نثر
نثر کے لغوی معنی ہیں، ”پراگندہ کرنا “ یا
”بکھیرنا“۔ ایسی تحریر جس میں خیالات اور جذبات کو شعر کی طرح کسی مخصوص بحر، وزن،
قافیہ اور ردیف کی پابندی کے بغیر بیان کیا جائے، نثر
کہلاتی ہے۔
نثر کی اقسام بلحاظ قافیہ، وزن
اور آہنگ
اردو کے ابتدائی دور میں اردو نثر ، عربی اور فارسی کے زیر اثر لکھی گئی ۔ اس لیے الفاظ
کی ساخت، سجاوٹ اور صوتی آہنگ (قافیہ و وزن) کا خاص لحاظ رکھا جاتا تھا۔ اس لحاظ سے نثر کی درج ذیل چار قسمیں ہیں؛
1۔ نثر مُقفّیٰ و مُسجّع 2۔ نثر مُرَصَّع 3۔
نثر مرجزّ 4۔ نثر عاری
1۔ نثر مقفّیٰ و مسجّع:
مسجّع کا لفظ”سجع“سے
نکلا ہے جس کے معنی "کبوتر کی آواز“ یا "ہم آواز ہونا“کے ہیں۔ مقفّٰی کے
معنی "قافیہ دار“ ہیں۔وہ نثر جس کے فقروں (جملوں) کے آخر میں اشعار کی طرح ہم
آواز الفاظ (قافیہ / سجع) کا التزام کیا گیا ہو، لیکن فقرے پوری طرح ہم وزن نہ
ہوں۔ کلام کو خوبصورت اور مدھر بنانے کے لیے یہ تکنیک پرانے زمانے میں بہت مقبول
تھی۔ قدیم داستانوں (جیسے رجب علی بیگ
سرور کی ”فسانہ عجائب“) اور مرزا غالب کے ابتدائی خطوط میں اس کا بکثرت استعمال
ملتا ہے۔
مثال:جو شخص دانا ہے، وہ ہر حال میں بینا
ہے۔ (یہاں دانا اور بینا قافیہ / سجع ہیں)۔
2۔ نثرِ مُرَصَّع : ”مرصع‘‘ کے لغوی
معنی " جواہرات سے جڑا ہوا، آراستہ اور
مزین" کے ہیں۔ نثرِ مرصع وہ نثر ہے جس کے فقروں میں باہم مقابل الفاظ ہم
وزن اور ہم قافیہ لائے جائیں۔ اس میں الفاظ اس طرح ترتیب دیے جاتے ہیں کہ نثر
میں موسیقیت، آہنگ اور لفظی حسن پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی بنا پر اسے سجی ہوئی یا آراستہ
نثر بھی کہا جاتا ہے۔یہ نثر کی سب سے
مشکل، اعلیٰ اور سجی ہوئی قسم ہے۔ اس میں نثر کے ایک فقرے کا تقریباً ہر لفظ دوسرے
فقرے کے مدمقابل لفظ کے بالکل ہم وزن ہونے کے ساتھ ساتھ ہم
قافیہ بھی ہوتا ہے۔ اس قسم کی نثر میں
عموماً عربی و فارسی کے ثقیل الفاظ استعمال ہوتے ہیں اور یہ صنائع لفظی کی معراج
سمجھی جاتی ہے۔ قدیم داستانوں اور خطوط میں اس کا استعمال عام تھا۔
مثال نمبر1: اس کی ذات، باعثِ برکات ہے، اور اس کی بات، چشمۂ حیات ہے۔
وضاحت: اس میں”ذات-بات“ اور ”برکات-حیات“بالکل
ہم وزن اور ہم قافیہ ہیں، جبکہ”باعث“ اور ”چشمہ“ آپس میں ہم وزن لائے گئے ہیں۔
مثال نمبر2 (کامل
مرصع):وہ بہارِ شادمانی، یہ نگارِ کامرانی۔
وضاحت: اس
میں”وہ/یہ“، ”بہار/نگار“، اور”شادمانی/کامرانی“— ہر جوڑا ہم وزن ہونے کے ساتھ ساتھ
مکمل ہم قافیہ بھی ہے۔
3۔ نثرِ مُرَجَّز :
لفظ ”مرجز“ بحرِ رجز (عروضی وزن) سے نکلا ہے، جس کے
معنی ہیں ”وزن میں لائی گئی“۔یہ وہ نثر ہے جس کی عبارت مکمل طور پر شاعری کی کسی
مقررہ بحر (عروضی وزن) پر پوری اترے۔ اس میں قافیے کا ہونا یا الفاظ کا آپس میں
متوازی ہونا لازمی نہیں، لیکن جملے کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ ظاہراً کلام
نثر ہوتا ہے مگر پڑھنے میں اس پر وزنِ شعری (بحر) کا گمان ہوتا ہے۔
مثال: عِلم اک نُور ہے، جہل تاریک ہے۔
وضاحت: یہ ایک عام نثری جملہ ہے، لیکن علمِ عروض کی رو سے یہ پورا
جملہ ایک شعری وزن (فاعِلاتُن فَعَل / فاعِلاتُن فَعَل) پر بالکل پورا اتر رہا ہے۔
اس لیے اسے نثرِ مرجز کہا جائے گا۔
4۔ نثر
عاری(نثرِ مُرسَل):
مرسل کے
لغوی معنی ”چھوڑی ہوئی “ یا ”آزاد کی گئی“ کے ہیں، جبکہ عاری کا مطلب
”خالی“ ہے۔یہ وہ سادہ اور فطری نثر ہے جس میں الفاظ کو قافیہ، ردیف (سجع) اور وزن
کی قید سے بالکل آزاد رکھا جاتا ہے۔ اس میں مصنف کا سارا زور الفاظ کی سجاوٹ کے
بجائے بات کو صاف اور سیدھے انداز میں سمجھانے پر ہوتا ہے۔آج کل کی تمام جدید نثر
(مضامین، افسانے، ناول، تنقید اور روزمرہ کی گفتگو)
نثرِ مرسل ہی کی مثال ہے۔
مثال: علی صبح سویرے اٹھا اور اپنے کام پر
چلا گیا۔ (اس میں کوئی قافیہ یا وزن نہیں)۔
نوٹ: اگرچہ کلاسیکی بلاغت میں مندرجہ بالا چار
اقسام ہی اصل ہیں، لیکن بعض جدید نقاد ”الفاظ کے اسلوب “کے
لحاظ سے نثر کی یہ تین اقسام بھی بیان کرتے ہیں؛
1۔ سادہ نثر:
جس میں عام فہم، روزمرہ اور آسان الفاظ استعمال ہوں۔
2۔ رنگین نثر: جس میں استعارہ، تشبیہ اور مجاز مرسل
کا بکثرت استعمال ہو (جیسے ابوالکلام آزاد کی نثر)۔
3۔ مرصع / مقفّٰی نثر: جس میں قافیہ بندی
اور مشکل الفاظ کی سجاوٹ ہو۔
نثر کی اہم خصوصیات:
پابندی سے آزادی: اس
میں شاعری کی طرح وزن اور قافیہ ملانا ضروری نہیں ہوتا۔
وضاحت : اس
میں بات کو سیدھے سادھے، واضح اور مدلل انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔
وسعت: یہ
روزمرہ کی گفتگو، نصابی کتب، سائنسی و علمی مضامین سے لے کر ادبی شاہکاروں تک ہر
جگہ استعمال ہوتی ہے۔
نثر کی اہم اصناف (قسمیں)
نثر
کی مختلف ادبی صورتوں کو اصنافِ نثر کہا جاتا ہے۔ اردو ادب میں افسانہ، ناول،
داستان، ڈراما، مضمون، انشائیہ، خاکہ، سوانح عمری، خودنوشت (آپ بیتی)، سفرنامہ،
مکتوب نگاری، تنقید، تحقیق، طنز و مزاح، کالم اور تبصرہ وغیرہ اہم اصنافِ نثر ہیں۔ ہر صنف کا اپنا موضوع،
مقصد، اسلوب اور فنی خصوصیات ہوتی ہیں۔
بنیادی
طور پر نثر کی تمام اصناف کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
1۔ افسانوی نثر (Fictional Prose) : وہ نثر جس کی بنیاد تخیل،
قصے، اور کہانی پر ہو۔ اس کا بنیادی مقصد قاری کو کہانی کے ذریعے کوئی تاثر یا
پیغام دینا ہوتا ہے۔
1۔ داستان، 2۔
ناول، 3۔ ناولٹ، 4۔ افسانہ
5۔ ڈراما
2۔ غیر افسانوی نثر (Non-Fictional Prose) : وہ نثر جس کی بنیاد
تخیلاتی کہانی کے بجائے حقائق، حقیقی واقعات، اور افکار پر ہو۔ اس کا مقصد معلومات
فراہم کرنا، حقائق بیان کرنا یا کسی نظریے کی وضاحت کرنا ہوتا ہے۔
1۔ مضمون 2۔ انشائیہ
3۔ خاکہ
4۔ سوانح عمری 5۔ خودنوشت (آپ
بیتی) 6۔ یادداشت 7۔
روزنامچہ 8۔ سفرنامہ
9۔
رپورتاژ 10۔
مکتوب نگاری (خطوط) 11۔تنقید 12۔
تحقیق 13۔ کالم 14۔
تبصرہ 15۔ تذکرہ 16۔ مقالہ
17۔ مُکالمہ 18۔ لغت نویسی ۔
اصنافِ نثر (افسانوی)
اردو نثر کی افسانوی اصناف کی تفصیل و توضیح درج ذیل ہے؛
1۔ داستان
داستان ایک طویل نثری قصہ ہے جس
میں حیرت انگیز، تخیلاتی، مہماتی اور بعض اوقات مافوق الفطرت واقعات بیان کیے جاتے
ہیں۔
خصوصیات: داستان
طویل ہوتی ہے۔تخیل کی فراوانی ہوتی ہے۔حیرت انگیز واقعات ہوتے ہیں۔جادو، طلسم، جنگ
اور مہمات کا ذکر ہو سکتا ہے۔ واقعات کا سلسلہ وسیع ہوتا ہے۔
مثال: باغ و بہار—میر امن دہلوی فسانہ عجائب—رجب علی بیگ سرور
داستانِ
امیر حمزہ—مختلف داستان گو بوستانِ
خیال—میر تقی خیاؔل
2۔ ناول
ناول نثر کی ایک طویل داستانی
صنف ہے جس میں انسانی زندگی، معاشرت، کرداروں، واقعات اور مسائل کو تفصیل کے ساتھ
بیان کیا جاتا ہے۔
خصوصیات: (1)طویل
نثری تخلیق ہوتی ہے۔ (2)متعدد کردار ہو
سکتے ہیں۔ (3)واقعات کا وسیع سلسلہ ہوتا
ہے۔
(4)مختلف ذیلی کہانیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ (5)معاشرتی اور نفسیاتی مسائل بیان کیے
جا سکتے ہیں۔
(6)کرداروں کی تفصیلی تشکیل
ہوتی ہے۔
مشہور ناول نگار: ڈپٹی نذیر احمد۔ مرزا ہادی
رسوا۔ پریم چند۔قرۃ العین حیدر۔ عبداللہ حسین
۔ وغیرہ
مشہور ناول:مراۃ العروس — ڈپٹی نذیر احمد۔ امراؤ
جان ادا — مرزا ہادی رسوا۔ آگ کا
دریا — قرۃ العین حیدر
3۔ ناولٹ
ناولٹ افسانوی نثر کی ایک صنف
ہے جو حجم کے اعتبار سے افسانے سے طویل اور ناول سے مختصر ہوتی ہے۔ اس میں عموماً
ایک مرکزی واقعے، کردار یا مسئلے کو نسبتاً تفصیل سے پیش کیا جاتا ہے۔
ناولٹ انگریزی ادب کی اصطلاح ہے، جو ہیئت
(ساخت) اور طوالت کے اعتبار سے ناول اور مختصر افسانے کی درمیانی کڑی ہے۔ اس
میں کہانی ایک ہی مرکزی خیال کے گرد گھومتی ہے، ذیلی کہانیاں نہیں ہوتیں اور
کرداروں کی تعداد محدود ہوتی ہے، تاہم افسانے کی نسبت کرداروں کا نفسیاتی ارتقا
اور حالات کی تفصیل زیادہ گہرائی سے بیان کی جاتی ہے۔
خصوصیات: پلاٹ کا اکہرا پن: اس
میں ناول کی طرح گنجلک اور پیچیدہ پلاٹ نہیں ہوتا بلکہ کہانی سیدھی اور ایک ہی رخ
پر چلتی ہے۔طوالت: عام
طور پر ناولٹ طویل نہیں ہوتا، جسے ایک یا دو نشستوں میں باآسانی پڑھا جا سکتا ہے۔
وحدتِ تاثر: افسانے
کی طرح ناولٹ میں بھی تاثر کی وحدت برقرار رہتی ہے، مگر اس کا پھیلاؤ افسانے سے
زیادہ ہوتا ہے۔
اردو کے مشہور
مصنفین اور ان کے شاہکار ناولٹ
راجندر سنگھ
بیدی: ان
کا ناولٹ ”ایک
چادر میلی سی“ قرۃ
العین حیدر: ” سیتا ہرن“ اور”اگلے جنم موہے بٹیا نہ
کیجو“
عصمت چغتائی: ان کا ناولٹ ”ضدی“اور ”دل کی دنیا“ عبداللہ حسین: ان کا ناولٹ ”قید“
ممتاز مفتی: ان کا تحریر کردہ ناولٹ ”چُپ“
وضاحتی
نوٹ: نصابی
تفہیم کے لیے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ناولٹ کوئی "نامکمل
ناول" یا "طویل افسانہ" نہیں
ہے، بلکہ یہ اپنے مخصوص مزاج، رفتار اور تکنیک کے لحاظ سے ایک مکمل اور آزاد صنفِ
نثر ہے۔
4۔ افسانہ
افسانہ
نثر کی ایک مختصر تخلیقی صنف ہے جس میں کسی ایک واقعے، مسئلے یا خیال کو محدود
کرداروں اور واقعات کے ذریعے مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
خصوصیات: (1)مختصر
ہوتا ہے۔ (2) عموماً ایک مرکزی واقعہ
یا خیال ہوتا ہے۔ (3)کردار محدود ہوتے
ہیں۔
(4) پلاٹ مربوط ہوتا ہے۔ (5)اختتام مؤثر
ہو سکتا ہے۔ (6) زندگی کے کسی ایک پہلو کی
عکاسی کرتا ہے۔
مشہور افسانہ نگار:
سعادت حسن منٹو- پریم چند۔ کرشن چندر۔ عصمت چغتائی ۔ غلام
عباس۔ وغیرہ
مثال: ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“— سعادت
حسن منٹو، ”کتبہ“– غلام عباس
5۔ ڈراما
ڈراما
نثر یا نظم کی ایسی صنف ہے جس میں کہانی کو کرداروں کے مکالموں، حرکات اور مناظر
کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔
خصوصیات: 1۔
کردار ہوتے ہیں۔ 2۔ مکالمے بنیادی اہمیت
رکھتے ہیں۔ 3۔مناظر اور اسٹیج کی ہدایات
شامل ہو سکتی ہیں۔
4۔ کہانی عملی صورت میں پیش کی جاتی ہے۔
5۔ المیہ، طربیہ، تاریخی اور سماجی
موضوعات ہو سکتے ہیں۔
مشہور ڈراما نگار:آغا حشر کاشمیری۔ امتیاز علی تاج۔ خواجہ معین الدین۔ اشفاق احمد۔ کرشن چندر۔ حبیب
تنویر۔ وغیرہ
مثال: رستم و سہراب—آغا حشر کاشمیری۔ انارکلی — امتیاز علی تاج۔ تعلیمِ بالغاں—خواجہ معین الدین۔
طوطا کہانی –اشفاق احمد۔ دروازہ—کرشن
چندر۔ آگرہ بازار—حبیب تنویر
غیر افسانوی اصنافِ نثر کو اگلی پوسٹ میں زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

