‏بحر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بحر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 12 اکتوبر، 2026

قواعد اردو-47: علم عروض-1

0 comments

علمِ عروض

علمِ عروض وہ علم ہے جس کے اصولوں اور قواعد کی مدد سے کسی کلام کا وزن پرکھا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ شعر موزوں (وزن میں) ہے یا ناموزوں (بے وزن)۔ یہ شاعری کا وہ ترازو ہے جس پر اشعار کو تولا جاتا ہے اور اس سے کلام کے شعر ہونے یا نہ ہونے کا تعین ہوتا ہے۔ مشہور عرب ماہرِ لسانیات خلیل بن احمد   الفراہیدی نے اشعار کے صوتی آہنگ پر غور کر کے اس کے قواعد مرتب کیے۔
علمِ عروض کی بنیاد مندرجہ ذیل کلیدی عناصر اور اصطلاحات پر کھڑی ہے:

1۔  متحرک اور ساکن حروف: عروض کی تمام تر عمارت حروف کی حرکت (زبر، زیر، پیش) اور سکون پر قائم ہے۔ جس حرف پر کوئی حرکت ہو اسے ”متحرک“ اور جس پر کوئی حرکت نہ ہو اسے ”ساکن“کہتے ہیں۔ علمِ عروض کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ اس میں الفاظ کی تحریر یا املا (Spelling) کے بجائے ان کے خالص تلفظ (آواز) کا اعتبار کیا جاتا ہے۔

2۔  ارکان (افاعیل):متحرک اور ساکن حروف کے مخصوص اور مقررہ مجموعوں کو ”رکن“(جمع: ارکان) کہا جاتا ہے۔ یہ شاعری کے اوزان ناپنے کے پیمانے یا باٹ ہیں۔ علمِ عروض میں 8 بنیادی ارکان ہیں جنہیں ”افاعیل“بھی کہا جاتا ہے:

1۔ فعولن (فَ۔عُو۔لُن)                                    2۔فاعلن (فَا۔عِ۔لُن)                                           3۔ مفاعیلن (مَ۔فَا۔عِی۔لُن)

4۔فاعلاتن (فَا۔عِ۔لَا۔تُن)                         5۔مستفعلن (مُس۔تَف۔عِ۔لُن)               6۔متفاعلن (مُ۔تَ۔فَا۔عِ۔لُن)

7۔ مفاعلتن (مُ۔فَا۔عَ۔لَ۔تُن)                  8۔ مفعولات (مَف۔عُو۔لَات)

3۔ اجزائے ترکیبی:اوپر دیے گئے ارکان (افاعیل) دراصل چھوٹی صوتی اکائیوں سے مل کر بنتے ہیں، جنہیں علمِ عروض میں تین بنیادی نام دیے گئے ہیں؛

(1)۔ سبب: دو حروف کا مجموعہ۔ اس کی دو قسمیں ہیں؛ سببِ خفیف (ایک متحرک، ایک ساکن جیسے”دِل“) اور سببِ ثقیل (دونوں متحرک جیسے ” لَبِ“)۔
(2)۔ وتد: تین حروف کا مجموعہ۔ اس کی بھی دو قسمیں ہیں؛ وتدِ مجموع (دو متحرک، ایک ساکن جیسے”'چَمَن“) اور وتدِ مفروق (پہلا متحرک، دوسرا ساکن، تیسرا متحرک جیسے ”رَازِ“)۔
(3)۔ فاصلہ: چار یا پانچ حروف کا ایسا مجموعہ جس کا صرف آخری حرف ساکن ہو اور باقی سب متحرک ہوں۔
                 
1۔ فاصلہ صغریٰ (چار حروف کا مجموعہ) :یہ چار حروف کا ایسا مجموعہ ہے جس کے پہلے تین حروف متحرک (زبر، زیر یا پیش
والے) ہوں اور چوتھا (آخری) حرف ساکن ہو۔
عروضی وزن (رکن کی مثال):
فَعَلَتْ (اس میں فَ، عَ، لَ متحرک ہیں اور آخری ”ت“ساکن ہے)۔
اردو لفظ کی مثال:
بَرَکَت(بَ (متحرک) + رَ (متحرک) + کَ (متحرک) + ت (ساکن)۔
                    2۔  فاصلہ کبریٰ (پانچ حروف کا مجموعہ): یہ پانچ حروف کا ایسا مجموعہ ہے جس کے پہلے چار حروف متحرک ہوں اور پانچواں (آخری) حرف ساکن ہو۔
عروضی وزن (رکن کی مثال):
فَعَلَتُنْ (اس میں فَ، عَ، لَ، تُ متحرک ہیں اور آخری”ن“ساکن ہے)۔
مثال:
چونکہ خالص اردو یا فارسی زبان کے مزاج میں لگاتار چار متحرک حروف والے الفاظ عموماً نہیں پائے جاتے، اس لیے کلاسیکی عروض کی تمام کتب میں اس کے لیے عربی لفظ ”سَمَکَتُن“ (ایک مچھلی) کی مستند مثال دی جاتی ہے۔
تفصیل:
سَ (متحرک) + مَ (متحرک) + کَ (متحرک) + تُ (متحرک) + ن (ساکن)۔
                                                                                                            3۔ فاصلہٴعظمیٰ(چھ حروف کا مجموعہ): روایتی اور کلاسیکی علمِ عروض میں فاصلے کی صرف دو اقسام (فاصلہ صغریٰ اور فاصلہ کبریٰ) بیان کی گئی ہیں۔ تاہم، اردو عروض کے نامور جدید محقق شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”عروض، آہنگ اور بیان“ میں اردو کے صوتی مزاج کے پیشِ نظر فاصلے کی ایک تیسری قسم”فاصلہ عظمیٰ“بھی بیان کی ہے۔
 یہ 6 حروف کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جس کے پہلے پانچ حروف لگاتار متحرک ہوتے ہیں اور چھٹا حرف ساکن ہوتا ہے۔  اگرچہ ایسا ایک لفظ اردو میں ہونا ممکن نہیں، مگر دو الفاظ کو ساتھ لاکر یہ ترکیب بنائی جا سکتی ہے۔ جیسے
ثَمَرِ شَجَر (یہاں پہلے پانچ حروف  متحرک ہیں اور آخری ساکن ہے۔)

4۔  بحر (Meter)

مخصوص ارکان کی ایک خاص ترتیب اور تکرار سے جو سانچہ تیار ہوتا ہے، اسے”بحر“کہتے ہیں۔ کلامِ موزوں کے لیے ضروری ہے کہ شعر کے دونوں مصرعے ایک ہی بحر میں ہوں۔ علمِ عروض  میں معروف بحور(بنیادی بحریں) کی تعداد 19 ہے۔  انھی بحروں سے مزید بحریں بنائی جاتی ہیں۔علمِ عروض کی معروف 19 بحور درج ذیل ہیں؛

1۔ بحرِ طویل                  2۔بحرِ مدید                                  3۔  بحرِ بسیط                      4۔ بحرِ وافر                         5۔ بحرِ کامل
6۔بحرِ ہزج                               7۔بحرِ رجز                                   8۔بحرِ رمل                    9۔بحرِ سریع                     10۔بحرِ منسرح
11۔ بحرِ خفیف               12۔ بحرِ مضارع                13۔ بحرِ مجتث       14۔بحرِ مقتضب              15۔بحرِ متقارب
16۔ بحرِ متدارک           17۔ بحرِ قریب                 18۔بحرِ جدید       19۔بحرِ مشاکل

تاریخی وضاحت: خلیل بن احمدالفراہیدی نے 15 بحور وضع کیں۔ان کے شاگرد اخفش (ابو الحسن اخفش) نے 16ویں بحر (متدارک) کا اضافہ کیا۔بعد ازاں فارسی عروض دانوں نے اپنی زبان کے مزاج کے مطابق 3 مزید بحور (قریب، جدید، مشاکل) وضع کیں، جس سے اردو/فارسی عروض میں کل تعداد 19 ہو گئی۔
نوٹ:
اگرچہ علمِ عروض کے اصولوں کے تحت بحور کی کل تعداد 19 ہے، لیکن اردو شاعری کے مزاج اور صوتی آہنگ کے لحاظ سے عملی طور پر ان میں سے صرف 9 یا 10 بحور ہی کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔
            خالص عربی مزاج کی بحور (طویل، مدید، بسیط، وافر، کامل) اردو میں نہ ہونے کے برابر استعمال ہوتی ہیں۔
            فارسی کی مخصوص بحور (قریب، جدید، مشاکل) اور مقتضب کا رواج بھی اردو میں شاذ و نادر ہے۔
            اردو کی بیشتر اور مقبول ترین شاعری بنیادی طور پر ہزج، رمل، رجز، متقارب، متدارک، مضارع، مجتث، خفیف اور             سریع کی مختلف شکلوں (زحافات) میں کی گئی ہے۔

 بحور کی بنیادی اقسام (بلحاظِ ارکان)

علمِ عروض کے تاریخی ارتقا کے نتیجے میں بنیادی بحور (بحورِ اصول) کی کل تعداد 19 مقرر کی گئی ہے۔ تاہم عملی شاعری میں ان 19 بحروں کے ارکان (افاعیل) کو ان کی بالکل اصلی حالت میں استعمال کرنے یا عروضی قواعد کے تحت ان میں تبدیلی لانے کی بنیاد پر، بحور کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

1۔ بحرِ سالم: وہ بحر جس میں بنیادی ارکان اپنی اصل شکل میں استعمال ہوں اور ان میں کوئی کٹاؤ یا کمی بیشی نہ ہو۔ یعنی علمِ عروض کے جس رکن پر اس بحر کی بنیاد رکھی گئی ہے، وہ رکن شعر کے شروع سے لے کر آخر تک بغیر کسی حرف کی کمی، بیشی یا تبدیلی کے اپنی پوری شکل میں برقرار رہے۔ سالم بحر کے صوتی آہنگ میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔
         
مثال: بحرِ ہزج کا بنیادی رکن”مَفاعِیلُن“ ہے۔ اگر کسی غزل کے ہر مصرعے میں یہ رکن چار بار بالکل اپنی اصل حالت میں آئے تو وہ ”بحرِ ہزج مثمن سالم“ کہلائے گی۔
         
وزن: مَفاعِیلُن / مَفاعِیلُن / مَفاعِیلُن / مَفاعِیلُن
شعری مثال:
؏    مجھے اب دیکھ کر روتے ہیں سب ہم درد محفل میں  اس مصرعے کی تقطیع:          ←
                        مُجھے اَب دے (مُ + جھے + اَب + دے) = مَفاعِیلُن                     کھ کَر رو تے (کھ + کَر + رو + تے) = مَفاعِیلُن
                        ہِ سَب ہَم دَر (ہِ + سَب + ہَم + دَر) = مَفاعِیلُن                            دَ مَح فِل میں (دَ + مَح + فِل + میں) = مَفاعِیلُن
 (اس مصرعے میں ”مفاعیلن“مکمل اور بغیر کسی تبدیلی کے چار بار آیا ہے)۔

2۔ بحرِ مزاحف:
 مزاحف کا لفظ”زِحاف“سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی ”اپنی جگہ سے ہٹنا“یا ”تبدیلی لانا“ ہیں۔ بحرِ مزاحف وہ بحر ہے جس میں علمِ عروض کے مقررہ اصولوں (زحافات) کے تحت بنیادی ارکان میں کوئی جائز تبدیلی کر دی جائے۔ اس تبدیلی میں کسی حرف کو گرا دینا (حذف کرنا)،  کسی متحرک حرف کو ساکن کر دینا یا کوئی حرف بڑھا دینا شامل ہے۔

ارکان میں تبدیلی کے اس عمل کو عروض کی اصطلاح میں ”زحاف“کہتے ہیں۔

            مثال:  بحرِ ہزج کا اصلی رکن ”مَفاعِیلُن“ ہے۔ اگر ہم عروض کے قاعدے (زحاف) کے تحت اس میں سے ”ی“ کو گرا دیں، تو یہ بدل کر ”مَفاعِلُن“رہ جاتا ہے۔ اب اگر پوری بحر میں ”مفاعیلن“ کے بجائے یہ کٹا ہوا رکن استعمال ہو، تو وہ بحرِ مزاحف (بحرِ ہزج مثمن مقبوض) کہلائے گی۔     نیا وزن:  مَفاعِلُن / مَفاعِلُن / مَفاعِلُن / مَفاعِلُن
اگر ہم عروض کے قاعدے (زحاف) کے تحت اس میں سے ”ی“کو گرا دیں، تو یہ بدل کر ”مَفاعِلُن“رہ جاتا ہے۔   (اس عمل کو عروض کی زبان میں ”قبض“کہتے ہیں، اور بننے والا نیا رکن ”مقبوض“کہلاتا ہے)۔

(زحاف  کی تفصیل اگلی پوسٹ میں دی گئی ہے۔)


قواعد اردو-46: شعری اصطلاحات

0 comments

چند شعری اصطلاحات

شعر فہمی کے لیے شعری، عروضی اور تنقیدی اصطلاحات سے واقفیت ضروری ہے۔ ان اصطلاحات کی مدد سے شعر کی ساخت، وزن، آہنگ، فنی محاسن اور معنوی خصوصیات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

1۔ مصرع(مصرعہ): شعر کی ایک سطر کو مصرع کہتے ہیں۔ لغوی اعتبار سے اس کے معنی دروازے کا ”ایک پٹ یا کواڑ “ ہیں۔کتابت/عبارت میں مصرع  کی نشاندہی کے لیے عموماً  علامت ” ؏“  استعمال کی جاتی ہے۔
مثال:
              ؏        ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے       (غاؔلب)

2۔ مصرع طرح: وہ مصرع جو کسی طرحی مشاعرے میں شعرا کو اس پابندی کے ساتھ دیا جائے کہ وہ اسی بحر اور مقررہ قافیے یا ردیف کی رعایت سے شعر یا غزل کہیں، مصرعِ طرح / طرحی مصرع کہلاتا ہے۔
3۔ شعر(بیت): دو مصرعوں کے مجموعے کو شعر(بیت) کہتے ہیں۔ شعر عموماً ایک مکمل خیال یا کیفیت پیش کرتا ہے، تاہم بعض اوقات اس کا مفہوم دوسرے اشعار سے مل کر واضح ہوتا ہے۔ شعر کا وزن مقررہ بحر کے عروضی اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ کتابت /عبارت میں شعر آئے تو اس علامت ”                       ؎                       “ سے ظاہر کرتے ہیں۔
مثال:
    ؎           ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے      بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
4۔ ردیف:
لغوی معنی ”گھڑ سوار کے پیچھے بیٹھنے والے“کے ہیں۔ غزل میں قافیے کے بعد ہر متعلقہ مصرعے کے آخر میں بعینہٖ دہرائے جانے والے لفظ یا الفاظ کے مجموعے کو ردیف کہتے ہیں۔
مثال:                                                                                                                    
                ؎           ابنِ مریم ہوا کرے کوئی                                                                                                                                                                              میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
اس شعر میں الفاظ "
کرے کوئی" ردیف ہے۔
5۔ قافیہ:
لغوی معنی ”پیچھے آنے والے“ کے ہیں۔ غزل میں ردیف سے پہلے آنے والے ہم آہنگ الفاظ کو قافیہ کہتے ہیں۔ ان الفاظ میں مخصوص صوتی ہم آہنگی ہوتی ہے، اگرچہ ان کے معنی اور املا مختلف ہو سکتے ہیں۔
مثال:                ؎           ابنِ مریم ہوا کرے کوئی                   میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
اس شعر میں ”
ہوا“ اور”دوا“ قافیہ ہیں۔
6۔ مطلع:
لغوی معنی “طلوع ہونے کی جگہ“ہے۔ ۔ غزل یا قصیدے کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں۔ اس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور  اگر موجود ہوتو ردیف کی پابندی ہوتی ہے۔
مثال:                ؎           دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے                   آخر اس درد کی دوا کیا ہے

غالب کی غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ و ردیف موجود ہے۔

7۔ مطلعِ ثانی: غزل یا قصیدے میں پہلے مطلع کے بعد آنے والا ایسا شعر جس کے دونوں مصرعے مطلع کی قافیہ بندی اور ردیف کی شرائط پوری کریں، مطلعِ ثانی کہلاتا ہے۔

8۔حسنِ مطلع(زیبِ مطلع): غزل یا قصیدے کے مطلع کے بعد آنے والے ایسے شعر کو حسنِ مطلع یا  زیبِ مطلع کہا جاتا ہے جس کے دونوں مصرعے مطلع کی طرح ہم قافیہ ہوں اور جو اپنی فنی خوبی، حسنِ بیان یا مضمون کے اعتبار سے نمایاں ہو۔
             ؎           دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے                   آخر اس درد کی دوا کیا ہے
                        ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار                  یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

مذکورہ بالا مطلع کے فوراً بعد غالب ہی کی غزل کا دوسرا شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہے، یہ حسنِ مطلع  ہے۔
وضاحت: نصابی سطح پر عموماً ”حسنِ مطلع“اور ”مطلعِ ثانی“کو ایک ہی معنی میں پڑھایا جاتا ہے، تاہم باریک علمی فرق یہ ہے کہ غزل کا دوسرا مطلع ”مطلعِ ثانی“ کہلاتا ہے، اور اگر وہ خوبصورتی میں پہلے مطلع سے بڑھ کر ہو، تب اسے ”حسنِ مطلع“ کہا جا سکتا ہے۔ بعض مآخذ میں حسنِ مطلع اور مطلعِ ثانی ایک ہی مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں۔
9۔ مطلعِ ثالث: غزل یا قصیدے میں اگر پہلے اور دوسرے مطلع کے بعد ایک تیسرا شعر بھی مطلع کی شرائط پوری کرے تو اسے مطلعِ ثالث کہتے ہیں۔ کلاسیکی شعرا (جیسے ذوقؔ، مومنؔ اور غالبؔ) کے ہاں ایک ہی غزل میں کئی مطلعے لانے کا رواج عام تھا۔
10۔ مطلعِ رابع : غزل یا قصیدے میں چوتھے مطلع کو مطلعِ رابع کہتے ہیں۔ اس اصطلاح کا اطلاق اسی وقت ہوگا جب کلام میں چار مطلعے موجود ہوں۔
 11۔ذو مطلعین (یا غزلِ ذو مطلعین):  ذومطلعین سے مراد ایسی غزل ہے جس میں دو مطلعے ہوں۔ اگر کسی غزل میں دو سے زیادہ مطلعے ہوں تو ان کی تعداد کے لحاظ سے مطلعِ ثالث، مطلعِ رابع وغیرہ کی اصطلاحات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر کسی غزل میں دو سے زیادہ مطلعے ہوں تو عروضی اصطلاح میں اسے
”متعدد المطالع“ غزل کہتے ہیں۔
12۔ مقطع:
لغوی معنی ”کٹنے کی جگہ یا ختم کرنے“کے ہیں۔ غزل یا قصیدے کا وہ آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص (قلمی نام) استعمال کرتا ہے۔ اگر آخری شعر میں تخلص نہ ہو تو وہ مقطع نہیں محض آخری شعر کہلائے گا۔
            ؎
           کیوں سنے عرضِ مضطرب اے مومنؔ              صنم آخر خدا نہیں ہوتا
13۔ حُسنِ مقطع:
مقطع میں شاعر اپنے تخلص کو اس خوبی، برجستگی اور معنوی مناسبت سے استعمال کرے کہ وہ شعر کے مضمون میں فطری طور پر گھل مل جائے اور شعر کی تاثیر میں اضافہ کرے تو اسے  ”حسنِ مقطع“کہتے ہیں۔
مثال:    ؎           عمر تو ساری کٹی عشقِ بتاں میں مومنؔ                 آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
اس شعر میں تخلص
’’مومنؔ‘‘ مضمون کے ساتھ ایک معنی خیز مناسبت پیدا کرتا ہے۔

14۔ شاہ بیت: کسی غزل، قصیدے یا نظم کا وہ شعر جو حسنِ بیان، ندرتِ خیال، فنی خوبی یا معنوی تاثیر کے اعتبار سے نمایاں اور قابلِ توجہ ہو۔ اسے کلام کا ممتاز شعر کہا جا سکتا ہے۔
15۔ شاہ بیت (بیت الغزل): غزل کا وہ شعر جو حسنِ بیان، دل کشی، مضمون کی ندرت یا جذباتی تاثیر کے اعتبار سے پوری غزل میں خاص امتیاز رکھتا ہو اور غزل کی جان سمجھا جائے۔
                       
            ؎           تم مرے پاس ہوتے ہو گویا               جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

اہم اصطلاحی وضاحت: بعض اہلِ ادب شاہ بیت اور بیت الغزل کو قریب المعنی یا مترادف اصطلاحات کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔

16۔ تخلّص : شاعر کے اختیار کردہ ادبی یا قلمی نام کو تخلص کہتے ہیں۔ شاعر اسے بالخصوص مقطع میں استعمال کرتا ہے، تاہم تخلص دوسرے اشعار میں بھی آ سکتا ہے۔جیسے؛ میرؔ، داغؔ، دردؔ، غالبؔ۔
           
؎           ہیں اور بھی دنیا میں سخن وربہت اچھے    کہتے ہیں کہ غالؔب کا ہے اندازِ بیاں اور
17۔ بند:
نظم کا ایسا حصہ جو مخصوص تعداد میں مصرعوں پر مشتمل ہو، بند کہلاتا ہے۔ بند میں مصرعوں کی تعداد نظم کی ہیئت کے مطابق ہوتی ہے۔
مثال: مسدس(چھ مصرعے)، مخمس( پانچ مصرعے)  ان نظموں کا ہر صوتی پارہ ایک بند کہلاتا ہے۔
18۔ بحر : شعر کے وزن کا مقررہ عروضی سانچہ بحر کہلاتا ہے۔ بحر مخصوص ارکان اور ہجاؤں کی ترتیب سے تشکیل پاتی ہے۔ بحور، بحر کی جمع ہے۔
مثال:  بحر کا نام:
بحرِ ہزج مثمن سالم               بحر کے ارکان: مفاعیلن / مفاعیلن / مفاعیلن / مفاعیلن اس بحرمیں کہا گیا شعر؛ 
         
            ؎
           نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں                                    اقباؔل
19۔وزن:
شعر کے الفاظ اور ہجاؤں کی صوتی ترتیب کا کسی مخصوص بحر کے عروضی سانچے کے مطابق ہونا وزن کہلاتا ہے۔ جو شعر مقررہ بحر کے مطابق ہو وہ موزوں اور جو اس بحر کے مطابق نہ ہو وہ اس بحر کے لحاظ سے ناموزوں یا خارج از وزن کہلاتا ہے۔
  موزوں (وزن میں):                      دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے                   (یہ بحر کے پیمانے پر پورا اترتا ہے)
ناموزوں (خارج از وزن):    اے میرے نادان دل تجھے کیا ہو گیا ہے
مفہوم وہی
ہے، لیکن الفاظ کا وزن اور حرکات بحر کے سانچے سے ہٹ گئی ہیں، اس لیے یہ بے وزن ہے۔
20۔ ارکان: بحر کے وہ مخصوص عروضی اجزا جن کی تکرار یا ترکیب سے شعر کا وزن تشکیل پاتا ہے، ارکان کہلاتے ہیں۔
مثلاً
: فعولن، مفاعیلن، فاعلاتن، مستفعلن۔
21۔ زحاف:علمِ عروض میں بعض ارکان کے مخصوص مقامات پر مقررہ اصولوں کے تحت آنے والی تبدیلی کو زحاف کہتے ہیں۔ زحاف کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں اور ان کا تعلق بحر اور رکن کی ساخت سے ہوتا ہے۔
22۔فرد: ایسا اکیلا شعر جو کسی غزل یا نظم کا حصہ نہ ہو، بلکہ ایک مستقل اور جداگانہ شعر کے طور پر کہا گیا ہو۔
مثال:    ؎           ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام                        وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا                  اکبر الہ آبادیؔ
23۔ گِرہ لگانا: کسی شاعر کے دیے ہوئے مصرعے( بالخصوص مصرعِ طرح ) کو کسی اور شاعر کی طرف سے ایک نئے مصرعے کے ساتھ اس طرح ملانا کہ دونوں مل کر ایک مکمل، بامعنی اور موزوں شعر بن جائیں، ”گِرہ لگانا“ کہلاتا ہے۔
24
۔ زمین:غزل کے لیے اختیار کردہ بحر، قافیے اور ردیف کی مخصوص ترتیب کو زمین کہتے ہیں۔ زمین غزل کی صوتی اور ہیئتی پابندیوں کا تعین کرتی ہے۔
25۔ آمد:
آمد کے لغوی معنی”آنا“ یا” نزول ہونا“ کے ہیں۔ جب کسی شاعر کے ذہن میں خیالات، مضامین، الفاظ اور قافیے بغیر کسی شعوری کوشش یا ذہنی دباؤ کے خود بخود اور فطری روانی کے ساتھ آتے چلے جائیں، تو اس کیفیت کو ”آمد“کہتے ہیں۔ یہ وہ حالت ہے جب شعر شاعر پر  ”اترتا“ ہے۔
شعری خصوصیات:
آمد کے تحت کہے گئے کلام میں بے ساختگی، روانی، سادگی، اور گہری اثر انگیزی ہوتی ہے۔ اس میں شاعر کو وزن پورا کرنے یا قافیہ بٹھانے کے لیے لغت نہیں چھاننی پڑتی، بلکہ جذبہ اپنے لیے مناسب الفاظ خود تراش لیتا ہے۔( تاہم آمد سے پیدا ہونے والا ہر شعر لازماً اعلیٰ درجے کا نہیں ہوتا۔)
26۔ آورد:
آوردکے لغوی معنی
”لانا“یا”کھینچ کر لانا“کے ہیں۔ آورد سے مراد شعوری کوشش، غوروفکر اور فنی محنت کے ذریعے شعر کی تشکیل، اصلاح اور تہذیب ہے۔ اس میں شاعر الفاظ، قافیے، وزن، بندش اور مضمون کو بار بار پرکھ کر بہتر بناتا ہے۔یہ وہ حالت ہے جب شاعر شعوری طور پر   شعر ”بناتا“ ہے۔
شعری خصوصیات: آورد کے نتیجے میں شعر میں فنی پختگی، چست بندش اور معنوی گہرائی پیدا ہو سکتی ہے۔ کبھی کبھی آورد کے کلام میں تکلف، بناوٹ اور ثقالت (بھاری پن) محسوس  کی جاسکتی ہے۔

تنقیدی نکتہ: آمد اور آورد

ادبی تنقید میں آمد اور آورد شعر کہنے کی دو مختلف کیفیات کی نشان دہی کرتے ہیں۔ آمد میں خیال اور شعر کا بے ساختہ اور فطری طور پر وارد ہونا نمایاں ہوتا ہے، جب کہ آورد میں شعوری کوشش، غوروفکر اور فنی محنت کے ذریعے شعر کی تشکیل و تہذیب کی جاتی ہے۔بعض ناقدین آمد کو بے ساختگی کی وجہ سے ترجیح دیتے ہیں، لیکن آورد کو لازماً کم تر یا مصنوعی قرار دینا درست نہیں۔ ایک کامیاب شعر میں جذبے کی بے ساختگی اور فن کی محنت دونوں جمع ہو سکتی ہیں۔

شعر کی قدر و قیمت کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ آمد کا نتیجہ ہے یا آورد کا، بلکہ اس کے خیال، زبان، بندش، آہنگ اور مجموعی فنی تاثیر کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔کیونکہ ، ماہرینِ فن یہ بھی مانتے ہیں کہ ایک عظیم شاعر کا کلام عموماً ان دونوں کا حسین امتزاج ہوتا ہے؛ یعنی بنیادی خیال اور جذبہ ”آمد“کے طور پر اترتا ہے، اور پھر شاعر اپنے عروضی فن اور ہنر ”آورد“کے ذریعے اسے تراش کر ایک مکمل اور بے عیب شعر کی شکل دیتا ہے۔

27۔ توارد:جب دو یا زیادہ شعرا کے ہاں کسی دوسرے کے کلام کی نقل کے بغیر اتفاقاً ایک جیسا یا ملتا جلتا خیال، مصرع یا شعر پیدا ہو جائے تو اسے”توارد“  کہتے ہیں۔

توارد اور سرقے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ توارد اتفاقی مماثلت ہے، جب کہ سرقے میں دوسرے کے کلام کو (قصداً)بلااعتراف اپنے نام سے پیش کرنے کا عنصر شامل ہوتا ہے۔
28۔ تعقید: کلام میں الفاظ، تراکیب یا معانی کی ایسی پیچیدگی پیدا ہو جائے کہ مقصود سمجھنے میں دشواری پیش آئے تو اسے 
”تعقید“ کہتے ہیں۔

تعقید کی دو معروف صورتیں ہیں:
                        تعقیدِ لفظی: الفاظ کی ایسی پیچیدہ یا ناموزوں ترتیب جس سے مفہوم سمجھنا دشوار ہو۔         
                        تعقیدِ معنوی
: معنی کے ربط یا مراد کی ایسی پیچیدگی جس سے مقصود تک پہنچنے میں دشواری ہو۔
29۔ بندش:شعر میں الفاظ، تراکیب اور خیال کی موزوں، مربوط اور مؤثر ترتیب کو
”بندش“ کہتے ہیں۔ اچھی بندش میں الفاظ اپنی جگہ مناسب محسوس ہوتے ہیں اور شعر میں چستی، روانی اور فنی استحکام پیدا کرتے ہیں۔

مثلاً کہا جاتا ہے کہ فلاں شاعر کی بندش بہت چست ہے۔
30۔ سلاست:کلام کا زبان و بیان کے اعتبار سے رواں، فطری اور آسانی سے ادا یا سمجھا جا سکنا سلاست
“ کہلاتا ہے۔

سلیس کلام میں الفاظ کا بہاؤ فطری ہوتا ہے اور غیر ضروری پیچیدگی یا ثقالت کم ہوتی ہے۔
31۔ تنافر:کلام میں ایسے حروف یا الفاظ کا اجتماع جس سے تلفظ دشوار، آواز کا بہاؤ ناگوار یا ادائیگی بوجھل ہو جائے،
”تنافر“ کہلاتا ہے۔ تنافر کو عموماً عیبِ لفظی شمار کیا جاتا ہے۔

32۔ محاکات:الفاظ کے ذریعے کسی منظر، واقعے، کیفیت یا جذبے کی ایسی مؤثر تصویر کشی کرنا کہ قاری یا سامع اس کا حسی یا تخییلی تصور قائم کر سکے،”محاکات“ کہلاتا ہے۔محاکات میں شاعر اپنے مشاہدے، تخیل اور زبان کے ذریعے منظر یا کیفیت کو مؤثر بناتا ہے۔

33۔ ابتذال: کلام میں سطحی، غیر شائستہ، بازاری یا ادبی وقار سے گرے ہوئے الفاظ و خیالات کا استعمال”ابتذال“ کہلاتا ہے۔ابتذال کا تعلق صرف الفاظ سے نہیں؛ خیال اور اظہار کی سطحیت بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔

34۔ رکاکت:الفاظ، تراکیب یا طرزِ اظہار میں ایسی کمزوری یا ناموزونیت جس سے کلام کی شائستگی، روانی یا حسن متاثر ہو،”رکاکت“ کہلاتی ہے۔ رکاکت کا تعین کلام کے سیاق، زبان اور ادبی معیار کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔

35۔ معنی آفرینی:شعر میں نئے، باریک، تہہ دار یا غیر متوقع مفاہیم پیدا کرنے اور مانوس الفاظ و خیالات سے نئے معنی اخذ کرنے کی فنی صلاحیت کو”معنی آفرینی“   کہتے ہیں۔معنی آفرینی میں شاعر ایک محدود لفظی ساخت کے اندر کئی معنوی امکانات پیدا کر سکتا ہے۔

36۔ تغزل:غزل کے اسلوب سے وابستہ لطافتِ احساس، نزاکتِ بیان، موسیقیت، سوز و گداز اور جذباتی کیفیت کو”تغزل “ کہتے ہیں۔تغزل صرف عشقیہ مضمون تک محدود نہیں؛ اس میں اظہار کی لطافت اور جذبے کی شعری کیفیت بھی اہم ہوتی ہے۔

37۔ غزلِ مسلسل:ایسی غزل جس کے اشعار ایک مشترک موضوع یا مرکزی خیال کے تحت باہم معنوی ربط رکھتے ہوں اور مل کر ایک مسلسل مضمون پیش کریں،”غزلِ مسلسل“ کہلاتی ہے۔عام غزل میں ہر شعر نسبتاً مستقل مفہوم رکھ سکتا ہے، جب کہ غزلِ مسلسل میں اشعار کے درمیان معنوی تسلسل نمایاں ہوتا ہے۔

38۔ حَشو: کلام میں ایسا لفظ یا فقرہ جسے حذف کرنے سے مفہوم میں کوئی قابلِ ذکر کمی نہ آئے،”حشو“ کہلاتا ہے۔ اگر ایسا لفظ بلا ضرورت شامل ہو اور شعر کے حسن، روانی یا معنی کو متاثر کرے تو اسے عیب بھی سمجھا جا سکتا ہے۔البتہ ہر زائد محسوس ہونے والا لفظ لازماً عیب نہیں۔ بعض اوقات تاکید، آہنگ یا اسلوب کے لیے اس کی معنوی ضرورت ہو سکتی ہے۔

39۔ سرقہ: کسی دوسرے شاعر کے مخصوص شعری مضمون، ترکیب، مصرعے یا شعر کو اس کی نسبت ظاہر کیے بغیر اپنے نام سے پیش کرنا”سرقہ“  کہلاتا ہے۔ محض دو اشعار کے خیال یا الفاظ میں مماثلت سرقہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اس کے لیے اصل متون، زمانی ترتیب اور نقل کے شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

 

 

 


بلاگ

موضوعات

اردو (50) urdu (38) قواعد (37) urdu grammar (32) صرف و نحو (19) صرف (18) گرامر (17) grammar (16) نحو (10) اصطلاحاتِ زبان (9) ترکیب نحوی (9) اسم (8) زبان (7) علم بیان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) شاعری (4) علمِ بلاغت (4) فعل (4) نظم (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) الفاظ (3) بلاغت و فصاحت (3) بلیغ (3) تخلص (3) علم (3) علم بدیع (3) علم عروض (3) علم معانی (3) فصاحت (3) فصیح (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) انشائیہ (2) بحر (2) بحر مزاحف (2) بدیع (2) بلاغت (2) بلیغ و فصیح (2) بیان (2) تانیث (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حذف (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) ردیف (2) روزمرہ (2) زحاف (2) سابقہ (2) سابقے (2) ساکن (2) شعر (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم قافیہ (2) علم قوافی (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) قافیہ (2) قبض (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) متحرک (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) محذوف (2) مذکر (2) مرجع (2) مصرع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نثر (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) u (1) ، صرف (1) آراء (1) آزاد نظم، نثری نظم (1) آشوب شہر (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آپ بیتی (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استعارہ (1) استعارہ بالتصریح (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحات (1) اصطلاحی (1) اصناف (1) اصناف نظم (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) افسانوی نثر (1) افسانہ (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انکاری (1) ایجاب (1) ایہام (1) بالکنایہ (1) بحر سالم (1) بحر ہزج (1) بدائع (1) بدایع (1) بند (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تبصرہ (1) تثنیہ (1) تحقیق (1) تخصیص (1) تذکرہ (1) ترائیلے (1) ترتیبی (1) ترجیع بند (1) ترک (1) ترکیب بند (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشبیہ،کنایہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تقطیع (1) تلمیح (1) تمنائی (1) تنسیق (1) تنقید (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) ثلاثی (1) جار (1) جدید (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حرف تاسیس (1) حرف دخیل (1) حرف ردف (1) حرف روی (1) حرف قید (1) حرف مزید (1) حرف نائرہ (1) حرف وصل، حرف خروج (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حسن تعلیل (1) حسن مطلع (1) حصر (1) حمد (1) خاکہ (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) خفیف (1) داستان (1) دال (1) دال اور مدلول (1) درجات صفت (1) دلالت (1) دلالت التزامی (1) دلالت تضمنی (1) دلالت حقیقی (1) دلالت ضمنی (1) دوہا (1) ذومعنی (1) رائے (1) رباعی (1) ربط (1) رجز (1) رمل (1) رموز اوقاف (1) رنگین نثر (1) روزنامچہ (1) رپورتاژ (1) ریختی (1) زبر (1) زمین (1) زیر (1) سالم (1) سانیٹ (1) سبب (1) سخن (1) سریع (1) سفر نامہ (1) سلام (1) سوانح عمری (1) سکتہ (1) سکون (1) شاعری، بیت، شعر (1) شاہ بیت (1) شخصی (1) شرط (1) شعری (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صنائع (1) صنائع لفظی (1) صنائع معنوی (1) صنعت (1) صنعت تضاد (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عروض (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علم بلاغت کی شاخیں (1) عَلم (1) غزل (1) غیر افسانوی نثر (1) فاصلہ (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قدح (1) قسم (1) قصر (1) قصہ (1) قصیدہ (1) قطعہ (1) قمری (1) قو (1) لغوی (1) لف و نشر (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) ماہیا (1) مبالغہ (1) مبتدا (1) متدارک (1) متروک (1) متروک الفاظ (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) متقارب (1) مثبت (1) مثمن (1) مثنوی (1) مجاز (1) مجاز مرسل (1) مجازی (1) مجتث (1) مجروری (1) محاورہ (1) مخمس (1) مد (1) مدلول (1) مذکر سالم (1) مراعاۃ النظیر (1) مرثیہ (1) مرصع (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مزاحف (1) مستزاد، ہائیکو (1) مستقبل (1) مسجع (1) مسدس (1) مسمط (1) مشار (1) مصدر (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مضمون (1) مطابقت (1) مطلع (1) مطلق (1) معانی (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقبوض (1) مقداری (1) مقصور (1) مقصورہ (1) مقطع (1) ممدوہ (1) مناجات (1) منفی (1) منقبت (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکتوب نگاری (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ناول (1) ناولٹ (1) نثر عاری (1) نثر مرجز (1) نثر مرسل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نظم جدید، پابند نظم (1) نظم معرا (1) نعت (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) واسوخت (1) وتد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) ڈراما (1) کافی (1) کالم (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) گیت (1) ہجا (1) ہجو (1) ہزل (1) یادداشت (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *