‏علم قافیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏علم قافیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 12 اکتوبر، 2026

قواعد اردو-49: علم قافیہ (علم قوافی)

0 comments

 

علم قوافی(علم قافیہ)

علمِ قافیہ علمِ عروض کا وہ اہم حصہ ہے جس میں شعر کے آخر میں آنے والے قافیے کی ساخت، حروف، حرکات، ان کے باہمی تعلق اور محاسن و عیوب کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے قافیے کی صحت کو پرکھا جاتا ہے۔
لغوی معنی: قافیہ عربی زبان کے مادہ ”ق ف و(قفو)“ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ”پیچھے آنے والا“ یا ”پیروی کرنے والا“۔
 
اصطلاحی معنی: شعر کے آخر میں ردیف سے پہلے آنے والے ان الفاظ یا صوتی اجزا کو قافیہ کہتے ہیں جن میں مخصوص حروف اور حرکات کی باہمی یکسانی پائی جائے۔
مثال: مرزا غالب کی مشہور غزل کا  مطلع  اور اسی غزل کا اگلا شعر ؛

؎                       کوئی امید بر نہیں آتی                                   کوئی صورت نظر نہیں آتی

                        موت کا ایک دن معین ہے                 نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

ان اشعار  شعر میں الفاظ ”بر“ ، ”نظر“  اور ”بھر“ قافیہ ہیں۔یہ الفاظ ہم آواز اور ہم وزن ہیں۔ ان کے آخر میں حرفِ روی (ر) مشترک ہے۔
قافیہ اور ردیف کا فرق:
قافیہ مخصوص صوتی اصولوں کا پابند ہوتا ہے (جیسے بر، نظر، بھر)، جبکہ ردیف وہ لفظ یا الفاظ ہیں جو قافیے کے بعد ہو بہو دہرائے جاتے ہیں ۔جیسے ”نہیں آتی“

حروفِ قافیہ

روایتی علمِ قافیہ میں قافیے کے 9 حروف بیان کیے جاتے ہیں۔ ان میں حرفِ روی کو مرکزی اور بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ چار حروف اس سے پہلے آتے ہیں اور چار حروف اس کے بعد آتے ہیں۔

الف: حرفِ روی (مرکزی حرف)

یہ قافیے کا بنیادی اور لازمی حرف ہے جس پر قافیہ قائم ہوتا ہے۔ مثال: چمن، سمن،وطن ۔ ان الفاظ میں ”ن“ حرفِ روی ہے۔
جناب، کتاب، خواب۔ ان الفاظ  میں ”ب“حرفِ روی ہے۔

ب: حرفِ روی سے پہلے آنے والے(4) حروف
1۔حرفِ ردف:وہ حرفِ علت (الف، و، ی) جو حرفِ روی سے فوراً پہلے آئے۔
مثال: کمال-ک م   ا ل (ا = ردف، ل = روی)،         نور-ن و  ر (و = ردف، ر = روی)۔
2۔حرفِ قید: وہ ساکن حرف جو حرفِ روی سے فوراً پہلے آئے (حروفِ علت کے علاوہ)۔
مثال: تخت-ب خ ت۔ سخت-س خ ت (خ = قید، ت = روی)۔
3۔ حرفِ دخیل: حرفِ تاسیس اور حرفِ روی کے درمیان آنے والا متحرک حرف۔
مثال: عادِل-عادل۔ کامِل- کام ل (د اور م = دخیل)۔
4۔ حرفِ تاسیس:
وہ ”الف“جو حرفِ روی سے پہلے آئے، اور اس الف اور روی کے درمیان ایک متحرک حرف موجود ہو۔مثال: عادِل-عادل۔ کامِل- کامل (ا = تاسیس، ل = روی)۔
ج: حرفِ روی کے بعد آنے والے(4)  حروف
1۔حرفِ وصل: حرفِ روی کے فوراً بعد آنے والا حرف۔ جیسے ”کیا“میں روی ”ی“کے بعد ”ا“وصل ہے۔
2۔ حرفِ خروج: حرفِ وصل کے بعد آنے والا حرف۔جیسے؛  ”دِلوں “ اس میں ”ل“ حرفِ روی ہے، ”و“حرفِ وصل ہے، اور وصل کے بعد آنے والا”ں“(نون غنہ) حرفِ خروج ہے۔
3۔حرفِ مزید: حرفِ خروج کے بعد آنے والا حرف۔جیسے؛ ”نیکیوں“
اصل لفظ ”نیک“ہے۔ اس میں ”ک“حرفِ روی،”ی“ حرفِ وصل، ”و“  حرفِ خروج، اور خروج کے بعد آنے والا ”ں“ (نون غنہ) حرفِ مزید ہے۔
4۔حرفِ نائرہ: حرفِ مزید کے بعد آنے والا حرف۔( اردو شاعری میں اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔)
یاد رکھنے کی ترتیب
:
 تاسیس ⬅️ دخیل ⬅️ ردف ⬅️ قید ⬅️ روی ➡️ وصل ➡️ خروج ➡️ مزید ➡️ نائرہ
قید۔ ردف۔ اور دخیل عموماً ایک ساتھ نہیں آتے، یہ ایک دوسرے کی جگہ لے سکتے ہیں۔

حرکاتِ قافیہ

علمِ قافیہ میں حروف پر لگنے والی زبر، زیر اور پیش کو 6 مخصوص نام دیے گئے ہیں:
1۔ رَس: الفِ تاسیس سے پہلے آنے والے حرف کی حرکت (ہمیشہ زبر)۔ جیسے؛   ظَاہر اور مَاہر میں (ظ) اور (م) کی زبر۔
2۔ اِشباع: حرفِ دخیل کی حرکت۔ جیسے؛ چادَر، نادَر میں دخیل حرف (د) کی زبر۔
3۔ حَذو: حرفِ ردف یا حرفِ قید سے پہلے آنے والے حرف کی حرکت۔ جیسے؛ تَخت، سَخت میں (ت) اور (س) کی زبر۔حذو دراصل رَوی سے پہلے آنے والی حرکت کی یکسانیت سے متعلق اصطلاح ہے۔
4۔توجیہ: حرفِ رویِ ساکن سے پہلے آنے والے حرف کی حرکت (اگر ردف یا قید نہ ہو)۔ جیسے؛ عَلَم، قَلَم میں روی (م) سے پہلے (ل) کی زبر۔
5۔مَجریٰ: حرفِ روی اگر متحرک ہو، تو اس کی اپنی حرکت۔ جیسے؛  حیرانی، پیشانی میں روی (ن) کی زیر۔
6۔نفاذ: حرفِ وصل اور اس کے بعد آنے والے حروف کی حرکات۔جیسے؛  علامہ اقبال کا مشہور شعر؛
            ؎           عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں        نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

 
اس شعر میں ردیف ”میں“ ہے، اور قافیے ”جوانوں“ اور "آسمانوں“ ہیں۔
         
حرفِ روی:ان الفاظ کی اصل (جوان، آسمان) کا آخری بنیادی حرف”ن“
حرفِ روی ہے۔
         
حرفِ وصل:حرفِ روی (ن) کے فوراً بعد جڑنے والا حرف ”و“
حرفِ وصل ہے۔
         
حرفِ خروج:
وصل (و) کے بعد آنے والا حرف ”ں“(نون غنہ) حرفِ خروج ہے۔
نفاذ کا اطلاق: یہاں حرفِ وصل (و) اور حرفِ خروج (ں) پر جو حرکت یا مخصوص صوتی کیفیت آئی ہے
(یعنی ”وں“ کی مشترکہ آواز)، وہ
”نفاذ“ کہلاتی ہے۔

عیوبِ قافیہ (قافیے کی خامیاں)

مقررہ اصولوں کے خلاف کی جانے والی تبدیلی کو عیبِ قافیہ کہتے ہیں۔ اس کی بنیادی اقسام یہ ہیں:
1۔ اِکفا   (حرفِ روی کا بدل جانا): حرفِ روی میں اختلاف پیدا کرنا۔
            مثال:
کتاب اور خواب کے ساتھ کوئی ایسا لفظ لانا جس کا آخری حرف ب نہ ہو۔
2۔ سِناد (ردف یا قید کا بدل جانا): ردف یا قید کے حروف میں اختلاف۔
            مثال:
  انار اور نور (ایک میں الف اور دوسرے میں واؤ بطور ردف آ گیا)۔
3۔ اِقوا (حرکت کا بدل جانا): حرکتِ حذو یا حرکتِ توجیہ میں اختلاف (زبر کی جگہ زیر یا پیش لانا)۔
           
مثال: جَست (زبر) اور جُست (پیش) کو ہم قافیہ کرنا۔

4۔ اِیطا (الفاظ کی تکرار): قافیے کے مشترک حصے کو اس طرح لانا جو غیر ضروری تکرار پیدا کرے۔ اس کی دو قسمیں ہیں:

ایطائے جلی (واضح عیب): مشترک حصے کو ہٹانے سے باقی الفاظ ہم قافیہ نہ رہیں۔ جیسے دردمند اور حاجتمند (مند ہٹانے سے درد اور حاجت قافیہ نہیں رہتے)۔
ایطائے خفی (چھپا ہوا عیب): ظاہری طور پر لفظ جڑا ہوا محسوس ہو مگر قواعد کی رو سے لاحقہ ہو۔ جیسے دانا اور بینا
(ان میں
”ا“ لاحقہ ہے)۔
 نوٹ:جدید ناقدین اسے عیب ماننے میں اختلاف کرتے ہیں۔

5۔ قافیۂ معمولہ(جوڑنا یا توڑنا): ضرورتِ شعری کے تحت الفاظ کو توڑ کر یا جوڑ کر زبردستی قافیہ بنانا۔ قواعد کی رو سے قافیۂ معمولہ کی دو مشہور صورتیں (اقسام) ہیں؛
             
معمولہ ترکیبی (الفاظ کو جوڑ کر قافیہ بنانا) اور        معمولہ تحلیلی (لفظ کو توڑ کر قافیہ بنانا)۔
ان دونوں کی نہایت آسان اور واضح مثالیں درج ذیل ہیں:
1۔
 قافیۂ معمولہ ترکیبی (الفاظ کو جوڑ کر قافیہ بنانا): اس صورت میں شاعر ایک مکمل اور اکلوتے لفظ کا قافیہ دو الگ الگ لفظوں کو آپس میں جوڑ کر بناتا ہے۔مثال کے  طور پر؛
                                                                                                                                                                      چُپکے
: یہ ایک مکمل اور اکیلا لفظ ہے۔                   شَب کے :یہ دو الگ الگ الفاظ ہیں: شب + کے
اب اگر کوئی شاعر انہیں ہم قافیہ کرے گا تو وہ دو لفظوں (شب + کے) کی آواز کو جوڑ کر ایک لفظ (چپکے) کے برابر لائے گا۔
مثال:    ؎           وہ جو بیٹھے ہیں میری محفل میں چپکے                میں نے دیکھے ہیں سب تماشے شب کے
اس شعر میں”چپکے“ کا قافیہ زبردستی ”شب کے“کے ساتھ باندھا گیا ہے، یہ قافیۂ معمولہ ترکیبی ہے۔
اسی طرح:           دِلبر (ایک لفظ) کا قافیہ                  مِل کر (دو الفاظ) کے ساتھ باندھنا۔
                    جانور
(ایک لفظ) کا قافیہ                 بام پر (دو الفاظ: بام+پر) کے ساتھ باندھنا۔
2۔ قافیۂ معمولہ تحلیلی (لفظ کو توڑ کر قافیہ بنانا): اس صورت میں شاعر ضرورتِ شعری کے تحت ایک ہی لفظ کو بیچ میں سے توڑ دیتا ہے۔ وہ اس کے پہلے حصے کو ”قافیہ“ مان لیتا ہے اور پچھلے حصے کو کاٹ کر ”ردیف“ کا حصہ بنا دیتا ہے۔
            مثال :
 مؔیر کی غزل کا مطلع ہے؛                                                                  ؎         چھن گیا سینہ بھی، کلیجا بھی                 یار کے تیر، جان لے جا بھی
اس میں
”کلیجا“ اور ”بھیجا“جیسے الفاظ کے ذریعے قافیۂ معمولۂ تحلیلی کی مثال بیان کی گئی ہے۔
اسے یوں سمجھیں:   کلیجا
←کلی + جا                 بھیجا ←بھی + جا
یہاں
”کلی/بھی“قافیہ کے حصے میں آتے ہیں، جبکہ ”جا“ردیف”جا  بھی“  کا حصہ بن جاتا ہے۔ یعنی ایک ہی لفظ کو توڑ کر اس کے ایک حصے کو قافیہ اور دوسرے حصے کو ردیف میں شامل کیا گیا ہے۔ یہی قافیۂ معمولۂ تحلیلی ہے۔
نوٹ: قافیۂ معمولۂ تحلیلی کلاسیکی علمِ قافیہ میں عیوبِ قافیہ میں شمار ہوتا ہے، تاہم اردو کے اساتذہ نے اسے شعری ضرورت اور صنعتِ لفظی کے طور پر بھی استعمال کیا ہے؛ اس لیے اسے ہر حال میں شعری کمزوری قرار دینا درست نہیں۔

˜õ™

 

اتوار، 11 اکتوبر، 2026

قواعد اردو-45 : نثر اور شاعری

0 comments

 

نثر اور شاعری 

اردو میں کلام یا سخن کی دو صورتیں پائی جاتی ہیں؛       
                     1۔ نثر                                         2۔ شاعری
1۔ نثر: نثر کے لغوی معنی ہیں، ”بکھرا ہوا“ یا”پھیلایا ہوا“ ۔ ایسی تحریر یا کلام جس میں خیالات اور جذبات کا اظہار عام بول چال کی زبان اور قواعد کے مطابق جملوں کی شکل میں کیا جاتا ہے۔یہ کلام عموماً  شاعری کی طرح وزن، بحر، قافیہ اور ردیف کی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔

2۔ شاعری: نثر کے مقابلے اردو میں کلام کی ایک دوسری صورت پائی جاتی ہے جسے  شاعری کہا جاتا ہے ۔  نثر کے برعکس اس  میں خیالات(بات) کا اظہار آہنگ، موسیقیت اور روانی سے کیا جاتا ہے۔ یہ کلام شعروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ شعر  کچھ مخصوص اوزان، بحور،  قافیہ اور ردیف  کی پابندی میں کہا جاتا ہے۔ شاعری وہ ادبی اظہار ہے جس میں شاعر اپنے خیالات و جذبات کو موزوں، مؤثر اور دل نشیں الفاظ میں آہنگ و تخیل کے ساتھ پیش کرتا ہے۔

ایک مغالطہ یا غلط فہمی

سخن (بنیادی اور سب سے وسیع اصطلاح) :  لغوی اعتبار سے ”سخن“ کے معنی کلام، بات یا گفتگو کے ہیں۔ ادبی اصطلاح میں یہ سب سے بڑا دائرہ ہے جو پورے ادب کو محیط ہے۔ سخن میں کلام کی دونوں بڑی اقسام، یعنی نثر (Prose) اور نظم (Poetry)، شامل ہوتی ہیں۔ جب قواعد میں ”اصنافِ سخن“ کی بات کی جاتی ہے، تو اس میں ناول، افسانہ، مضمون (نثر) کے ساتھ ساتھ غزل، قصیدہ اور رباعی (شاعری) سب شامل ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کلاسیکی اردو میں شاعر کو ”سخنور“ کہہ کر اس لفظ کو عموماً شاعری کے لیے بھی برت لیا جاتا ہے، مگر تکنیکی طور پر سخن ہر طرح کے ادبی کلام کا نام ہے۔

 شاعری (ایک فن اور دائرہ کار) : شاعری ”سخن“ کی ایک بڑی شاخ ہے۔ لغوی طور پر یہ شعر کہنے کے عمل یا فن کا نام ہے۔ تکنیکی اعتبار سے جذبات، خیالات اور مشاہدات کو علمِ عروض (بحر اور وزن) کی پابندیوں کے ساتھ پیش کرنا شاعری کہلاتا ہے۔ یہ ایک مکمل فن ہے جس کے اندر غزل، مرثیہ، قصیدہ، رباعی اور باقاعدہ نظم جیسی تمام منظوم اصناف آتی ہیں۔

 نظم (شاعری کی ایک مخصوص صنف):  ادبی دنیا میں نظم کے دو مفہوم لیے جاتے ہیں:
1۔ عام مفہوم (بمقابلہ نثر):
نثر کے برعکس ہر وہ کلام جو وزن اور بحر میں ہو، اسے عام بول چال میں نظم کہہ دیا جاتا ہے (جیسے کلام کو دو حصوں ”نظم اور نثر“  میں بانٹا جاتا ہے)۔
2۔ تکنیکی و اصطلاحی مفہوم
:شاعری کے دائرے کے اندر نظم ایک مخصوص صنف ہے جس میں کسی ایک ہی مرکزی خیال، موضوع یا واقعے کو شروع سے آخر تک تسلسل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ یہ غزل کے بالکل برعکس ہے، کیونکہ غزل کا ہر شعر اپنے مفہوم میں آزاد ہوتا ہے، جبکہ نظم کے تمام اشعار ایک ہی موضوع کی لڑی میں پروئے ہوتے ہیں۔
وضاحت
: شاعری کے لیے 2 الفاظ 1۔ سُخن اور 2۔ نظم بہت معروف ہیں اور شاعری کے متبادل مستعمل ہیں۔ نثر کے مقابلے سخن یا نظم کا مفہوم بہت عام ہے۔ اس لیے شاعری کی خاص صنف نظم  کو اس مفہوم سے الگ سمجھنا اور برتنا چاہئیے۔

شاعری  اور  علم ِ بلاغت

شاعری(منظوم کلام) وہ ادبی اظہار ہے جس میں شاعر اپنے خیالات و جذبات کو موزوں، مؤثر اور دل نشیں الفاظ میں آہنگ و تخیل کے ساتھ پیش کرتا ہے۔      علمِ بلاغت  کی تینوں شاخیں (علمِ بیان، علمِ معانی، اور علمِ بدیع) کا شاعری سے بہت گہرا اور چولی دامن کا ساتھ ہے۔ درحقیقت، اردو اور شاعری کا سارا حسن اور فن انہی علوم پر استوار ہے۔یہ علوم ہم پچھلے صفحات میں تفصیل سے پڑھ چکے ہیں۔
ان کا شاعری سے تعلق درج ذیل ہے:

علمِ بیان (شاعری کی روح): شاعری میں تخیل، منظر کشی اور جذبات کو ابھارنے کے لیے تشبیہ، استعارہ اور کنایہ کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ شاعر سیدھی بات کہنے کے بجائے اسی علم کی بدولت استعاراتی اور علامتی زبان استعمال کرتا ہے۔

علمِ بدیع (شاعری کا زیور): غزل یا نظم میں لفظی اور معنوی خوبصورتی (جیسے صنعتِ تضاد، مبالغہ، یا تجنیس وغیرہ) اسی علم کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے تاکہ شعر قاری کو چونکا دے اور سننے میں بھلا لگے۔

علمِ معانی (شاعری کا لہجہ): شعر میں چھپے ہوئے طنز، حسرت، غصے یا محبت کے جذبے کو موقع کی مناسبت سے درست الفاظ، ترتیب اور لہجے (جیسے سوالیہ انداز) کے ساتھ ادا کرنا اسی علم کا کمال ہے۔

شاعری کے مخصوص علوم

علمِ بلاغت (جو اعلیٰ نثر اور نظم دونوں میں استعمال ہوتا ہے) کے علاوہ، دو علوم ایسے ہیں جو صرف اور صرف شاعری کے لیے مخصوص ہیں، اور ان کے بغیر کوئی کلام تکنیکی طور پر شعر نہیں کہلا سکتا۔

1۔علمِ عروض: یہ شعر کے وزن، آہنگ اور بحر کو جانچنے کا علم ہے۔ اس علم کی مدد سے یہ طے کیا جاتا ہے کہ کوئی شعر وزن میں ہے یا بے وزن۔ یہ علم بتاتا ہے کہ کون سے الفاظ کس ترتیب سے آئیں گے تو شعر میں ترنم پیدا ہوگا۔

2۔ علمِ قوافی (علمِ قافیہ): یہ شعر کے آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ (جیسے: آنا، جانا، پانا) کے اصولوں اور قاعدوں کا علم ہے۔ غزل میں ردیف کا استعمال اور ہم قافیہ الفاظ کا چناؤ اسی علم کے تابع ہے۔

مختصر یہ کہ کسی بھی کلام کو شعر کی شکل دینے کے لیے ”علمِ عروض اور علمِ قافیہ“ بنیادی شرط ہیں، اور اِس شعر کو خوبصورت، پرتاثیر اور شاہکار بنانے کے لیے علمِ بلاغت (بیان، معانی، بدیع) کا استعمال کیا جاتا ہے۔

 

بلاگ

موضوعات

اردو (50) urdu (38) قواعد (37) urdu grammar (32) صرف و نحو (19) صرف (18) گرامر (17) grammar (16) نحو (10) اصطلاحاتِ زبان (9) ترکیب نحوی (9) اسم (8) زبان (7) علم بیان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) شاعری (4) علمِ بلاغت (4) فعل (4) نظم (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) الفاظ (3) بلاغت و فصاحت (3) بلیغ (3) تخلص (3) علم (3) علم بدیع (3) علم عروض (3) علم معانی (3) فصاحت (3) فصیح (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) انشائیہ (2) بحر (2) بحر مزاحف (2) بدیع (2) بلاغت (2) بلیغ و فصیح (2) بیان (2) تانیث (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حذف (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) ردیف (2) روزمرہ (2) زحاف (2) سابقہ (2) سابقے (2) ساکن (2) شعر (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم قافیہ (2) علم قوافی (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) قافیہ (2) قبض (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) متحرک (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) محذوف (2) مذکر (2) مرجع (2) مصرع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نثر (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) u (1) ، صرف (1) آراء (1) آزاد نظم، نثری نظم (1) آشوب شہر (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آپ بیتی (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استعارہ (1) استعارہ بالتصریح (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحات (1) اصطلاحی (1) اصناف (1) اصناف نظم (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) افسانوی نثر (1) افسانہ (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انکاری (1) ایجاب (1) ایہام (1) بالکنایہ (1) بحر سالم (1) بحر ہزج (1) بدائع (1) بدایع (1) بند (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تبصرہ (1) تثنیہ (1) تحقیق (1) تخصیص (1) تذکرہ (1) ترائیلے (1) ترتیبی (1) ترجیع بند (1) ترک (1) ترکیب بند (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشبیہ،کنایہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تقطیع (1) تلمیح (1) تمنائی (1) تنسیق (1) تنقید (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) ثلاثی (1) جار (1) جدید (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حرف تاسیس (1) حرف دخیل (1) حرف ردف (1) حرف روی (1) حرف قید (1) حرف مزید (1) حرف نائرہ (1) حرف وصل، حرف خروج (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حسن تعلیل (1) حسن مطلع (1) حصر (1) حمد (1) خاکہ (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) خفیف (1) داستان (1) دال (1) دال اور مدلول (1) درجات صفت (1) دلالت (1) دلالت التزامی (1) دلالت تضمنی (1) دلالت حقیقی (1) دلالت ضمنی (1) دوہا (1) ذومعنی (1) رائے (1) رباعی (1) ربط (1) رجز (1) رمل (1) رموز اوقاف (1) رنگین نثر (1) روزنامچہ (1) رپورتاژ (1) ریختی (1) زبر (1) زمین (1) زیر (1) سالم (1) سانیٹ (1) سبب (1) سخن (1) سریع (1) سفر نامہ (1) سلام (1) سوانح عمری (1) سکتہ (1) سکون (1) شاعری، بیت، شعر (1) شاہ بیت (1) شخصی (1) شرط (1) شعری (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صنائع (1) صنائع لفظی (1) صنائع معنوی (1) صنعت (1) صنعت تضاد (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عروض (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علم بلاغت کی شاخیں (1) عَلم (1) غزل (1) غیر افسانوی نثر (1) فاصلہ (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) قدح (1) قسم (1) قصر (1) قصہ (1) قصیدہ (1) قطعہ (1) قمری (1) قو (1) لغوی (1) لف و نشر (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) ماہیا (1) مبالغہ (1) مبتدا (1) متدارک (1) متروک (1) متروک الفاظ (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) متقارب (1) مثبت (1) مثمن (1) مثنوی (1) مجاز (1) مجاز مرسل (1) مجازی (1) مجتث (1) مجروری (1) محاورہ (1) مخمس (1) مد (1) مدلول (1) مذکر سالم (1) مراعاۃ النظیر (1) مرثیہ (1) مرصع (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مزاحف (1) مستزاد، ہائیکو (1) مستقبل (1) مسجع (1) مسدس (1) مسمط (1) مشار (1) مصدر (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مضمون (1) مطابقت (1) مطلع (1) مطلق (1) معانی (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقبوض (1) مقداری (1) مقصور (1) مقصورہ (1) مقطع (1) ممدوہ (1) مناجات (1) منفی (1) منقبت (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکتوب نگاری (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ناول (1) ناولٹ (1) نثر عاری (1) نثر مرجز (1) نثر مرسل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نظم جدید، پابند نظم (1) نظم معرا (1) نعت (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) واسوخت (1) وتد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) ڈراما (1) کافی (1) کالم (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) گیت (1) ہجا (1) ہجو (1) ہزل (1) یادداشت (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *