اتوار، 31 جنوری، 2016

ذمیمہ قواعد اردو-1

3 comments
اس پوسٹ کو  قواعد اردو-1 کے ساتھ ملا کر پڑھئیے۔(نیز اسے قواعد اردو -1 میں شامل کر دیا ہے)

حروف بلحاظ حرکات

تلفظ یا صوتی لحاظ سے اردو میں حروف کی 2 اقسام ہیں؛
1۔ حرف علّت:الف، واؤ اور ی وہ حرف ہیں جن کے ملانے سے الفاظ میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ جیسے ب+ا=با، ب+و=بُو اور س+ی=سی وغیرہ
نوٹ: حرف علت انگریزی میں Vowelsکہلاتےہیں۔

2۔حرف صحیح:وہ حرف جو کسی حرف علّتیا علامت حرکت(زبر، زیر، پیش)کے بغیر آپس میں ملکر کوئی آواز پیدا نہیں کر سکتے۔ جیسے ب، پ ت، ج س، د، م، ن وغیرہ
نوٹ: حرف صحیح انگریزی میں Consonantsکہلاتے ہیں۔

پیر، 30 نومبر، 2015

قواعد اردو-15

6 comments
فعل کی اقسام(بلحاظ معنی)
معنی کے لحاظ سے فعل کی  قسمیں درج ذیل ہیں؛
1۔ فعل لازم:وہ فعل جس کا اثر فقط فاعل تک محدود ہو یا جو صرف فاعل سے پورا مطلب واضح کر دے۔ مثلاً علی آیا۔ میں گیا۔ سلمٰی مسکراتی ہے۔ وغیرہ۔
2۔فعل متعدی: وہ فعل جو فاعل کے ساتھ مفعول کا بھی محتاج ہو۔ بنا مفعول مطلب پورا سمجھ نہ آتا ہو۔ مثلاً علی انار کھاتا ہے۔ اس نے چائے پی۔ وہ اخبار پڑھیں گے۔ ہم میچ دیکھنے گئے۔ 
3۔فعل ناقص:وہ فعل جس میں کسی فعل کا صرف ”ہونا“ پایا جاتا ہے۔  یہ فعل فاعل کےبجائے مبتدا اور خبر پر مشتمل ہوتا ہے۔ مثلاً خالد چور ہے۔ میں بیمار ہوں۔ وہ خوبصورت تھی۔
4۔فعل معروف: جس فعل کا فاعل (کام کرنے والا) معلوم ہو اسے فعل معروف کہتے ہیں۔ مثلاً میں آیا۔ سلمٰی روئی۔ وہ میچ کھیلیں گے۔ وغیرہ
5۔ فعل مجہول: جس فعل کا فاعل(کام کرنے والا)  معلوم(مذکور)  نہ ہو اگرچہ مطلب سمجھ آ جائے۔ مثلاً آٹا پس گیا ہے۔ بارش ہوئی۔ کھڑکی کھولی گئی۔ وغیرہ
فعل کی اقسام(بلحاظ  زمانہ)
زمانے کے لحاظ سے اسم فعل کی 3 اقسام ہیں؛
1۔ فعل ماضی:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  گزرے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً     عمار نے چائے پی۔ کل بارش ہوئی تھی وغیرہ
2۔ فعل حال:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا موجودہ زمانے میں پایا جائے۔مثلاً  وہ اسکول جاتا ہے۔ ہم میچ کھیل رہے ہیں۔ وغیرہ
3۔ فعل مستقبل:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا سہنا آنے والے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً میں لاہور جاؤں گا۔ وہ بازار جائیں گے۔ وغیرہ
4۔ فعل مضارع: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  حال اور مستقبل دونوں میں پایا جائے۔ مثلاً      عمار چائے پیے۔ وہ ہنسے۔ وہ لائے.
فعل ماضی کی اقسام
فعل ماضی کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں؛
1۔ ماضی مطلق: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  مطلق گزرے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً     عمار نے چائے پی۔ وہ رویا۔ وہ ہنسے۔
2۔ماضی قریب: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  قریب کے گزرے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً  اُس نے چائے پی ہے۔ وہ ہنسا ہے۔
3۔ماضی بعید: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا   دور کے گزرے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً     عمار نے چائے پی تھی۔ وہ ہنسا تھا۔
4۔ ماضی استمراری: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  گزرے زمانے میں جاری حالت میں (بار بار ہونا)  پایا جائے۔ مثلاً      عمار  چائے پیتا تھا۔ وہ ہنستا تھا۔ بارش ہو رہی تھی۔
5۔ ماضی شکیّہ:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  گزرے زمانے میں شک میں پایا جائے۔ مثلاً     عمار نے چائے پی ہو گی۔ وہ ہنسا ہو گا۔
6۔ماضی تمنّائی: وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے ، ہونے یا سہنے کی تمنا  گزرے زمانے میں پائی جائے۔ مثلاً     عمار چائے پیتا۔وہ ہنستا۔
فعل کی حالتیں
فعل کی درج ذیل حالتیں ہیں؛
1۔فعل مثبت:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا ثابت ہو۔ مثلاً  لایا ہے۔ سوئے گا۔ جاتا ہے۔
2۔ فعل منفی: وہ فعل جس میں کسی کام کا نہ کرنا،نہ  ہونا یا نہ سہنا ثابت ہو۔ مثلاً نہیں لایا ہے۔ نہیں سوئے گا۔  نہیں جاتا  ہے۔
3۔ فعل امر:وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے یا ہونے کا حکم پایا جائے۔ مثلاً  سبق پڑھ۔ کتاب کھول۔ اُٹھ جا۔ پانی پی۔
4۔ فعل نہی:وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے یا ہونے سے روکا جائے۔ مثلاً  سبق مت پڑھ۔ کتاب نہ کھول۔ مت اٹھ۔ پانی نہ پی۔
فعل منفی اور فعل نہی میں فرق
فعل منفی سے کسی کام کا نہ کرنا یا نہ ہونا ظاہر ہوتا ہے جبکہ فعل نہی میں کام کرنے یا ہونے سے منع کیا جاتا ہے۔

اتوار، 29 نومبر، 2015

قواعد اردو-14

6 comments
اسم استفہام کی اقسام
اسم استفہام کی 3 اقسام یہ ہیں؛
1۔ استفہام اقراری: جہاں سوال کا اقراری جواب جملے ہی میں موجود ہو۔ جیسے یہ اسکی بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ میری نادانی کی وجہ تھی، ان جملوں میں "بیوقوفی اور نادانی" استفہام اقراری ہیں۔
2۔ استفہام استخباری: نا معلوم کے بارے میں سوال استفہام استخباری کہلاتا ہے۔ مثلاًتمھاری مٹھی میں کیا ہے؟ آخر وہ کون تھا؟ یہاں "کیا اور کون" استفہام استخباری ہیں۔
3۔ استفہام انکاری: جب جملے میں کسی بات سے انکار کیا جائے۔ مثلاً میں نے یوں کب کہا تھا؟  یہاں "کب" انکار کے معنوں میں استفہام انکاری ہے۔
اسم فاعل کی اقسام
اسم فاعل  کی اقسام درج ذیل ہیں؛
1۔ اسم فاعل قیاسی: وہ اسم فاعل جو کسی خاص  قاعدے  کے تحت بنا  ہو۔ جیسے لکھنے والا۔ گانے والا۔ رونے والی۔ کھیلنے والے وغیرہ
2۔ اسم فاعل سماعی: وہ اسم فاعل جو کسی خاص قاعدے کے بغیر بنا ہو۔ مثلاً پرندہ۔ مالدار۔ تیراک۔ پاسبان۔  محسن۔ خدمت گار۔ ڈاکیا۔ سپیرا وغیرہ
3۔ اسم فاعل مفرد:وہ  اسم فاعل جو لفظ واحد کی صورت میں ہو مگر ایک سے زیادہ کے معنی دے۔ جیسے چور۔ سپاہی۔  ڈاکو وغیرہ
4۔اسم فاعل مرکب:یہ اسم فاعل ایک سے زیادہ الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے۔  جیسے جیب کترا۔ راہ نما۔ بازی گر  وغیرہ
فاعل اور اسم فاعل کا فرق
کام کرنے والے والے کو فاعل کہتے ہیں۔ فاعل اسم مشتق نہیں ہوتا۔ فاعل کو بنایا نہیں جاتا نیز فاعل کی جگہ اسم فاعل استعمال کیا جا سکتا ہے۔  جیسے علی نے کتاب پڑھی۔ سپاہی نے رکنے کا اشارہ کیا۔ ان جملوں میں علی اور سپاہی فاعل ہیں۔
فعل کی نسبت سے کام کرنے والے کو اسم فاعل کہتے ہیں۔ اسم فاعل  مشتق ہوتا ہے اور مصدر سے بنتا ہے۔ یہ اسم مشتق ہوتا ہے اور اسم فاعل کی جگہ فاعل استعمال نہیں کیا جا سکتا۔  جیسے کھانے والا۔ پڑھنے والا۔ مارنے والا۔ سینے والا۔
اسم مفعول کی اقسام
اسم مفعول کی 2 اقسام یہ ہیں؛
1۔ اسم مفعول قیاسی: وہ اسم مفعول جوکسی مقررہ  قاعدے سے بنایا جائے۔ بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ ماضی مطلق کے بعد "ہوا" کا لفظ لگا دیتے ہیں۔ جیسے کھایا سے کھایا ہوا۔  سنا سے سنا ہوا۔ پڑھایا سے پڑھایا ہوا۔
2۔ اسم مفعول سماعی: وہ اسم مفعول جو کسی خاص قاعدے کے مطابق نہ بنایا گیا ہو  بلکہ اہلِ زبان کے طریقےپر استعمال ہوتا ہو۔ جیسے دُم کٹا۔ بیچارہ۔ کشتہ۔ مسکین۔ مظلوم ۔ لاڈلا ۔ دکھی وغیرہ
مفعول اور اسم مفعول کا فرق
جس پر کام کیا جائے اسے مفعول کہتے ہیں۔ مفعول اسم مشتق نہیں ہوتا۔ مفعول بنایا نہیں جاتا نیز فعل کی نسبت سے اسے مفعول کہا جاتا ہے۔ جیسے علی نے کتاب پڑھی۔ سپاہی نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا ۔ ان جملوں میں" کتاب "اور"مجھے"  مفعول ہیں۔
اسم مفعول ہمیشہ اسم مشتق ہوتا ہے اور مصدر سے بنتا ہے یا اس کے ساتھ علامت مفعولی لگائی جاتی ہے۔ یہ مفعول کی جگہ لے سکتا ہے۔ اسم مفعول جملے کے اندر یا باہر اسم مفعول ہی رہتا ہے۔  جیسے پڑھنا سے پڑھا جانے والا۔ لکھنا سے لکھا جانے والا وغیرہ
جنس کے لحاظ سے اسم کی اقسام (تذکیر و تانیث)
          جنس کے لحاظ سے اسم کی درج ذیل اقسام ہیں؛

مذکر: ایسا اسم جو نر کے لیے بولا جائے۔ مثلاً مرد۔ باپ۔ بادشاہ۔ چڑا۔ مرغا وغیرہ

مؤنث: ایسا اسم جو مادہ کے لیے بولا جائے۔ مثلاً عورت۔ ماں۔ ملکہ۔ چڑیا۔ مرغی وغیرہ

تذکیر و تانیث حقیقی: جانداروں ناموں کے نر اور مادہ کو تذکیر و تانیث حقیقی کہتے ہیں۔ جیسے مرد۔ گھوڑا۔ ملکہ۔ شیرنی وغیرہ

تذکیر و تانیث غیر حقیقی: بے جان چیزوں میں  بولنے، لکھنے اور پڑھنے میں مذکر یا مؤنث کی تخصیص  تذکیر و تانیث غیر حقیقی کہلاتی ہے۔

 جیسے آنکھ۔ انگلی۔ پنڈلی۔ بارش وغیرہ مؤنث لکھے جاتے ہیں جبکہ گھر۔ مکان۔ درخت۔ سورج وغیرہ مذکر لکھے جاتے ہیں۔

جمعہ، 27 نومبر، 2015

قواعد اردو-13

3 comments
تعداد کے لحاظ سے اسم کی اقسام
اسم عدد: وہ اسم جس سے کسی ذات یا چیز کی تعداد ظاہر ہوتی ہو۔  جیسے وہ 2 قلم ہیں۔ تسبیح میں 100 دانے ہیں۔ ہماری جماعت میں 22 طلباء ہیں۔
اسم عدد کی اقسام
            اسم عدد کی دو اقسام ہیں؛
1۔ عدد  معین: جس اسم عدد سے اشیاء کی تعداد کا صحیح تعین ہو سکے۔ مثلاً  چار۔ تین۔ پچاس۔ سو۔ ہزار۔ سوا۔ آدھا۔ پونا لاکھ  وغیرہ
2۔ عدد غیر معین: جس اسم عدد سے اشیاء کی تعداد کا درست تعین نہ ہو سکے۔ جیسے کئی۔ چند۔ بہت۔ تھوڑا۔ متعدد۔ وغیرہ
تعداد یا گنتی کے لحاظ سے اسم عدد کی حالتیں
تعداد یا گنتی کے لحاظ سے اسم کی دو حالتیں ہیں۔
1۔  واحد: وہ  لفظ جو صرف ایک شخص ۔ جگہ یا چیز کے لیے استعمال ہو  ۔مثلاً لڑکا۔ تحفہ۔ آنکھ۔ دیوار۔ مسجد۔ وغیرہ
2۔جمع: وہ لفظ جو ایک سے زیادہ چیزوں،جگہوں یا اشخاص کے لیے بولا جائے۔ مثلاً بچے۔ تحفے۔ آنکھیں۔ دیواریں۔ مساجد وغیرہ
جمع کی صورتیں
جمع کی درج ذیل صورتیں ہیں؛
جمع سالم: واحد سے جمع بناتے وقت اگر واحد کے حروف میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہو تو اسے جمع سالم کہتے ہیں۔ مثلاً حاضر سے حاضرین۔ احسان سے احسانات۔ انعام سے انعامات وغیرہ
جمع مکسر:
اگر واحد سے جمع بناتے وقت واحد کی صورت بدل جائے تو اسے جمع مکسر کہتے ہیں۔ جیسے شعر سے اشعار۔ امام سے ائمہ۔ اُم سے اُمّہات۔ وعدہ سے وعود وغیرہ
تثنیہ:
عربی الفاظ میں  دو چیزوں کے لیے جمع کی ایک الگ صورت استعمال کی جاتی ہے اسے تثنیہ کہتے ہیں۔تثنیہ کا مطلب 2 ہے۔ جیسے سید سے سیدین۔  دار سے دارین۔ عید سے عیدین۔ والد سے والدین ۔قطب سے قطبین۔
جمع الجمع:
کسی واحد سے جمع کی جمع کو جمع الجمع کہتے ہیں۔ جیسے اکبر سے اکابر اور اکابر سے اکابرین۔ دوا سے ادویہ اور ادویہ سے ادویات۔ لقب سے القاب اور پھر القاب سے القابات وغیرہ
اسم جمع اور جمع میں فرق
اسم جمع میں لفظ تو واحد ہوتا ہے مگر معنی مجموعے یا جمع کےدیتا ہے۔  جیسے فوج۔ لشکر۔ جماعت وغیرہ   جبکہ
جمع(عدد)  میں لفظ اور معنی دونوں جمع کا مفہوم دیتے ہیں۔ جیسے کتاب سے کتابیں۔ کرسی سے کرسیاں وغیرہ

قواعد اردو-12

0 comments
صفت عددی  اور صفت مقداری کی اقسام
صفت عددی کی اقسام
صفت عددی کی دو اقسام ہیں؛
1۔ صفت عددی  معین: جس میں اشیاء کی تعداد کا صحیح تعین ہو سکے۔ مثلاً  چار۔ تین۔ پچاس۔ سو۔ ہزار۔ سوا۔ آدھا۔ پونا لاکھ  وغیرہ
2۔ صفت عددی غیر معین: جس میں اشیاء کی تعداد کا درست تعین نا ہو سکے۔ جیسے کئی۔ چند۔ بہت۔ تھوڑا۔ کچھ۔وغیرہ
معدود: صفت عددی کے موصوف کو ”معدود“ کہتے ہیں۔
صفت عددی  معین کی اقسام
صفت عددی معین کی پانچ اقسام ہیں؛
1۔ اعداد ذاتی: وہ اعداد جو تعداد کو ظاہر کریں۔ مثلاً چار۔ چھ۔ سو۔ ہزار۔ لاکھ۔ کروڑ وغیرہ
2۔ اعداد ترتیبی: وہ اعداد جن میں تعداد کے ساتھ ساتھ ترتیب اور درجہ بھی معلوم ہو۔ مثلاً  پہلا۔ دوسرا۔ تیسرا۔
 دسواں ۔ گیارہواں، پچاسواں۔ ہزارواں۔
وغیرہ
3۔ اعداد ضعفی: وہ اعداد جو یہ ظاہر کریں کہ چیز کتنے گنا ہے۔ مثلاً دگنا۔ تگنا۔ چو گنا۔ دونی، تگنی۔ وغیرہ
4۔ اعداد کسری: وہ اعداد جو کسی مکمل عدد کا حصہ ہوں۔ جیسے آدھا۔ سوا۔ پونا۔ تہائی ڈیڑھ وغیرہ
5۔ اعداد استغراقی: وہ اعداد جو اپنے معدود کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہوں۔ جیسے سب۔ تمام۔  سب کچھ وغیرہ
صفت مقداری کی اقسام
صفت مقداری کی دو اقسام ہیں؛

1۔ صفت مقداری معین: جس میں اشیاء کی معین مقدار معلوم ہو۔ جیسے سیر بھر۔ تولہ بھر۔ ماشہ بھر وغیرہ

2۔ صفت مقداری غیر معین: جس میں اشیاء کی مقدار کا تعین نا ہو سکے۔ جیسے تھوڑا سا۔ کافی۔ بہت سی۔ کچھ وغیرہ

بلاگ

موضوعات

اردو (29) urdu (25) قواعد (23) urdu grammar (21) grammar (13) صرف (13) صرف و نحو (9) اسم (8) فاعل (5) مفعول (5) حرف (4) فعل (4) کلام (4) گرامر (4) استفہام (3) اصطلاحاتِ زبان (3) لازم (3) مرکب (3) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسم ضمیر (2) اشارہ (2) تانیث (2) تخلص (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) جملہ (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علم (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) مؤنث (2) متعدی (2) مجہول (2) مذکر (2) معروف (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نحو (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) Consonant (1) Vowel (1) آراء (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آواز (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اسمیہ (1) اشباع (1) اصطلاحی (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) الفاظ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انشائیہ (1) انکاری (1) ایجاب (1) بیان (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تثنیہ (1) تخصیص (1) ترتیبی (1) ترک (1) تشبیہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تمنائی (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) جار (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حذف (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حصر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) درجات صفت (1) رائے (1) ربط (1) رموز اوقاف (1) روزمرہ (1) زبر (1) زیر (1) سالم (1) ساکن (1) سکتہ (1) سکون (1) شخصی (1) شرط (1) شعر (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیری (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علامت مفعول (1) عَلم (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) فعلیہ (1) قسم (1) قصہ (1) قمری (1) لغوی (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) متحرک (1) مترادف (1) مثبت (1) مجازی (1) مجروری (1) محاورہ (1) محذوف (1) مد (1) مذکر سالم (1) مرجع (1) مستقبل (1) مشار (1) مصدر (1) مصرع (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مطلق (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) معنی (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقداری (1) مقصورہ (1) ممدوہ (1) منفی (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکسر (1) مہمل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پسند (1) پیش (1) کسری (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) ہجا (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *