پیر، 30 نومبر، 2015

قواعد اردو-15

7 comments
فعل کی اقسام(بلحاظ معنی)
معنی کے لحاظ سے فعل کی  قسمیں درج ذیل ہیں؛
1۔ فعل لازم:وہ فعل جس کا اثر فقط فاعل تک محدود ہو یا جو صرف فاعل سے پورا مطلب واضح کر دے۔ مثلاً علی آیا۔ میں گیا۔ سلمٰی مسکراتی ہے۔ وغیرہ۔
2۔فعل متعدی: وہ فعل جو فاعل کے ساتھ مفعول کا بھی محتاج ہو۔ بنا مفعول مطلب پورا سمجھ نہ آتا ہو۔ مثلاً علی انار کھاتا ہے۔ اس نے چائے پی۔ وہ اخبار پڑھیں گے۔ ہم میچ دیکھنے گئے۔ 
3۔فعل ناقص:وہ فعل جس میں کسی فعل کا صرف ”ہونا“ پایا جاتا ہے۔  یہ فعل فاعل کےبجائے مبتدا اور خبر پر مشتمل ہوتا ہے۔ مثلاً خالد چور ہے۔ میں بیمار ہوں۔ وہ خوبصورت تھی۔
4۔فعل معروف: جس فعل کا فاعل (کام کرنے والا) معلوم ہو اسے فعل معروف کہتے ہیں۔ مثلاً میں آیا۔ سلمٰی روئی۔ وہ میچ کھیلیں گے۔ وغیرہ
5۔ فعل مجہول: جس فعل کا فاعل(کام کرنے والا)  معلوم(مذکور)  نہ ہو اگرچہ مطلب سمجھ آ جائے۔ مثلاً آٹا پس گیا ہے۔ بارش ہوئی۔ کھڑکی کھولی گئی۔ وغیرہ
فعل کی اقسام(بلحاظ  زمانہ)
زمانے کے لحاظ سے اسم فعل کی 3 اقسام ہیں؛
1۔ فعل ماضی:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  گزرے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً     عمار نے چائے پی۔ کل بارش ہوئی تھی وغیرہ
2۔ فعل حال:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا موجودہ زمانے میں پایا جائے۔مثلاً  وہ اسکول جاتا ہے۔ ہم میچ کھیل رہے ہیں۔ وغیرہ
3۔ فعل مستقبل:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا سہنا آنے والے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً میں لاہور جاؤں گا۔ وہ بازار جائیں گے۔ وغیرہ
4۔ فعل مضارع: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  حال اور مستقبل دونوں میں پایا جائے۔ مثلاً      عمار چائے پیے۔ وہ ہنسے۔ وہ لائے.
فعل ماضی کی اقسام
فعل ماضی کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں؛
1۔ ماضی مطلق: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  مطلق گزرے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً     عمار نے چائے پی۔ وہ رویا۔ وہ ہنسے۔
2۔ماضی قریب: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  قریب کے گزرے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً  اُس نے چائے پی ہے۔ وہ ہنسا ہے۔
3۔ماضی بعید: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا   دور کے گزرے زمانے میں پایا جائے۔ مثلاً     عمار نے چائے پی تھی۔ وہ ہنسا تھا۔
4۔ ماضی استمراری: وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  گزرے زمانے میں جاری حالت میں (بار بار ہونا)  پایا جائے۔ مثلاً      عمار  چائے پیتا تھا۔ وہ ہنستا تھا۔ بارش ہو رہی تھی۔
5۔ ماضی شکیّہ:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا ، ہونا یا سہنا  گزرے زمانے میں شک میں پایا جائے۔ مثلاً     عمار نے چائے پی ہو گی۔ وہ ہنسا ہو گا۔
6۔ماضی تمنّائی: وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے ، ہونے یا سہنے کی تمنا  گزرے زمانے میں پائی جائے۔ مثلاً     عمار چائے پیتا۔وہ ہنستا۔
فعل کی حالتیں
فعل کی درج ذیل حالتیں ہیں؛
1۔فعل مثبت:وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا ثابت ہو۔ مثلاً  لایا ہے۔ سوئے گا۔ جاتا ہے۔
2۔ فعل منفی: وہ فعل جس میں کسی کام کا نہ کرنا،نہ  ہونا یا نہ سہنا ثابت ہو۔ مثلاً نہیں لایا ہے۔ نہیں سوئے گا۔  نہیں جاتا  ہے۔
3۔ فعل امر:وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے یا ہونے کا حکم پایا جائے۔ مثلاً  سبق پڑھ۔ کتاب کھول۔ اُٹھ جا۔ پانی پی۔
4۔ فعل نہی:وہ فعل جس میں کسی کام کے کرنے یا ہونے سے روکا جائے۔ مثلاً  سبق مت پڑھ۔ کتاب نہ کھول۔ مت اٹھ۔ پانی نہ پی۔
فعل منفی اور فعل نہی میں فرق
فعل منفی سے کسی کام کا نہ کرنا یا نہ ہونا ظاہر ہوتا ہے جبکہ فعل نہی میں کام کرنے یا ہونے سے منع کیا جاتا ہے۔

7 comments:

محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔

بلاگ

موضوعات

اردو (51) urdu (40) قواعد (38) urdu grammar (34) صرف و نحو (19) صرف (18) گرامر (18) grammar (16) نحو (10) اصطلاحاتِ زبان (9) ترکیب نحوی (9) اسم (8) زبان (7) علم بیان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) شاعری (4) علمِ بلاغت (4) فعل (4) نظم (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) الفاظ (3) بلاغت و فصاحت (3) بلیغ (3) تخلص (3) علم (3) علم بدیع (3) علم عروض (3) علم معانی (3) فصاحت (3) فصیح (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) انشائیہ (2) بحر (2) بحر مزاحف (2) بدیع (2) بلاغت (2) بلیغ و فصیح (2) بیان (2) تانیث (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حذف (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) ردیف (2) روزمرہ (2) زحاف (2) سابقہ (2) سابقے (2) ساکن (2) شعر (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم قافیہ (2) علم قوافی (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) قافیہ (2) قبض (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) متحرک (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) محذوف (2) مذکر (2) مرجع (2) مصرع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نثر (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) u (1) ، صرف (1) آراء (1) آزاد نظم، نثری نظم (1) آشوب شہر (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آپ بیتی (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استعارہ (1) استعارہ بالتصریح (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحات (1) اصطلاحی (1) اصناف (1) اصناف نظم (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) افسانوی نثر (1) افسانہ (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انکاری (1) ایجاب (1) ایہام (1) بالکنایہ (1) بحر سالم (1) بحر ہزج (1) بدائع (1) بدایع (1) بند (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تبصرہ (1) تثنیہ (1) تحقیق (1) تخصیص (1) تذکرہ (1) ترائیلے (1) ترتیبی (1) ترجیع بند (1) ترک (1) ترکیب بند (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشبیہ،کنایہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تقطیع (1) تلمیح (1) تمنائی (1) تنسیق (1) تنقید (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) ثلاثی (1) جار (1) جدید (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حرف تاسیس (1) حرف دخیل (1) حرف ردف (1) حرف روی (1) حرف قید (1) حرف مزید (1) حرف نائرہ (1) حرف وصل، حرف خروج (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حسن تعلیل (1) حسن مطلع (1) حصر (1) حمد (1) خاکہ (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) خفیف (1) داستان (1) دال (1) دال اور مدلول (1) درجات صفت (1) دلالت (1) دلالت التزامی (1) دلالت تضمنی (1) دلالت حقیقی (1) دلالت ضمنی (1) دوہا (1) ذومعنی (1) رائے (1) رباعی (1) ربط (1) رجز (1) رمل (1) رموز اوقاف (1) رنگین نثر (1) روزنامچہ (1) رپورتاژ (1) ریختی (1) زبر (1) زمین (1) زیر (1) سالم (1) سانیٹ (1) سبب (1) سخن (1) سریع (1) سفر نامہ (1) سلام (1) سوانح عمری (1) سکتہ (1) سکون (1) شاعری، بیت، شعر (1) شاہ بیت (1) شخصی (1) شرط (1) شعری (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صنائع (1) صنائع لفظی (1) صنائع معنوی (1) صنعت (1) صنعت تضاد (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) طنز (1) طنزومزاح (1) ظرافت (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عروض (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علم بلاغت کی شاخیں (1) عَلم (1) غزل (1) غیر افسانوی نثر (1) فاصلہ (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) فکاہت (1) فکاہیہ (1) فکاہیہ ادب (1) قدح (1) قسم (1) قصر (1) قصہ (1) قصیدہ (1) قطعہ (1) قمری (1) قو (1) لغوی (1) لف و نشر (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) ماہیا (1) مبالغہ (1) مبتدا (1) متدارک (1) متروک (1) متروک الفاظ (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) متقارب (1) مثبت (1) مثمن (1) مثنوی (1) مجاز (1) مجاز مرسل (1) مجازی (1) مجتث (1) مجروری (1) محاورہ (1) مخمس (1) مد (1) مدلول (1) مذکر سالم (1) مراعاۃ النظیر (1) مرثیہ (1) مرصع (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مزاح (1) مزاحف (1) مستزاد، ہائیکو (1) مستقبل (1) مسجع (1) مسدس (1) مسمط (1) مشار (1) مصدر (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مضمون (1) مطابقت (1) مطلع (1) مطلق (1) معانی (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقبوض (1) مقداری (1) مقصور (1) مقصورہ (1) مقطع (1) ممدوہ (1) مناجات (1) منفی (1) منقبت (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکتوب نگاری (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ناول (1) ناولٹ (1) نثر عاری (1) نثر مرجز (1) نثر مرسل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نظم جدید (1) نظم معرا (1) نعت (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) واسوخت (1) وتد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پابند نظم (1) پسند (1) پیش (1) ڈراما (1) کافی (1) کالم (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) گیت (1) ہجا (1) ہجو (1) ہزل (1) یادداشت (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *