جمعرات، 8 اکتوبر، 2026

قواعد اردو-42: علم بیان

0 comments

علم ِ بیان

اردو قواعد کا وہ علم جس کے ذریعے خیالات کے اظہار کے لیے ایک (لفظ)معنی کو مختلف طریقوں سے ادا کیا جاتا ہے تاکہ کلام میں زور، حُسن اور تاثیر پیدا ہو جائے، علم بیان کہلاتا ہے۔ علم بیان کا موضوع لفظ ہے جو دو طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ حقیقی معنوں میں اور مجازی معنوں میں۔ جیسے؛  کسی واقعتاً  بہادر شخص کو بہادر کہنا۔ اور کسی شخص کو بہادری کی وجہ سے شیر کہنا ۔ یہاں شیر کا استعمال مجازی معنوں میں ہوا ہے۔

 علم بیان کی عمارت کی بنیاد دلالت پر کھڑی ہے۔

دلالت کی تعریف    

دلالت:  لسانیات اور علمِ منطق میں ”دلالت“ کے لغوی معنی ”رہنمائی کرنے“کے ہیں۔ اصطلاح میں دلالت کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک چیز (لفظ، آواز یا علامت) کا ادراک ہونے سے ذہن فوراً کسی دوسری چیز (معنی) کی طرف منتقل ہو جائے۔ اصطلاح میں لفظ کے معنی کو ”دلالت“ کہتے ہیں۔  آسان لفظوں میں لفظ سن کر اس کا معنی ذہن میں آ جانا دلالت کہلاتا ہے۔  جیسے؛ لفظ ”شیر“ سن کر ذہن میں فوراً ایک طاقتور اور دھاڑنے والے جنگلی جانور کا خاکہ ابھر آنا۔

دال:  دلیل کے لغوی معنی ”رہنما یا راستہ دکھانے والے“کے ہیں۔ علمِ دلالت میں وہ چیز، لفظ، علامت یا اشارہ جس کے ادراک سے ذہن کسی معنی یا مفہوم کی طرف منتقل ہو، اسے دال کہتے ہیں۔۔جیسے؛  جب آپ لفظ ”شیر“ سنتے ہیں  تو یہ لفظ بذاتِ خود ایک دال ہے۔

 مدلول :   مدلول کے معنی "جس کی طرف رہنمائی کی جائے" کے ہیں۔ وہ معنی یا مفہوم جو دلیل (لفظ) کو سن کر ذہن میں پیدا ہوتا ہے، اسے مدلول کہتے ہیں۔جیسے؛  لفظ "شیر" سن کر ذہن میں جو ایک طاقتور اور دھاڑنے والے جانور کا خاکہ ابھرتا ہے، وہ خاکہ اور معنی مدلول ہے۔

دلالت کی اقسام

لفظ کی( اپنے معنی پر) دلالت کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں (حقیقی، تضمنی، التزامی)۔ جن کی تفصیل اور وضاحت کچھ یوں ہے؛

1۔  دلالتِ حقیقی: (جسے منطق میں دلالتِ مطابقی بھی کہتے ہیں) جب  لفظ اپنے مکمل اور اصلی (لغوی) معنی  ظاہر کرتا ہو، (جس معنی کے لیے وہ لفظ وضع کیا گیا /بنایا گیا ہو)، تو اسے دلالتِ حقیقی کہتے ہیں۔
مثال: اگر آپ لفظ ”گھر“ بولیں اور اس سے مراد وہی دیواروں اور چھت والی عمارت ہو، تو یہ دلالتِ حقیقی ہے۔ اسی طرح ”شیر“ بول کر جنگل کا درندہ مراد لینا دلالتِ حقیقی ہے۔
2۔
دلالتِ التزامی: جب کوئی لفظ بول کر اس کے حقیقی یا لغوی معنی مراد نہ لیے جائیں، بلکہ کوئی ایسا معنی مراد لیا جائے جو حقیقی معنی سے باہر تو ہو، لیکن ذہن اور عقل میں اس حقیقی معنی کے ساتھ لازم و ملزوم (جڑا ہوا) ہو، تو اسے دلالتِ التزامی کہتے ہیں۔ مثال: لفظ ”سورج“ بولا جائے۔ سورج کا اصل معنی روشنی نہیں بلکہ آسمان کا ایک ستارہ ہے۔ لیکن سورج بولنے سے ذہن فوراً ”دھوپ“ یا  ”روشنی“ کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ روشنی سورج کے ساتھ لازم ہے۔
3۔  دلالتِ (ضمنی)تضمنی  : ”تضمن“ کا مطلب ہے کسی چیز کو اپنے اندر سمو لینا یا اس کا حصہ ہونا۔ جب کوئی لفظ اپنے پورے معنی کے بجائے اپنے اصل معنی کے محض کسی ایک حصے (جزو) پر دلالت کرے، تو اسے دلالتِ تضمنی کہتے ہیں۔
مثال: اگر کوئی طالب علم کہے کہ ”میں نے کتاب پڑھ لی ہے“، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس نے کتاب کا ایک ایک لفظ یا پوری کتاب ایک ہی نشست میں پڑھ لی ہے، بلکہ عموماً اس سے مراد کتاب کا کچھ حصہ یا ایک سبق پڑھنا ہوتا ہے۔ یہاں پوری ”کتاب“ کا نام لے کر محض اس کا ایک حصہ مراد لیا گیا ہے، لہٰذا یہ دلالتِ تضمنی ہے۔
مثال2: اگر کوئی کہے کہ”گاڑی خراب ہو گئی ہے“ ، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گاڑی کا ایک ایک پرزہ (ٹائر، سیٹیں، شیشے وغیرہ سب) خراب ہو گیا ہے، بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ انجن یا کوئی ایک خاص حصہ خراب ہوا ہے۔ یہاں پوری ”گاڑی“ (کل) کا لفظ بول کر محض اس کا خراب حصہ (جزو) مراد لیا گیا ہے۔یہ بھی دلالتِ تضمنی  ہے۔

علم بیان کے اجزا(ارکان) اگلی پوسٹ قواعد اردو-43 میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔

 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

بلاگ

موضوعات

اردو (43) urdu (37) قواعد (34) urdu grammar (31) صرف و نحو (19) صرف (18) grammar (16) گرامر (14) نحو (10) اصطلاحاتِ زبان (9) ترکیب نحوی (9) اسم (8) زبان (7) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) علم بیان (4) فعل (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) الفاظ (3) بلاغت و فصاحت (3) بلیغ (3) فصاحت (3) فصیح (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) بدیع (2) بلاغت (2) بلیغ و فصیح (2) بیان (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) روزمرہ (2) سابقہ (2) سابقے (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم (2) علم بدیع (2) علم معانی (2) علمِ بلاغت (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) مرجع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) u (1) ، صرف (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استعارہ (1) استعارہ بالتصریح (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بالکنایہ (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشبیہ،کنایہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جدید (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) دال (1) دال اور مدلول (1) درجات صفت (1) دلالت (1) دلالت التزامی (1) دلالت تضمنی (1) دلالت حقیقی (1) دلالت ضمنی (1) ذومعنی (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علم بلاغت کی شاخیں (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) مبتدا (1) متحرک (1) متروک (1) متروک الفاظ (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) مثبت (1) مجاز (1) مجاز مرسل (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مدلول (1) مذکر سالم (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مطابقت (1) مطلق (1) معانی (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *