علم ِ بیان
اردو قواعد کا وہ علم جس کے ذریعے خیالات کے اظہار کے لیے ایک (لفظ)معنی کو مختلف طریقوں سے ادا کیا جاتا ہے تاکہ کلام میں زور، حُسن اور تاثیر پیدا ہو جائے، علم بیان کہلاتا ہے۔ علم بیان کا موضوع لفظ ہے جو دو طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ حقیقی معنوں میں اور مجازی معنوں میں۔ جیسے؛ کسی واقعتاً بہادر شخص کو بہادر کہنا۔ اور کسی شخص کو بہادری کی وجہ سے شیر کہنا ۔ یہاں شیر کا استعمال مجازی معنوں میں ہوا ہے۔
علم بیان کی عمارت کی بنیاد دلالت پر کھڑی ہے۔
دلالت کی تعریف
دلالت: لسانیات
اور علمِ منطق میں ”دلالت“ کے لغوی معنی ”رہنمائی کرنے“کے ہیں۔ اصطلاح میں دلالت کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک چیز (لفظ، آواز یا
علامت) کا ادراک ہونے سے ذہن فوراً کسی دوسری چیز (معنی) کی طرف منتقل ہو جائے۔ اصطلاح
میں لفظ کے معنی کو ”دلالت“
کہتے ہیں۔ آسان لفظوں میں لفظ سن کر
اس کا معنی ذہن میں آ جانا دلالت کہلاتا ہے۔ جیسے؛ لفظ ”شیر“ سن کر ذہن میں فوراً ایک
طاقتور اور دھاڑنے والے جنگلی جانور کا خاکہ ابھر آنا۔
دال: دلیل
کے لغوی معنی ”رہنما یا راستہ دکھانے والے“کے
ہیں۔ علمِ دلالت میں وہ چیز، لفظ، علامت یا اشارہ جس کے
ادراک سے ذہن کسی معنی یا مفہوم کی طرف منتقل ہو، اسے دال کہتے ہیں۔۔جیسے؛ جب آپ لفظ ”شیر“ سنتے ہیں تو یہ لفظ بذاتِ خود ایک دال ہے۔
مدلول : مدلول
کے معنی "جس کی طرف رہنمائی کی جائے"
کے ہیں۔ وہ معنی یا مفہوم جو دلیل (لفظ) کو سن کر ذہن میں پیدا ہوتا ہے، اسے مدلول کہتے ہیں۔جیسے؛ لفظ "شیر" سن کر ذہن میں جو ایک طاقتور اور دھاڑنے
والے جانور کا خاکہ ابھرتا ہے، وہ خاکہ اور معنی مدلول ہے۔
دلالت کی اقسام
لفظ کی( اپنے معنی پر)
دلالت کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں (حقیقی،
تضمنی، التزامی)۔ جن کی تفصیل اور وضاحت کچھ یوں ہے؛
1۔ دلالتِ حقیقی: (جسے منطق میں دلالتِ مطابقی بھی کہتے ہیں) جب لفظ اپنے مکمل اور اصلی (لغوی) معنی ظاہر کرتا ہو، (جس معنی کے لیے وہ لفظ وضع کیا
گیا /بنایا گیا ہو)، تو اسے دلالتِ حقیقی کہتے
ہیں۔
مثال: اگر آپ لفظ ”گھر“ بولیں اور اس سے
مراد وہی دیواروں اور چھت والی عمارت ہو، تو یہ دلالتِ حقیقی ہے۔ اسی طرح ”شیر“
بول کر جنگل کا درندہ مراد لینا دلالتِ حقیقی ہے۔
2۔ دلالتِ التزامی: جب کوئی لفظ بول کر اس کے
حقیقی یا لغوی معنی مراد نہ لیے جائیں، بلکہ کوئی ایسا معنی مراد لیا جائے جو
حقیقی معنی سے باہر تو ہو، لیکن ذہن اور عقل میں اس حقیقی معنی کے ساتھ لازم و
ملزوم (جڑا ہوا) ہو، تو اسے دلالتِ التزامی کہتے
ہیں۔ مثال: لفظ ”سورج“ بولا جائے۔ سورج کا اصل معنی روشنی
نہیں بلکہ آسمان کا ایک ستارہ ہے۔ لیکن سورج بولنے سے ذہن فوراً ”دھوپ“ یا ”روشنی“ کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ روشنی سورج
کے ساتھ لازم ہے۔
3۔ دلالتِ (ضمنی)تضمنی : ”تضمن“ کا مطلب ہے کسی چیز کو اپنے اندر سمو
لینا یا اس کا حصہ ہونا۔ جب کوئی لفظ اپنے پورے معنی کے بجائے اپنے اصل معنی کے
محض کسی ایک حصے (جزو) پر دلالت کرے، تو اسے دلالتِ
تضمنی کہتے ہیں۔
مثال: اگر کوئی طالب علم کہے کہ ”میں نے
کتاب پڑھ لی ہے“، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس نے کتاب کا ایک ایک لفظ یا
پوری کتاب ایک ہی نشست میں پڑھ لی ہے، بلکہ عموماً اس سے مراد کتاب کا کچھ حصہ یا
ایک سبق پڑھنا ہوتا ہے۔ یہاں پوری ”کتاب“ کا نام لے کر محض اس کا ایک حصہ مراد لیا
گیا ہے، لہٰذا یہ دلالتِ تضمنی ہے۔
مثال2:
اگر کوئی کہے کہ”گاڑی خراب ہو گئی ہے“ ، تو اس کا یہ
مطلب نہیں ہوتا کہ گاڑی کا ایک ایک پرزہ (ٹائر، سیٹیں، شیشے وغیرہ سب) خراب ہو گیا
ہے، بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ انجن یا کوئی ایک خاص حصہ خراب ہوا ہے۔ یہاں پوری ”گاڑی“ (کل) کا لفظ بول کر محض اس کا خراب حصہ
(جزو) مراد لیا گیا ہے۔یہ بھی دلالتِ تضمنی ہے۔
علم بیان کے اجزا(ارکان) اگلی پوسٹ قواعد اردو-43 میں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔












0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔