر لفظ کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو (جیسے جزو اور کل کا، یا برتن اور اس میں موجود چیز کا تعلق)، تو اس مجاز کو مجازِ مرسل کہتے ہیں۔ جیسے گلاس پینا، حالانکہ گلاس نہیں اس کے اندر کا مشروب پیا جاتا ہے۔

1۔ استعارہ(Metaphor)

کسی لفظ کو اس کے اصل معنی کے علاوہ کسی دوسرے (مجازی) معنی میں استعمال کرنے کو استعارہ کہتے ہیں۔ ان دونوں معنوں میں تشبیہی لگاؤ موجود ہوتا ہے۔ استعارے میں  تشبیہ پوشیدہ ہوتی ہے اور مشبّہ اور مشبّہ بہ میں سے کسی ایک کا ہونا لازم ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایسے مجاز کو استعارہ کہتے ہیں جس کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہی تعلق ہو۔
استعارہ میں 3 چیزوں کا ہونا ضروری ہے؛

            1۔ مستعار منہ: جس سے کچھ (وصف یا تشبیہ )مانگا جائے اسے مستعار منہ کہتے ہیں۔
            2۔مستعار لہٗ:
جس کے لیے  کچھ(وصف یا تشبیہ) مانگا جائے اُسے مستعار لہٗ کہتے ہیں۔
            3۔ مستعار :
وہ چیز(وصف یا تشبیہ) جو استعارے میں مانگی گئی ہو، اُسے مستعار کہتے ہیں۔

مثال: علی کو ان کی بہادری کی وجہ سے شیر کہتے ہیں۔ اس جملے میں شیر”مستعار منہ“ ، علی "مستعار لہٗ“ اور بہادری "مستعار “کہلاتی ہے۔
استعارے کی اقسام
استعارے کی4  قسمیں  درج ذیل ہیں؛

1۔ استعارہ بالتصریح(مصرحہ): وہ استعارہ جس میں ”مستعار منہٗ“  (مُشَبّہ بِہ) کا ذکر تو ہو مگر مستعار لہٗ (مُشَبّہ) کا ذکر نہ ہو۔جیسے”کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے۔“ (مرزا  دبیؔر)یہاں حضرت عباس(مستعار لہ) محذوف ہے۔ یہ استعارہ بالتصریح کی مثال ہے۔
اسی طرح ؛  ؏ ربط رہنے لگا اس شمع کو پروانوں سے۔ اس مصرعہ میں صرف شمع اور پروانوں کا ذکر ہے، عاشق اور معشوق کا نہیں۔
2۔ استعارہ بالکنایہ(مکنیہ): وہ استعارہ جس میں مستعار لہٗ (مشبّہ) کا ذکر کیا گیا  ہو مگر مشبہ بہ (مستعار منہ) کا ذکر نہ ہوتے  ہوئے بھی اس کے مناسبات یا خصوصیات ضرور بیان کی جاتی ہیں۔۔ جیسے   ؛ ”موت کے پنجوں سے کوئی نہیں بچ سکتا۔“ یہاں 'موت' مستعار لہٗ موجود ہے، مگر درندہ (مستعار مِنہٗ) محذوف ہے۔ تاہم درندے کا لازمہ (پنجے) بیان کر کے استعارہ مکمل کیا گیا ہے۔
نوٹ: استعارہ مکنیہ کے ساتھ عموماً استعارہ تخییلیہ (وہ لازمہ یا صفت جو فرض کی جائے، جیسے یہاں پنجے) جڑا ہوتا ہے۔
3۔ استعارہ تخیّلیہ: کلام میں کسی چیز (مستعار لٗہ) کے لیے کوئی ایسی صفت، عضو یا خاصیت فرض کر لی جائے جو حقیقت میں اس کے اندر موجود نہ ہو، بلکہ وہ صفت اس چیز کی ہو جسے کلام میں چھپا دیا گیا ہے (یعنی مستعار منہ)، تو اس تصوراتی صفت کو استعارہ تخییلیہ کہتے ہیں۔
اسے سمجھنے کے لیے علمِ بلاغت کا ایک بنیادی اور اٹل اصول یاد رکھنا ضروری ہے:
استعارہ تخییلیہ کبھی اکیلا یا آزاد نہیں آتا، بلکہ یہ ہمیشہ ”استعارہ مکنیہ“کے ساتھ لازم و ملزوم ہوتا ہے۔
ان دونوں کا باہمی رشتہ کچھ یوں ہے:
کلام میں ”مستعار منہ“ (جس چیز سے استعارہ لیا جائے) کو چھپا دینا استعارہ مکنیہ (بالکنایہ)کہلاتا ہے۔اس چھپی ہوئی چیز کی کسی خاصیت یا”لازمے“کو مستعار لہ (جس کے لیے استعارہ لیا جائے) کے لیے فرض کر لینا استعارہ تخییلیہ کہلاتا ہے۔
مثال:  ”وقت کے پر لگ گئے ہیں۔“
وضاحت: وقت کو ایک پرندے کے مشابہ قرار دینا استعارہ مکنیہ ہے، اور وقت کے لیے تخیلاتی طور پر ”پر“ (اڑان کی خاصیت )فرض کر لینا استعارہ تخییلیہ ہے۔

طرفین کے اجتماع/تضاد کے لحاظ سے استعارہ کی اقسام

           طرفین کے اجتماع/تضاد کے لحاظ سے استعارہ کی درج ذیل 2 قسمیں ہیں؛

1۔ استعارہ وفاقیہ: جب مشبہ کو حذف کرکے مشبہ بہ کو اس طرح ذکر کیا جائے کہ مشبہ کی کوئی صفت یا قرینہ بھی موجود ہو، اور مشبہ بہ کو مشبہ کے لیے بطورِ استعارہ استعمال کیا جائے، تو اسے استعارۂ وفاقیہ کہتے ہیں۔ مثلاً ؛ باغ میں ایک شیر آیا اور سب لوگ اس سے متاثر ہوئے۔ یہاں شیر سے مراد بہادر آدمی ہو تو:
 مشبہ:
بہادر آدمی — حذف ہے ۔مشبہ بہ: شیر — موجود ہے۔ وجہِ شبہ: بہادری  
قرینہ
: ”لوگوں کا اس سے متاثر ہونا“  جس سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں حقیقی درندہ مراد نہیں (کیونکہ حقیقی شیر کے آنے سے لوگ جان بچا کر بھاگتے ہیں، متاثر نہیں ہوتے)۔ شیر کا لفظ بہادر آدمی کے لیے استعمال ہوا ہے، اس لیے یہ استعارہ  وفاقیہ ہے۔

2۔استعارۂ عنادیہ:جب مشبہ اور مشبہ بہ میں مناسبت یا مشابہت نہ ہو بلکہ دونوں میں تضاد یا مخالفت ہو، اور ایک کو دوسرے کے معنی میں استعمال کیا جائے، تو اسے استعارۂ عنادیہ کہتے ہیں۔ یعنی اس میں استعارہ بنانے کی بنیاد مشابہت نہیں بلکہ ضد یا مخالفت ہوتی ہے۔ مثلاً؛           وہ تو ہمارے محلے کا فرعون ہے۔یہاں فرعون سے مراد حقیقی فرعون نہیں بلکہ ظالم اور جابر شخص ہے۔
مشبہ:
ظالم شخص — محذوف              مشبہ بہ: فرعون — مذکور                  وجہِ شبہ: ظلم و جبر
قرینہ: ”ہمارے محلے کا“   اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی فرعون مراد نہیں بلکہ استعارہ عنادیہ ہے۔
نوٹ:استعارہ عنادیہ کو جب محض طنز، تمسخر یا مزاق
اُڑانے کے لیے استعمال کیا جائے تو اسے ” استعارہ تہکّمیہ“     کا نام  دیا جاتا ہے۔
  
جیسے؛ کسی انتہائی بُزدل شخص کو طنزاً " رُستمِ زماں" کہنا استعارہ تہکُّمیہ ہے۔

2۔ مجاز مُرسل(Synecdoche)

لفظ کا ایسا مجازی استعمال جس میں لفظ کے حقیقی اور مجازی معنی کے درمیان تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق ہو، اسے مجازِ مرسل کہتے ہیں۔
مثال:
آج پورا شہر سو رہا ہے۔یہاں شہر سے مراد شہر کے لوگ ہیں۔ شہر اور شہر کے لوگوں کے درمیان محل اور حال کا تعلق ہے، اس لیے یہ مجازِ مرسل ہے۔
  مثال2:”اس نے ایک پلیٹ کھائی۔“  یہاں ”پلیٹ“ سے مراد پلیٹ میں موجود کھانا ہے۔ چونکہ پلیٹ (برتن) اور کھانے کے درمیان ظرف اور مظروف کا تعلق ہے (یعنی ظرف بول کر مظروف مراد لیا گیا ہے)، اس لیے یہ مجازِ مرسل ہے۔

مجاز مُرسل کی صورتیں

مجاز مُرسل کی  کی کل 24 صورتیں بیان کی جاتی ہیں جو کچھ یوں ہیں؛

نمبر شمار

مجاز مرسل کی صورت

وضاحت

مثال

1۔

جُزو بول کر کُل مراد لینا

حصہ ذکر کر کے پوری چیز مراد لینا

الحمد ---← سورہ فاتحہ

2۔

کُل بول کر جُزو مراد لینا

پوری چیز ذکر کر کے حصہ مراد لینا

پاکستان جیت گیا ---←ٹیم

3۔

سبب بول کر مُسبب مراد لینا

سبب ذکر کر کے نتیجہ مراد

بادل برسا مرد---← بارش

4۔

مُسبب بول کر سبب مراد لینا

نتیجہ ذکر کر کے سبب مراد

کھیتوں میں رزق اُگا -← فصل

5۔

ظرف بول کر مظروف مراد

برتن ذکر کر کے اندر کی شے مراد

پیالہ پی لیا مراد-← مشروب

6۔

مظروف بول کر کے ظرف مراد لینا

اندر کی شے ذکر کر کے برتن مراد

شربت اٹھا لاؤ ---←بوتل

7۔

محل بول کر حال مراد لینا

جگہ ذکر کر کے رہنے والے مراد

اسکول سیر پر گیا ---←طلبہ

8۔

حال بول کر محل مراد لینا

رہنے والا ذکر کرکے جگہ مراد

گاؤں بھوکا ہے ---←لوگ

9۔

ماضی بول کر حال مراد لینا

سابقہ حیثیت سے پکارنا

ریٹائرڈ پرنسپل کو← پرنسپل کہنا

10۔

مستقبل بول کر حال مراد لینا

آئیندہ حیثیت سے پکارنا

طالب علم کو  ---←ڈاکٹر کہنا

11۔

آلہ بول کر عمل مراد لینا

اوزار ذکر کر کے عمل مراد

قلم چل رہا ہے ---←لکھنا

12۔

عمل بول کر آلہ مراد لینا

عمل ذکرکر کے عمل مراد

لکھائی اچھی ہے ---←قلم

13۔

مکان بول کر مکین مراد لینا

عمارت ذکر کر کے رہنے والے مراد

محل خوش ہے ---←بادشاہ

14۔

مکین بول کر مکان مراد لینا

رہنے والے ذکر کر کے عمارت مراد

بادشاہ سو رہا ہے---←محل

15۔

حال بول کر محل مراد لینا

کیفیت ذکر کر کے جگہ مراد

محفل گرم ہے ---←لوگ

16۔

محل بول کر حال مراد لینا

جگہ ذکر کر کے کیفیت مراد

کلاس خاموش ہے ---←طلبہ

17۔

ماضی بول کر مستقبل مراد لینا

پرانی نسبت سے آئیندہ مراد

یہ بچہ----←استاد ہے

18۔

مستقبل بول کر ماضی مراد لینا

آئیندہ نسبت سے سابقہ مراد

یہ -----←ڈاکٹر تھا

19۔

عِلّت بول کر معلول مراد لینا

سبب ذکر کر کے نتیجہ مراد

محنت ----←کامیابی ہے

20۔

معلول بول کر عِلّت مراد لینا

نتیجہ ذکر کر کے سبب مراد

کامیابی----←محنت ہے

21۔

اعتبار بول کر حقیقت مراد لینا

ظاہری نسبت ذکر کر کے اصل مراد

سورج نکلا -----←روشنی

22۔

حقیقت بول کر اعتبار مراد لینا

اصل ذکر کر کےظاہری نسبت مراد

روشنی آئی ---←سورج

23۔

قریب کی چیز بول کر دوری مراد لینا

قریب ذکر کر کے دور مراد

یہاں شور ہے ---←باہر

24۔

بعید بول کر قریبی مراد لینا

دور ذکر کر کے قریب مراد

دنیا سو رہی ہے ---←لوگ

  2۔ تشبیہ(Simile)

  کسی چیز کو اسکی  خوبی، وصف، خصوصیت یا ظاہری مشابہت(ایک جیسا ہونا) کی بنا پر کسی دوسری چیز کے مانند قرار دینے کا نام  تشبیہ ہے۔  تشبیہ کے استعمال سے کلام میں حُسن اور دلکشی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔
تشبیہ کے5  رکن ہیں؛

1۔ مُشَبّہ:   جس چیز کو تشبیہ دی جائے اُسے مُشبّہ   کہتے ہیں ۔
2۔ مُشَبّہ بِہ:  جس چیز سے تشبیہ دی جائے اُسے مُشبّہ بِہ کہتے ہیں۔
 جیسے؛    بجلی کی طرح تیز۔ اس میں  تیز ”مُشبّہ“ اور بجلی ” مُشبّہ بِہ“ ہے۔ علی شیر کی طرح بہادر ہے۔ اس جملے میں علی  مشبّہ اور شیر مشبّہ بِہ ہے۔ بہادری وجہ شبہ/تشبیہ ہے۔
3۔ طرفینِ تشبیہ: تشبیہ کے مشبہ اور مشبہ بہ کو مجموعی طور پر ”طرفینِ تشبیہ “  کہا جاتا ہے۔
4
۔ حرفِ تشبیہ:جن الفاظ سے تشبیہ ظاہر کی جاتی ہے وہ، حرفِ تشبیہ کہلاتے ہیں۔ جیسے؛ جیسا، جیسی، سا، سی، سے، کی طرح، ایسا، ایسے، ایسی، مثال، مثل، مانند، طرح، جُوں، صُورت، ہو بہو، بعینہ ، گویا،
5۔ وجہ  یا غرض شبہ:
وہ وصف/صفت  جس کے لیے تشبیہ دی گئی ہو۔ مثلاً بجلی کی تیزی، شیر کی بہادری ، فولاد کی سختی۔ وغیرہ

تشبیہ کی اقسام

تشبیہ کی 9 اقسام درج ذیل ہیں؛
1۔تشبیہ مُرسل:  وہ تشبیہ جس میں حرف تشبیہ موجود ہو۔ جیسے؛ علی شیر کی طرح بہادر ہے۔
2۔ تشبیہ مؤکدہ:
وہ تشبیہ جس میں حرف تشبیہ موجود نہ ہو۔ جیسے؛ علی شیر ہے۔
3۔ تشبیہ مفرد:
وہ تشبیہ  جس میں کسی ایک شے کو دوسری چیز کے مانند بتایا جائے۔ جیسے  بچہ چاند کی طرح خوب صورت ہے۔وہ حاتم جیسا سخی ہے۔
4۔ تشبیہ مرکب:
  وہ تشبیہ جس  دو یا دو سے زیادہ چیزوں کا ذکر ان کی متعلقہ مشابہت کے ساتھ کیا جائے۔ یا
جس تشبیہ میں مشبہ یا مشبہ بہ کسی ایک چیز کے بجائے ایک مکمل کیفیت، منظر، حالت یا مجموعۂ اشیا ہو، اسے تشبیہِ مرکب کہتے ہیں۔یعنی یہاں مشابہت کسی ایک وصف میں نہیں بلکہ پورے منظر یا کیفیت میں ہوتی ہے۔  جیسے؛  باغ میں کھلے ہوئے پھول ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے سبز قالین پر رنگ برنگے ستارے بکھرے ہوں۔

5۔ تشبیہ قریب: وہ تشبیہ جس میں تشبیہ آسانی سے سمجھ آ جائے۔ پتھر جیسا دل۔ چاند جیسا چہرہ۔ شیر سا بہادر۔پہاڑ سی بلندی۔ وغیرہ
6۔ تشبیہ بعید: وہ تشبیہ جس میں مشبہ اور مشبہ بہ کے درمیان مشابہت فوراً سمجھ میں نہ آئے بلکہ غور و فکر سے معلوم ہو، اسے تشبیہِ بعید کہتے ہیں۔ جیسے اس کی خاموشی ایک بند کتاب کی مانند تھی۔ وقت مٹھی میں بند ریت کی طرح ہے۔
7۔ تشبیہ مفصل:
جس میں وجہِ شبہ بیان کر دی جائے۔جیسے علی شیر کی طرح بہادر ہے۔ وجہِ شبہ: بہادری
8۔ تشبیہ مجمل:
جس میں وجہِ شبہ بیان نہ کی جائے۔ جیسے؛ علی شیر کی طرح ہے۔ وجہِ شبہ واضح طور پر بیان نہیں کی گئی۔
9۔ تشبیہ بلیغ:
جس میں حرف (اداتِ)  تشبیہ اور وجہِ شبہ دونوں حذف کر دیے جائیں۔جیسے؛ علی شیر ہے۔
مشبہ: علی                                               مشبہ بہ: شیر        حرف(ادات): محذوف       وجہِ شبہ: محذوف    اسی لیے یہ تشبیہِ بلیغ ہے۔

تشبیہ اور استعارہ کا فرق

1۔ تشبیہ میں کسی ایک چیز کو دوسری کی مانند یا ہم وصف بتایا جاتا ہے جبکہ استعارہ میں ایک چیز یا وصف کو اس کے مجازی یا  دوسرے معنی میں لیا جاتا ہے۔
2۔ استعارے کے لیے جو لفظ استعمال ہوتا ہے اس کو کسی چیز سے تشبیہ نہیں دی جاتی مگر اِن دونوں کے درمیان ایک پوشیدہ تشبیہی تعلق موجود ہوتا ہے۔
3۔ تشبیہ میں مُشبّہ اور مُشبّہ بِہ دونوں موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ استعارہ میں مشبّہ اور مشبّہ بِہ میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے۔
مثال:   تشبیہ:    اس کا چہرہ چاند کی طرح خوب صورت ہے۔ استعارہ: وہ محفل کا چاند ہے۔
 پہلی مثال میں وہ اور چاند الگ الگ موجود ہیں اور”کی طرح“کے ذریعے مشابہت ظاہر کی گئی ہے، اس لیے یہ تشبیہ ہے۔
دوسری مثال میں انسان کو براہِ راست چاند کہا گیا ہے۔ یہاں چاند سے مراد خوبصورت شخص ہے، اس لیے یہ استعارہ ہے۔

3۔ کنایہ(Metonymy / Allusion)
            ایسا لفظ یا جملہ جس کے ظاہری معنی بھی درست ہوں لیکن اس سے ایک پوشیدہ یا بالواسطہ معنی بھی مراد لیا جائے، اسے کنایہ کہتے ہیں۔ جیسے؛ علی کے ہاتھ کھلے ہیں۔ ظاہری معنی: علی کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔  مرادی معنی: علی بہت سخی ہے۔
ایک اور مثال:
اس کا دامن صاف ہے۔ ظاہری معنی: دامن صاف ہے۔مرادی معنی: وہ بے گناہ یا پاک دامن ہے۔

کنایہ کی اقسام

کنایہ کی 4 معروف اقسام ہیں۔  کنایہ کی اقسام کا دارومدار بنیادی طور پر دو چیزوں پر ہوتا ہے۔
1۔ واسطوں کی تعداد:  (یعنی حقیقی معنی سے مجازی معنی تک پہنچنے میں ذہن کو کتنی کڑیاں جوڑنی پڑتی ہیں)
2۔ اشارے کی وضاحت یا پوشیدگی:  یعنی بات کتنی صاف ہے یا کتنی گہری ہے۔

1۔ تعریض(Insinuation / Indirect Target) تعریض کے لغوی معنی ”چوڑائی سے لانا“ یا ”پہلو بچا کر بات کرنا“ کے  ہیں۔ اصطلاح میں یہ وہ کنایہ ہے جس میں بات بظاہر کسی اور کے بارے میں کی جا رہی ہو، لیکن اصل نشانہ (ہدف) کوئی اور ہو۔ یہ عام طور پر طنز، نصیحت یا کسی کو شرمندہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

خوبی: اس میں مخاطب کا نام نہیں لیا جاتا، لیکن وہ سمجھ جاتا ہے کہ بات اسی کو کہی گئی ہے۔
مثال1: اگر کوئی شخص بہت کنجوس ہو اور آپ اسے براہِ راست کنجوس کہنے کے بجائے کسی سخی کا ذکر چھیڑ دیں اور کہیں؛ ”بھئی! انسان کو تو حاتم طائی ہونا چاہیے جو دوسروں پر جان چھڑکتا تھا۔“ (یہاں کنایہ سے مراد اس شخص کی کنجوسی پر چوٹ کرنا ہے)۔
مثال2: کسی ظالم حکمران کے سامنے یہ کہنا کہ ”خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں، اور وہ مظلوموں کا ساتھی ہے۔“
 (یہاں ظالم کو براہِ راست ظالم نہیں کہا گیا، مگر تعریض کے ذریعے اسے خبردار کیا گیا ہے)۔

2۔  ایما / اشارہ(Clear Indication) ایما کے لغوی معنی ”ہلکا سا اشارہ کرنے“ کے ہیں۔ اصطلاح میں ایما وہ کنایہ ہے جس میں حقیقی معنی سے مجازی (مقصود) معنی تک پہنچنے میں واسطے (کڑیاں) بہت کم ہوں اور اشارہ بالکل واضح   ہو۔ اس میں ذہن کو کوئی خاص مشقت نہیں کرنی پڑتی۔
خوبی:  بات اتنی صاف ہوتی ہے کہ سنتے ہی فوراً سمجھ آ جاتی ہے۔
مثال1: فلاں کی مٹھی بہت بند ہے۔ (فوری اشارہ: کنجوس ہونا)۔
مثال2: ان کے گھر تو چولہا ہی نہیں جلتا۔(فوری اشارہ: انتہائی غریب ہونا)۔

3۔ رمز(Subtle Hint)  رمز کے معنی ”آنکھ، ہونٹ یا بھنووں سے اشارہ کرنے“یا ”چھپی ہوئی بات“ کے ہیں۔ ایما کی طرح رمز میں بھی واسطے (کڑیاں) کم ہوتے ہیں، لیکن فرق یہ ہے کہ رمز میں اشارہ بہت باریک اور پوشیدہ (Hidden) ہوتا ہے۔ اس کے معنی تک پہنچنے کے لیے ذہن کو تھوڑا سا غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔
مثال: عربی اور کلاسیکی اردو روایات میں کسی کو دیکھ کر کہنا:”اس کی گردن بہت لمبی ہے“یا ”اس کی گدی چوڑی ہے“۔ بظاہر یہ ایک جسمانی ساخت ہے، لیکن اس دور کے رواج کے مطابق یہ بیوقوفی (احمق ہونے) کی طرف ایک رمز (باریک اشارہ) ہے۔

4۔ تلویح(Metalepsis)  کنایہ کی  چوتھی قسم ”تلویح“ ہوتی ہے، جس میں حقیقی معنی سے مقصود تک پہنچنے میں واسطے اور کڑیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور ذہن کو لمبا سفر کرنا پڑتا ہے۔
مثال: کسی کو سخی کہنے کے لیے یہ کہنا کہ ”فلاں کے گھر کے کتے بہت سست ہیں اور بھونکتے نہیں“۔ یعنی کتے بھونکتے نہیں کیونکہ گھر میں اتنے مہمان آتے ہیں کہ کتے اجنبیوں سے مانوس ہو گئے ہیں، لہٰذا وہ شخص بہت بڑا مہمان نواز اور سخی ہے۔

یاد رکھنے کی بات:  ان چاروں کے درمیان فرق کو اس طرح باآسانی یاد رکھا جا سکتا ہے:
ایما میں واسطے کم ہوتے ہیں اور بات واضح ہوتی ہے (کوئی الجھن نہیں ہوتی)۔
 رمز
میں بھی واسطے کم ہوتے ہیں مگر بات پوشیدہ اور گہری ہوتی ہے (ذہن کو ذرا سوچنا پڑتا ہے)۔
ایما اور رمز میں جس شخص (موصوف) کے بارے میں بات کی جا رہی ہوتی ہے، اسی کی کوئی خوبی یا خامی بیان کرنا مقصود ہوتا ہے۔
تعریض میں ظاہری طور پر جس کا ذکر ہو رہا ہو، مقصود وہ نہیں ہوتا، بلکہ مقصود وہ شخص ہوتا ہے جسے یہ بات سنائی جا رہی ہے۔
تلویح میں بہت دور کی کوڑی لائی جاتی ہے اور بہت ذہن لڑانے کے بعد پوشیدہ تعلق سمجھ میں آتا ہے۔

 


بلاگ

موضوعات

اردو (43) urdu (37) قواعد (34) urdu grammar (31) صرف و نحو (19) صرف (18) grammar (16) گرامر (14) نحو (10) اصطلاحاتِ زبان (9) ترکیب نحوی (9) اسم (8) زبان (7) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) علم بیان (4) فعل (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) الفاظ (3) بلاغت و فصاحت (3) بلیغ (3) فصاحت (3) فصیح (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) بدیع (2) بلاغت (2) بلیغ و فصیح (2) بیان (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) روزمرہ (2) سابقہ (2) سابقے (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم (2) علم بدیع (2) علم معانی (2) علمِ بلاغت (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) مرجع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) u (1) ، صرف (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استعارہ (1) استعارہ بالتصریح (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بالکنایہ (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشبیہ،کنایہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جدید (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) دال (1) دال اور مدلول (1) درجات صفت (1) دلالت (1) دلالت التزامی (1) دلالت تضمنی (1) دلالت حقیقی (1) دلالت ضمنی (1) ذومعنی (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علم بلاغت کی شاخیں (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) مبتدا (1) متحرک (1) متروک (1) متروک الفاظ (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) مثبت (1) مجاز (1) مجاز مرسل (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مدلول (1) مذکر سالم (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مطابقت (1) مطلق (1) معانی (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *