علمِ عروض
علمِ عروض وہ علم ہے جس
کے اصولوں اور قواعد کی مدد سے کسی کلام کا وزن پرکھا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے
کہ شعر موزوں (وزن میں) ہے یا ناموزوں (بے وزن)۔ یہ شاعری کا وہ ترازو ہے جس پر
اشعار کو تولا جاتا ہے اور اس سے کلام کے شعر ہونے یا نہ ہونے کا تعین ہوتا ہے۔ مشہور
عرب ماہرِ لسانیات خلیل بن احمد الفراہیدی نے اشعار کے صوتی آہنگ پر غور کر کے
اس کے قواعد مرتب کیے۔
علمِ عروض کی بنیاد مندرجہ ذیل کلیدی عناصر اور اصطلاحات پر کھڑی ہے:
1۔ متحرک اور ساکن حروف: عروض
کی تمام تر عمارت حروف کی حرکت (زبر، زیر، پیش) اور سکون پر قائم ہے۔ جس حرف پر
کوئی حرکت ہو اسے ”متحرک“ اور جس پر کوئی حرکت نہ ہو اسے ”ساکن“کہتے ہیں۔ علمِ
عروض کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ اس میں الفاظ کی تحریر یا املا (Spelling) کے بجائے ان کے خالص تلفظ (آواز) کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
2۔ ارکان (افاعیل):متحرک
اور ساکن حروف کے مخصوص اور مقررہ مجموعوں کو ”رکن“(جمع: ارکان) کہا جاتا ہے۔ یہ
شاعری کے اوزان ناپنے کے پیمانے یا باٹ ہیں۔ علمِ عروض میں 8 بنیادی ارکان ہیں
جنہیں ”افاعیل“بھی کہا جاتا ہے:
1۔ فعولن (فَ۔عُو۔لُن)
2۔فاعلن (فَا۔عِ۔لُن) 3۔ مفاعیلن (مَ۔فَا۔عِی۔لُن)
4۔فاعلاتن (فَا۔عِ۔لَا۔تُن) 5۔مستفعلن
(مُس۔تَف۔عِ۔لُن) 6۔متفاعلن (مُ۔تَ۔فَا۔عِ۔لُن)
7۔ مفاعلتن (مُ۔فَا۔عَ۔لَ۔تُن) 8۔
مفعولات (مَف۔عُو۔لَات)
3۔ اجزائے ترکیبی:اوپر دیے گئے ارکان
(افاعیل) دراصل چھوٹی صوتی اکائیوں سے مل کر بنتے ہیں، جنہیں علمِ عروض میں تین
بنیادی نام دیے گئے ہیں؛
(1)۔ سبب: دو حروف کا مجموعہ۔ اس
کی دو قسمیں ہیں؛ سببِ خفیف (ایک متحرک، ایک ساکن جیسے”دِل“) اور سببِ ثقیل (دونوں
متحرک جیسے ” لَبِ“)۔
(2)۔ وتد: تین حروف کا مجموعہ۔ اس کی بھی دو
قسمیں ہیں؛ وتدِ مجموع (دو متحرک، ایک ساکن جیسے”'چَمَن“) اور وتدِ مفروق (پہلا
متحرک، دوسرا ساکن، تیسرا متحرک جیسے ”رَازِ“)۔
(3)۔ فاصلہ: چار یا پانچ حروف کا ایسا مجموعہ جس
کا صرف آخری حرف ساکن ہو اور باقی سب متحرک ہوں۔
1۔
فاصلہ صغریٰ (چار حروف کا مجموعہ) :یہ چار حروف کا ایسا مجموعہ ہے جس کے
پہلے تین حروف متحرک (زبر، زیر یا پیش
والے) ہوں اور چوتھا (آخری) حرف ساکن ہو۔
عروضی وزن (رکن کی مثال): فَعَلَتْ (اس میں
فَ، عَ، لَ متحرک ہیں اور آخری ”ت“ساکن ہے)۔
اردو لفظ کی مثال: بَرَکَت(بَ (متحرک) + رَ (متحرک) + کَ
(متحرک) + ت (ساکن)۔
2۔ فاصلہ کبریٰ (پانچ حروف کا مجموعہ): یہ
پانچ حروف کا ایسا مجموعہ ہے جس کے پہلے چار حروف متحرک ہوں اور پانچواں (آخری)
حرف ساکن ہو۔
عروضی وزن (رکن کی مثال): فَعَلَتُنْ (اس
میں فَ، عَ، لَ، تُ متحرک ہیں اور آخری”ن“ساکن ہے)۔
مثال: چونکہ خالص اردو یا فارسی زبان کے
مزاج میں لگاتار چار متحرک حروف والے الفاظ عموماً نہیں پائے جاتے، اس لیے کلاسیکی
عروض کی تمام کتب میں اس کے لیے عربی لفظ ”سَمَکَتُن“ (ایک
مچھلی) کی مستند مثال دی جاتی ہے۔
تفصیل: سَ (متحرک) + مَ (متحرک) + کَ (متحرک)
+ تُ (متحرک) + ن (ساکن)۔
3۔ فاصلہٴعظمیٰ(چھ حروف کا مجموعہ): روایتی
اور کلاسیکی علمِ عروض میں فاصلے کی صرف دو اقسام (فاصلہ صغریٰ اور فاصلہ کبریٰ)
بیان کی گئی ہیں۔ تاہم، اردو عروض کے نامور جدید محقق شمس
الرحمٰن فاروقی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”عروض، آہنگ اور بیان“ میں اردو کے
صوتی مزاج کے پیشِ نظر فاصلے کی ایک تیسری قسم”فاصلہ عظمیٰ“بھی بیان کی ہے۔
یہ 6 حروف کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جس کے
پہلے پانچ حروف لگاتار متحرک ہوتے ہیں اور چھٹا حرف ساکن ہوتا ہے۔ اگرچہ ایسا ایک لفظ اردو میں ہونا ممکن نہیں،
مگر دو الفاظ کو ساتھ لاکر یہ ترکیب بنائی جا سکتی ہے۔ جیسے ثَمَرِ شَجَر (یہاں
پہلے پانچ حروف متحرک ہیں اور آخری ساکن
ہے۔)
4۔ بحر (Meter)
مخصوص ارکان کی ایک خاص
ترتیب اور تکرار سے جو سانچہ تیار ہوتا ہے، اسے”بحر“کہتے
ہیں۔ کلامِ موزوں کے لیے ضروری ہے کہ شعر کے دونوں مصرعے ایک ہی بحر میں ہوں۔ علمِ
عروض میں معروف
بحور(بنیادی بحریں) کی تعداد 19 ہے۔ انھی بحروں سے مزید بحریں بنائی جاتی ہیں۔علمِ
عروض کی معروف 19 بحور درج ذیل ہیں؛
1۔
بحرِ طویل 2۔بحرِ مدید 3۔ بحرِ بسیط 4۔
بحرِ وافر 5۔ بحرِ
کامل
6۔بحرِ ہزج 7۔بحرِ
رجز 8۔بحرِ
رمل 9۔بحرِ سریع 10۔بحرِ
منسرح
11۔ بحرِ خفیف 12۔ بحرِ مضارع 13۔ بحرِ مجتث 14۔بحرِ مقتضب 15۔بحرِ متقارب
16۔ بحرِ متدارک 17۔ بحرِ قریب 18۔بحرِ جدید 19۔بحرِ مشاکل
تاریخی وضاحت: خلیل بن احمدالفراہیدی نے
15 بحور وضع کیں۔ان کے شاگرد اخفش (ابو الحسن اخفش) نے
16ویں بحر (متدارک) کا اضافہ کیا۔بعد ازاں فارسی
عروض دانوں نے اپنی زبان کے مزاج کے مطابق 3 مزید بحور (قریب،
جدید، مشاکل) وضع کیں، جس سے اردو/فارسی عروض میں کل تعداد 19 ہو گئی۔
نوٹ: اگرچہ علمِ عروض کے اصولوں کے تحت
بحور کی کل تعداد 19 ہے، لیکن اردو شاعری کے مزاج اور صوتی آہنگ کے لحاظ سے عملی
طور پر ان میں سے صرف 9 یا 10 بحور ہی کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔
خالص عربی مزاج کی بحور (طویل،
مدید، بسیط، وافر، کامل) اردو میں نہ ہونے کے برابر استعمال ہوتی ہیں۔
فارسی کی مخصوص بحور (قریب،
جدید، مشاکل) اور مقتضب کا رواج بھی اردو میں شاذ و نادر ہے۔
اردو کی بیشتر اور مقبول ترین
شاعری بنیادی طور پر ہزج، رمل، رجز، متقارب، متدارک،
مضارع، مجتث، خفیف اور سریع کی
مختلف شکلوں (زحافات) میں کی گئی ہے۔
علمِ عروض کے تاریخی ارتقا کے نتیجے میں بنیادی
بحور (بحورِ اصول) کی کل تعداد 19 مقرر کی گئی ہے۔ تاہم عملی شاعری میں ان 19
بحروں کے ارکان (افاعیل) کو ان کی بالکل اصلی حالت میں استعمال کرنے یا عروضی
قواعد کے تحت ان میں تبدیلی لانے کی بنیاد پر، بحور کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا
جاتا ہے:
1۔ بحرِ سالم:
وہ بحر جس میں بنیادی ارکان اپنی اصل شکل میں استعمال ہوں اور ان میں کوئی کٹاؤ یا
کمی بیشی نہ ہو۔ یعنی علمِ عروض کے جس رکن پر اس بحر
کی بنیاد رکھی گئی ہے، وہ رکن شعر کے شروع سے لے کر آخر تک بغیر کسی حرف کی کمی،
بیشی یا تبدیلی کے اپنی پوری شکل میں برقرار رہے۔ سالم بحر کے صوتی آہنگ میں
یکسانیت پائی جاتی ہے۔
مثال: بحرِ ہزج کا بنیادی رکن”مَفاعِیلُن“ ہے۔ اگر کسی غزل کے ہر مصرعے میں یہ رکن
چار بار بالکل اپنی اصل حالت میں آئے تو وہ ”بحرِ ہزج مثمن سالم“ کہلائے گی۔
وزن: مَفاعِیلُن / مَفاعِیلُن / مَفاعِیلُن / مَفاعِیلُن
شعری مثال: ؏ مجھے اب دیکھ کر روتے
ہیں سب ہم درد محفل میں اس مصرعے کی تقطیع: ←
مُجھے اَب دے (مُ +
جھے + اَب + دے) = مَفاعِیلُن کھ
کَر رو تے (کھ + کَر + رو + تے) = مَفاعِیلُن
ہِ سَب ہَم دَر (ہِ
+ سَب + ہَم + دَر) = مَفاعِیلُن دَ
مَح فِل میں (دَ + مَح + فِل + میں) = مَفاعِیلُن
(اس مصرعے
میں ”مفاعیلن“مکمل اور بغیر کسی تبدیلی کے چار بار آیا ہے)۔
2۔ بحرِ مزاحف:
مزاحف کا لفظ”زِحاف“سے نکلا ہے، جس
کے لغوی معنی ”اپنی جگہ سے ہٹنا“یا ”تبدیلی لانا“ ہیں۔ بحرِ مزاحف وہ بحر ہے جس
میں علمِ عروض کے مقررہ اصولوں (زحافات) کے تحت بنیادی ارکان میں کوئی جائز تبدیلی
کر دی جائے۔ اس تبدیلی میں کسی حرف کو گرا دینا (حذف کرنا)، کسی متحرک حرف کو ساکن کر دینا یا کوئی حرف بڑھا
دینا شامل ہے۔
ارکان
میں تبدیلی کے اس عمل کو عروض کی اصطلاح میں ”زحاف“کہتے
ہیں۔
مثال: بحرِ ہزج کا اصلی
رکن ”مَفاعِیلُن“ ہے۔ اگر ہم عروض کے
قاعدے (زحاف) کے تحت اس میں سے ”ی“ کو گرا دیں، تو یہ بدل کر ”مَفاعِلُن“رہ جاتا ہے۔ اب اگر
پوری بحر میں ”مفاعیلن“ کے بجائے یہ کٹا ہوا رکن استعمال ہو، تو وہ بحرِ مزاحف
(بحرِ ہزج مثمن مقبوض) کہلائے گی۔ نیا وزن: مَفاعِلُن / مَفاعِلُن / مَفاعِلُن / مَفاعِلُن
اگر
ہم عروض کے قاعدے (زحاف) کے تحت اس میں سے ”ی“کو گرا دیں، تو یہ بدل کر ”مَفاعِلُن“رہ جاتا ہے۔ (اس عمل
کو عروض کی زبان میں ”قبض“کہتے ہیں، اور بننے
والا نیا رکن ”مقبوض“کہلاتا ہے)۔
(زحاف کی تفصیل اگلی پوسٹ میں دی گئی ہے۔)

