علمِ
عروض میں سالم ارکان (افاعیل) کے حروف کو مقررہ اصولوں کے تحت گرانے، ساکن کرنے یا
بڑھانے کے عمل کو ”زحاف“ کہتے ہیں۔ جس رکن پر یہ
عمل ہوتا ہے اسے ”مزاحف“ کہا جاتا ہے۔
زحافات کی مشہور اور اہم اقسام
یوں
تو عربی اور فارسی عروض میں زحافات کی درجنوں اقسام ہیں، لیکن اردو شاعری میں درج
ذیل 5 زحافات سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں؛
1۔ حَذف(Hazf): رکن کے بالکل آخر سے ”سببِ
خفیف“ (یعنی ایسا دو حرفی ٹکڑا جس کا پہلا حرف متحرک اور دوسرا ساکن ہو، جیسے ”لُن“یا
”تُن“) کو گرا دینا ”حذف“ کہلاتا ہے۔
مثال: رکن ”مَفاعِیلُن“کے آخر میں ”لُن“ سببِ
خفیف ہے۔ اگر ” لُن“ کو گرا دیا جائے تو ”مَفاعِی“ بچتا ہے۔ عروض کے اصول کے
تحت اس بچے ہوئے حصے کو ہم وزن رکن ”فَعُولُن“سے بدل دیا جاتا ہے۔
اصطلاحی
نام: حذف کے عمل سے بننے والا نیا رکن ”مَحذوف“کہلاتا ہے۔
2۔ قَصر(Qasr):رکن کے آخر میں موجود
سببِ خفیف کے ساکن حرف کو گرا دینا اور اس کے متحرک حرف کو ساکن کر دینا ”قصر“ کہلاتا ہے۔
مثال: رکن ”مَفاعِیلُن“کے آخر میں ”لُن“ ہے۔ اس میں سے ساکن ”ن“
کو گرا دیا اور متحرک ”ل“ کو ساکن کر دیا، تو یہ ”مَفاعِیل“بن گیا۔ اصطلاحی
نام: قصر کے عمل سے بننے والا نیا رکن ”مَقصور“کہلاتا
ہے۔
3۔ قَبض(Qabz) :رکن کے پانچویں ساکن حرف
کو گرا دینا ”قبض“
کہلاتا ہے۔
مثال: رکن ”مَفاعِیلُن“ میں پانچواں حرف ”ی“
(ساکن) ہے۔ جب اسے گرا دیا جاتا ہے تو یہ رکن ”مَفاعِلُن“ رہ جاتا ہے۔
اصطلاحی
نام: قبض کے عمل سے بننے والا رکن ”مَقبوض“کہلاتا
ہے۔ (اردو کی مشہور بحرِ ہزج مثمن مقبوض اسی زحاف سے بنتی ہے)۔
4۔ خَبن(Khabn) :رکن کے دوسرے ساکن حرف کو
گرا دینا”خبن“ کہلاتا ہے۔
مثال: رکن ”فاعِلاتُن“ کا دوسرا حرف”الف“ (ساکن)
ہے۔ اگر اسے گرا دیا جائے تو یہ رکن ”فَعِلاتُن“بن جاتا ہے۔
اصطلاحی نام:خبن کے عمل سے بننے والا رکن ”مَخبون“ کہلاتا ہے۔
5۔ خَرم (Kharam): رکن کے بالکل شروع سے
پہلا حرف (جو متحرک ہو) گرا دینا ”خرم“ کہلاتا
ہے۔ یہ زحاف بالعموم حرف ”م“سے شروع ہونے والے ارکان پر لاگو ہوتا ہے۔
مثال:
رکن ”مَفاعِیلُن “کے شروع سے اگر متحرک ”م“ گرا دیا جائے، تو یہ
”فاعِیلُن“ بچتا ہے، جسے عروضی وزن کے لیے ”مَفعُولُن“سے بدل لیا جاتا ہے۔
اصطلاحی نام:خرم کے عمل سے بننے والا رکن ”اَخرم“کہلاتا
ہے۔
نوٹ:زحافات
کی غرض و غایت محض الفاظ کو کاٹنا یا چھوٹا کرنا نہیں ہے، بلکہ ان کا اصل مقصد
شاعری کے صوتی آہنگ (Rhythm) میں
روانی، لچک اور تنوع (Variety) پیدا
کرنا ہے۔
ا ردو شاعری کا غالب حصہ
انہی ”مزاحف بحور“ میں تخلیق کیا گیا ہے۔ شعرا سالم بحور کے
بجائے مزاحف بحور میں شعر کہنا زیادہ پسند کرتے ہیں کیونکہ اس سے صوتی آہنگ میں
تنوع اور خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔
زحاف کی اہمیت و فوائد
علمِ عروض میں زحاف (بنیادی ارکان میں
تبدیلی یا کتر بیونت) کا عمل محض کوئی مشینی یا حسابی قاعدہ نہیں ہے، بلکہ اس کے
نہایت اہم فنی، جمالیاتی اور لسانی فوائد ہیں۔ اگر زحافات کا نظام وضع نہ کیا جاتا
تو شاعری انتہائی محدود، بوجھل اور یکساں ہو کر رہ جاتی۔ زحاف کے بنیادی فوائد درج
ذیل ہیں:
2۔ صوتی یکسانیت کا خاتمہ (تنوع
اور موسیقیت):
سالم بحر میں ایک ہی رکن بار بار دہرایا جاتا ہے (جیسے: مفاعیلن، مفاعیلن،
مفاعیلن، مفاعیلن)، جس سے کلام کے آہنگ میں ایک طرح کی اکتاہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔
زحاف کے ذریعے ارکان کو چھوٹا یا تبدیل کر کے شاعری میں نیا ترنم، روانی اور صوتی
تنوع
پیدا
کیا جاتا ہے۔
2۔ الفاظ کے
انتخاب میں وسعت اور آزادی:
اگر شاعر کو صرف سالم بحروں کا پابند کر دیا جاتا، تو اس کے لیے جذبات اور خیالات
کا برجستہ اظہار انتہائی مشکل ہو جاتا، کیونکہ اسے صرف ایک ہی مخصوص وزن کے الفاظ
ڈھونڈنے پڑتے۔ زحاف شاعر کو یہ لچک دیتا ہے کہ وہ ارکان کی شکل بدل کر روزمرہ زبان
کے قدرتی اور مختلف اوزان والے الفاظ کو آسانی سے شعر میں سمو سکے۔
3۔ اردو اور فارسی کے فطری مزاج سے
ہم آہنگی:
علمِ عروض کی سالم بحریں خالص عربی زبان کے مزاج پر وضع کی گئی تھیں، جو قدرے طویل
اور ثقیل (بھاری) ہیں۔ اردو اور فارسی کا لسانی مزاج عربی کی نسبت زیادہ لطیف اور
سبک ہے۔ زحافات کے ذریعے ان بھاری عربی ارکان کو تراش کر اردو اور فارسی کے فطری
اور نرم بہاؤ کے قابل بنایا جاتا ہے۔
4۔ نئی بحروں کی تخلیق (بحورِ
متفرعہ):
زحاف ہی وہ واحد تکنیکی ذریعہ ہے جس سے 19 بنیادی (سالم) بحروں سے کٹ چھٹ کر
سیکڑوں نئی شاخیں جنم
لیتی ہیں۔ مثلاً صرف ایک بحرِ ہزج میں مختلف زحافات لگا کر درجنوں نئی بحریں وضع
کی گئی ہیں (جیسے ہزج مثمن مقبوض، ہزج مسدس محذوف وغیرہ)۔ اس سے شعری اصناف کا
کینوس انتہائی وسیع ہو گیا ہے۔
5۔ کلام میں
اختصار اور چستی :زحاف
کے استعمال سے شعر کی بندش چست ہوتی ہے۔ لمبے ارکان کو کاٹ کر چھوٹے ارکان میں
بدلنے (مثلاً آخری رکن کو چھوٹا کر کے مصرعے کو بروقت ختم کرنے) سے شعر میں ایسی
برجستگی آتی ہے جو اسے یاد رکھنے اور گنگنانے میں بے حد مددگار ثابت ہوتی ہے۔
تقطیع (Scanning)
کسی
شعر کے الفاظ کو اس کی بحر کے ارکان (افاعیل) کے وزن پر الگ الگ ٹکڑوں میں بانٹنے
اور تولنے کے عمل کو تقطیع کہتے ہیں۔ تقطیع کے بنیادی اصول یہ ہیں:
1۔ جو
حرف پڑھنے (آواز) میں آئے گا وہ وزن میں گنا جائے گا، اور جو حرف محض لکھا ہو مگر
پڑھنے میں نہ آئے اسے وزن سے گرا دیا جائے گا۔
2۔ نون غنہ (ں)، اور غیر ملفوظی حروف (جیسے ”خواب“
میں واؤ) وزن میں شمار نہیں ہوتے۔
3۔ تشدید والے حرف کو دو بار گنا جاتا ہے (ایک
بار پچھلے حرف کے ساتھ ملا کر، اور دوسری بار اپنی حرکت کے ساتھ)۔
4۔ الف ممدودہ (آ) کو دو الف کے برابر (یعنی ایک
متحرک اور ایک ساکن حرف) گنا جاتا ہے۔
5۔ دو چشمی ھ کو وزن میں شمار نہیں کیا جاتا۔
جیسے بھی کا وزن ”بی“ لیا جاتا ہے۔ اہم اصول: اردو تقطیع میں ”بھ، پھ،
تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، ڑھ، کھ، گھ“ ہمیشہ ایک حرف کے طور پر شمار ہوتے ہیں، ان
میں شامل دو چشمی ”ھ“کا اپنا کوئی الگ وزن نہیں ہوتا۔
تقطیع کا ریاضیاتی یا اشاری نظام
تقطیع
کے اس جدید طریقے میں اگر اکیلا حرف”یک حرفی ہجّا یا
ہجاّے کوتاہ“ (متحرک یا ساکن)
ہو تو اسے 1 سے ظاہر کرتے ہیں اور دو حروف ”دو حرفی
ہجّا یا ہجّائے بلند“ (متحرک یا ساکن)ساتھ
مل جائیں تو اسے 2 سے ظاہر کرتے ہیں۔
مثلاً اگر اسلام اور مسلمان کی تقطیع کرنی
ہو تو وہ کچھ اس طرح ہو گی؛
اِسْلَامْ=اِسْ
+ لَا+ مْ اب اکیلے حرف کو
ہندسے 1 سے اور جوڑے کو 2 سے ظاہر کریں تو یہ 122
بنے گا
اسی طرح مُسَلْمَان (م+سَل +مَا+ن) کو 1221
سے ظاہر کریں گے۔
اسی طرح ایک مشہور وزن ”
مَفَاعِیْلُن“ کی تقطیع کی اس قاعدے سے
یوں ظاہر ہو گی۔مَ+فَا+عِی+لُن= 2221
نوٹ:
ہندسوں کو اردو طرزِ تحریر (دائیں سے بائیں) میں پڑھنا ہے۔
ہجّائے کوتاہ: ہجائے
کوتاہ (Short Vowels)
اردو
اور عربی رسم الخط میں وہ حرکات ہیں جو مختصر آواز پیدا کرتی ہیں۔
یہ تین بنیادی آوازیں ہیں جو الفاظ کے اندر چھوٹی مدت کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں۔زِیر،
زَبر اور پیش۔ انہیں ”حرکات“ بھی کہا جاتا ہے۔
ہجّائے بلند: ہجائے
بلند (Long Vowels)
اردو
اور عربی رسم الخط میں وہ آوازیں ہیں جو طویل مدت کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں۔ یہ ہجائے کوتاہ (زبر، زیر، پیش) کے مقابلے
میں زیادہ وقت لیتے ہیں اور الفاظ کے وزن و بحر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ آوازیں طویل ہوتی ہیں، اس لیے انہیں”بلند“ کہا جاتا ہے۔عروض اور بحر کے حساب
میں ہجائے بلند کو دو ہجائے کوتاہ کے برابر شمار کیا جاتا ہے۔
مختصر
یہ کہ علمِ عروض شاعر کو وہ تکنیکی اور حسابی سانچہ فراہم کرتا ہے جو کلام میں
موسیقی اور صوتی آہنگ پیدا کرتا ہے، اور ایک نقاد کو یہ صلاحیت دیتا ہے کہ وہ شعر
کی درستی اور خامی کو سائنسی اور علمی بنیادوں پر پرکھ سکے۔












0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔