اتوار، 22 نومبر، 2015

قواعد اردو-3

6 comments
تلفظ
تلفظ: الفاظ کی آواز کی درست ادائیگی تلفظ  کہلاتی ہے ۔ تلفظ کے لیے اعراب(حرکات و سکنات) کا جاننا ضروری ہے۔
علاماتِ تلفظ (اعراب)  یا  حرکات و سکنات
درست تلفظ کے لیے اردو میں حروف پر مخصوص علامات استعمال کی جاتی ہیں، ان علامتوں کو اعراب کہا جاتا ہے ۔ اعراب لگانے سے حروف دو حالتوں میں آ جاتے ہیں۔(  زَبر ،زِیر اور  پیش کو حرکت کہا جاتا ہے)
1۔ متحرک: جب حروف پر زَبر، زِیر یا پیش آئے تو یہ اپنی آواز دیتے ہیں، اور ایسے حروف کو متحرک کہتے ہیں۔
2۔ ساکن: جب حرف پر کوئی حرکت(زیر، زبر،پیش ) نہ ہو بلکہ جزم ہو تو ایسا حرف ساکن کہلاتا ہے۔
اعراب یہ ہیں؛
1۔ زَبر(اَ): یہ ترچھی لکیر  حرف کے اوپر لگائی جاتی ہے۔ عربی میں زَبر کو "فَتح" کہتے ہیں اس لیے جس حرف پر زبر آئے اسے "مفتوح" کہتے ہیں۔ جیسے اَکبَر، ڈَر، بَرطَرَف وغیرہ
2۔ زِیر(اِ): یہ ترچھی لکیر حرف کے نیچے لگائی جاتی ہے۔ عربی میں زِیر کو "کسرہ" کہتے ہیں اس لیے جس لفظ کے نیچے آئے اسے "مکسور" کہتے ہیں۔  مثلاً    کِیل،مِیر، حِیل۔وغیرہ
3۔پیش(اُ): یہ علامت حرف کے اوپر لگتی ہے،عربی میں پیش کو ”ضمہ“ کہتے ہیں اس لیے جس حرف پر آئے اسے”مضموم“کہتے ہیں۔مثلاً پُر، اُردو، زُور۔ وغیرہ
4۔کھڑا زَبر(بٰ): یہ علامت حرف کے اوپر لگتی ہے اور دو زبر کے برابر پڑھی جاتی ہے۔ جیسے الٰہی، موسیٰ، عیسیٰ ۔وغیرہ
5۔کھڑی زیر(بٖ): یہ علامت حرف کے نیچے لگتی ہے اور دو زیر کے برابر آواز دیتی ہے۔ جیسے آلہٖ، بعینہٖ وغیرہ
6۔جزم یا سکون(٘/ْ٘٘٘^):یہ علامت حرف کے سکون یا ٹھہراؤ کو ظاہر کرتی ہے، حرف کے اوپر لگائی جاتی ہے۔اس علامت والا حرف ساکن ہوتا ہے۔ جیسے بزْم، اِمْکَاْنْ وغیرہ
7۔ تنوین  (اً۔  اٍ۔ اٌ): دو  دو زبریا زیر یا پیش تنوین کہلاتے ہیں اور نون کی آواز دیتے ہیں۔ جیسےفوراً، اصلاً، مثلاً۔ وغیرہ
8۔ تشدید(اّ): یہ علامت حرف کے اوپر لگتی ہے، اس علامت والے حرف کو دو دفعہ پڑھا جاتا ہے۔ اسے شد بھی کہتے ہیں، اس علامت والے حرف کو "مشدّد" کہتے ہیں۔ جیسے، اللہ، رقّت، شدّت، حسّاس۔ وغیرہ
موقوف اور ساکن:اگر کسی لفظ میں ایک ساکن حرف کے بعد دوسرا غیر متحرک حرف آ جائے تو اس حالت کو ”وقف“ اور غیر متحرک حرف کو ”موقوف“ کہا جاتا ہے۔ مثلاً نیند ، یہاں ”ن“ ساکن اور ”د“ موقوف ہے۔
اشباع: کسی حرف کی  حرکت کو اس طرح پڑھنا کہ زبر سے" الف"، زیر سے "ے" اور پیش سے "واؤ" کی آواز پیدا ہو جائے۔مثلاً رَستہ سے راستہ، لُہو سے لوہو، مِہمان سے مےمان ۔وغیرہ
 اِمالہ: کسی لفظ  کے "الف" یا"ہ"  کو یائے مجہول (ے) سے بدل کر پڑھنا امالہ کہلاتا ہے۔جیسے اکھاڑنا سے اکھیڑنا، لڑکا سے لڑکے،تالا سے تالے،  روپیہ سے روپیےوغیرہ
 
ادغام: دو ہم مخرج حرفوں کو ملا کر پڑھنا ادغام کہلاتا ہے۔  جیسے بدتر کو بتر،  وغیرہ
محذوف: کسی لفظ میں اگر کوئی حرف حذف کر دیا جائے تو اس حزف شدہ حرف کو محذوف کہتے ہیں۔ جیسے شاوباش سے شاباش، بیچارہ سے بچارہ اور بد تر سے بتر، ان مثالوں میں "د"، "ی" اور "و" محذوف ہیں۔

6 comments:

  1. مجھے اردو زبان میں علامات تانیث وتذکیر چاہیے
    کوئی صاحب مدد کرسکتاہے؟؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت عمدہ کاوش ہے جزاک اللہ
    ایک بات کی کمی محسوس کی ہے کہ ہر تعریف کے ساتھ مثالیں بہت کم دی گئی ہیں ۔ میرے جیسے مبتدی کیلئے ایک مثال کافی نہین ہے

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت بہترین معلومات حاصل ہوتی ہے

    جواب دیںحذف کریں
  4. حرکت کے لئے کتنی اور کون کون سی چیزیں ضروری ہیں۔؟

    جواب دیںحذف کریں

محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔

بلاگ

موضوعات

اردو (51) urdu (40) قواعد (38) urdu grammar (34) صرف و نحو (19) صرف (18) گرامر (18) grammar (16) نحو (10) اصطلاحاتِ زبان (9) ترکیب نحوی (9) اسم (8) زبان (7) علم بیان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) شاعری (4) علمِ بلاغت (4) فعل (4) نظم (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) الفاظ (3) بلاغت و فصاحت (3) بلیغ (3) تخلص (3) علم (3) علم بدیع (3) علم عروض (3) علم معانی (3) فصاحت (3) فصیح (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) انشائیہ (2) بحر (2) بحر مزاحف (2) بدیع (2) بلاغت (2) بلیغ و فصیح (2) بیان (2) تانیث (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حذف (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) ردیف (2) روزمرہ (2) زحاف (2) سابقہ (2) سابقے (2) ساکن (2) شعر (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم قافیہ (2) علم قوافی (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) قافیہ (2) قبض (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) متحرک (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) محذوف (2) مذکر (2) مرجع (2) مصرع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نثر (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) u (1) ، صرف (1) آراء (1) آزاد نظم، نثری نظم (1) آشوب شہر (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آپ بیتی (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استعارہ (1) استعارہ بالتصریح (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحات (1) اصطلاحی (1) اصناف (1) اصناف نظم (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) افسانوی نثر (1) افسانہ (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انکاری (1) ایجاب (1) ایہام (1) بالکنایہ (1) بحر سالم (1) بحر ہزج (1) بدائع (1) بدایع (1) بند (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تبصرہ (1) تثنیہ (1) تحقیق (1) تخصیص (1) تذکرہ (1) ترائیلے (1) ترتیبی (1) ترجیع بند (1) ترک (1) ترکیب بند (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشبیہ،کنایہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تقطیع (1) تلمیح (1) تمنائی (1) تنسیق (1) تنقید (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) ثلاثی (1) جار (1) جدید (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حرف تاسیس (1) حرف دخیل (1) حرف ردف (1) حرف روی (1) حرف قید (1) حرف مزید (1) حرف نائرہ (1) حرف وصل، حرف خروج (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حسن تعلیل (1) حسن مطلع (1) حصر (1) حمد (1) خاکہ (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) خفیف (1) داستان (1) دال (1) دال اور مدلول (1) درجات صفت (1) دلالت (1) دلالت التزامی (1) دلالت تضمنی (1) دلالت حقیقی (1) دلالت ضمنی (1) دوہا (1) ذومعنی (1) رائے (1) رباعی (1) ربط (1) رجز (1) رمل (1) رموز اوقاف (1) رنگین نثر (1) روزنامچہ (1) رپورتاژ (1) ریختی (1) زبر (1) زمین (1) زیر (1) سالم (1) سانیٹ (1) سبب (1) سخن (1) سریع (1) سفر نامہ (1) سلام (1) سوانح عمری (1) سکتہ (1) سکون (1) شاعری، بیت، شعر (1) شاہ بیت (1) شخصی (1) شرط (1) شعری (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صنائع (1) صنائع لفظی (1) صنائع معنوی (1) صنعت (1) صنعت تضاد (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) طنز (1) طنزومزاح (1) ظرافت (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عروض (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علم بلاغت کی شاخیں (1) عَلم (1) غزل (1) غیر افسانوی نثر (1) فاصلہ (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) فکاہت (1) فکاہیہ (1) فکاہیہ ادب (1) قدح (1) قسم (1) قصر (1) قصہ (1) قصیدہ (1) قطعہ (1) قمری (1) قو (1) لغوی (1) لف و نشر (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) ماہیا (1) مبالغہ (1) مبتدا (1) متدارک (1) متروک (1) متروک الفاظ (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) متقارب (1) مثبت (1) مثمن (1) مثنوی (1) مجاز (1) مجاز مرسل (1) مجازی (1) مجتث (1) مجروری (1) محاورہ (1) مخمس (1) مد (1) مدلول (1) مذکر سالم (1) مراعاۃ النظیر (1) مرثیہ (1) مرصع (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مزاح (1) مزاحف (1) مستزاد، ہائیکو (1) مستقبل (1) مسجع (1) مسدس (1) مسمط (1) مشار (1) مصدر (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مضمون (1) مطابقت (1) مطلع (1) مطلق (1) معانی (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقبوض (1) مقداری (1) مقصور (1) مقصورہ (1) مقطع (1) ممدوہ (1) مناجات (1) منفی (1) منقبت (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکتوب نگاری (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ناول (1) ناولٹ (1) نثر عاری (1) نثر مرجز (1) نثر مرسل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نظم جدید (1) نظم معرا (1) نعت (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) واسوخت (1) وتد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پابند نظم (1) پسند (1) پیش (1) ڈراما (1) کافی (1) کالم (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) گیت (1) ہجا (1) ہجو (1) ہزل (1) یادداشت (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *