اتوار، 22 نومبر، 2015

قواعد اردو-4

10 comments
رُمُوز اوقاف
کلام یا جملوں  کو ایک دوسرے سے الگ سمجھنے اور جدا کرنے کے لیے جو علامات استعمال کی جاتی ہیں انہیں رموز اوقاف کہتے ہیں، جملے کے درست مطلب کے لیے ان کا جاننا اور استعمال کرنا اشد ضروری ہوتا ہے۔  ایک علامت جسے وقفہ کہتے ہیں اس کا استعمال دیکھیے” ٹھہرو مت جاؤ“  کے دو مطلب لیے جاسکتے ہیں، ٹھہرو، مت جاؤ۔  اور ٹھہرومت، جاؤ۔ ایک علامت آگے پیچھے کرنے سے پورا مطلب تبدیل ہو جاتا ہے۔
سکتہ: اسکی علامت (،) ہے،  ایک جملے کے الفاظ یا مرکبات کے درمیان استعمال ہوتا ہے، اس پر تھوڑا سا ٹھہرنا چاہیئے۔
وقفہ: اسکی علامت(؛) ، مفرد جملہ کے اختتام پر یہ علامت لگائی جاتی ہے۔ سکتہ کی نسبت یہاں زیادہ ٹھہرے۔
وقفِ کامل: اسکی علامت یہ(۔) ہے۔ اس پر ٹھہرنا ہو گا۔
علامت حذف: اسکی علامت یہ(-----)ہے۔ اگر عبارت میں کسی چیز کا ذکر نہ کرنا ہو تو اس علامت کو استعمال کرتے ہیں۔
علامت استفہام: اس کی علامت (؟) ہے۔ یہ علامت سوالیہ جملے کے آخر میں آتی ہے۔
علامت تعجب یا ندا: اسکی علامت(!)ہے۔ کسی تعجب یا حیرانگی یا جذبات کے اظہار کے بعد یہ علامت استعمال کی جاتی ہے۔
علامت تفصیلہ: اسکی نشانی (:) ہے۔ کسی جملے کے مفہوم کو واضح کرنا ہو تو یہ علامت استعمال ہوتی ہے۔( مثلاً یہ وقت: جو گزر رہا ہے اسے واپس نہیں لایا جا سکتا۔)
علامت ترک: اسکی نشانی(.) ہے، عبارت میں کسی لفظ کے چھوٹ جانے پر استعمال کی جاتی ہے۔
علامت ذیل: اسکی نشانی (:۔) ہے اور ذیل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
علامت اقتباس: (” “) یہ اسکی نشانی ہے، کسی عبارت کے شروع اور آخر میں لگائی جاتی ہے۔
علامت شعر: نثر کے درمیان شعر(؂) کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
علامت مصرع: نثر کے درمیان مصرع آ جائے تو یہ(؏) علامت استعمال کرتے ہیں۔
علامت صفحہ: یہ علامت (؃) کسی عبارت میں صفحہ کے حوالے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
علامت خطوط وحدانی: اسے قوسین بھی کہتے ہیں۔ اسکی نشانی یہ تین خطوط [{( )}]ہیں۔کسی شے کی وضاحت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
علامت حاشیہ: کسی جملے یا لفظ کا مطلب حاشیہ میں لکھنا ہو تو یہ علامت(   ؂     ) استعمال کی جاتی ہے۔
علامت تخلص یا بیت: شاعر کے تخلص پر استعمال ہوتی ہے، اسکی نشانی یہ ”   ؔ   “ ہے۔
علامت خط: کسی جملہ معترضہ کو اصل جملے سے الگ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اسکی علامت (-) ہے۔
علامت الخ: یہ علامت الیٰ آخرہٖ کا مخفف ہے، عبارت کے کچھ الفاظ لکھ کر کچھ نقطے ڈال کر آخر میں الخ  )۔۔۔الخ)لکھ دیتے ہیں۔

10 comments:

  1. ماشاء اللہ اس علمی کاوش پر موئلف اوران کی اس پیشکش میں شریک ساتھی یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں۔ علامت الیٰ آخرہٖ کی کچھ وضاحت بھی عنایت ہو جاتی تو مزید تشفی ہو جاتی۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. محترم جلد ہی آپ کی فرمائش پوری کر دی جائے گی۔ انشاء اللہ

      حذف کریں
  2. برائے مہربانی تمام رموز اوقاف کی مثالیں بھی دیں تاکہ اچھی طرح سمجھا جا سکے

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. انشاء اللہ بہت جلد مثالیں بھی شائع کر دی جائیں گی۔

      حذف کریں
  3. بہترین کام۔۔۔ اردو اساتذہ کے لیے کافہ سہولت ۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. بہترین کاوش اگر تصویری کہانی۔۔۔کی شکل میں پیش کرے طلباءکےلیےآسانی ہوگی

    جواب دیںحذف کریں
  5. بہترین کاوش اگر تصویری کہانی۔۔۔کی شکل میں پیش کرے طلباءکےلیےآسانی ہوگی

    جواب دیںحذف کریں
  6. بئی سبحان اللّٰہ!
    آپ کی محنت نے میرا کام آسان کر دیا۔
    اللّٰہ راضی ہو آپ سے 🤲🏻

    جواب دیںحذف کریں
  7. آفریں۔۔۔
    اسی طرح جاری رکھیں ۔

    جواب دیںحذف کریں

محترم ! اپنی رائے ضرور دیجئیے۔

بلاگ

موضوعات

اردو (51) urdu (40) قواعد (38) urdu grammar (34) صرف و نحو (19) صرف (18) گرامر (18) grammar (16) نحو (10) اصطلاحاتِ زبان (9) ترکیب نحوی (9) اسم (8) زبان (7) علم بیان (6) فاعل (6) مرکب (6) مفعول (6) جملہ (4) حرف (4) شاعری (4) علمِ بلاغت (4) فعل (4) نظم (4) کلام (4) استفہام (3) اسم ضمیر (3) الفاظ (3) بلاغت و فصاحت (3) بلیغ (3) تخلص (3) علم (3) علم بدیع (3) علم عروض (3) علم معانی (3) فصاحت (3) فصیح (3) لازم (3) آواز (2) اسم ذات (2) اسم ذات، اجزائے کلام (2) اسم صفت (2) اسمیہ (2) اشارہ (2) انشائیہ (2) بحر (2) بحر مزاحف (2) بدیع (2) بلاغت (2) بلیغ و فصیح (2) بیان (2) تانیث (2) تذکیر (2) تلفظ (2) تمیز (2) جمع (2) حذف (2) حرف صحیح (2) حرف علت (2) حرکت (2) ذاتی (2) ردیف (2) روزمرہ (2) زحاف (2) سابقہ (2) سابقے (2) ساکن (2) شعر (2) صفت (2) صوت (2) عددی (2) عطف (2) علامات (2) علامت (2) علامت مفعول (2) علم قافیہ (2) علم قوافی (2) غیر معین (2) فعل ناقص (2) فعلیہ (2) قافیہ (2) قبض (2) لاحقہ (2) لاحقے (2) مؤنث (2) متحرک (2) مترادف (2) متضاد (2) متعدی (2) مجہول (2) محذوف (2) مذکر (2) مرجع (2) مصرع (2) معروف (2) معنی (2) معین (2) مفعولی (2) موصول (2) نثر (2) نکرہ (2) کلمہ (2) کیفیت (2) ہم معنی (2) Consonant (1) Vowel (1) u (1) ، صرف (1) آراء (1) آزاد نظم، نثری نظم (1) آشوب شہر (1) آغا شورش کاشمیری (1) آلہ (1) آپ بیتی (1) اجزاء (1) ادغام (1) استخباری (1) استعارہ (1) استعارہ بالتصریح (1) استغراقی (1) استفہامیہ (1) اسم جامد (1) اسم عدد (1) اسم مشتق (1) اسم مصدر (1) اسم مفعول (1) اشباع (1) اصطلاحات (1) اصطلاحی (1) اصناف (1) اصناف نظم (1) اضافی (1) اعداد (1) اعراب (1) افسانوی نثر (1) افسانہ (1) اقتباس (1) اقراری (1) الخ (1) امالہ (1) امدادی (1) امر (1) انکاری (1) ایجاب (1) ایہام (1) بالکنایہ (1) بحر سالم (1) بحر ہزج (1) بدائع (1) بدایع (1) بند (1) بیش (1) تاسف (1) تام (1) تبصرہ (1) تثنیہ (1) تحقیق (1) تخصیص (1) تذکرہ (1) ترائیلے (1) ترتیبی (1) ترجیع بند (1) ترک (1) ترکیب بند (1) ترکیب تفصیلی (1) تشبیہ (1) تشبیہ،کنایہ (1) تشدید (1) تصغیر (1) تعجب (1) تعداد (1) تفضیل بعض (1) تفضیل نفسی (1) تفضیل کل (1) تقطیع (1) تلمیح (1) تمنائی (1) تنسیق (1) تنقید (1) تنوین (1) تنکیری (1) توصیفی (1) تکبیر (1) ثلاثی (1) جار (1) جدید (1) جزم (1) جمع الجمع (1) جمع سالم (1) جمع مکسر (1) جنس (1) حاشیہ (1) حاصل مصدر (1) حال (1) حالیہ (1) حالیہ معطعفہ (1) حرف تاسیس (1) حرف دخیل (1) حرف ردف (1) حرف روی (1) حرف قید (1) حرف مزید (1) حرف نائرہ (1) حرف وصل، حرف خروج (1) حروف (1) حروف تہجی (1) حسن تعلیل (1) حسن مطلع (1) حصر (1) حمد (1) خاکہ (1) خبر (1) خبریہ (1) خط (1) خطاب (1) خفیف (1) داستان (1) دال (1) دال اور مدلول (1) درجات صفت (1) دلالت (1) دلالت التزامی (1) دلالت تضمنی (1) دلالت حقیقی (1) دلالت ضمنی (1) دوہا (1) ذومعنی (1) رائے (1) رباعی (1) ربط (1) رجز (1) رمل (1) رموز اوقاف (1) رنگین نثر (1) روزنامچہ (1) رپورتاژ (1) ریختی (1) زبر (1) زمین (1) زیر (1) سالم (1) سانیٹ (1) سبب (1) سخن (1) سریع (1) سفر نامہ (1) سلام (1) سوانح عمری (1) سکتہ (1) سکون (1) شاعری، بیت، شعر (1) شاہ بیت (1) شخصی (1) شرط (1) شعری (1) شمسی (1) شکیہ (1) صفت عددی (1) صفت مقداری (1) صفتی (1) صفحہ (1) صنائع (1) صنائع لفظی (1) صنائع معنوی (1) صنعت (1) صنعت تضاد (1) صوتی (1) صوتی نظام (1) صَوتیے (1) ضرب الامثال (1) ضرب المثل (1) ضعفی (1) ضمیر (1) ضمیری (1) طنز (1) طنزومزاح (1) ظرافت (1) ظرف (1) ظرف زمان (1) ظرف مکان (1) عرف (1) عروض (1) عطف بیان (1) عطفیہ (1) علامت فاعل (1) علم بلاغت کی شاخیں (1) عَلم (1) غزل (1) غیر افسانوی نثر (1) فاصلہ (1) فاعل سماعی (1) فاعل قیاسی (1) فاعلی (1) فجائیہ (1) فکاہت (1) فکاہیہ (1) فکاہیہ ادب (1) قدح (1) قسم (1) قصر (1) قصہ (1) قصیدہ (1) قطعہ (1) قمری (1) قو (1) لغوی (1) لف و نشر (1) لفظ (1) لقب (1) ماضی (1) ماہیا (1) مبالغہ (1) مبتدا (1) متدارک (1) متروک (1) متروک الفاظ (1) متشابہ، متشابہ الفاظ، صرف (1) متقارب (1) مثبت (1) مثمن (1) مثنوی (1) مجاز (1) مجاز مرسل (1) مجازی (1) مجتث (1) مجروری (1) محاورہ (1) مخمس (1) مد (1) مدلول (1) مذکر سالم (1) مراعاۃ النظیر (1) مرثیہ (1) مرصع (1) مرکب اضافی (1) مرکب توصیفی (1) مرکب جاری (1) مرکب عطفی (1) مرکب ناقص (1) مزاح (1) مزاحف (1) مستزاد، ہائیکو (1) مستقبل (1) مسجع (1) مسدس (1) مسمط (1) مشار (1) مصدر (1) مصغر (1) مصمتہ (1) مصوتہ (1) مضارع (1) مضاف (1) مضاف الیہ (1) مضمون (1) مطابقت (1) مطلع (1) مطلق (1) معانی (1) معاوضہ (1) معاون (1) معتدی المتعدی (1) معدولہ (1) معرفہ (1) معطوف (1) معطوف الیہ (1) معطوفہ (1) مفاجات (1) مفرد (1) مقبوض (1) مقداری (1) مقصور (1) مقصورہ (1) مقطع (1) ممدوہ (1) مناجات (1) منفی (1) منقبت (1) موصوف (1) موقوف (1) مونث (1) مکبر (1) مکتوب نگاری (1) مکسر (1) مہمل (1) ناقص (1) ناول (1) ناولٹ (1) نثر عاری (1) نثر مرجز (1) نثر مرسل (1) ندا (1) ندبہ (1) نسبتی (1) نظم جدید (1) نظم معرا (1) نعت (1) نقطہ (1) نہی (1) واحد (1) واسوخت (1) وتد (1) وقف کامل (1) وقفہ (1) پابند نظم (1) پسند (1) پیش (1) ڈراما (1) کافی (1) کالم (1) کسری (1) کلام ناقص (1) کمی (1) کنیت (1) کو (1) کہاوت (1) گنتی (1) گیت (1) ہجا (1) ہجو (1) ہزل (1) یادداشت (1)
محمد عامر. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *