علمِ معانی
علمِ معانی، علمِ بلاغت
کی وہ پہلی اور بنیادی شاخ ہے جس میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ کلام کو ”مقتضائے حال“ (یعنی موقع، وقت اور مخاطب کی ذہنی حالت) کے
مطابق کس طرح ترتیب دیا جائے۔
سادہ الفاظ میں، علمِ
معانی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کوئی بات کس وقت، کس انداز سے اور کن الفاظ میں کہنی
چاہیے تاکہ وہ سننے والے پر پورا اثر کرے۔ اس علم میں جملوں کی ساخت، الفاظ کو آگے
پیچھے کرنے (تقدیم و تاخیر)، بات کو مختصر یا طویل کرنے اور جملے کے لہجے (مثلاً
سوالیہ، حکمیہ، یا بیانیہ) پر بحث کی جاتی ہے۔
علمِ معانی کی مثالیں اور ان کی
وضاحت
علمِ معانی میں ایک ہی
بات کو موقع کی مناسبت سے مختلف انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس کی چند واضح
مثالیں درج ذیل ہیں:
1۔جملے کے مقصد میں تبدیلی (سوال
کا جواب نہ مانگنا بلکہ جذبے کا اظہار کرنا)
علمِ معانی ہمیں بتاتا ہے کہ بسا اوقات بظاہر
سوالیہ جملہ پوچھا جاتا ہے لیکن مقصد جواب حاصل کرنا نہیں، بلکہ حیرت، غصہ یا
افسوس کا اظہار ہوتا ہے۔
مثال: مرزا غالؔب کا شعر ہے:
|
؎ |
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟ |
|
آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟ |
2۔الفاظ کی ترتیب بدل کر زور
پیدا کرنا (تقدیم و تاخیر)
عام گرامر میں جملے کی
ایک مخصوص ترتیب ہوتی ہے (فاعل، مفعول، فعل)۔ لیکن علمِ معانی میں بات پر زور
ڈالنے یا کسی چیز کو خاص کرنے کے لیے الفاظ کی ترتیب بدل دی جاتی ہے۔
- عام جملہ: ”ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔“
- علمِ معانی کے اصول (حصر/قصر) کے تحت: ”تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں۔“
(ایاک نعبد)
وضاحت: مفعول (تیری) کو شروع
میں لانے سے کلام میں زور اور تخصیص پیدا ہو گئی کہ عبادت صرف اور صرف تیرے لیے
ہے۔ یہ علمِ معانی کا کمال ہے۔
3۔مخاطب کے لحاظ سے کلام کی
طوالت یا اختصار (ایجاز اور اطناب)
علمِ معانی کا اہم اصول
یہ ہے کہ مخاطب کی سمجھ بوجھ کے مطابق بات کی جائے۔
مثال: اگر کسی کمرے میں آگ لگ جائے اور وہاں موجود لوگ اس سے بے خبر ہوں،
تو آپ وہاں کھڑے ہو کر آگ لگنے کی وجوہات یا لمبی تقریر نہیں کریں گے، بلکہ صرف
اتنا چلائیں گے: ”بھاگو! ۔۔۔آگ-آگ!“
وضاحت: موقع کی نزاکت اور وقت کی کمی کا تقاضا ہے کہ
بات انتہائی مختصر (ایجاز) ہو۔ اگر یہاں لمبے اور فصیح جملے بولے جائیں تو وہ
گرامر کے لحاظ سے درست تو ہوں گے لیکن علمِ معانی کی رو سے بالکل غلط اور غیر بلیغ
ہوں گے۔
4. بات کو تاکید کے ساتھ کہنا
جب آپ کو معلوم ہو کہ
سننے والا آپ کی بات پر شک کر سکتا ہے، تو علمِ معانی کے تحت کلام میں تاکید پیدا
کی جاتی ہے۔
مثال 1 (عام شخص کے لیے):”زید کامیاب ہو گیا۔“ (جب سننے والا عام حالت
میں ہو)
مثال
2 (شک کرنے والے کے لیے):”یقیناً زید کامیاب ہو گیا ہے۔“ (جب سننے والے
کو شک ہو)
مثال
3 (انکار کرنے والے کے لیے): ”خدا کی قسم! زید ضرور کامیاب ہوا ہے۔“ (جب سننے
والا بات ماننے سے انکاری ہو)
وضاحت: ایک ہی خبر کو مخاطب کے
ذہن کے مطابق سادہ، ایک تاکید یا دو تاکیدوں کے ساتھ بیان کرنا علمِ معانی ہے۔
خلاصہ: علمِ معانی دراصل کلام
کی ”نفسیات“ کا علم ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ کس سے، کب اور کتنا بولنا ہے۔ الفاظ کا
انتخاب اور جملے کی ساخت جذبات اور حالات کے تابع ہونی چاہیے۔












0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔