شاعری کی اصناف
شاعری وہ منظوم ادبی اظہار ہے جس میں
شاعر اپنے خیالات، جذبات، احساسات، مشاہدات اور تخیلات کو موزوں اور مؤثر الفاظ کے
ذریعے اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ اس میں آہنگ، موسیقیت، تخیل، حسنِ بیان اور
تاثیر پیدا ہو جائے۔ شاعری میں زندگی، فطرت، محبت، غم، خوشی، معاشرت، اخلاق، مذہب
اور دیگر انسانی تجربات و جذبات کی عکاسی مختلف شعری اسالیب اور اصناف کے ذریعے کی
جاتی ہے۔
مختصر تعریف: شاعری وہ ادبی اظہار ہے جس میں شاعر
اپنے خیالات و جذبات کو موزوں، مؤثر اور دل نشیں الفاظ میں آہنگ و تخیل کے ساتھ
پیش کرتا ہے۔
شاعری
کی دو اقسام غزل اور نظم
ہیں۔
۔ غزل
لغوی معنی ”عورتوں سے باتیں کرنا“یا”ہرن کے گلے
سے نکلنے والی دردناک آواز“کے ہیں۔ اصطلاح میں غزل شاعری کی وہ صنف ہے جس کا ہر شعر معنی کے لحاظ سے ایک مکمل اور الگ
اکائی ہوتا ہے۔ اس میں عشق و محبت، ہجر و وصال اور تصوف کے مضامین بیان ہوتے ہیں۔
اس کی پابندیوں میں مطلع، مقطع، قافیہ، ردیف اور ایک ہی بحر کا ہونا شامل ہے۔
۔ نظم
نظم
کے لغوی معنی ”لڑی میں موتی پِرونا “ کے ہیں۔
نظم کی مختلف شکلیں اور قسمیں ہیں۔ تعریف
کے لحاظ سے نظم شاعری کی وہ صنف ہے جس میں کسی خاص موضوع پر تسلسل کے ساتھ خیالات
کا اظہار کیا گیا ہو۔ نظم کے لیے ایک مرکزی خیال ہونا ضروری ہے جس کا ارتقا نظم کے
آخر تک جاری رہتا ہے۔
نظم کا ارتقا اور نظم جدید کا تصوّر
گذشتہ سو سال میں اردو
نظم تبدیلیوں سے گزرتی رہی ہے، اور نئے
اسلوب اور موضوعات اردو نظم کا حصہ بنے ہیں ۔ نظم کے اسی نئے اسلوب کو جدید نظم کہا جاتا ہے۔ڈاکٹر
قمر رئیس کے مطابق”وہ نظم جدید کہلائے گی جس میں شاعر نے قدیم اصناف کے لگے
بندھے ضابطوں کی پابندی سے ماوارا ہو کر
کسی مسلمہ اور مانوس یا نئی اور اچھوتی ہیئت میں اپنے تجربات اور خیالات کو
ربط و تسلسل کے ساتھ پیش کیا ہو۔“
نظم کے لیے کسی ہیئت یا
موضوع کی قید نہیں ہے۔ کسی بھی ہیئت میں نظم کسی موضوع کو زیرِ بحث لا سکتی ہے۔ نظم کی ساخت(قدیم و جدید) کے لحاظ سے 4 قسمیں ہیں؛
ہیئت (ساخت) کے اعتبار سے نظم
کی اقسام
1۔ پابند
نظم:وہ نظم جس میں ہیئت کے اعتبار سے
روایتی اصناف و اسلوب کی پابندی کی گئی ہو اور اس میں بحر کے استعمال اور قافیوں
کی ترتیب کے مقررہ اصولوں کا لحاظ رکھا گیا ہو، پابند نظم کہلاتی ہے۔ جیسے: مربع،
مخمّس، مسدّس، ترکیب بند، ترجیع بند وغیرہ۔
2۔ نظمِ
معرّا / غیر مقفّیٰ نظم:وہ نظم جو شروع سے آخر تک مصرعوں کے وزن اور بحر کے تقاضے تو
پوری کرتی ہو (یعنی تمام مصرعے برابر ہوں)، مگر ردیف اور قافیے کی پابندی سے آزاد
ہو، اسے نظمِ معرّا یا غیر مقفّیٰ نظم کہا جاتا ہے۔
3۔ آزاد
نظم:آزاد نظم میں ردیف اور قافیے کی
پابندی نہیں ہوتی اور مصرعے چھوٹے بڑے ہوتے ہیں، البتہ اس کی بنیاد کسی نہ کسی بحر
یا عروضی وزن پر ضرور رکھی جاتی ہے۔ اس میں بحر کی پابندی تو ہوتی ہے مگر ارکان کی
تعداد ہر مصرعے میں مختلف ہو سکتی ہے۔
4۔ نثری
نظم:یہ جدید نظم کی وہ قسم ہے جو ردیف،
قافیے اور عروضی وزن (بحر) کی پابندی سے مکمل طور پر آزاد ہوتی ہے۔ اس میں شعری
آہنگ عروضی ارکان کے بجائے الفاظ کی اندرونی موسیقیت، شعری تلازمات اور خیال کے
تسلسل سے پیدا کیا جاتا ہے۔
اصناف نظم
نظم کی ان معروف اصناف کو
تفہیم کی آسانی کے لیے دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
1۔ موضوع کے اعتبار سے اصناف نظم
1۔ حمد 2۔ نعت 3۔ منقبت 4۔ سلام 5۔ مُناجات
6۔
قصیدہ 7۔
قدح(قصیدہ ہجویہ) 8۔ مرثیہ 9۔ سہرا 10۔ ہَجو
11۔ ہَزل 12۔ واسوخت 13۔ شہرِ آشوب 14۔ ریختی
2۔ ہیئت(ساخت)
کے اعتبار سے اصناف نظم
1۔ مثنَوی-( بزمیہ مثنَوی رزمیہ
مثنَوی) 2۔ مُسَمط
اقسام مسمط: مثلّث۔مربّع۔مخّمس۔مسَدّس۔مسبّع۔مثمن۔ متسّع۔معشّر۔ ترجیع بند۔ترکیب بند
3۔ ثلاثی 4۔ رباعی 5۔ قطعہ 6۔دوہا 7۔یک
بیتہ(فرد)
8۔دو بیتہ 9۔تضمین 10۔ ماہیا 11۔ کافی 12۔گیت
13۔مستزاد 29۔ پیروڈی 30۔سانیٹ 31۔
ہائیکو 32۔ ترائیلے
ہر دو اصنافِ نظم کی
تفصیل اگلی پوسٹ میں بیان کی گئی ہے۔












0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔