نثر
اور شاعری
اردو میں کلام یا سخن کی
دو صورتیں پائی جاتی ہیں؛
1۔ نثر 2۔
شاعری
1۔ نثر: نثر
کے لغوی معنی ہیں، ”بکھرا ہوا“ یا”پھیلایا ہوا“ ۔ ایسی تحریر یا کلام جس میں خیالات
اور جذبات کا اظہار عام بول چال کی زبان اور قواعد کے مطابق جملوں کی شکل میں کیا
جاتا ہے۔یہ کلام عموماً شاعری کی طرح وزن،
بحر، قافیہ اور ردیف کی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔
2۔ شاعری: نثر
کے مقابلے اردو میں کلام کی ایک دوسری صورت پائی جاتی ہے جسے شاعری کہا جاتا ہے ۔ نثر کے برعکس اس میں خیالات(بات) کا اظہار آہنگ، موسیقیت اور
روانی سے کیا جاتا ہے۔ یہ کلام شعروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ شعر کچھ مخصوص اوزان، بحور، قافیہ اور ردیف کی پابندی میں کہا جاتا ہے۔ شاعری وہ ادبی اظہار ہے
جس میں شاعر اپنے خیالات و جذبات کو موزوں، مؤثر اور دل نشیں الفاظ میں آہنگ و
تخیل کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
ایک
مغالطہ یا غلط فہمی
سخن (بنیادی اور سب سے
وسیع اصطلاح) :
لغوی اعتبار سے ”سخن“
کے معنی کلام، بات یا گفتگو کے ہیں۔ ادبی اصطلاح میں یہ سب سے بڑا دائرہ ہے
جو پورے ادب کو محیط ہے۔ سخن میں کلام کی دونوں بڑی اقسام، یعنی نثر (Prose) اور
نظم (Poetry)،
شامل ہوتی ہیں۔ جب قواعد میں ”اصنافِ سخن“ کی بات کی جاتی ہے، تو اس میں ناول،
افسانہ، مضمون (نثر) کے ساتھ ساتھ غزل، قصیدہ اور رباعی (شاعری) سب شامل ہوتے ہیں۔
یہ الگ بات ہے کہ کلاسیکی اردو میں شاعر کو ”سخنور“
کہہ کر اس لفظ کو عموماً شاعری کے لیے بھی برت لیا جاتا ہے، مگر تکنیکی طور پر سخن
ہر طرح کے ادبی کلام کا نام ہے۔
شاعری (ایک فن اور دائرہ
کار) : شاعری ”سخن“ کی ایک بڑی شاخ ہے۔ لغوی طور
پر یہ شعر کہنے کے عمل یا فن کا نام ہے۔ تکنیکی اعتبار سے جذبات، خیالات اور
مشاہدات کو علمِ عروض (بحر اور وزن) کی پابندیوں کے ساتھ پیش کرنا شاعری کہلاتا
ہے۔ یہ ایک مکمل فن ہے جس کے اندر غزل، مرثیہ، قصیدہ، رباعی اور باقاعدہ نظم جیسی
تمام منظوم اصناف آتی ہیں۔
نظم (شاعری کی ایک مخصوص صنف): ادبی دنیا میں نظم
کے دو مفہوم لیے جاتے ہیں:
1۔ عام مفہوم (بمقابلہ نثر): نثر
کے برعکس ہر وہ کلام جو وزن اور بحر میں ہو، اسے عام بول چال میں نظم کہہ دیا جاتا
ہے (جیسے کلام کو دو حصوں ”نظم اور نثر“ میں
بانٹا جاتا ہے)۔
2۔ تکنیکی و اصطلاحی مفہوم:شاعری کے دائرے کے اندر نظم ایک مخصوص
صنف ہے جس میں کسی ایک ہی مرکزی خیال، موضوع یا واقعے کو شروع سے آخر تک تسلسل
کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ یہ غزل کے بالکل برعکس ہے،
کیونکہ غزل کا ہر شعر اپنے مفہوم میں آزاد ہوتا ہے، جبکہ نظم کے تمام اشعار ایک ہی
موضوع کی لڑی میں پروئے ہوتے ہیں۔
وضاحت: شاعری کے لیے 2 الفاظ 1۔ سُخن اور 2۔ نظم بہت
معروف ہیں اور شاعری کے متبادل مستعمل ہیں۔ نثر کے مقابلے سخن یا نظم کا مفہوم بہت
عام ہے۔ اس لیے شاعری کی خاص صنف
نظم کو
اس مفہوم سے الگ سمجھنا اور برتنا چاہئیے۔
شاعری اور
علم ِ بلاغت
شاعری(منظوم کلام) وہ ادبی اظہار ہے جس میں شاعر اپنے
خیالات و جذبات کو موزوں، مؤثر اور دل نشیں الفاظ میں آہنگ و تخیل کے ساتھ پیش
کرتا ہے۔ علمِ
بلاغت کی تینوں شاخیں (علمِ بیان، علمِ معانی، اور علمِ بدیع) کا شاعری سے
بہت گہرا اور چولی دامن کا ساتھ ہے۔ درحقیقت، اردو اور شاعری کا سارا حسن اور فن
انہی علوم پر استوار ہے۔یہ علوم ہم پچھلے صفحات میں تفصیل سے پڑھ چکے ہیں۔
ان کا شاعری سے تعلق درج ذیل ہے:
علمِ بیان (شاعری کی روح): شاعری میں تخیل،
منظر کشی اور جذبات کو ابھارنے کے لیے تشبیہ، استعارہ اور کنایہ کا سب سے زیادہ
استعمال ہوتا ہے۔ شاعر سیدھی بات کہنے کے بجائے اسی علم کی بدولت استعاراتی اور
علامتی زبان استعمال کرتا ہے۔
علمِ بدیع (شاعری کا زیور): غزل یا نظم میں
لفظی اور معنوی خوبصورتی (جیسے صنعتِ تضاد، مبالغہ، یا تجنیس وغیرہ) اسی علم کے
ذریعے پیدا کی جاتی ہے تاکہ شعر قاری کو چونکا دے اور سننے میں بھلا لگے۔
علمِ معانی (شاعری کا لہجہ): شعر میں چھپے ہوئے
طنز، حسرت، غصے یا محبت کے جذبے کو موقع کی مناسبت سے درست الفاظ، ترتیب اور لہجے
(جیسے سوالیہ انداز) کے ساتھ ادا کرنا اسی علم کا کمال ہے۔
شاعری کے مخصوص علوم
علمِ بلاغت (جو
اعلیٰ نثر اور نظم دونوں میں استعمال ہوتا ہے) کے علاوہ، دو علوم ایسے ہیں جو صرف اور صرف شاعری کے لیے مخصوص ہیں، اور ان کے بغیر
کوئی کلام تکنیکی طور پر شعر نہیں کہلا سکتا۔
1۔علمِ عروض: یہ شعر کے وزن، آہنگ اور بحر کو
جانچنے کا علم ہے۔ اس علم کی مدد سے یہ طے کیا جاتا ہے کہ کوئی شعر وزن میں ہے یا
بے وزن۔ یہ علم بتاتا ہے کہ کون سے الفاظ کس ترتیب سے آئیں گے تو شعر میں ترنم
پیدا ہوگا۔
2۔ علمِ قوافی (علمِ
قافیہ):
یہ شعر کے آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ (جیسے: آنا،
جانا، پانا) کے اصولوں اور قاعدوں کا علم ہے۔ غزل میں ردیف کا استعمال اور ہم
قافیہ الفاظ کا چناؤ اسی علم کے تابع ہے۔
مختصر یہ کہ کسی بھی کلام کو شعر کی
شکل دینے کے لیے ”علمِ عروض اور علمِ قافیہ“
بنیادی شرط ہیں، اور اِس شعر کو خوبصورت، پرتاثیر اور شاہکار بنانے کے لیے علمِ بلاغت (بیان، معانی،
بدیع) کا استعمال کیا جاتا ہے۔












0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔