اردو میں نظم کی بلحاظ موضوع معروف اصناف درج ذیل ہیں؛
1۔ حمد:وہ منظوم کلام جس میں خالصتاً اللہ تعالیٰ کی
ذات، صفات، جلالت اور بزرگی و بڑائی بیان کی گئی ہو۔
؎ تیری بخشش کے بھروسے پہ
خطائیں کی ہیں تیری رحمت کے سہارے نے گنہگار کیا مبارک
عظیمؔ آبادی
؎ قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا
تیرا
اک بندۂ نافرماں ہے حمد سرا تیرا مولانا حالیؔ
2۔ نعت:وہ منظوم کلام جس میں
حضور نبی کریم ﷺکی ذاتِ گرامی، اخلاق اور سیرت کی تعریف و توصیف
عقیدت کے ساتھ بیان کی گئی ہو۔
؎ وہ دانائے سبل، ختم الرسل، مولائے کل جس
نے غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادئ سینا علامہ اقبالؔ
3۔ منقبت:وہ نظم جس میں صحابہ
کرامؓ، اہلِ بیتِ عظامؓ، اولیائے کرام یا بزرگانِ دین کی مدح و ثنا اور خوبیاں
بیان کی جائیں۔
؎ پروانے
کو چراغ ہے، بُلبل کو پھُول بس
صِدّیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسولؐ بس! علامہ
اقبالؔ
؎ کتابِ
فضل کا بے شبہ انتخاب ہے تو
نبیؐ اگر ہیں مدینہ، تو اس کا باب ہے توؑ میر
انیسؔ
4۔ سلام:
سلام وہ منظوم کلام ہے (جو عموماً غزل کی ہیئت
یعنی ردیف و قافیہ کی پابندی کے ساتھ لکھا جاتا ہے) جس میں حضور نبی کریم ﷺ، اہلِ
بیتِ اطہارؑ یا شہدائے کربلا کی بارگاہ میں انتہائی عقیدت، سوز و گداز اور محبت کے
ساتھ صلوٰۃ و سلام پیش کیا جائے۔
؎ مصطفیٰ
جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام شمعِ بزمِ
ہدایت پہ لاکھوں سلام امام احمد رضا ؔخاں
؎ سلام ان پہ جو مقتل میں بے کفن سوئے سلام ان پہ جو خیموں میں خستہ تن سوئے (نامعلوم)
5۔ مُناجات: وہ نظم جس میں خداوند تعالیٰ سے دعا مانگی جائے”مُناجات“کہلاتی ہے۔
؎ یا
رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے جو
قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے علامہ اقبالؔ
6۔ قصیدہ:قصیدہ لفظ ”قصد“سے نکلا
ہے۔ وہ طویل نظم جس میں کسی بادشاہ، امیر، بزرگ یا کسی بھی شخص کی شان میں مدح
(تعریف) یا قدح (برائی) بیان کی جائے۔ اس کا آغاز عموماً مطلع سے ہوتا ہے اور اس
کے اجزا میں تشبیب، گریز، مدح اور دعا شامل ہیں۔
جیسے؛
سودؔا ، ذوقؔ اور غالبؔ کے قصائد۔
؎ ہاں،
مہِ نو! سنیں ہم اس کا نام جس
کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام غالبؔ - بہادر شاہ ظفر کی مدح میں
7۔ قَدَح / قصیدہ ہجویہ: یہ ”مدح“ کی ضدہے۔ قصیدے میں جب کسی کی برائی، مذمت یا کیڑے
نکالے جائیں تو اس عمل کو ”قدح“ کہا جاتا ہے، اور ایسے
قصیدے کو قصیدہ ہجویہ کہتے ہیں۔ ہجو اور قدح
آپس میں جڑی ہوئی اصطلاحات ہیں۔
؎ آئینے
کی گر سیر کرے شیخ تو دیکھے سر خرس
کا، منہ خوک کا، لنگور کی گردن محمد رفیع سوؔدا
8۔ مرثیہ:لفظ ”رثا“سے نکلا ہے جس کے معنی رونے اور خوبیاں بیان کرنے کے ہیں۔ وہ طویل
نظم جس میں کسی مرنے والے کی خوبیاں بیان کر کے غم کا اظہار کیا جائے۔ اردو ادب
میں یہ صنف عموماً شہدائے کربلا کے مصائب اور شہادت کے بیان کے لیے مخصوص ہو چکی
ہے۔ (جیسے میر انیس اور مرزا دبیر کے مرثیے)۔
9۔ سہرا:شادی کے
موقع پر دولہا (یا دلہن) کی تعریف اور ان کے لیے دعائیہ کلمات پر مشتمل منظوم کلام
جو اس خوشی کی تقریب میں گا کر پڑھا جاتا ہے، ”سہرا“ کہلاتا ہے۔
؎ خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا باندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا
غالبؔ
10۔ ہجو: ہجو اردو شاعری کی وہ صنف
ہے جس میں کسی مخصوص شخص، گروہ یا شے کی خامیوں، برائیوں اور کمزوریوں کو تنقید
اور تمسخر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد محض دل لگی نہیں بلکہ طنز کی
تیز کاٹ کے ذریعے خامیاں بے نقاب کرنا ہوتا ہے۔ ہجو میں بسا اوقات تلخی اور ذاتی
حملے کی شدت بھی پائی جاتی ہے۔
اردو ادب میں مرزا محمد
رفیع سوؔدا
ہجو گوئی کے سب سے بڑے اور مستند استاد مانے جاتے ہیں۔
؎ ہے جو کچھ نظم و نثرِ عالم میں زیرِ ایرادِ میرؔ
صاحب ہے
ہر ورق پر ہے میر کی اصلاح لو گ کہتے ہیں سہو
کاتب ہے مرزا
رفیع سوداؔ
؎ ہوا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو
کیا ہے غالبؔ
11۔ ہزل:
ہزل کے لغوی معنی ”ہنسی ، تمسخر “اور”
بیہودہ گوئی“ کے ہیں ۔ ادبی اصطلاح میں ہزل سے مراد وہ کلام ہے جس کا مقصد محض تفریح اور ہنسانا ہو، اور اس میں بے
تکے پن، لغویات، اور بسا اوقات غیر شائستہ (سوقیانہ) الفاظ یا پھکڑ پن کا سہارا
لیا گیا ہو۔ ہزل میں کوئی تعمیری، سنجیدہ پیغام یا اصلاح کا پہلو نہیں ہوتا۔اردو میں
ہزل گوئی کے لیے ”جعفر زٹلی“ یا”چرکین“ کے نام مشہور ہیں۔
؎ چھوکرے کھیلتے ہیں کوڑی کو میں
تو بیچوں گا تیری گھوڑی کو
12۔ واسوخت:یہ خالصتاً برائی اور شکایت کی صنف ہے۔ اس میں عاشق، اپنے
محبوب کی بے وفائی، غرور اور ظلم سے تنگ آکر محبوب کی برائیاں کرتا ہے، اسے جلی
کٹی سناتا ہے اور دھمکی دیتا ہے کہ اگر تم باز نہ آئے تو میں کسی اور سے دل لگا
لوں گا۔
؎ تم ہمارے نہ ہوئے، تو نہ سہی، اور سہی ہم بھی دل اور کہیں اپنا لگا
دیکھیں گے
مقصد: محبوب کو جلا کر یا دھمکا کر راہِ راست پر لانا۔
13۔ شہر آشوب:شہر آشوب نظم کی وہ صنف ہے جس میں
پورے شہر، معاشرے، یا زمانے کی برائی، بدحالی، اور معاشی زوال کا رونا رویا جاتا
ہے۔ جب کوئی قوم یا شہر برے حالات کا شکار ہو تو شاعر اس کی تباہی کا نقشہ کھینچتا
ہے۔
؎ روزگار اپنی بود و باش کا اب کیا پوچھو شریف لوگ بھی یہاں بے توقیر ہوئے
تھا جن کا دلی میں کبھی رتبہ بلند وہ اب روٹی کے ایک ٹکڑے کو
فقیر ہوئے
14۔ ریختی: ایسے اشعار جن میں عورتوں کی زبان میں
شاعری کی گئی ہو، ”ریختی“ کہلاتے ہیں۔ صنفِ
شاعری کی یہ قسم دبستانِ لکھنؤ کے شعرا کی دین ہے۔ خاص طور پر رنگینؔ، جراؔت،
انشاءؔ اور جانؔ اس کے ماہر تھے۔
؎ میں ترے صدقے، نہ رکھ پیاری روزہ بندی رکھ لے گی ترے بدلے ہزاری روزہ
ہیئت کے اعتبار سے نظم کی اصناف اگلی پوسٹ میں مذکور ہیں۔

