منگل، 24 دسمبر، 2019

قواعد اردو-22

0 comments
قارئین کرام آداب! آج ہم  حروف عطف کے بارے میں مزید کچھ معلومات پڑھیں گے۔ حروف عطف کی تعریف ہم اردو قواعد-17 میں پڑھ چکے ہیں۔ 

عطف کا لفظی معنی ہے؛ پھیرنا، موڑنا، گھمانا۔

"عطف " کیا ہے؟
اردو قواعد "عطف" کے مخصوص اصطلاحی معنی ہیں جس کے مطابق  "و"    اور  "اور“ وغیرہ کے ذریعے ایک کلمے یا جملے کو دوسرے کے ساتھ ملانا یا ایک حکم میں شامل کرنا عطف کہلاتا ہے۔ جیسے  مجھے کاغذ اور قلم لا دو۔ اس نے  اپنے روز و شب کی روداد بیان کی۔ مرد و زن سب قانون کی نظر میں برابر ہیں۔

جس پر عطف کیا جاتا ہے اس معطوف علیہ کہتے ہیں، جس کا عطف کرتے ہیں وہ معطوف کہلاتا ہے، معطوف حرف عطف کے بعد آتا ہے اور معطوف علیہ پہلے۔"

حروف ِعطف
یہ حروف دو اسموں یا جملوں کو ملانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً کھانا کھا کر مجھے خط سنا دو۔ کتاب اور اخبار لے آؤ۔  ان جملوں میں"کر" اور "اور" حروف عطف ہیں۔ اور۔ و۔ نیز۔ بھی۔ کر۔ پھر حروف عطف ہیں.
عطفیہ
دو کلموں یا جملوں کو ملانے والا حرف عطفیہ/حرف عطف کہلاتا ہے۔ جیسے  مجھے کاغذ اور قلم لا دو۔  اس جملے میں "اور"  عطفیہ/حرف عطف ہے۔
معطوف
وہ کلمہ جو حرف عطف کے بعد واقع ہو۔ جیسے  مجھے کاغذ اور قلم لا دو۔   اس جملے میں "قلم" معطوف ہے۔
معطوف الیہ/علیہ
وہ کلمہ یا کلام جو حرف عطف سے پہلے واقع ہو اور جس پر عطف کیا جائے۔  جیسے  مجھے کاغذ اور قلم لا دو۔   اس جملے میں "کاغذ" معطوف الیہ/علیہ ہے۔
معطوفہ
 وہ جملہ جس میں حرف عطف پایا جائے۔ جیسے  مجھے کاغذ اور قلم لا دو۔ 
ماضی معطوفہ
وہ ماضی جس میں ایک فعل کے بعد دوسرے فعل کا ہونا ظاہر ہو، جیسے  وہ کتاب پڑھ کر سو رہا۔  علی دکان بند کر کے گھر چلا گیا۔
حالیہ معطوفہ

فعل کی وہ صورت جو اپنے وقوع کے بعد دوسرے فعل کے وقوع پر دلالت کرے اردو میں فعل اول کے بعد علامت "کر" یا" کے" لگا کر دوسرے فعل سے سلسلہ قائم کر دیتے ہیں پہلا معطوف علیہ کہلاتا ہے دوسرا معطوف اور "کر" یا "کے" حرف عطف۔ جیسے  اسے ساری کہانی سنا کر وہ رو دیے۔

مرکب عطفی

وہ مرکب کلام جو معطوف اور معطوف الیہ سے مل کر بنے۔

مرکب عطف بیان/ عطف بیان

جب دو اسم کلام میں اس طرح بولے جائیں کہ دوسرا اسم پہلے کی مزید وضاحت/توضیح کرتا ہو تو اسے عطف بیان کہتے ہیں۔

یا

 وہ مرکب ترکیب جو بیان اور مبین سے مل کر بنے۔  اس میں ایک اسم دوسرے خاص اسم کی وضاحت کرتاہے اور یہ دوسرا اسم پہلےکی نسبت زیادہ مشہور ہوتا ہے۔ پہلے اسم کو مبین اور دوسرے کو بیان کہتے ہیں۔ دوسرا اسم عام طور پر عُرف، لقب یا تخلص ہوتا ہے جیسے مرزا اسداللہ خان غالؔب۔ الطاف حسین حاؔلی۔   






قواعد اردو-21

3 comments

لفظ کے معنی
اردو زبان میں  ہر با معنی لفظ کلمہ کہلاتا ہے۔ ہرکلمےکاایک مخصوص مطلب ہوتا ہے۔ اردو زبان میں جملے کے اندر کسی  کلمے کے مختلف معنی/مطلب ہو سکتے ہیں ۔  تحریر کے سیاق و سباق کے مطابق کوئی لفظ اپنی اصل سے مختلف معنی دیتا ہے ، یہ معنی عموماً 3 طرح کے ہوتے ہیں؛
 1۔لغوی معنی        2۔ اصطلاحی معنی                 مجازی معنی
1۔ لغوی معنی: یہ کسی لفظ کا حقیقی یا اصلی مطلب ہوتا ہے ۔   جیسے  گلاب بمعنی ایک پھول،  گھوڑا  بمعنی ایک جانور، قلم بمعنی لکھنے کا آلہ۔

2۔ اصطلاحی معنی: کسی لفظ کا ایسا استعمال جس میں اس کے اصل/لغوی معنی کی جگہ کوئی اور مخصوص  معنی عام ہو جائیں۔ جیسے "غزل" کا لفظی مطلب عورت سے بات ہے مگر عام مفہوم میں شاعری کی ایک صنف لی  جاتی ہے۔ اسی طرح  دست و گریباں کے لفظی معنی کی  جگہ  اصطلاحی معنی  جھگڑا / دشمنی مشہور و معروف ہیں۔

3۔ مجازی معنی:
کسی لفظ کے ایسے معنی جن کا اصل/حقیقی مطلب سے بہت دور کا تعلق ہو۔ جیسے   ماں بچے سے کہتی ہے تم میرے چاند ہو۔ اس جملے میں "چاند" کا  لفظ اپنے لغوی یا حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنوں میں "پیارا/محبوب/بیٹا"    استعمال ہوا ہے۔  اسی  طرح  لفظ "نرگس" ایک پھول کو کہتے ہیں لیکن مجازاً اس سے آنکھ مراد ہوتی ہے۔

اتوار، 2 دسمبر، 2018

قواعد اردو-20

1 comments
اردو صَوتیے
دنیا کی ہر زبان کی ابتدا  مخصوص آوازوں کی ادائیگی  سے ہوتی ہے۔ ہر زبان کے مخصوص صوتی زیر و بم ہوتے ہیں۔ حلق، زبان ، دانتوں اور ہونٹوں کے استعمال سے خاص آوازیں پیدا ہوتی ہیں جو حرف کہلاتی ہیں ۔ ان حروف سے الفاظ اور پھر ان الفاظ سے جملے تشکیل پاتے ہیں۔ ۔کوئی بھی زبان رسم الخط  کی محتاج نہیں ہوتی۔ ہر زبان تحریر کے بنا  زندہ رہ سکتی ہے۔ ہر زبان  کا اپنا  خاص  صوتی نظام ہوتا ہے۔  اس صوتی نظام کی بنیاد پر ہی زبانیں بولی اور سیکھی جاتی ہیں۔ کسی بھی زبان کو سمجھنے ، بولنے اور اس کے حسن سے لطف اندوز ہونے کے لیے  ان بنیادی آوازوں کا جاننا اشد ضروری ہے۔
اردو کا بھی ایک اپنا صوتی نظام ہے۔ اردو میں صوتیوں کی دو قسمیں ہیں؛
1۔ مصوتہ(حرف علت     ۔
Vowel)                      2۔ مصمتہ (حرف صحیح۔ Consonant)

1۔ مصوتہ(حرف علت     ۔ Vowel)
اگر کوئی آواز منہ کی اندرونی شکل میں تغیر و تبدل اور زبان کو مختلف  حالتوں میں استعمال کر کے اس طرح ادا کی جائے کہ آواز  منہ میں رکے بغیر باہر آئے  تو اس کلامی آواز کو "مصوتہ" کہتے ہیں۔ اردو میں صرف 3 حرفِ علّت پائے جاتے ہیں؛ "ا" الف، "و" واؤ اور "ی" ی۔
(-َ)               جیسے  اَب، کَب، سَب میں          الف کی بنیادی آواز
(
۔۔َ۔)                 جیسے آم، کام، خام، رات میں      دو الف کے برابر آواز
3۔(-ِ)                   جیسے اِس، دِل، جِن میں             ی کی بنیادی آواز
(۔ُ۔)               جیسے اُس، سُکھ، گُل میں             و کی بنیادی آواز
(-ِ)ی  :             جیسے کھیر، کیل، تیر۔          ان الفاظ میں "ی" تحریری علامت ہے جسے اصطلاح میں یائے معروف کہتے ہیں۔
(-ُ) و:               جیسے اُون، دور، خوب۔         ان الفاظ میں واؤ تحریری علامت ہے اصلاح میں اسے واؤ معروف کہتے ہیں۔
(-ِ)  ے:            جیسے  ایک، سیب، ریگ۔     ان الفاظ میں یے تحری علامت ہے اسے اصطلاح میں یائے مجہول کہتے ہیں۔
(-ُ) و  :             جیسے  دو، خول، بول ۔          ان الفاظ میں واؤ تحریری علامت ہے جسے اصطلاح میں  واؤ مجہول کہتے ہیں۔
(اَ) اَے :         جیسےکیسا، جیسا، پیسہ۔              ان الفاظ میں یے تحریری علامت ہے اصطلاح میں اسے یائے لین کہتے ہیں۔
10۔ (وَ) اَو      :     جیسے کَون، نو، سَو ۔             ان الفاظ میں واؤ تحریری علامت ہے ، اصطلاح میں اس واؤ کو واؤ لین کہتے ہیں۔
11۔ (آں):          جیسے سانس، بانس،کھانس، سانپ ۔ الف مدآ کے ساتھ نون غنّہ کی آواز ۔

2۔ مصمتہ (حرف صحیح۔ Consonant)
وہ کلامی آواز جو دہنی گزر گاہ میں کسی مقام پر مکمل یا جزوی طور پر رک کر یا رگڑ کھا  تی یا رُخ بدل کر نکلے  تو اسے "مصمتہ" کہا جاتا ہے۔ جیسے    ب، پ، ت، ٹ، ث، ج، چ، ح، خ، د، ڈ ،ذ، ر، ڑ ،ز، ژ، س ،ش، ص، ض، ط، ظ، ، غ، ف، ق ،ک ،گ، ل ،م ،ن ، ہ

قواعد اردو-19

9 comments
ایک سوال کا جواب : بحوالہ اردو قواعد-13
ایک گمنام  قاری نے لکھا ہے  کہ
"جمع سالم کی حالتیں اور جمع مکسر، جمع سالم کی مثالیں شیَر کر دیں ۔۔ مھربانی"

نوٹ:  یہ پوسٹ عربی قواعد سے تعلق رکھتی ہےاور ایک قاری کے سوال کے جواب میں تحریر کی گئی ہے۔اسے اردو قواعد میں شمار نہ کیا جائے اگرچہ  اردو قواعد  میں عربی الفاظ کی جمع انہی قواعد کے مطابق بنائی جاتی ہے۔
عربی میں جمع کی تین بنیادی اِقسام ہیں :
      1۔ جمع مذکر سالم            2۔ جمع مؤنث سالم           3۔ جمع مکسر 
1۔ جمع مذکر سالم: یہ جمع مذکر کے لیے ہوتی ہے ،اصل لفظ کے آخر میں کچھ حروف کا اضافہ کیا جاتا ہے۔  مثلاً     مسلم+ونَ=مُسلِمُونَ       کافر+ونَ=کافرُون َ
اسے بنانے کے لیے آخری حرف پر موجود حرکت (اعراب) کو ہٹا کر "پیش " لگایا جاتا  ہے ، اور واحد کے آخر میں "و" اور"زبر "والے   "ن " کا اضافہ کرنا ہوتا ہے ۔

2۔جمع مؤنث سالم: یہ جمع  مؤنث کے لیے ہوتی ہے۔ اصل لفظ کے آخر میں کچھ حروف(ات) کا اضافہ کیا جاتا ہے۔        مثلاً
مُسلمةٌ  سےمسلم+ات=مُسلِماتٌ ،حافظۃ سے  حافظ  +ات=حافِظات ٌ   طالبہ سے طالب  +ات=طالبات
اسے  بنانے کے لیے، واحد کے آخر میں موجود  " ۃ "سے پہلے والے حرف پر "زبر" ڈال دی جاتی ہے  اور "ة " کی جگہ "ا" اور   " ت " کا اضافہ کر کے آخر والے "ت " پر (دو پیش والی) تنوین"   ٌ "  لگا دیتے ہیں۔

نوٹ: جمع سالم کی عربی میں اعراب کے لحاظ سے مندرجہ ذیل 3حالتیں ہوتی ہیں
:
رفعی ۔(اگر لفظ مرفوع ہوتا ہو یعنی اس کے آخری حرف پر پیش ہو)
نصبی ۔(اگر لفظ منصوب ہو یعنی اس کے آخری حرف پر زبر ہو)
جری ۔(اگر لفظ مجرور ہو یعنی اس کے آخری حرف پر زیر ہو)

جمع مکسر وہ جمع جِس میں اِسم واحد کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے ، یعنی اصل لفظ میں تغیّر  کر کے نیا لفظ بنا لیا جاتا ہے۔
مثلا ،قَلم ٌ ، کی جمع ، اَقلام      رجل ، کی جمع             رِجَال         صالح ، کی جمع صُلُحاء
جمع  مُکسّر  عربی   اہل لغت کے ہاں معروف ہیں ۔  یہ مختلف اوازن کے مطابق بنائے جاتے ہیں۔
جمع مکسر کی دو اقسام ہیں؛
1۔ جمع قلت:یہ 3 سے 10 تک کی تعداد کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے 4 اوزان مشہور ہیں؛

             1۔ اَفعُل:           جیسے  نَفس سے اَنفُس،      ذِراع سے اَذرُع،            کفّ  سے اَکفُّ        وغیرہ
             2۔ اَفعَال:           جیسے جَدّ سے اَجدَاد،          ثَوب  سے اَثوَاب،            جَمَل سے اَجمَال          وغیرہ
             3۔اَفعِلَہ:             جیسے شَرَاب سے اَشرِبَہ،    غِذَاء سے اَغذِیہ،              طَعَام سے اَطعِمہ                   وغیرہ
             4۔فِعلَہ:              جیسے غُلَام سے غِلمَہ،           فَتی سے فِتیَہ،                  سَافِل سے سِفلَہ                             وغیرہ

2۔ جمع کثرت: یہ10سے زیادہ کی تعداد (لا محدود)کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں،  اس کے 
چند مشہور اوزان یہ ہیں؛

فُعَل۔                 جیسے احمر سے حُمَر۔           اَحوَر سے حُوَر۔                اسوَد سے سُوَد۔                    وغیرہ
فُعُل۔               جیسے کتاب سے کُتُب۔      عناق سے عُنُق۔               صبور سے صُبُر۔              وغیرہ
فُعَل۔                 جیسے غرفہ سے غُرَف ۔      کبریٰ سے کُبَر۔               صغریٰ سے صُغَر۔      وغیرہ
فِعَل۔               جیسے  قطعہ سے قطع۔         حجّہ سے حِجَج۔                   سیرت سے سِیَر                وغیرہ   
فُعَلَہ۔                جیسے ہاد سے  ہداۃ۔            قاض سے قضاۃ۔             غاز سے غذاۃ                       وغیرہ
اَفعِلاء۔             جیسے ولی سے اولیاء۔         نبی سے انبیاء۔                    حبیب سے احباء                وغیرہ
اَفعِلَہ۔               جیسے امام سے ائمہ۔          لباس سے البسہ۔              دُعا سے ادعیہ۔                            وغیرہ
فُعُول۔              جیسے عیب سے عُیُوب۔    عقد سے عقود۔               علم سے عُلُوم۔                          وغیرہ
فَعالِی۔              جیسے حاشیہ سے حواشی۔    اہل سے اہالی۔                 سعی سے مساعی۔                        وغیرہ
فِعلَان۔             جیسے اَخ سے اِخوان۔       غلام سے غِلمان۔              باغی سے بِغیان۔                        وغیرہ
اَفَاعِلَہ۔              جیسے استاد سے اساتذہ۔     ملعون سے ملاعنہ۔           تلمیذ سے تلامذہ۔                    وغیرہ
فُعَّال۔             جیسے عاشق سے عُشَّاق۔     فاجر سے فجَّار۔                 زاہد سے زُہَّاد۔                              وغیرہ
فُعَلَاء۔               جیسے ادیب سے اُدَبَاء۔       حکیم سے حُکَماء۔              خلیفہ سے خُلَفاء۔                    وغیرہ   
فَعَالٰی۔              جیسے صحرا سے صحاریٰ۔     خطا سے خطایا۔                یتیم سے یتامیٰ۔                            وغیرہ
فَعالِل اور فَعالیل۔          جیسے درہم سے دراہم ۔                         دینار سے دنانیر۔           وغیرہ
اَفَاعِل اور اَفاعَیل۔        جیسے  فضل سے افاضل۔                        اسلوب سے اسالیب۔     وغیرہ
تَفَاعِل اور تَفَاعِیل۔         جیسے تجربہ سے تجارب۔                         تسبیح سے تسابیح۔            وغیرہ
مَفَاعِل اور مَفَاعِیل۔      جیسے معیشہ سے معایش۔                         میثاق سے مواثیق۔         وغیرہ
فَوَاعِل اور فَواعِیل۔       جیسے خاتم سے خواتم۔                              طومار سے طوامیر۔         وغیرہ
فَعَائِل۔                         جیسے صحیفہ سے صحائف۔                        سحابہ سے سحائب۔            وغیرہ
فَعَالَی اور فُعَالَی۔              جیسے فتویٰ سے فتاویٰ۔                             عذرا سے  عذاریٰ۔           وغیرہ
فَعَالیّ۔                          جیسے کُرسیّ سے کَراسیّ۔                             قُمریّ سے قُماریّ۔             وغیرہ

نوٹ: عربی قواعد میں جمع مکسر کی دو حالتیں ہیں ؛
1۔عاقل           2۔غیر عاقل
عاقل:۔ عربی میں تین اجناس کے لیے استعمال ہوتا ہے:
1۔انسان                       2۔جن            3۔ فرشتے 
اگر جمع مکسر عاقل ہو تو اس کے ساتھ مذکر اور مؤنث دونوں کا معاملہ کیا جاسکتا ہے ۔
غیر عاقل:۔ اگر جمع مکسر غیر عاقل ہے یعنی انسان ،جن یا فرشتوں کے علاوہ کسی چیز کا ذکر ہے تو ہمیشہ مؤنث کا معاملہ کیا جائے گا۔

جمعہ، 8 دسمبر، 2017

قواعد اردو-18

2 comments
روزمرّہ
کسی زبان کا کلام جو اہلِ زبان کے اسلوبِ بیان، طریق اظہار اور گفتگو کے مطابق ہو روزمرّہ کہلاتا ہے۔ دو یا دو سے زیادہ الفاظ کے مرکبات جو اپنے حقیقی معنوں میں اہل زبان کے طریقے پر استعمال ہوں روزمرّہ کہلاتے ہیں۔ جیسے ”دوچار“ اور ”انیس بیس“ اہل زبان بولتے ہیں اس لیے یہ روزمرّہ کہلاتے ہیں۔ اس کے بر عکس اگر ”دو پانچ“ یا ”اٹھارہ بیس“ بولا جائے تو یہ روزمرّہ نہیں کہلائے گا۔ روزمرّہ کے استعمال سے کلام فصیح ہو جاتا ہے۔ اس مثال کو لیجئیے؛ ”بشیر و سلیم کو بیس روپے نقد اور علی اور سلمان کو چار کتابیں انعام میں ملیں۔“ یہ جملہ روزمرہ  کے خلاف ہے۔ اہلِ زبان اس جملے کو یوں بولتے ہیں؛  ”بشیر اور سلیم کو بیس بیس روپے نقد اور علی اور سلمان کو چار چار کتابیں انعام میں ملیں۔“  اسی طرح ”میں روز اسکول جاتا ہوں“ روزمرّہ ہے  لیکن ”میں دن اسکول جاتا ہوں“ روزمرّہ نہیں  بلکہ مہمل ہے۔ اگرچہ دن اور روز مترادف ہیں۔

محاورہ
الفاظ کا ایسا مجموعہ جس سے لغوی معنی کی بجائے ایک قرار یافتہ(مجازی) معنی نکلتے ہوں، محاورہ کہلاتا ہے۔  محاورے میں عموماً علامت مصدر ’’ نا‘‘ لگتی ہے جیسے اپنے منہ میاں مٹھو بننا، آب آب ہونا، سبز باغ دکھانا ۔ہاتھ بٹانا۔ ہاتھ مانگنا۔ گُل کھلانا۔طومار باندھنا۔
محاورے میں تذکیر و تانیت واحد و جمع اور ماضی و حال و مستقبل کے اعتبار سے حسب ضرورت اور حسب موقع صیغہ میں تبدیلی کی جاتی ہے  نیزجملے میں محاورے کی علامت مصدر ’’ نا‘‘  اسی فعل کے مطابق بدل جاتی ہے جو اس جملے میں استعمال ہو رہا ہو۔  جیسے پانی پانی ہونا  سے پانی پانی ہو گیا، پانی پانی ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے منہ میاں مٹھو بن رہا تھا۔ وغیرہ
(محاورےسے ہمیشہ حقیقی معنی کی بجائے مجازی معنی مراد ہوتا ہے، اہل زبان تو اپنے محاورات کے مجازی معنی خوب سمجھتے ہیں، مگر غیر زبان والے کو ان کا معنی سمجھنا دشوار ہوتا ہے)
ضرب الامثال/کہاوت
ماضی کے واقعات و حالات سے اخذ کردہ وہ جملے جو خاص معنی و مطلب رکھتے ہیں اور ان چند الفاظ سے پورا واقعہ یا قصہ سمجھ میں آ جاتا ہے،  ضرب الامثال(کہاوت) کہلاتی ہیں۔ اس کے الفاظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال نہیں ہوتے ۔ ضرب المثل ہمیشہ جوں کی توں استعمال کی جاتی ہے۔اس میں کسی قسم کی لفظی تبدیلی نہیں کی جاسکتی-  مثلاً’’ کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ اب ہم اسے ”کھسیانا بلّا کھمبا نوچے “نہیں کر سکتے۔مثل یا کہاوت عبارت میں اپنی الگ شناخت  برقرار   رکھتی ہے۔    مثلاً ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔ ڈھاک کے تین پات۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ ایک پنتھ دو کاج۔  ٹیڑھی کھیر، چور کی ڈاڑھی میں تنکا۔ جیسا دیس ویسا بھیس۔وغیرہ
کہاوت اہل زبان سمجھ سکتے ہیں، غیر زبان کے لیے کہاوت کا سمجھنا دشوار ہوتا ہے۔


بلاگ

موضوعات

اردو (29) urdu (25) قواعد (23) urdu grammar (21) grammar (13) صرف (13) صرف و نحو (9) اسم (8) فاعل (5) مفعول (5) حرف (4) فعل (4) کلام (4) گرامر (4) استفہام (3) اصطلاحاتِ زبان (3) لازم (3) مرکب (3) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسم ضمیر (2) اشارہ (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) جملہ (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علم (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) مؤنث (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) معروف (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نحو (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) Consonant (1) Vowel (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آواز (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اسمیہ (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) الفاظ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بیان (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) تشبیہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) درجات صفت (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) روزمرہ (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علامت مفعول (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) فعلیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) متحرک (1) مترادف (1) مثبت (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مذکر سالم (1) مرجع (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مطلق (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) معنی (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *