‏فاصلہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏فاصلہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 12 اکتوبر، 2026

قواعد اردو-47: علم عروض-1

0 comments

علمِ عروض

علمِ عروض وہ علم ہے جس کے اصولوں اور قواعد کی مدد سے کسی کلام کا وزن پرکھا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ شعر موزوں (وزن میں) ہے یا ناموزوں (بے وزن)۔ یہ شاعری کا وہ ترازو ہے جس پر اشعار کو تولا جاتا ہے اور اس سے کلام کے شعر ہونے یا نہ ہونے کا تعین ہوتا ہے۔ مشہور عرب ماہرِ لسانیات خلیل بن احمد   الفراہیدی نے اشعار کے صوتی آہنگ پر غور کر کے اس کے قواعد مرتب کیے۔
علمِ عروض کی بنیاد مندرجہ ذیل کلیدی عناصر اور اصطلاحات پر کھڑی ہے:

1۔  متحرک اور ساکن حروف: عروض کی تمام تر عمارت حروف کی حرکت (زبر، زیر، پیش) اور سکون پر قائم ہے۔ جس حرف پر کوئی حرکت ہو اسے ”متحرک“ اور جس پر کوئی حرکت نہ ہو اسے ”ساکن“کہتے ہیں۔ علمِ عروض کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ اس میں الفاظ کی تحریر یا املا (Spelling) کے بجائے ان کے خالص تلفظ (آواز) کا اعتبار کیا جاتا ہے۔

2۔  ارکان (افاعیل):متحرک اور ساکن حروف کے مخصوص اور مقررہ مجموعوں کو ”رکن“(جمع: ارکان) کہا جاتا ہے۔ یہ شاعری کے اوزان ناپنے کے پیمانے یا باٹ ہیں۔ علمِ عروض میں 8 بنیادی ارکان ہیں جنہیں ”افاعیل“بھی کہا جاتا ہے:

1۔ فعولن (فَ۔عُو۔لُن)                                    2۔فاعلن (فَا۔عِ۔لُن)                                           3۔ مفاعیلن (مَ۔فَا۔عِی۔لُن)

4۔فاعلاتن (فَا۔عِ۔لَا۔تُن)                         5۔مستفعلن (مُس۔تَف۔عِ۔لُن)               6۔متفاعلن (مُ۔تَ۔فَا۔عِ۔لُن)

7۔ مفاعلتن (مُ۔فَا۔عَ۔لَ۔تُن)                  8۔ مفعولات (مَف۔عُو۔لَات)

3۔ اجزائے ترکیبی:اوپر دیے گئے ارکان (افاعیل) دراصل چھوٹی صوتی اکائیوں سے مل کر بنتے ہیں، جنہیں علمِ عروض میں تین بنیادی نام دیے گئے ہیں؛

(1)۔ سبب: دو حروف کا مجموعہ۔ اس کی دو قسمیں ہیں؛ سببِ خفیف (ایک متحرک، ایک ساکن جیسے”دِل“) اور سببِ ثقیل (دونوں متحرک جیسے ” لَبِ“)۔
(2)۔ وتد: تین حروف کا مجموعہ۔ اس کی بھی دو قسمیں ہیں؛ وتدِ مجموع (دو متحرک، ایک ساکن جیسے”'چَمَن“) اور وتدِ مفروق (پہلا متحرک، دوسرا ساکن، تیسرا متحرک جیسے ”رَازِ“)۔
(3)۔ فاصلہ: چار یا پانچ حروف کا ایسا مجموعہ جس کا صرف آخری حرف ساکن ہو اور باقی سب متحرک ہوں۔
                 
1۔ فاصلہ صغریٰ (چار حروف کا مجموعہ) :یہ چار حروف کا ایسا مجموعہ ہے جس کے پہلے تین حروف متحرک (زبر، زیر یا پیش
والے) ہوں اور چوتھا (آخری) حرف ساکن ہو۔
عروضی وزن (رکن کی مثال):
فَعَلَتْ (اس میں فَ، عَ، لَ متحرک ہیں اور آخری ”ت“ساکن ہے)۔
اردو لفظ کی مثال:
بَرَکَت(بَ (متحرک) + رَ (متحرک) + کَ (متحرک) + ت (ساکن)۔
                    2۔  فاصلہ کبریٰ (پانچ حروف کا مجموعہ): یہ پانچ حروف کا ایسا مجموعہ ہے جس کے پہلے چار حروف متحرک ہوں اور پانچواں (آخری) حرف ساکن ہو۔
عروضی وزن (رکن کی مثال):
فَعَلَتُنْ (اس میں فَ، عَ، لَ، تُ متحرک ہیں اور آخری”ن“ساکن ہے)۔
مثال:
چونکہ خالص اردو یا فارسی زبان کے مزاج میں لگاتار چار متحرک حروف والے الفاظ عموماً نہیں پائے جاتے، اس لیے کلاسیکی عروض کی تمام کتب میں اس کے لیے عربی لفظ ”سَمَکَتُن“ (ایک مچھلی) کی مستند مثال دی جاتی ہے۔
تفصیل:
سَ (متحرک) + مَ (متحرک) + کَ (متحرک) + تُ (متحرک) + ن (ساکن)۔
                                                                                                            3۔ فاصلہٴعظمیٰ(چھ حروف کا مجموعہ): روایتی اور کلاسیکی علمِ عروض میں فاصلے کی صرف دو اقسام (فاصلہ صغریٰ اور فاصلہ کبریٰ) بیان کی گئی ہیں۔ تاہم، اردو عروض کے نامور جدید محقق شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”عروض، آہنگ اور بیان“ میں اردو کے صوتی مزاج کے پیشِ نظر فاصلے کی ایک تیسری قسم”فاصلہ عظمیٰ“بھی بیان کی ہے۔
 یہ 6 حروف کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جس کے پہلے پانچ حروف لگاتار متحرک ہوتے ہیں اور چھٹا حرف ساکن ہوتا ہے۔  اگرچہ ایسا ایک لفظ اردو میں ہونا ممکن نہیں، مگر دو الفاظ کو ساتھ لاکر یہ ترکیب بنائی جا سکتی ہے۔ جیسے
ثَمَرِ شَجَر (یہاں پہلے پانچ حروف  متحرک ہیں اور آخری ساکن ہے۔)

4۔  بحر (Meter)

مخصوص ارکان کی ایک خاص ترتیب اور تکرار سے جو سانچہ تیار ہوتا ہے، اسے”بحر“کہتے ہیں۔ کلامِ موزوں کے لیے ضروری ہے کہ شعر کے دونوں مصرعے ایک ہی بحر میں ہوں۔ علمِ عروض  میں معروف بحور(بنیادی بحریں) کی تعداد 19 ہے۔  انھی بحروں سے مزید بحریں بنائی جاتی ہیں۔علمِ عروض کی معروف 19 بحور درج ذیل ہیں؛

1۔ بحرِ طویل                  2۔بحرِ مدید                                  3۔  بحرِ بسیط                      4۔ بحرِ وافر                         5۔ بحرِ کامل
6۔بحرِ ہزج                               7۔بحرِ رجز                                   8۔بحرِ رمل                    9۔بحرِ سریع                     10۔بحرِ منسرح
11۔ بحرِ خفیف               12۔ بحرِ مضارع                13۔ بحرِ مجتث       14۔بحرِ مقتضب              15۔بحرِ متقارب
16۔ بحرِ متدارک           17۔ بحرِ قریب                 18۔بحرِ جدید       19۔بحرِ مشاکل

تاریخی وضاحت: خلیل بن احمدالفراہیدی نے 15 بحور وضع کیں۔ان کے شاگرد اخفش (ابو الحسن اخفش) نے 16ویں بحر (متدارک) کا اضافہ کیا۔بعد ازاں فارسی عروض دانوں نے اپنی زبان کے مزاج کے مطابق 3 مزید بحور (قریب، جدید، مشاکل) وضع کیں، جس سے اردو/فارسی عروض میں کل تعداد 19 ہو گئی۔
نوٹ:
اگرچہ علمِ عروض کے اصولوں کے تحت بحور کی کل تعداد 19 ہے، لیکن اردو شاعری کے مزاج اور صوتی آہنگ کے لحاظ سے عملی طور پر ان میں سے صرف 9 یا 10 بحور ہی کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔
            خالص عربی مزاج کی بحور (طویل، مدید، بسیط، وافر، کامل) اردو میں نہ ہونے کے برابر استعمال ہوتی ہیں۔
            فارسی کی مخصوص بحور (قریب، جدید، مشاکل) اور مقتضب کا رواج بھی اردو میں شاذ و نادر ہے۔
            اردو کی بیشتر اور مقبول ترین شاعری بنیادی طور پر ہزج، رمل، رجز، متقارب، متدارک، مضارع، مجتث، خفیف اور             سریع کی مختلف شکلوں (زحافات) میں کی گئی ہے۔

 بحور کی بنیادی اقسام (بلحاظِ ارکان)

علمِ عروض کے تاریخی ارتقا کے نتیجے میں بنیادی بحور (بحورِ اصول) کی کل تعداد 19 مقرر کی گئی ہے۔ تاہم عملی شاعری میں ان 19 بحروں کے ارکان (افاعیل) کو ان کی بالکل اصلی حالت میں استعمال کرنے یا عروضی قواعد کے تحت ان میں تبدیلی لانے کی بنیاد پر، بحور کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

1۔ بحرِ سالم: وہ بحر جس میں بنیادی ارکان اپنی اصل شکل میں استعمال ہوں اور ان میں کوئی کٹاؤ یا کمی بیشی نہ ہو۔ یعنی علمِ عروض کے جس رکن پر اس بحر کی بنیاد رکھی گئی ہے، وہ رکن شعر کے شروع سے لے کر آخر تک بغیر کسی حرف کی کمی، بیشی یا تبدیلی کے اپنی پوری شکل میں برقرار رہے۔ سالم بحر کے صوتی آہنگ میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔
         
مثال: بحرِ ہزج کا بنیادی رکن”مَفاعِیلُن“ ہے۔ اگر کسی غزل کے ہر مصرعے میں یہ رکن چار بار بالکل اپنی اصل حالت میں آئے تو وہ ”بحرِ ہزج مثمن سالم“ کہلائے گی۔
         
وزن: مَفاعِیلُن / مَفاعِیلُن / مَفاعِیلُن / مَفاعِیلُن
شعری مثال:
؏    مجھے اب دیکھ کر روتے ہیں سب ہم درد محفل میں  اس مصرعے کی تقطیع:          ←
                        مُجھے اَب دے (مُ + جھے + اَب + دے) = مَفاعِیلُن                     کھ کَر رو تے (کھ + کَر + رو + تے) = مَفاعِیلُن
                        ہِ سَب ہَم دَر (ہِ + سَب + ہَم + دَر) = مَفاعِیلُن                            دَ مَح فِل میں (دَ + مَح + فِل + میں) = مَفاعِیلُن
 (اس مصرعے میں ”مفاعیلن“مکمل اور بغیر کسی تبدیلی کے چار بار آیا ہے)۔

2۔ بحرِ مزاحف:
 مزاحف کا لفظ”زِحاف“سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی ”اپنی جگہ سے ہٹنا“یا ”تبدیلی لانا“ ہیں۔ بحرِ مزاحف وہ بحر ہے جس میں علمِ عروض کے مقررہ اصولوں (زحافات) کے تحت بنیادی ارکان میں کوئی جائز تبدیلی کر دی جائے۔ اس تبدیلی میں کسی حرف کو گرا دینا (حذف کرنا)،  کسی متحرک حرف کو ساکن کر دینا یا کوئی حرف بڑھا دینا شامل ہے۔

ارکان میں تبدیلی کے اس عمل کو عروض کی اصطلاح میں ”زحاف“کہتے ہیں۔

            مثال:  بحرِ ہزج کا اصلی رکن ”مَفاعِیلُن“ ہے۔ اگر ہم عروض کے قاعدے (زحاف) کے تحت اس میں سے ”ی“ کو گرا دیں، تو یہ بدل کر ”مَفاعِلُن“رہ جاتا ہے۔ اب اگر پوری بحر میں ”مفاعیلن“ کے بجائے یہ کٹا ہوا رکن استعمال ہو، تو وہ بحرِ مزاحف (بحرِ ہزج مثمن مقبوض) کہلائے گی۔     نیا وزن:  مَفاعِلُن / مَفاعِلُن / مَفاعِلُن / مَفاعِلُن
اگر ہم عروض کے قاعدے (زحاف) کے تحت اس میں سے ”ی“کو گرا دیں، تو یہ بدل کر ”مَفاعِلُن“رہ جاتا ہے۔   (اس عمل کو عروض کی زبان میں ”قبض“کہتے ہیں، اور بننے والا نیا رکن ”مقبوض“کہلاتا ہے)۔

(زحاف  کی تفصیل اگلی پوسٹ میں دی گئی ہے۔)


بلاگ

موضوعات

اردو (50) urdu (38) قواعد (37) urdu grammar (32) صرف و نحو (19) صرف (18) گرامر (17) grammar (16) نحو (10) اصطلاحاتِ زبان (9) ترکیب نحوی (9) اسم (8) زبان (7) علم بیان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) شاعری (4) علمِ بلاغت (4) فعل (4) نظم (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) الفاظ (3) بلاغت و فصاحت (3) بلیغ (3) تخلص (3) علم (3) علم بدیع (3) علم عروض (3) علم معانی (3) فصاحت (3) فصیح (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) انشائیہ (2) بحر (2) بحر مزاحف (2) بدیع (2) بلاغت (2) بلیغ و فصیح (2) بیان (2) تانیث (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حذف (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) ردیف (2) روزمرہ (2) زحاف (2) سابقہ (2) سابقے (2) ساکن (2) شعر (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم قافیہ (2) علم قوافی (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) قافیہ (2) قبض (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) متحرک (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) محذوف (2) مذکر (2) مرجع (2) مصرع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نثر (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) u (1) ، صرف (1) آراء (1) آزاد نظم، نثری نظم (1) آشوب شہر (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آپ بیتی (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استعارہ (1) استعارہ بالتصریح (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحات (1) اصطلاحی (1) اصناف (1) اصناف نظم (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) افسانوی نثر (1) افسانہ (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انکاری (1) ایجاب (1) ایہام (1) بالکنایہ (1) بحر سالم (1) بحر ہزج (1) بدائع (1) بدایع (1) بند (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تبصرہ (1) تثنیہ (1) تحقیق (1) تخصیص (1) تذکرہ (1) ترائیلے (1) ترتیبی (1) ترجیع بند (1) ترک (1) ترکیب بند (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشبیہ،کنایہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تقطیع (1) تلمیح (1) تمنائی (1) تنسیق (1) تنقید (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) ثلاثی (1) جار (1) جدید (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حرف تاسیس (1) حرف دخیل (1) حرف ردف (1) حرف روی (1) حرف قید (1) حرف مزید (1) حرف نائرہ (1) حرف وصل، حرف خروج (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حسن تعلیل (1) حسن مطلع (1) حصر (1) حمد (1) خاکہ (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) خفیف (1) داستان (1) دال (1) دال اور مدلول (1) درجات صفت (1) دلالت (1) دلالت التزامی (1) دلالت تضمنی (1) دلالت حقیقی (1) دلالت ضمنی (1) دوہا (1) ذومعنی (1) رائے (1) رباعی (1) ربط (1) رجز (1) رمل (1) رموز اوقاف (1) رنگین نثر (1) روزنامچہ (1) رپورتاژ (1) ریختی (1) زبر (1) زمین (1) زیر (1) سالم (1) سانیٹ (1) سبب (1) سخن (1) سریع (1) سفر نامہ (1) سلام (1) سوانح عمری (1) سکتہ (1) سکون (1) شاعری، بیت، شعر (1) شاہ بیت (1) شخصی (1) شرط (1) شعری (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صنائع (1) صنائع لفظی (1) صنائع معنوی (1) صنعت (1) صنعت تضاد (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عروض (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علم بلاغت کی شاخیں (1) عَلم (1) غزل (1) غیر افسانوی نثر (1) فاصلہ (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قدح (1) قسم (1) قصر (1) قصہ (1) قصیدہ (1) قطعہ (1) قمری (1) قو (1) لغوی (1) لف و نشر (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) ماہیا (1) مبالغہ (1) مبتدا (1) متدارک (1) متروک (1) متروک الفاظ (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) متقارب (1) مثبت (1) مثمن (1) مثنوی (1) مجاز (1) مجاز مرسل (1) مجازی (1) مجتث (1) مجروری (1) محاورہ (1) مخمس (1) مد (1) مدلول (1) مذکر سالم (1) مراعاۃ النظیر (1) مرثیہ (1) مرصع (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مزاحف (1) مستزاد، ہائیکو (1) مستقبل (1) مسجع (1) مسدس (1) مسمط (1) مشار (1) مصدر (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مضمون (1) مطابقت (1) مطلع (1) مطلق (1) معانی (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقبوض (1) مقداری (1) مقصور (1) مقصورہ (1) مقطع (1) ممدوہ (1) مناجات (1) منفی (1) منقبت (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکتوب نگاری (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ناول (1) ناولٹ (1) نثر عاری (1) نثر مرجز (1) نثر مرسل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نظم جدید، پابند نظم (1) نظم معرا (1) نعت (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) واسوخت (1) وتد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) ڈراما (1) کافی (1) کالم (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) گیت (1) ہجا (1) ہجو (1) ہزل (1) یادداشت (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *