پیر، 23 نومبر، 2015

قواعد اردو-5

0 comments
دوسرا حصہ
صَرف
صَرف:قواعد کا ایسا علم جس میں الفاظ کے تغیر اور تبدّل  اور ان سے مختلف کلمات بنانے پر بحث  کی جاتی ہے۔  دوسرے لفظوں میں صَرف کلموں اور لفظوں کی پہچان کا علم ہے۔ اس علم کا موضوع ”لفظ“ ہے۔
لفظ:  مختلف حروف مل کر لفظ بناتے ہیں۔   جیسے آم۔ کبوتر۔ سال۔ اختیار وغیرہ
جملہ:دو یا دو سے زیادہ  الفاظ کا ایسا مجموعہ جس کا مطلب سمجھ آ جائے، جملہ کہلاتا ہے۔  مثلاً  پاکستان اسلامی ملک ہے۔ علی میرا بھائی ہے۔ہم لاہور میں رہتے ہیں۔ جانور چارہ کھاتے ہیں۔(جملے کی ترکیب و بحث کا علم نَحو کہلاتا ہے جو حصہ سوئم میں زیرِ بحث لایا جائے گا)
لفظ کی اقسام
لفظ کی دو قسمیں ہیں؛
1۔ مہمل: وہ لفظ جس کے کوئی معنی نہ ہوں، جیسے روٹی شوٹی۔  سچ مچ۔گپ شپ۔ ان میں شوٹی،مچ اور شپ  مہمل ہیں۔
2۔ کلمہ: با معنی لفظ کلمہ کہلاتا ہے۔ جیسے روٹی۔کتاب۔علی۔ اکیلا لفظ کلمہ کہلاتا ہے ۔
 
کلام یا مرکب:دو یا دو سے زیادہ با معنی الفاظ کا مجموعہ کلام یا مرکب کہلاتا ہے، جیسے بڑا گھر۔  چھوٹا برتن۔اجلا کپڑا ۔
 کلمے کی اقسام
کلمے کی 3 اقسام ہیں؛
1۔ اسم: کسی چیز، جگہ یا شخص کے نام کو اسم کہتے ہیں۔مثلاً     کتاب۔ باغ۔ علی۔ مسجد۔ دریا۔ عالیہ وغیرہ۔
2۔ فعل
: وہ کلمہ جس سے کسی کام کا ہونا، کرنا یا سہنا ظاہر ہو فعل کہلاتا ہے۔ مثلاً کھاتا ہے۔ چلے گا۔ دوڑا تھا۔ 
3۔حرف:  
وہ کلمہ جو نہ فعل ہو نہ اسم بلکہ دو لفظوں کو آپس میں ملاتا ہو گویا الفاظ میں ربط اور تعلق پیدا کرتا ہو۔ جس سے مطلب  سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ جیسے کا۔ کی۔ کو۔ سے ۔ میں۔نے۔ پر .وغیرہ۔

اتوار، 22 نومبر، 2015

قواعد اردو-4

10 comments
رُمُوز اوقاف
کلام یا جملوں  کو ایک دوسرے سے الگ سمجھنے اور جدا کرنے کے لیے جو علامات استعمال کی جاتی ہیں انہیں رموز اوقاف کہتے ہیں، جملے کے درست مطلب کے لیے ان کا جاننا اور استعمال کرنا اشد ضروری ہوتا ہے۔  ایک علامت جسے وقفہ کہتے ہیں اس کا استعمال دیکھیے” ٹھہرو مت جاؤ“  کے دو مطلب لیے جاسکتے ہیں، ٹھہرو، مت جاؤ۔  اور ٹھہرومت، جاؤ۔ ایک علامت آگے پیچھے کرنے سے پورا مطلب تبدیل ہو جاتا ہے۔
سکتہ: اسکی علامت (،) ہے،  ایک جملے کے الفاظ یا مرکبات کے درمیان استعمال ہوتا ہے، اس پر تھوڑا سا ٹھہرنا چاہیئے۔
وقفہ: اسکی علامت(؛) ، مفرد جملہ کے اختتام پر یہ علامت لگائی جاتی ہے۔ سکتہ کی نسبت یہاں زیادہ ٹھہرے۔
وقفِ کامل: اسکی علامت یہ(۔) ہے۔ اس پر ٹھہرنا ہو گا۔
علامت حذف: اسکی علامت یہ(-----)ہے۔ اگر عبارت میں کسی چیز کا ذکر نہ کرنا ہو تو اس علامت کو استعمال کرتے ہیں۔
علامت استفہام: اس کی علامت (؟) ہے۔ یہ علامت سوالیہ جملے کے آخر میں آتی ہے۔
علامت تعجب یا ندا: اسکی علامت(!)ہے۔ کسی تعجب یا حیرانگی یا جذبات کے اظہار کے بعد یہ علامت استعمال کی جاتی ہے۔
علامت تفصیلہ: اسکی نشانی (:) ہے۔ کسی جملے کے مفہوم کو واضح کرنا ہو تو یہ علامت استعمال ہوتی ہے۔( مثلاً یہ وقت: جو گزر رہا ہے اسے واپس نہیں لایا جا سکتا۔)
علامت ترک: اسکی نشانی(.) ہے، عبارت میں کسی لفظ کے چھوٹ جانے پر استعمال کی جاتی ہے۔
علامت ذیل: اسکی نشانی () ہے اور ذیل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
علامت اقتباس: (” “) یہ اسکی نشانی ہے، کسی عبارت کے شروع اور آخر میں لگائی جاتی ہے۔
علامت شعر: نثر کے درمیان شعر(؂) کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
علامت مصرع: نثر کے درمیان مصرع آ جائے تو یہ(؏) علامت استعمال کرتے ہیں۔
علامت صفحہ: یہ علامت (؃) کسی عبارت میں صفحہ کے حوالے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
علامت خطوط وحدانی: اسے قوسین بھی کہتے ہیں۔ اسکی نشانی یہ تین خطوط [{( )}]ہیں۔کسی شے کی وضاحت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
علامت حاشیہ: کسی جملے یا لفظ کا مطلب حاشیہ میں لکھنا ہو تو یہ علامت(   ؂     ) استعمال کی جاتی ہے۔
علامت تخلص یا بیت: شاعر کے تخلص پر استعمال ہوتی ہے، اسکی نشانی یہ ”   ؔ   “ ہے۔
علامت خط: کسی جملہ معترضہ کو اصل جملے سے الگ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اسکی علامت (-) ہے۔
علامت الخ: یہ علامت الیٰ آخرہٖ کا مخفف ہے، عبارت کے کچھ الفاظ لکھ کر کچھ نقطے ڈال کر آخر میں الخ  )۔۔۔الخ)لکھ دیتے ہیں۔

قواعد اردو-3

6 comments
تلفظ
تلفظ: الفاظ کی آواز کی درست ادائیگی تلفظ  کہلاتی ہے ۔ تلفظ کے لیے اعراب(حرکات و سکنات) کا جاننا ضروری ہے۔
علاماتِ تلفظ (اعراب)  یا  حرکات و سکنات
درست تلفظ کے لیے اردو میں حروف پر مخصوص علامات استعمال کی جاتی ہیں، ان علامتوں کو اعراب کہا جاتا ہے ۔ اعراب لگانے سے حروف دو حالتوں میں آ جاتے ہیں۔(  زَبر ،زِیر اور  پیش کو حرکت کہا جاتا ہے)
1۔ متحرک: جب حروف پر زَبر، زِیر یا پیش آئے تو یہ اپنی آواز دیتے ہیں، اور ایسے حروف کو متحرک کہتے ہیں۔
2۔ ساکن: جب حرف پر کوئی حرکت(زیر، زبر،پیش ) نہ ہو بلکہ جزم ہو تو ایسا حرف ساکن کہلاتا ہے۔
اعراب یہ ہیں؛
1۔ زَبر(اَ): یہ ترچھی لکیر  حرف کے اوپر لگائی جاتی ہے۔ عربی میں زَبر کو "فَتح" کہتے ہیں اس لیے جس حرف پر زبر آئے اسے "مفتوح" کہتے ہیں۔ جیسے اَکبَر، ڈَر، بَرطَرَف وغیرہ
2۔ زِیر(اِ): یہ ترچھی لکیر حرف کے نیچے لگائی جاتی ہے۔ عربی میں زِیر کو "کسرہ" کہتے ہیں اس لیے جس لفظ کے نیچے آئے اسے "مکسور" کہتے ہیں۔  مثلاً    کِیل،مِیر، حِیل۔وغیرہ
3۔پیش(اُ): یہ علامت حرف کے اوپر لگتی ہے،عربی میں پیش کو ”ضمہ“ کہتے ہیں اس لیے جس حرف پر آئے اسے”مضموم“کہتے ہیں۔مثلاً پُر، اُردو، زُور۔ وغیرہ
4۔کھڑا زَبر(بٰ): یہ علامت حرف کے اوپر لگتی ہے اور دو زبر کے برابر پڑھی جاتی ہے۔ جیسے الٰہی، موسیٰ، عیسیٰ ۔وغیرہ
5۔کھڑی زیر(بٖ): یہ علامت حرف کے نیچے لگتی ہے اور دو زیر کے برابر آواز دیتی ہے۔ جیسے آلہٖ، بعینہٖ وغیرہ
6۔جزم یا سکون(٘/ْ٘٘٘^):یہ علامت حرف کے سکون یا ٹھہراؤ کو ظاہر کرتی ہے، حرف کے اوپر لگائی جاتی ہے۔اس علامت والا حرف ساکن ہوتا ہے۔ جیسے بزْم، اِمْکَاْنْ وغیرہ
7۔ تنوین  (اً۔  اٍ۔ اٌ): دو  دو زبریا زیر یا پیش تنوین کہلاتے ہیں اور نون کی آواز دیتے ہیں۔ جیسےفوراً، اصلاً، مثلاً۔ وغیرہ
8۔ تشدید(اّ): یہ علامت حرف کے اوپر لگتی ہے، اس علامت والے حرف کو دو دفعہ پڑھا جاتا ہے۔ اسے شد بھی کہتے ہیں، اس علامت والے حرف کو "مشدّد" کہتے ہیں۔ جیسے، اللہ، رقّت، شدّت، حسّاس۔ وغیرہ
موقوف اور ساکن:اگر کسی لفظ میں ایک ساکن حرف کے بعد دوسرا غیر متحرک حرف آ جائے تو اس حالت کو ”وقف“ اور غیر متحرک حرف کو ”موقوف“ کہا جاتا ہے۔ مثلاً نیند ، یہاں ”ن“ ساکن اور ”د“ موقوف ہے۔
اشباع: کسی حرف کی  حرکت کو اس طرح پڑھنا کہ زبر سے" الف"، زیر سے "ے" اور پیش سے "واؤ" کی آواز پیدا ہو جائے۔مثلاً رَستہ سے راستہ، لُہو سے لوہو، مِہمان سے مےمان ۔وغیرہ
 اِمالہ: کسی لفظ  کے "الف" یا"ہ"  کو یائے مجہول (ے) سے بدل کر پڑھنا امالہ کہلاتا ہے۔جیسے اکھاڑنا سے اکھیڑنا، لڑکا سے لڑکے،تالا سے تالے،  روپیہ سے روپیےوغیرہ
 
ادغام: دو ہم مخرج حرفوں کو ملا کر پڑھنا ادغام کہلاتا ہے۔  جیسے بدتر کو بتر،  وغیرہ
محذوف: کسی لفظ میں اگر کوئی حرف حذف کر دیا جائے تو اس حزف شدہ حرف کو محذوف کہتے ہیں۔ جیسے شاوباش سے شاباش، بیچارہ سے بچارہ اور بد تر سے بتر، ان مثالوں میں "د"، "ی" اور "و" محذوف ہیں۔

جمعہ، 20 نومبر، 2015

قواعد اردو-2

1 comments
شمسی اور قمری حروف
 عربی قاعدے پر عربی  حروف کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اول شمسی حروف ، دوئم حروف قمری؛
1۔ حروف شمسی: عربی  کےوہ حروف جن سے شروع ہونے  والے الفاظ کے شروع میں "ال" لگایا جائے تو "ل" کی آواز نہیں نکالی جاتی۔ جیسے” ال +شمس“ کو "اش شمس " پڑھا جائے گا، حروف شمسی یہ ہیں؛ ت، ث، د، ذ، ر، ز، س، ش، ص، ض، ط ،ظ، ل، اور ن۔
2
۔ حروف قمری: عربی  کےوہ حروف جن سے شروع ہونے  والے الفاظ کے شروع میں "ال" لگایا جائے تو "ل" کی آواز بولی جاتی ہے۔جیسے ”ال+ قمر “کو القمر پڑھا جائے گا، حروف قمری یہ ہیں؛ ب، ج، ح، خ، ع، غ، ف، ق، ک، م، و ، ہ اور ی۔
نقاط:  کچھ حروف پر ایک بندی لگائی جاتی ہے، اسے نقطہ بولتے ہیں۔مثلاً ب، ت، ج، چ، ظ ، ش، ن وغیرہ
حروف منقوط: وہ حروف جن پر نقطہ ہو ، حروف منقوط کہلاتے ہیں۔ ب، ت، پ ،ث،  ج ، چ، خ، ذ، ز،ژ،  ش ض، ظ ، غ ، ف ، ق، ن۔

حروف غیر منقوط: وہ حروف جن پر نقطہ نہ  ہو ، حروف غیر منقوط کہلاتے ہیں۔ ا،ح، د ، ر ، س، ص، ط، ع، ک، گ، ل، م، و،ہ، ی۔(ی پہلی اور درمیانی صورت میں منقوط ہو جاتی ہے)
مدۤ: یہ علامت  جس حرف(الف) پر آتی ہےاسے لمبا کر کے پڑھا جاتا ہے۔ آم، آب، آج۔ وغیرہ
الف ممدوہ: جس  الف کو کھینچ کر پڑھا جائے اور اس پر علامت مد"ۤ" موجود ہو۔ آج، آرام، آب، آپ، آہستہ۔ وغیرہ
الف مقصورہ: وہ الف جو کھینچ کر نہ پڑھی جائے۔ اب، ادب، اردو،  انسان۔ وغیرہ
            
واؤ معروف: وہ ”و“ جسے خوب کھل کر پڑھا جائے۔  جیسے دُور، حضور، نور، قصور۔ وغیرہ
واؤ مجہول:
وہ ”و“  جسے خوب کھل کر نہ پڑھا جائے۔ زور، چور، مور، شور ۔وغیرہ
واؤ معدولہ: وہ ”و“جو لکھی جائے پر پڑھنے میں نہ آئے۔ خوش، خود، خواہش، خواب۔ وغیرہ
ہائے مختفی: وہ "ہ" جو کھل کر نہ پڑھی جائے۔ جیسے  رستہ، مستانہ، پیالہ، خستہ، فرشتہ۔ وغیرہ
ہائے ملفوظی: وہ "ہ" جو کھل کر پڑھی جائے۔ جیسے گواہ، راہ، بیاہ، گناہ۔ وغیرہ
یائے معروف: وہ "ی" جو کھل کر پڑھی جائے۔ جیسے عزیز، شریف، مریض، امیر، شریک۔ وغیرہ
یائے مجہول: وہ "ی" جو کھل کر نہ پڑھی جائے۔ جیسے فریب، سیب، دیر، بھید، نیک۔ وغیرہ

قواعد اردو-1

17 comments
علم القواعد(قواعد زبان ِ اردو)
ہر زبان کو درست طریقے سے سیکھنے،بولنے،  لکھنے اور پڑھنے  کےکچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں ،ان قوانین کو قواعد کہا جاتا ہے۔ ان قوانین کو علم القواعدیا قواعدِ زبان بھی کہا جاتا ہے۔ اردو زبان  کے قواعد درج ذیل ہیں؛
پہلا حصہ: علم ہجّا
علم ہجّا
علم ہجا کسی زبان کے حروفِ تہجی  کو الگ الگ  کرنے ،املا اور ہجوں کی ساخت کا علم ہے۔ 
حروف(ابجد)
ہر زبان کچھ تحریری علامات اور نشانات پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ علامات اور نشانات حرف کہلاتی ہیں۔  جیسےا ۔ ب۔  پ۔ ت۔ ج۔ د۔ ڑ۔ژ۔  س۔ط۔ ل۔  م۔ ن ۔و۔ی ۔  وغیرہ ۔ حروف کے مجموعے کو "ابجد" کہتے ہیں۔
حرف(حروف تہجی)
اردو میں حروف کی دو قسمیں ہیں؛
1۔ مفرد حروف: یہ حروف صرف ایک حرف پر مشتمل ہوتے ہیں؛؛  ا ،  ب ، پ، ت، ٹ، ث، ج، چ، ح، خ، د،  ڈ، ذ،ر ،ڑ،  ز، ژ، س، ش، ص ، ض، ط، ظ، ع ، غ، ف، ق، ک،گ، ل، م، ن، و،  ہ ، ء، ی ، ے۔
2۔مرکب حروف: 2 حروف ملکر 1 حرف بناتے ہیں؛ آ، بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، ڑھ، کھ، گھ، لھ، مھ، نھ۔

حروف بلحاظ حرکات

        تلفظ یا صوتی لحاظ سے اردو میں حروف کی 2 اقسام ہیں؛
1۔ حرف علّت:الف، واؤ اور ی وہ حرف ہیں جن کے ملانے سے الفاظ میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ جیسے ب+ا=با، ب+و=بُو اور س+ی=سی وغیرہ
نوٹ: حرف علت انگریزی میں Vowelsکہلاتےہیں۔

2۔حرف صحیح:وہ حرف جو کسی حرف علّتیا علامت حرکت(زبر، زیر، پیش)کے بغیر آپس میں ملکر کوئی آواز پیدا نہیں کر سکتے۔ جیسے ب، پ ت، ج س، د، م، ن وغیرہ

نوٹ: حرف صحیح انگریزی میں Consonantsکہلاتے ہیں۔

بلاگ

موضوعات

اردو (29) urdu (25) قواعد (23) urdu grammar (21) grammar (13) صرف (13) صرف و نحو (9) اسم (8) فاعل (5) مفعول (5) حرف (4) فعل (4) کلام (4) گرامر (4) استفہام (3) اصطلاحاتِ زبان (3) لازم (3) مرکب (3) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسم ضمیر (2) اشارہ (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) جملہ (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علم (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) مؤنث (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) معروف (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نحو (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) Consonant (1) Vowel (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آواز (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اسمیہ (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) الفاظ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بیان (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) تشبیہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) درجات صفت (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) روزمرہ (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علامت مفعول (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) فعلیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) متحرک (1) مترادف (1) مثبت (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مذکر سالم (1) مرجع (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مطلق (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) معنی (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *