علم قوافی(علم قافیہ)
علمِ قافیہ
علمِ عروض کا وہ اہم حصہ ہے جس میں شعر کے آخر میں آنے والے قافیے کی ساخت، حروف، حرکات،
ان کے باہمی تعلق اور محاسن و عیوب کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے قافیے کی
صحت کو پرکھا جاتا ہے۔
لغوی معنی: قافیہ عربی زبان کے
مادہ ”ق ف و(قفو)“ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ”پیچھے آنے والا“ یا ”پیروی کرنے والا“۔
اصطلاحی معنی: شعر کے آخر میں ردیف سے پہلے آنے والے ان الفاظ یا صوتی اجزا کو قافیہ کہتے ہیں
جن میں مخصوص حروف اور حرکات کی باہمی یکسانی پائی جائے۔
مثال: مرزا غالب کی مشہور غزل
کا مطلع اور اسی غزل کا اگلا شعر ؛
؎ کوئی
امید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت
کا ایک دن معین ہے نیند
کیوں رات بھر
نہیں آتی
ان اشعار شعر میں الفاظ ”بر“ ، ”نظر“ اور ”بھر“ قافیہ ہیں۔یہ الفاظ
ہم آواز اور ہم وزن ہیں۔ ان کے آخر میں حرفِ روی (ر) مشترک ہے۔
قافیہ اور ردیف کا فرق: قافیہ مخصوص صوتی اصولوں کا پابند ہوتا ہے (جیسے بر، نظر، بھر)،
جبکہ ردیف وہ لفظ یا الفاظ ہیں جو قافیے کے بعد ہو بہو دہرائے جاتے ہیں ۔جیسے ”نہیں آتی“
حروفِ قافیہ
روایتی
علمِ قافیہ میں قافیے کے 9 حروف بیان کیے جاتے ہیں۔ ان میں حرفِ روی کو مرکزی اور بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ چار حروف اس سے پہلے
آتے ہیں اور چار حروف اس کے بعد آتے ہیں۔
الف: حرفِ روی (مرکزی حرف)
یہ قافیے کا بنیادی اور
لازمی حرف ہے جس پر قافیہ قائم ہوتا ہے۔ مثال: چمن، سمن،وطن ۔ ان الفاظ میں ”ن“ حرفِ روی ہے۔
جناب، کتاب، خواب۔ ان الفاظ
میں ”ب“حرفِ روی ہے۔
ب: حرفِ روی سے پہلے آنے والے(4) حروف
1۔حرفِ ردف:وہ حرفِ علت (الف، و، ی) جو حرفِ روی سے فوراً پہلے آئے۔
مثال: کمال-ک م ا ل (ا = ردف، ل = روی)، نور-ن و ر (و = ردف، ر = روی)۔
2۔حرفِ قید: وہ ساکن حرف جو حرفِ
روی سے فوراً پہلے آئے (حروفِ علت کے علاوہ)۔
مثال: تخت-ب خ ت۔ سخت-س خ ت (خ = قید، ت = روی)۔
3۔ حرفِ دخیل: حرفِ تاسیس اور حرفِ
روی کے درمیان آنے والا متحرک حرف۔
مثال: عادِل-عادل۔ کامِل- کام ل (د اور م = دخیل)۔
4۔ حرفِ تاسیس: وہ ”الف“جو حرفِ
روی سے پہلے آئے، اور اس الف اور روی کے درمیان ایک متحرک حرف موجود ہو۔مثال: عادِل-عادل۔ کامِل- کامل (ا = تاسیس، ل = روی)۔
ج: حرفِ روی کے بعد آنے والے(4) حروف
1۔حرفِ وصل: حرفِ روی کے فوراً بعد
آنے والا حرف۔ جیسے ”کیا“میں روی ”ی“کے بعد ”ا“وصل ہے۔
2۔ حرفِ خروج: حرفِ وصل کے بعد آنے
والا حرف۔جیسے؛ ”دِلوں “ اس
میں ”ل“ حرفِ روی ہے، ”و“حرفِ وصل ہے، اور وصل کے بعد آنے والا”ں“(نون غنہ) حرفِ
خروج ہے۔
3۔حرفِ مزید:
حرفِ خروج کے بعد آنے والا حرف۔جیسے؛ ”نیکیوں“ اصل لفظ ”نیک“ہے۔
اس میں ”ک“حرفِ روی،”ی“
حرفِ وصل، ”و“
حرفِ
خروج، اور خروج کے بعد آنے والا ”ں“ (نون
غنہ) حرفِ مزید ہے۔
4۔حرفِ نائرہ:
حرفِ مزید کے بعد آنے والا حرف۔( اردو
شاعری میں اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔)
یاد رکھنے کی ترتیب:
تاسیس ⬅️ دخیل ⬅️ ردف ⬅️ قید ⬅️ روی ➡️ وصل ➡️ خروج ➡️ مزید ➡️ نائرہ
قید۔ ردف۔ اور دخیل عموماً ایک ساتھ نہیں آتے،
یہ ایک دوسرے کی جگہ لے سکتے ہیں۔
حرکاتِ قافیہ
علمِ قافیہ
میں حروف پر لگنے والی زبر، زیر اور پیش کو 6 مخصوص نام دیے گئے ہیں:
1۔ رَس: الفِ تاسیس سے پہلے آنے
والے حرف کی حرکت (ہمیشہ زبر)۔ جیسے؛ ظَاہر اور مَاہر میں (ظ) اور (م) کی زبر۔
2۔ اِشباع: حرفِ دخیل کی حرکت۔
جیسے؛ چادَر، نادَر میں دخیل حرف (د) کی زبر۔
3۔ حَذو: حرفِ ردف یا حرفِ قید
سے پہلے آنے والے حرف کی حرکت۔ جیسے؛ تَخت، سَخت میں (ت) اور (س) کی زبر۔حذو دراصل رَوی سے پہلے آنے والی حرکت کی یکسانیت سے متعلق اصطلاح ہے۔
4۔توجیہ: حرفِ رویِ ساکن سے پہلے آنے والے حرف کی حرکت (اگر ردف یا
قید نہ ہو)۔ جیسے؛ عَلَم، قَلَم میں روی (م) سے پہلے (ل) کی زبر۔
5۔مَجریٰ: حرفِ روی اگر متحرک
ہو، تو اس کی اپنی حرکت۔ جیسے؛ حیرانی،
پیشانی میں روی (ن) کی زیر۔
6۔نفاذ: حرفِ وصل اور اس کے
بعد آنے والے حروف کی حرکات۔جیسے؛ علامہ اقبال کا مشہور شعر؛
؎ عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں
میں
اس
شعر میں ردیف ”میں“ ہے، اور قافیے ”جوانوں“ اور "آسمانوں“
ہیں۔
حرفِ روی:ان الفاظ کی اصل (جوان،
آسمان) کا آخری بنیادی حرف”ن“ حرفِ روی ہے۔
حرفِ وصل:حرفِ روی (ن) کے
فوراً بعد جڑنے والا حرف ”و“ حرفِ وصل ہے۔
حرفِ خروج:
وصل (و) کے بعد آنے
والا حرف ”ں“(نون
غنہ) حرفِ خروج ہے۔
نفاذ کا اطلاق: یہاں حرفِ وصل (و) اور حرفِ
خروج (ں) پر جو حرکت یا مخصوص صوتی کیفیت آئی ہے
(یعنی ”وں“ کی مشترکہ آواز)، وہ ”نفاذ“ کہلاتی ہے۔
عیوبِ قافیہ (قافیے کی
خامیاں)
مقررہ
اصولوں کے خلاف کی جانے والی تبدیلی کو عیبِ
قافیہ کہتے ہیں۔ اس کی بنیادی
اقسام یہ ہیں:
1۔ اِکفا (حرفِ روی کا بدل جانا): حرفِ روی میں اختلاف پیدا کرنا۔
مثال: کتاب اور خواب کے ساتھ کوئی ایسا
لفظ لانا جس کا آخری حرف ب نہ ہو۔
2۔ سِناد (ردف یا قید کا بدل جانا): ردف یا قید کے حروف میں اختلاف۔
مثال: انار اور نور (ایک میں الف اور
دوسرے میں واؤ بطور ردف آ گیا)۔
3۔ اِقوا (حرکت کا بدل جانا): حرکتِ حذو یا حرکتِ توجیہ میں اختلاف (زبر کی جگہ زیر یا پیش
لانا)۔
مثال: جَست (زبر) اور جُست (پیش) کو ہم قافیہ کرنا۔
4۔ اِیطا (الفاظ کی تکرار): قافیے کے مشترک حصے کو اس طرح لانا جو غیر ضروری تکرار پیدا کرے۔
اس کی دو قسمیں ہیں:
ایطائے جلی (واضح عیب): مشترک حصے کو ہٹانے سے باقی الفاظ ہم قافیہ نہ رہیں۔ جیسے دردمند اور حاجتمند (مند ہٹانے سے درد
اور حاجت قافیہ نہیں رہتے)۔
ایطائے خفی (چھپا ہوا عیب): ظاہری طور پر لفظ جڑا
ہوا محسوس ہو مگر قواعد کی رو سے لاحقہ ہو۔ جیسے دانا اور بینا
(ان میں ”ا“ لاحقہ ہے)۔
نوٹ:جدید ناقدین اسے عیب ماننے میں اختلاف کرتے ہیں۔
5۔ قافیۂ معمولہ(جوڑنا یا توڑنا): ضرورتِ شعری کے تحت
الفاظ کو توڑ کر یا جوڑ کر زبردستی قافیہ بنانا۔
قواعد کی رو سے قافیۂ معمولہ کی دو مشہور
صورتیں (اقسام) ہیں؛
معمولہ
ترکیبی (الفاظ کو جوڑ کر قافیہ بنانا) اور
معمولہ تحلیلی (لفظ کو توڑ کر قافیہ بنانا)۔
ان دونوں کی نہایت آسان اور واضح مثالیں درج ذیل ہیں:
1۔ قافیۂ معمولہ ترکیبی (الفاظ کو جوڑ کر قافیہ بنانا): اس
صورت میں شاعر ایک مکمل اور اکلوتے لفظ کا قافیہ دو الگ الگ لفظوں کو آپس میں جوڑ
کر بناتا ہے۔مثال کے طور پر؛
چُپکے: یہ ایک مکمل اور اکیلا لفظ ہے۔ شَب کے :یہ دو الگ الگ الفاظ ہیں: شب + کے
اب اگر کوئی شاعر انہیں ہم قافیہ کرے گا تو وہ دو لفظوں (شب + کے) کی آواز کو جوڑ
کر ایک لفظ (چپکے) کے برابر لائے گا۔
مثال: ؎ وہ جو بیٹھے ہیں میری محفل میں چپکے
میں نے دیکھے ہیں سب تماشے شب کے
اس شعر میں”چپکے“ کا قافیہ زبردستی ”شب کے“کے ساتھ باندھا گیا ہے، یہ قافیۂ معمولہ ترکیبی ہے۔
اسی طرح:
دِلبر (ایک لفظ) کا قافیہ مِل کر (دو
الفاظ) کے ساتھ باندھنا۔
جانور (ایک لفظ) کا قافیہ بام پر (دو الفاظ: بام+پر) کے ساتھ باندھنا۔
2۔ قافیۂ معمولہ تحلیلی (لفظ کو توڑ کر
قافیہ بنانا): اس صورت میں شاعر ضرورتِ شعری کے تحت ایک ہی لفظ کو بیچ میں
سے توڑ دیتا ہے۔ وہ اس کے پہلے حصے کو ”قافیہ“ مان
لیتا ہے اور پچھلے حصے کو کاٹ کر ”ردیف“ کا
حصہ بنا دیتا ہے۔
مثال : مؔیر کی غزل کا مطلع ہے؛
؎ چھن گیا سینہ بھی، کلیجا
بھی یار کے تیر، جان لے جا
بھی
اس میں ”کلیجا“ اور ”بھیجا“جیسے
الفاظ کے ذریعے قافیۂ معمولۂ تحلیلی کی مثال
بیان کی گئی ہے۔
اسے یوں سمجھیں: کلیجا
←کلی + جا بھیجا ←بھی + جا
یہاں ”کلی/بھی“قافیہ
کے حصے میں آتے ہیں، جبکہ ”جا“ردیف”جا بھی“ کا
حصہ بن جاتا ہے۔ یعنی ایک ہی لفظ کو توڑ کر اس کے ایک حصے کو قافیہ اور دوسرے حصے
کو ردیف میں شامل کیا گیا ہے۔ یہی قافیۂ معمولۂ
تحلیلی ہے۔
نوٹ: قافیۂ
معمولۂ تحلیلی کلاسیکی علمِ قافیہ میں عیوبِ قافیہ میں شمار ہوتا ہے، تاہم
اردو کے اساتذہ نے اسے شعری ضرورت اور
صنعتِ لفظی کے طور پر بھی استعمال کیا ہے؛ اس لیے اسے ہر حال میں شعری کمزوری قرار
دینا درست نہیں۔
õ












0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔